الٹی شلوار

"ساب اب میرا کام ہو جائے گا نا   ”
اس نے دیوار کی طرف رُخ موڑا اور تیزی سے کپڑے پہننے لگی۔
"ہاں ہاں بھئی ”  ۔۔۔
میری سانسیں ابھی بھی بے ترتیب تھیں ۔
پھر میں پیسے لینے کب آؤں ؟”
دوپٹے سے اس نے منہ پونچھا اور پھر  جھٹک کر لپیٹ لیا ۔
"پیسے ملنے تک تمہیں ایک دو چکر تو اور لگانے ہی پڑیں گے ۔کل ہی میں مالکان سے تمہارے شوہر کا زکر کرتا ہوں ”
میں نے شرٹ کے بٹن لگائے ،ہاتھوں سے بال سنوارے اور دفتر کے پیچھے ریٹائرنگ روم کے دروازے سے باہر جھانک کر آس پاس  احتیاتاً ایک طائرانہ نظر دوڑانے لگا  ۔
ویسے تو  نیا چوکیدار  وقتا فوقتا چائے پانی کے نام پر  میری طرف سے ملنے والی چھوٹی موٹی رقم کے بدلے میں میرا خیر خواہ تھا مگر پھر بھی   میں کسی مشکل میں گرفتار نہیں ہونا چاہتا تھا ۔
” پھر میں کل ہی آجاؤں ” وہ میرے  پختہ جواب کی منتظر تھی ۔
” کل نہیں ! ! !  ”
میں روز اس طرح یہاں آنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا اس لئیے بس آہ بھر کر رہ گیا ۔۔۔۔۔
ہائے غریبوں کو بھی کیسے کیسے لعل مل جاتے ہیں ۔۔۔ میں نے نظروں سے اسکے جسم کے  پیچ و خم  کو تولتے ہوئے سوچا ۔
” ارے سنو ! !  تم نے شلوار اُلٹی پہنی ہے ۔”
وہ چونک کر اپنی ٹانگوں کی طرف جھکی اور خجل ہوگئی ۔
” اسے اتار کر سیدھا کرلو ۔ میں چلتا ہوں پانچ منٹ بعد تم بھی پچھلے دروازے سے نکل جانا۔ ۔ ۔ اور ہاں احتیاط سے کوئی دیکھ نہ لے تمہیں ۔

زیمل خان چار سال سے ہماری فیکٹری میں رات کا چوکیدار تھا تین ہفتے  پہلے فیکٹری میں داخل ہونے والے ڈاکوؤں کے ساتھ مزاحمت میں ٹانگ پر گولی کھا کر گھر میں لاچار پڑا ہوا تھا ۔ مالکان اسکے علاج کے لئیے  پچاس ہزار دینے کا اعلان کر کے بھول گئے تھے ۔ سو اسکی بیوی اسی سلسلے میں بار بار چکر لگا رہی تھی ۔ میں نے اسکی مدد کا فیصلہ کیا اور چھٹی کے بعد شام میں اسے فیکٹری آنے کا اشارہ دے دیا ۔

عمر ! عمر!
اپارٹمنٹ کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے  مجھے عقب سے اپنی بیوی کی آواز سنائی دی ۔ اسکے اور میرے گھر لوٹنے کا وقت تقریبا ایک ہی تھا اور کبھی کبھار تو  ہم  اسی طرح اکھٹے گھر میں داخل ہوتے تھے ۔ وہ ایک چھوٹے  بینک میں کلرک  تھی ۔
"ایک خوشخبری ہے ” قدرے فربہی مائل وجود کو سنبھالے وہ تیزی سے اوپر آرہی تھی
خوشی سیے اسکی بانچھیں کھلی جا رہی تھیں

”  مینیجر صاحب میرے کام سے بہت خوش ہیں اور آج ہی انہوں میرے پرونوشن کی بات ہے ”
دروازے کے سامنے  رک کر اس نے ہینڈ بیگ ٹٹولااور چابی نکالی
۔”انہوں نے کہا ہے تھوڑا وقت لگے گا مگر کام ہوجائے گا
"ارے واہ مبارک ہو ”   ” میں نے خوشدلی سے اسے مبارکباد دی
” تمہیں پتا ہے مجھ سمیت پانچ امیدوار ہیں  ، اور وہ  آصفہ ہے نا وہ بھی میرے حق میں  نہیں   مگر ڈائیریکٹر  صاحب میرے کام سے بہت خوش ہیں ۔۔ کیوں نہ ہوں میں اتنی محنت جو کرتی ہوں اور ویسے بھی ۔ ۔ ۔ ۔
۔وہ گھر کے اندر داخل ہوتے ہوئے  بھی مسلسل بولے چلی گئی
۔میں اسکی پیروی کرتے ہوئے اسکی فتح کی داستان سے محظوظ ہورہا تھا کہ اچانک میری نظر اسکی الٹی شلوار کے ریشمی دھاگوں میں الجھ گئیں

Advertisements

حویلی کا راز

نواب راحت سعید خان چھتاری 1940ء کی دہائی میں ہندوستان کے صوبے اتر پردیش کے گورنر رہے ہیں۔ انگریز حکومت نے انہیں یہ اہم عہدہ اس لیئے عطا کیا کہ وہ مسلم لیگ اور کانگریس کی سیاست سے لا تعلق رہ کر انگریزوں کی وفاداری کا دم بھرتے تھے۔ نواب چھتاری اپنی یاداشتیں لکھتے ہوئے انکشاف کرتے ہیں کہ ایک بار انہیں سرکاری ڈیوٹی پر لندن بلایا گیا۔ ان کے ایک پکے انگریز دوست نے جو ہندوستان میں کلکٹر رہ چکا تھا، نواب صاحب سے کہا "آیئے! آپ کو ایک ایسی جگہ کی سیر کراوں جہاں میرے خیال میں آج تک کوئی ہندوستانی نہیں گیا۔” نواب صاحب خوش ہو گئے، انگریز کلکٹر نے پھر نواب صاحب سے پاسپورٹ مانگا کہ وہ جگہ دیکھنے کے لیے حکومت سے تحریری اجازت لینی ضروری تھی، دو روز بعد کلکٹر اجازت نامہ ساتھ لے آیا اور کہا” ہم کل صبح چلیں گے، لیکن میری موٹر میں، سرکاری موٹر وہاں لے جانے کی اجازت نہیں”۔ اگلی صبح نواب صاحب اور وہ انگریز منزل کی طرف روانہ ہوئے۔ شہر سے باہر نکل کر بائیں طرف جنگل شروع ہو گیا۔ جنگل میں ایک پتلی سڑک موجود تھی، جوں جوں چلتے گئے، جنگل گھنا ہوتا گیا۔ سڑک کے دونوں جانب نہ کوئی ٹریفک تھا نہ کوئی پیدل مسافر! نواب صاحب حیران بیٹھے اِدھر اْدھر دیکھ رہے تھے۔ موٹر چلتے چلتے آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت گزر گیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک بہت بڑا دروازہ نظر آیا، پھر دور سامنے ایک نہایت وسیع وعریض عمارت دکھائی دی۔ اس کےچاروں طرف کانٹے دار جھاڑیوں اور درختوں کی ایسی دیوار تھی جسے عبور کرنا ممکن نہ تھا۔ عمارت کے چاروں طرف زبردست فوجی پہرہ تھا۔ اس عمارت کے باہر فوجیوں نے پاسپورٹ اور تحریری اجازت نامہ غور سے دیکھا اور حکم دیا کہ اپنی موٹر وہیں چھوڑ دیں اور آگے جو فوجی موٹر کھڑی ہے اس میں سوار ہو جائیں۔ نواب صاحب اور انگریز کلکٹر پہرے داروں کی موٹر میں بیٹھ گئے۔اب پھر اس پتلی سڑک پر سفر شروع ہوا۔ وہی گھنا جنگل اور دونوں طرف جنگلی درختوں کی دیواریں! نواب صاحب گھبرانے لگے، تو انگریز نے کہا "بس منزل آنے والی ہے”۔ آخر دور ایک اور سرخ پتھر کی بڑی عمارت نظر آئی تو فوجی ڈرائیور نے موٹر روک دی اور کہا "یہاں سے آگے آپ صرف پیدل جاسکتے ہیں”۔ راستے میں کلکٹر نے نواب صاحب سے کہا ” کہ آپ یہاں صرف دیکھنے آئے ہیں بولنے یا سوال کرنے کی بلکل اجازت نہیں”۔ عمارت کے شروع میں وسیع دالان تھا۔ اس کے پیچھے متعد کمرے تھے۔ دالان میں داخل ہوئے تو ایک باریش نوجوان عربی کپڑے پہنے سر پر عربی رومال لپیٹے ایک کمرے سے نکلا۔ دوسرے کمرے سے ایسے ہی دو نوجوان اور نکلے پہلے نے عربی لہجے میں "السلام وعلیکم” کہا۔ دوسرے نے کہا”وعلیکم اسلام”۔ کیا حال ہے? نواب صاحب یہ منظر دیک کر حیران رہ گئے۔ کچھ پوچھنا چاہتے تھے، لیکن انگریز نے فوراً اشارے سے منع کر دیا۔ چلتے چلتے ایک کمرے کے دروازے پر پہنچے۔ دیکھا کہ اندر مسجد جیسا فرش بچھا ہے۔ عربی لباس میں ملبوس متعدد طلبہ فرش پر بیٹھے ہیں، ان کے سامنے استاد بلکل اسی طرح بیٹھے سبق پڑھا رہے ہیں، جیسے اسلامی مدرسوں میں پڑھاتے ہیں۔ طلباء عربی اور کبھی انگریزی میں استاد سے سوال بھی کرتے۔ نواب صاحب نے دیکھاکہ کسی کمرے میں قرآن مجید پڑھایا جا رہا ہے، کہیں قرآت سکھائی جارہی ہے، کہیں تفسیر کا درس ہو رہا ہے، کسی جگہ بخاری شریف کا درس دیا جا رہا ہے اور کہیں مسلم شریف کا۔ ایک کمرے میں مسلمانوں اور مسیحوں درمیان مناظرہ ہو رہا تھا۔ ایک اور کمرے میں فقہی مسائل پر بات ہو رہی تھی۔ سب سے بڑے کمرے میں قرآن کا ترجمہ مختلف زبانوں میں سکھایا جا رہا تھا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ہر جگہ باریک مسئلے مسائل پر زور ہے۔ مثلاً غسل کا طریقہ، وضو، روزے، نمازاور سجدہ سہو کے مسائل، وراثت اور رضاعت کےجھگڑے، لباس اور ڈاڑھی کی وضع قطع، گا گا کر آیات پڑھنا، غسل خانے کے آداب، گھر سے باہر جانا، لونڈی غلاموں کے مسائل، حج کے مناسک بکرا، دنبہ کیسا ہو، چھری کیسی ہو، دنبہ حلال ہے یا حرام? حج اور قضا نمازوں کی بحث، عید کا دن کیسے طے کیا جائے اور حج کا کیسے? میز پر بیٹھ کر کھانا، پتلون پہننا جائز ہے یا ناجائز، عورت کی پاکی اور ناپاکی کے جھگڑے، حضورصلی اللہ و علیہ وسلم کی معراج روحانی تھی یا جسمانی? امام کے پیچھے سورتہ فاتحہ پڑھی جائے یا نہیں? تراویح آٹھ ہیں یا بیس? نماز کے دوران وضو ٹوٹ جائے تو آدمی کیا کرئے? سود مفرد جائزہے یا ناجائز وغیرہ وغیرہ۔

ایک استاد نے سوال کیا، پہلے عربی پھر انگریزی اورآخرمیں نہایت شستہ اردو میں!!!! جماعت اب یہ بتائے کہ جادو نظر بد، تعویز گنڈہ آسیب کا سایہ بر حق ہے یا نہیں? پینتیس چالیس کی جماعت بیک آواز پہلے انگریزی میں بولی "سچ سچ” پھر عربی میں یہی جواب اور پھر اردو میں!!!!

ایک طالب علم نے کھڑے ہوکر سوال کیا کہ حج کے لیئے نیت ضروری ہے تو مردہ لوگوں کا حج بدل کیسے ہو سکتا ہے? قرآن تو کہتا ہے ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے”۔
استاد بولے” قرآن کی بات مت کرو،روایات، ورد اوراستخارے میں مسلمانوں کا ایمان پکا کرو۔ ستاروں، ہاتھ کی لکیروں، مقدر اور نصیب میں انہیں الجھاو”۔

یہ سب دیکھ کر وہ واپس ہوئے تو نواب چھتاری نے انگریز کلکٹر سے پوچھا، اتنے عظیم دینی مدرسے کو آپ نے کیوں چھپارکھاہے”?

انگریز نے کہا "ارے بھئ، ان سب میں کوئی مسلمان نہیں، یہ سب عیسائی ہیں۔ تعلیم مکمل ہونے پر انہیں مسلمان ملکوں خصوصاً مشرق وسطٰی، ترکی، ایران، اور ہندوستان بھیج دیا جاتا ہے۔ وہاں پہنچ کر یہ کسی بڑی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں۔ پھر نمازیوں سے کہتے ہیں کہ وہ یورپی مسلمان ہیں۔ انہوں نے مصر کی جامعہ الازہر میں تعلیم پائی ہے اور وہ مکمل عالم ہیں۔ یورپ میں اتنے اسلامی ادارے موجود نہیں کہ وہ تعلیم دے سکیں۔ وہ سردست تنخواہ نہیں چاہتے، صرف کھانا، سر چھپانے کی جگہ درکار ہے۔ پھر وہ موذن، پیش امام، بچوں کے لیے قرآن پڑھانے کے طور پر اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ تعلیمی ادارہ ہو تو اس میں استاد مقرر ہو جاتے ہیں، جمعہ کے خطبے تک دیتے ہیں۔”

نواب صاحب کے انگریز مہمان نے انہیں بتا کر حیران کر دیا کہ اس عظیم مدرسے کے بنیادی اہداف یہ ہیں:

— مسلمانوں کو روایات، زکر کے وظیفوں اور نظری مسائل میں الجھا کر قرآن سے دور رکھا جائے۔

— حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کا درجہ جس طرح بھی ہو سکے (نعوذباللہ) گھٹایا جائے۔ کبھی یہ کہو کہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم (نعوذباللہ) رجل مسحور یعنی جادو زدہ تھے۔

اس انگریز نے یہ انکشاف بھی کیا کہ 1920ء میں (رنگیلا رسول) نامی کتاب راجپال سے اسی ادارے نے لکھوائی تھی۔ اس طرح کئی برس پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا نبی بنا کر کھڑا کرنے والا یہی ادارہ تھا۔ ان کتابوں کی بنیاد لندن کی اسی عمارت سے تیار ہو کر جاتی تھی۔

خبر ہے کہ سلیمان رشدی ملعون کی کتاب لکھوانے میں بھی اسی ادارے کا ہاتھ ہے۔

خدایا ایسا نہ ہو کہ مغرب رہن ہی میرا سماج رکھ لے
ہے فتنہ پرور نظام عالم تو اپنے مسلم کی لاج رکھ لے

اب جنگل کی حویلی کے ایک مکین سے ملاقات کیجیئے، یہ واقعہ ایک دوست حسین امیر فرہاد کے ساتھ کویت میں پیش آیا، انہی کی زبانی سنئیے::::::::

یہ 1979ء کا واقعہ ہے، ان دنوں میں کویت کی ایک کمپنی میں مندوب تعلقات العامہ (افسر تعلقات عامہ) تھا۔ ہمارے ڈائریکٹر نے سری لنکا سے گھر کے کام کاج کے لئے ایک خادمہ منگائی، دوسرے دن مجھ سے کہنے لگے کہ اس کو واپس بھیج دو کیوں کہ ہمارے کسی کام کی نہیں نا تو یہ عربی جانتی ہے اور نا انگریزی۔ سو میں اسکی کی دستاویزات لے کر متعلقہ جگہ پہنچا تو پتہ چلا کہ فی الحال سری لنکن سفارت موجود نہیں البتہ برطانوی ہی سری لنکن باشندوں کے معاملا ت دیکھتے ہیں۔ برٹش کونسل میں استقبالیہ کلرک نے میرا کارڈ دیکھا تو مسٹر ولسن سے ملایا۔ وہ بڑے تپاک سے ملے اور بٹھایا، جب اس نے اندازہ لگایا کہ میں بھارتی یا پاکستانی ہوں تو اردو میں کہا، میں کیا خدمت کر سکتا ہوں?”

میں نے سری لنکن خادمہ کے متعلق بتایا، اس نے کہا کوئی مسئلہ نہیں اسے ہم رکھ لیں گے۔ آپ کا جو خرچہ آیا ہے وہ ہم ادا کر دیں گے۔ یہ بتاو کہاں کے رہنے والے ہو?

میں نے کہا پاکستان سے،
وہ بولا وہ تو بہت بڑا ملک ہے،
میں نے کہا پشاور کا رہنے والا ہوں،
پشتو میں پوچھنے لگا کے کون سی جگہ?
میں نے بتایا "نوشہرہ”
جب میں نے گاوں کا نام بتایا تو اس کی آنکھوں میں عجیب چمک پیدا ہو گئی۔ پھر وہ مختلف لوگوں کا پوچھنے لگا، میں نے میں نے بتایا کہ کون مر گیا اور کون زندہ ہے۔ میں نے سوچا ہو سکتا ہے نوشہرہ چھاونی میں ملازمت کرتا رہا ہو، لیکن اس کی عمر زیادہ نہیں تھی۔ لیکن اس نے کچھ اور کہانی سنائی۔ پہلے اس نے کافی منگائی پھر انٹر کام پر کلرک سے کہا کہ اس کے پاس کسی کو مت بھیجنا۔ وہ اتنا خوش تھا کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ کافی کے دوران اس نے بتایا”میں آپ کے گاوں، محلہ عیسٰی خیل میں چار سال تک پیش امام رہاہوں۔

میں نے پوچھا” کیا آپ مسلمان ہیں?”

وہ بولا” میں چار سال آپ کے گاوں کا نمک کھایا ہے۔ آپ کے گاوں والوں نے مجھے بڑی عزت دی۔ میں آپ سے جھوٹ نہیں بولوں گا۔ میں عیسائی ہوں یعنی اہل کتاب”۔

اس کے بعد میرا اس کے ہاں آناجانا رہا۔ وہ مجھے اپنا ہم وطن سمجھتا رہا اور تقریباً میرا ہم عمر تھا۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ ہمارے ہاں پاکستان بننے کے بعد رہا تھا۔ ایک دن میں نے پوچھا "آپ پٹھانوں کا کھانا کیسے کھاتے رہے?”

وہ کہنے لگا” آپ لوگوں کا کھانا اتنا مزیدار ہوتا ہے کہ میں یہاں آج بھی گھر جاتے ہوئے ایرانی تندور سے روٹی لے کر موٹر میں روکھی کھاتا ہوں”۔

جب میں کویت سے پاکستان آ رہا تھا تو میں نے اس سے وہی سوال پوچھا جسے وہ ہمیشہ ٹالتا رہا تھا۔ میں نے دریافت کیا” اب تو بتادو کہ تم عیسائی ہو کر پٹھانوں کے گاوں میں روکھی سوکھی کھاتے اور پیش امام کی خدمات انجام دیتے رہے۔۔۔۔۔۔آخر کیوں?

وہ کافی دیر سرجھکائے سوچتا رہا پھر سر اٹھا کر میری آنکھوں میں جھانکا اور کہا "ہمیں اپنے ملک کے مفادات کی خاطر بعض اوقات بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں لندن کے مضافات میں ایک مرکز ہے جہاں شکل وشباہت دیکھ کر انگریزوں کی بیرونی مذاہب اور زبانوں کی تعلیم دی جاتی ہے۔ وہاں سے فارغ تحصیل ہو کر پھر ہمیں مختلف ممالک اور علاقوں میں بھیجا جاتا ہے۔”

گاوں آکر میں محلہ عیسٰی خیل کے بزرگوں کو یہ واقعہ سنایا توایک بوڑھے طالب گل نے کہا” مجھے شک پڑاتھا مگر سب کہہ رہے تھے کہ چترالی ہے۔ وہاں اکثر چترالی مولوی پیش امام ہیں۔ وہ بھی گورے ہیں بلکل انگریزوں کی طرح۔ پھر طالب گل نے کہا "چلو بھائی اب چار سال کی نمازیں لوٹائیں جو ہم نے انگریز کے پیچھے پڑھیں۔۔۔۔۔۔خانہ خراب ہو اس کا۔”
جب میں نے جنگل کی حویلی کا پڑھا تو مجھے یقین ہو گیا کہ مسٹر ولسن بھی ضروراسی جنگل کی حویلی کا پروردہ تھا۔

سائیں بابا کا مشورہ

میرے   پیارے بیٹے مسٹر غمگین!

جس وقت تمھارا خط ملا، میں ایک بڑے سے پانی کے پائپ کی طرف دیکھ رہا تھا جو سامنے سڑک پر پڑا تھا۔ ایک بھوری آنکھوں والا ننھا سا لڑکا اس پائپ میں داخل ہوتا اور دوسری طرف سے نکل جاتا، تو فرطِ مسرت سے اس کی آنکھیں تابناک ہو جاتیں۔ وہ اُچھلتا کودتا پھر پائپ کے پہلے سرے سے داخل ہو جاتا…
ایسے میں تمھارا خط ملا۔ لکھا تھا: ’’سائیں بابا! میں ایک غمگین انسان ہوں۔ خدارا مجھے مسرت کا راز بتائو۔ یہ کہاں ملتی ہے، کیسے ملتی ہے، کس کو ملتی ہے۔‘‘
مسٹر غمگین! اگر تم اس وقت میرے پاس ہوتے، تو تم سے فوراً کہتا کہ اس پائپ میں داخل ہو جائو اور یہ پروا مت کرو کہ تمھاری استری شدہ پتلون مٹی سے لتھڑ جائے گی۔ اس وقت مسرت ہم سے صرف چھے گز کے فاصلے پر تھی اور مٹی سے لتھڑی پتلون دھوئی بھی جا سکتی تھی…
لیکن ہائے! تم اس وقت بہت دور تھے، کلکتہ میں۔ نجانے تم اتنی دور کیوں ہو؟ مسرت سے اتنی دور! اس دوری کی وجہ سے تمھاری پتلون مٹی سے بچی ہوئی ہے… اور سنو! کیا کلکتہ میں پانی کے پائپ نہیں ہوتے؟ کیا کلکتہ میں بھوری آنکھوں والا کوئی ننھا لڑکا نہیں ہوتا؟ میرا مطلب ہے، مجھے خط لکھنے کے بجائے اگر تم کوئی پائپ تلاش کر لو، تو کیا حرج ہے۔

مسرت کا راز…؟ مسرت کے ساتھ یہ لفظ ’’راز‘‘ لٹکا دینا ان مل حرکت ہے۔ ایسی حرکت صرف پختہ ذہن کے لوگ ہی کرتے ہیں، بھوری آنکھوں والے ننھے لڑکے نہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ ایک فلسفیانہ حرکت ہے۔ مگر پائپ میں داخل ہونے میں کوئی فلاسفی نہیں۔ کیا پانی کا پائپ کوئی راز ہے؟ بالکل نہیں، وہ تو سب کے سامنے سڑک پر پڑا رہتا ہے۔ مگر لوگ اس طرف نہیں بلکہ دور ہمالیہ میں کسی گپھا کی طرف جاتے ہیں تاکہ وہاں جا کر مسرت حاصل کریں۔ ہمالیہ بہت دور ہے مگر پائپ بہت نزدیک بلکہ وہ بھینس اس سے بھی زیادہ قریب ہے جو سامنے جوہڑ میں نہاتے ہوئے خوش ہو رہی ہے۔
بھینس نہانے کے لیے ہمالیہ نہیں گئی۔ کیونکہ وہ فلاسفر نہیں اور نہ اس نے فلسفے کی کوئی کتاب پڑھی ہے۔ مگر مسٹر غمگین! تم نہ بھوری آنکھوں والے لڑکے ہو اور نہ بھینس۔ اس لیے تم مجھ سے مسرت کا راز پوچھنے بیٹھ گئے۔ میں کہتا ہوں کہ تم ایک بھینس خرید لو اور اسے گھر لے آئو۔ اور پھر اسے کھونٹے سے باندھ لو۔ پھر اپنی ننھی بیٹی کو اپنے پاس بلا لو اور اس سے کہو:

’’بیٹی! یہ کیا ہے؟‘‘
’’یہ بھینس ہے۔‘‘
’’اس کے تھنوں میں کیا ہے؟‘‘
’’دودھ ہے۔‘‘
’’دودھ کون پیے گا؟‘‘
’’میں پیوں گی۔‘‘

تو وہ لمحہ… مسٹر غمگین! وہی ایک ننھا سا لمحہ تمھیں بیکراں مسرت عطا کرے گا۔ مگر افسوس تم بھینس نہیں خریدتے بلکہ خط لکھنے بیٹھ جاتے ہو۔ چلو اگر بھینس مہنگی ہے تو ایک بکری خرید لو۔پرسوں ایک مفلس دیہاتی نوجوان کو دیکھا کہ اُس نے پیادہ راہ پر بیٹھنے والے ایک میناری فروش سے کانچ کا ایک ہار آٹھ آنے میں خریدا۔ اور اپنی دیہاتی محبوبہ کی گردن میں اپنے ہاتھ سے پہنا دیا۔ تب فرطِ مسرت سے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ میں نے اس سے یہ نہیں کہا کہ تم فینسی جیولرز شاپ پر جا کر سونے کا ہار خریدو۔ میں تم سے بھی نہیں کہتا کہ بھینس ہی خریدو، نہیں، بکری ہی خرید لو۔ کانچ کا ہار ہو یا بکری، مگر شرط یہ ہے کہ فرطِ مسرت سے ہاتھ ضرور کانپنا چاہیے۔

یہ جھوٹ ہے کہ مسرت ابدی ہوتی ہے۔ جو لوگ یہ پروپیگنڈا کریں، وہ دراصل مسرت کی تجارت کرتے ہیں۔ وہ مسرت کو بوتلوں میں بند کر دکان کی الماریوں میں رکھتے ہیں۔ ان پر خوب صورت اور سریع الاثرلیبل لگاتے ہیں۔ اس پر انگڑائی لیتی دوشیزہ کی تصویر بھی چسپاں کرتے ہیں۔ اگر ان کا بس چلے، تو آسمان پر اڑتے، رقص کرتے بادلوں کو بھی شیشے کے جگمگاتے شو کیس میں ساڑھی پہنا کر بند کر دیں۔ اور جب آپ نم آلود بادلوں سے بھیگنے کی مسرت حاصل کرنا چاہیں، تو ظاہر ہے کہ اس کے لیے آپ کو شو کیس کا شیشہ توڑنا پڑے گا اور مسرت کا بیوپاری شورمچا دے گا: ’’پولیس! پولیس! پولیس۔‘‘

اس لیے بادلوں کو ہمیشہ آسمان پر ہی رہنا چاہیے۔ میرا مطلب ہے کہ وہ ہماری چھت سے اتنے دور رہیں کہ ہمارا ہاتھ اُن تک نہ پہنچ سکے۔ ورنہ ہمارے ہاتھوں کے لمس ہی سے وہ مرجھا جائیں گے۔ بادل تو پھولوں کی طرح ہیں اور تم جانتے ہو کہ ہم نے پھولوں کے نرخ مقرر کر رکھے ہیں۔ (کیونکہ ہم علم ریاضی بھی جانتے ہیں) اگر مسرت کے سوداگروں کو یہ علم ہو جائے کہ پانی والے پائپ سے بھی بھوری آنکھوں والا لڑکا مسرت حاصل کر سکتا ہے، تو وہ اسے بھی سڑک سے اٹھا شیشے کے شو کیس میں بند کر

دیں۔ وہ اس پر مندرجہ ذیل نرخ نامہ لگائیں گے:
ایک مرتبہ پائپ میں داخلہ… فیس آٹھ آنے
پانچ مرتبہ داخلہ… فیس اڑھائی روپے،
تھوک مرتبہ داخلہ… آدھی فیس کی رعایت
پچاس مرتبہ داخل ہونے والوں کو… ایک غبارہ انعام۔

مسٹر غمگین! اگر تمھارے پاس اتنی دولت ہو کہ تم جنم سے لے کر مرن تک بغیر ایک لمحہ ضائع کیے مسلسل نرخ نامے کے مطابق پائپ میں داخل ہوتے رہو، تو تمھیں ابدی مسرت مل سکتی ہے۔ مگر یاد رکھو کہ بھینس عمر بھر پانی کے جوہڑ میں نہیں رہ سکتی۔ تم ایک امیر ترین آدمی کا منہ چڑا کر کہو کہ تمھاری ناک پر مکھی بیٹھی ہے۔ وہ سخت مشتعل ہو جائے گا کہ مسٹر غمگین، جو اپنے بوٹ پر پالش نہیں کرا سکتا، میرے ایسے ارب پتی کو مکھی کا طعنہ دیتا ہے۔ لہٰذا وہ مکھی کے بجائے تم پر جھپٹ پڑے گا…
میرا مطلب یہ ہے کہ جیسے بھینس مسلسل جوہڑ میں رہنے سے مسرت حاصل نہیں کر سکتی، ویسے ہی امیر ترین آدمی بھی مسلسل پھول خرید کر مسرت حاصل نہیں پا سکتا۔ کیونکہ ابدی مسرت کا کوئی وجود نہیں، بلکہ ایک نہ ایک دن ناک پر مکھی ضرور بیٹھتی اور غم دے جاتی ہے!
کیا تم سمجھتے ہو کہ مکھی کا طعنہ سننے کے بعد اس امیر آدمی کو رات بھر نیند آئے گی؟ کبھی نہیں، چاہے وہ گلستانِ ارم کے سارے پھول خرید کر بھی اپنے بسترپر کیوں نہ بچھا دے۔

اس لیے میں یہ سن کر سکتے میں آ گیا کہ تم مستقل طور پر غمگین رہتے ہو۔ اگر ابدی مسرت کوئی چیز نہیں، تو ابدی غم کا بھی کہیں وجود نہیں۔ جھوٹ مت بولو۔ اب سنو۔ میرے دو دوست ہیں۔ ایک کا نام مسٹر وائے ہے اور دوسرے کا مسٹر ہائے۔ مسٹر وائے جب بھی چلے اس کے پائوں زمین پر نہیں ٹکتے۔ اچھل پھاند اس کا شیوہ ہے۔ وہ نہایت معمولی، ہلکی سی بات پر خوشی سے بے چین ہو جاتا ہے۔ راستے پر کھڑے بجلی کے کھمبے پر جاتے جاتے اپنی چھوٹی سی سوٹی مار دیتا ہے۔ کھمبے میں سے ایک لمبی ’’جھن‘‘ کی آواز نکلتی ہے۔

’’آہاہاہا۔‘‘ مسٹر وائے کی آنکھیں مسرت سے پھیل جاتی ہیں۔ وہ احباب کو مخاطب ہوتے ہوئے کہتا ہے۔ ’’دیکھا کیسی آواز آتی ہے۔ ’’جھن‘‘ اگر تم کہو تو ایک بار پھر سوٹی لگا دوں۔‘‘ یہ رہی ’’جھن!‘‘

وہ انبساط کے جوش میں کلائی سے پکڑ کر مجھے اتنے زور سے کھینچ لیتا ہے کہ میں گرتے گرتے بچتا ہوں۔
اور مسٹر ہائے، ہمارا وہ نازک اور ہر وقت نکٹائی کی گرہ درست کرتے رہنے والا دوست بڑی گمبھیرتا سے کہتا ہے:
’’یہ صریحاً بدتمیزی ہے۔ ڈنڈا مارنے سے کھمبے کا روغن اتر گیا۔ یہ قومی سرمائے کا نقصان ہے۔‘‘
مسٹر غمگین! جھن کی آواز اگر نہ نکالی جائے، تو قومی سرمایہ محفوظ رہتا ہے۔مگر مسٹر ہائے، جھن کی لذت محسوس نہیں کرنا چاہتا کیونکہ وہ عالم فاضل آدمی ہے۔ وہ جب بھی پیگ اٹھا کر پیے تو آہ بھر کر کہتا ہے: ’’میں حیران ہوں کہ تم لوگ پاگلوں کی طرح کیوں اکٹھے ہو کر پینے بیٹھ جاتے ہو۔ میں پوچھتا ہوں کہ آخر تم کیوں پیتے ہو؟ کیا اپنا غم چھپانے کے لیے؟‘‘

’’نہیں مسرت پیدا کرنے کے لیے!‘‘ مسٹر وائے جواب دیتا ہے۔
’’فضول… اپنے آپ سے جھوٹ مت بولو، غم چھپانے کو مسرت پیدا کرنا کہہ رہے ہو۔ تم یہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم سب غمگین اور دکھی آدمی ہیں۔‘‘
’’غم کی کیا تعریف ہے؟‘‘ ایک اور دوست پوچھتے ہیں۔
’’میں بتائوں؟ مسٹر وائے لمبی گمبھیر بحث پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ ’’ارسطو نے کہا تھا کہ غم انسان کے لمحات…‘‘
’’جھن‘‘

اتنے میں آواز آتی ہے۔ سب لوگ یہ دیکھ کر حیران ہو جاتے ہیں کہ مسٹر وائے چھلانگ لگا کر قریب کی آہنی سیڑھی پر جا بیٹھا ہے اور سیڑھی پر اپنا ڈنڈا بجا رہا ہے۔‘‘
’’جھن‘‘
مسٹر وائے اعلان کرتا ہے:

’’دوستو! ارسطو نے کہا تھا کہ جھن! یعنی ارسطو نے کہا تھا کہ جھن!… یعنی …مارا وہ تیر سینے میں میرے کہ جھن!‘‘
چاروں طرف ایک قہقہہ گونج اٹھتا ہے۔ مسٹر ہائے کی فلسفیانہ بحث کا سرکٹ بھی قہقہوں پر اچھلنے لگتا ہے۔ وہ اور بھی غمگین ہو جاتا ہے۔ مسٹر ہائے کی مسرت اس میں ہے کہ کوئی اس کے ساتھ بیٹھ کر غم کے فلسفے پر بحث کرتا رہے۔ مگر مسٹر وائے بڑا ستمگر ہے، اسے یہ موقع ہی نہیں دیتا۔
لہٰذا مسٹر غمگین! میں تم سے پھر کہوں گا کہ کلکتہ کی کسی سڑک پر پڑے پائپ کو تلاش کرو اور اس پر سوٹی مار کر ’’جھن ‘‘ کی سی آواز پیدا کرو۔ اور وعدہ کرو کہ تم مجھے اس جھن کے بعد خط نہیں لکھا کرو گے۔‘‘
تمھارا
سائیں بابا

اندھیرے کی لکیر

میں اجازت لینے آگے بڑھا، تو اس نے میرا ہاتھ دبا کر مجھے ایک لفظ کہنے کا موقع دیے بغیر اپنے قریب روکا اور دوسرے مہمانوں سے مصافحے کرنے میں مصروف ہو گیا۔میری زندگی میںاتنی مکمل اور ایسی حسین شام پہلی مرتبہ آئی تھی۔ حسن اور زندگی، رنگ اور نور، نغمہ اور آہنگ، ان سب کا امتزاج تھی وہ شام! گلرنگ و گلبہار چہرے، دلوں کو شادابی اور تازگی جس سے میسر ہو وہ تبسم، وہ شام کیا تھی یوں سمجھ لیجیے کہ ایک مرصع غزل تھی۔ ایک جلتی دوپہر کی شام ایسی تابندگی اور صباحت کی ردا اُڑھا دینے کا سہرا میرے دوست کے سر تھا۔

لوگ ایک ایک کر کے جاتے رہے۔ رنگ بکھرتے گئے، مسکراہٹیں کم ہوتی گئیں۔ رات کے سائے پھیلتے گئے۔ روشنی سمٹتی رہی۔ سکوت ترنم پر حاوی ہوتا رہا۔ میں گھبرا گیا۔ میں اس خوبصورت شام کا ایسا انجام دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔ چناںچہ اپنے دوست سے کہا ’’میرے پاس وہ لفظ نہیں جن سے میں تمھارا شکریہ ادا کر سکوں۔ تم نے میرے تصور کی ایک جیتی جاگتی تصویر مجھے دکھا دی۔

میں صرف دعا ہی کر سکتا ہوں کہ تم ترقی کی اور منزلیں طے کرو تاکہ میں کچھ اور ان دیکھی حقیقتوں سے آشنا ہوسکوں… اور…‘‘ مگر میرے دوست نے مجھے آگے کچھ کہنے سے روک دیا، بولا ’’لفظوں سے نہ کھیلو۔ تم دوسرے لوگوں سے مختلف ہو۔ میرے درد کو سمجھو۔‘‘ اس نے جس طرح یہ جملہ ٹھہر ٹھہر کرادا کیا، میں اس سے متاثر ہونے کے بجائے ہنس دیا۔ ’’ہنسو مت، میں تمھیں ابھی اپنی کہانی سنائوں گا، تو پھر تم مسکرا بھی نہ سکو گے۔‘‘

اس شام کی گدگداہٹ سے ابھی تک میرے ہونٹوں پر تبسم کی لکیریں پھیلی ہوئی تھیں۔ میں فی الحال کوئی ایسی بات نہیں سننا چاہتا تھا جسے سن کر مسکرا بھی نہ سکوں۔ چناںچہ دوست کے اس جملے کو بھی تمسخر کے انداز میں اُڑا دیا۔ کہا ’’تم ایک بینک منیجر ہو۔ اگر کوئی فراڈ وغیرہ ہو گیا ہے تو خود ہی ایک جاسوسی ناول لکھ ڈالو، تمھارے اکائونٹ میں چند ہزار روپے کا اضافہ ہو جائے گا۔‘‘ اس نے میری بات سنی ان سنی کر دی۔ آخری مہمان کو بھی رخصت کرنے کے بعد وہ مجھے سجے سجائے ڈرائنگ روم میں لے جا کر بیٹھ گیا۔ اور بولا ’’تم شہلا کو جانتے ہو؟‘‘
’’شہلا۔‘‘

’’ہاں۔ وہی جو…‘‘
’’سمجھ گیا۔ اچھی طرح جانتا ہوں۔ سیٹھ فرقان علی کی بیٹی جو کالج میںاپنی جہاز جیسی بڑی کار لیے آیا کرتی تھی۔ اس سے تمھارا ہلکا پھلکا رومان بھی چل رہا تھا۔‘‘
’’ہاں وہی۔‘‘
’’کیا ہوا اس کو۔‘‘
’’اس نے خودکشی کی کوشش کی تھی مگر بچ گئی۔‘‘
’’بڑے باپ کی بیٹی ہے۔ ہر نیا فیشن اپنانے والی… خود کشی بھی تو آج کل فیشن میں داخل ہو گئی ہے نا‘‘
’’بکواس نہ کرو۔‘‘ وہ نہایت سنجیدہ تھا۔
’’آخر اس نے یہ کوشش کیوں کی؟‘‘
’’اس کا ذمے دار میں ہوں۔‘‘
’’آں…‘‘حیرت سے میرا منہ کھلا کا کھلے رہ گیا۔
اس نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور بولا ’’ہاں میں۔‘‘

میں سنبھل کر اپنی جگہ بیٹھ گیا۔ چند لمحے اسے تکتا رہا۔ پھر اس سے مخاطب ہوا۔ ’’ہاں بینک منیجر صاحب۔ اب آپ اپنی کہانی سنا دیجیے۔‘‘ ’’مجھ پر طنز نہ کرو۔‘‘ اس نے بہت ہی گھٹے ہوئے لہجے میں کہا۔ ’’اس ملازمت کی خاطر میں نے اپنی زندگی کی بھرپور مسرتیں اور دائمی خوشیاں ترک کی ہیں۔‘‘ ’’یوں کہو کہ خوشیوں کو تم نے اپنی زندگی کے لیجر میں سے ڈیبیٹ کر دیا۔‘‘ میں نے مسکرا کر کہا۔ ’’اگر تم اسی قسم کی فضول گفتگو کرنے کے موڈ میں ہو تو جہنم میں جائو۔ میں کچھ نہیں سناتا۔‘‘

اس کو یوں ناراض کر دینے سے مجھے کچھ خوشی سی ہوئی۔ لیکن میں شہلا کی خودکشی کا پس منظر معلوم کرنا چاہتا تھا۔ اس کو منایا اور کہانی سنانے پر رضا مند کر لیا۔ ’’وہ بولنے لگا ’’تم جانتے ہو کہ میں نے تنک مزاج اور زود حس ہونے کے باعث والد کی ذرا سی سرزنش پر ایم۔اے کرنے کا ارادہ ملتوی کر دیا تھا۔ پھر ملازمت ڈھونڈتا رہا۔ آخر مجھے بینک میں ملازمت مل گئی۔

شروع میں تو بینک والوں نے مجھے چھوٹے قصبوں میں بھیجا جہاں ان کی شاخیں تھیں۔ ان چھوٹی جگہوں میں نہ تو شہر کی سی سہولتیں تھیں اور نہ دیہات کی سی خوبیاں۔ دو چار ہزار کی آبادی میں مطلب کے آدمی تلاش کرنے کے باوجود نہ ملتے۔ چھوٹے چھوٹے دکانداروں کے ساتھ واسطہ پڑتا۔‘‘ ’’تم شہلا کی خودکشی سے متعلق بتائو۔‘‘ اس نے مجھے جھڑک دیا۔ ’’خاموشی کے ساتھ جو کچھ میں کہتا ہوں، سنتے رہو۔‘‘

میں چپ ہو گیا۔ وہ کہنے لگا ’’صبح سے شام تک میں بینک میں رہتا۔ شام کو تفریح کے لیے جانے کے بجائے تنگ بازاروں میں گھومتا۔ دکانداروں سے ملتا اور انھیں بینکاری کے متعلق بتاتا۔ رات کو کچھ دیر کتاب کے اوراق پر نظریں گھمانے کے بعد سو جاتا۔ اتوار کو قریب کے دیہات میں جاتا، وہاں کے زمینداروں سے ملتا اور زمین میں گڑی دولت بینک میں جمع کرنے کا مشورہ دیتا۔ یہ تمام تبدیلیاں مجھ میں بڑے غیر محسوس طریقے سے پیدا ہوتی رہیں۔ ’’شروع میں‘ تو میں چھوٹے قصبوں میں جانے کے خیال سے بدکتا تھا۔

تبادلے کے لیے کوششیں کرتا مگر‘ پھر کسی جہاں دیدہ باس کے سمجھانے سے مان بھی جاتا۔ اس ملازمت نے مجھ سے میرا پندار، میری خودسری اور اناچھین لی اور اس طرح کہ مجھے محسوس بھی نہیں ہوا۔ میں چھوٹے چھوٹے دکانداروں سے باتیں، اکائونٹ کھلوانے کے لیے ان کی خوشامد کرنے اور چاپلوسی برتنے میں کوئی عار، شرم اور کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرتا۔ بس ایک دھن تھی، لگن تھی کہ میں جہاں جائوں، میرا بینک کامیاب رہے۔ لوگوں کو بینک کی افادیت معلوم ہو سکے۔

’’ رفتہ رفتہ مجھے اپنی ہر چھوٹی بڑی کامیابی پر یہ محسوس ہونے لگا جیسے بینک کی ملازمت ہی میرا نصب العین تھی۔ جیسے میں پیدا ہی اس کے لیے ہوا تھا۔ پانچ چھے برس تک میں ایسی ہی چھوٹی چھوٹی جگہوں پر رہا۔ اس کے بعد مجھے اپنے شہر میں تبدیل کر دیا گیا۔‘‘ جب وہ کہتے کہتے ذرا رکا تو میں نے آہستہ سے کہا۔ ’’ان باتوں کا تعلق شہلا کی خودکشی سے کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘

’’تفصیل میں تمھیں اس لیے بتا رہا ہوں کہ تم جب کہانی لکھنے بیٹھو تو نفسیاتی نقطۂ نظر سے کوئی بات سمجھنے میں الجھن سے دو چار نہ ہو۔ ہاں تو میرا تبادلہ اپنے شہر میں ہو گیا۔ اب بینک کی طرف سے مجھے یہاں زیادہ سہولتیں بلکہ آسائشیں میسر ہوئیں۔ میں بینک کا ڈپازٹ بڑھانے کی طرف تن من سے لگ گیا۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ سیٹھ فرقان علی ایک نئی مل قائم کر رہے ہیں، تو بہ حیثیت بینکر اُن سے ملا۔ وہیں شہلا سے عرصے بعد ملاقات ہوئی۔

وہ بالکل دیسی ہی تھی، وہی لیلیٰ شب کو شکست دیتے ہوئے گیسو، ستاروں کی سی چمک لیے ہوئے آنکھیں اور پیشانی پر اترا ہوا چاند۔ میں طویل عرصے بعد ملا تھا۔ بہت کچھ بدل گیا تھا‘ مگر وہ وہی تھی اور اسے یاد بھی سب کچھ تھا۔ میں جب اس سے ملا‘ تو میں نے بڑے اجنبی انداز میں اس سے پوچھا:
’’آپ… آپ یہاں کب سے آئی ہوئی ہیں؟‘‘

اس نے پرانے انداز میں سر جھٹک کر بالوں کو ایک طرف کیا۔ اسی دلفریب اور مَن موہ لینے والے طریقے سے ہونٹوں کے گوشوں میں مسکرائی اور اپنائیت سے بھرپور لہجے میں کہا ’’تم اچانک کہاں غائب ہو گئے تھے۔ آج ملے ہو‘ تو غیروں کی طرح مخاطب ہو رہے ہو۔‘‘ میں نے جو جواب دیا، اس سے میں خود بھی مطمئن نہیں تھا‘ مگر شہلا مجھ سے مل کر ہی خوش ہو گئی۔

اس نے بیتے دنوں کی راکھ کرید کر پرانی یادوں کے انگاروں کو اپنے التفات سے ہوادی۔ پھر یوں سمجھ لو ان انگاروں میں میری شخصیت کا وہ خول جل گیا جو میں نے پانچ چھے سال کے عرصے میں اپنی ذات پر منڈھ لیا تھا۔ اب میں وہاں جاتا تو صرف شہلا سے ملنے کے لیے! فون کرتا تو صرف شہلا کو! سارا دن سوچتا اورمیری سوچ کا محور ہوتی تھی شہلا۔ میں راتوں کو عجیب سے سہانے سہانے خواب دیکھتا اور ان خوابوں کا مرکز ہوتی تھی شہلا۔

محبت کی یہ دھوپ اتنی پھیلی کہ مجھے اپنے فرائض کا سایہ تو درکنار خود اپنا نظر آنا مشکل ہو گیا۔ شہلا… شہلا… ہر وقت… ہر لمحہ اس کا خیال رہتا۔ اس کی آواز کا جادو مجھ پر چھایا رہتا۔ آخر ایک دن میں نے طے کر لیا کہ اب شادی کر لینی چاہیے۔ شہلا نے مجھے مشورہ دیا ’’تم ڈیڈی سے بات کر لو۔‘‘
میں سیٹھ فرقان علی سے ملا۔ بڑی خندہ پیشانی سے پیش آئے۔ میں نے دبے لفظوں میں اپنی تمنا کا اظہار کیا۔ بولے ’’تم کرتے کیا ہو۔‘‘

’’جی بینک منیجر ہوں۔‘‘
’’کون سے بینک میں؟‘‘
میں نے بینک کا نام بتا دیا
پھر پوچھا ’’کیا تنخواہ ہے؟‘‘
’’جی پچاس ہزار روپے۔‘‘
’’گاڑی تمھاری ہے؟‘‘
’’جی نہیں، بینک کی ہے۔‘‘
’’رہتے کہاں ہو؟‘‘
میں نے علاقے کا نام بتا دیا۔
پھر کہنے لگے ’’بنگلہ تمھارا ہے؟‘‘
’’جی نہیں،بینک نے کرائے پر لے کے دیا ہے۔‘‘
انھوں نے پھر بہت ہی شفقت آمیز انداز میں پوچھا، ’’تمھارا بینک بیلنس کتنا ہے؟‘‘

میں نے شرمندگی سے گردن جھکا لی۔ انھوں نے آہستہ سے یوں ’’ہوں‘‘ کہا جیسے سب کچھ سمجھ گئے ہوں اور پھر مجھ سے کہا۔ ’’میں اس معاملے میں شہلا سے بات کیے بغیر تمھیں کوئی جواب نہیں دے سکتا۔‘‘ پہلے میں نے سوچا کہ انھیں اس حقیقت سے بھی روشناس کرا دوں کہ شہلا ہی کے ایما سے میں یہاں آیا ہوں۔ ہم دونوں میں وہی رشتہ ہے جو پھول اور ڈالی، دریا اور کنارے، بادل اور ہوا میں ہوتا ہے۔

ہم دونوں آپس میں دلوں، دماغوں، آنکھوں اور زبان کا تبادلہ کر چکے۔ جو کچھ انھیں شہلا سے معلوم کرنا ہے وہ مجھ سے پوچھ لیں۔ جو کچھ وہ میرے متعلق جاننا چاہتے ہیں شہلا سے دریافت کریں۔ مگر یہ سوچ کر خاموش رہا کہ اچھا ہے، سیٹھ صاحب یوں بھی اپنا اطمینان کر لیں۔ دوسرے دن شہلا نے مجھے فون کیا اور فوراً ملنے کو کہا۔ جب میں اس سے ملا‘ تو اس نے کہا: ’’میں رات بھر ڈیڈی سے الجھتی رہی ہوں۔‘‘ ’’کیوں؟‘‘

’’وہ اس شادی کے مخالف ہیں۔ کہتے ہیں کہ تمھارے پاس نہ اپنا بنگلہ ہے نہ موٹر اور نہ دولت۔‘‘ ’’وہ سچ کہتے ہیں۔‘‘ ’’مگر تمھارے پاس وہ سب کچھ ہے جو میں چاہتی ہوں۔ میں نے ان سے صاف کہہ دیا کہ اگر انھوں نے اپنی ضد کو میری راہ کی رکاوٹ بنایا‘ تو میں خودکشی کر لوں گی… ’’بے وقوف نہ بنو۔ جذبات سب کچھ نہیں ہوتے۔ زندگی بڑی شے ہے۔ تمھارے ڈیڈی نے اس دنیا کے بہت سارے رنگ دیکھے ہیں۔ انھیں جو رنگ پسند ہے اسی میں وہ تمہیں بھی رنگا دیکھنا چاہتے ہیں اور…‘‘ شہلا نے میری بات کاٹی اور کہا ’’تم مجھے نصیحتیں مت کرو۔

ڈیڈی کو زندگی کا جو رنگ پسند ہے، ضروری نہیں کہ وہ میری آنکھیں بھی قبول کر لیں۔‘‘ اور پھر میں اور شہلا تمام دن دنیا، رنگوں، آنکھوں اور دلوں کی باتیں کرتے رہے۔ مگر وہ شام ایک مفلس عاشق کی طرح بڑی اداس تھی۔ اس شام کی اداسی ہمارے ذہنوں پر چھائی ہوئی تھی۔ ہم دونوں اس کی اداس فضا کا سانس لیتا ایک حصہ بن گئے۔ شہلا نے تجویز پیش کی۔ ’’کیوں نہ ہم کورٹ میرج کر لیں۔‘‘

شہلا سے یہ سن کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں اب تک خود کو فریب دیتا رہا ہوں۔ یہ احساس اس لیے پیدا ہوا کہ جب کورٹ میرج کی بات سنی‘ تو میں نے شہلا کے اندازِ فکر سے الگ ہٹ کر سوچا اور بہت سارے گوشوں کی طرف دیکھا۔

مگر شہلا کے دماغ میں تو جذبات کا چاند جگمگا رہا تھا۔ وہ تمام رکاوٹیں، سارے رشتے اور بندھن توڑ کر میری بن جانا چاہتی تھی۔ میں نے اسے سمجھایا، دلاسہ دیا، اپنی محبت کا یقین دلایا مگر وہ اپنی بات پر اڑی ہوئی تھی۔ اس نے پوچھا ’’تم گھبراتے کیوں ہو؟‘‘ ’’سنو شہلا میں گھبراتا نہیں… بلکہ یہ سوچتا ہوں کہ اگر ہم نے وقت اور حالات کی مخالفت کر کے اپنی من مانی کر ڈالی تو کہیں یہ ہمارے مخالف نہ ہو جائیں۔ اگر ایسا ہوا‘ تو حالات ہمیں روند ڈالیں گے اور وقت ہمیں گرد کے مانند اڑا دے گا۔ ‘‘ لیکن وہ بضد تھی۔ پھر میں نے کہا ’’جیسی ضد تم مجھ سے کر رہی ہو، اسی طرح اپنی بات ڈیڈی سے کیوں نہیں منوا لیتیں؟‘‘

یوں میں نے شہلا کے دل و دماغ میں اٹھنے والے طوفان کا رخ پلٹ دیا۔ میں نے اُسے سمجھایا کہ وہ اپنی ضد کو ایسی آندھی بنا دے جس کے سامنے اس کے ڈیڈی کی ہٹ دھرمی کا دیا گل ہو جائے۔ پھر ہم دونوں جو زندگی گزاریں گے اس پر پریشانیوں اورپشیمانیوں کا سایہ تک نہیں ہو گا۔ شہلا میری بات مان گئی۔
اس رات اپنے دل میں عجیب سے وسوسے لیے، دماغ میں طرح طرح کے خیالات بسائے دیر تک زرد چاندنی اور ستاروں کی مریض روشنی میں جاگتا رہا۔ زندگی کے وہ لمحے میری نظروں کے سامنے آتے رہے جو میرے لیے ان دیکھے تھے۔ کبھی میں سوچتا، شہلا میرے لیے نہیں اپنے اسی کزن کے لیے موزوں ہے جس کا باپ کروڑوں روپے کی جائداد چھوڑ گیا ہے۔

کبھی خیال آتا کہ میں بھی کتنا مادہ پرست اور انسانی عظمتوں سے کتنا منحرف ہو گیا ہوں۔ ہر بات کو دولت کے پیمانے پر ناپ رہا ہوں۔ دلوں اور محبتوں کی قیمت میری نظر میں اپنی وقعت کیوں کھو چکی؟ محبت، انسان اور دل اس وقت بھی تھے جب دولت نہیں تھی۔ دل محبت اور انسان اس وقت تک رہیں گے جب دولت نہیں ہو گی پھر میں یہ کیسی کشمکش میں مبتلا ہوں؟ ذرا سی رکاوٹوں، اندیشوں اور پریشانیوں کو اتنی اہمیت کیوں دے رہا ہوں… کیوں؟

سوالوں کے بھنور تھے… اور میرا دل تھا۔
اندیشوں کی پاتال تھی… اور میرا دماغ تھا۔
وسوسوں کی دلدل تھی… اور میرا وجود تھا۔

صبح ہوئی مگر رات کا آسیب میرے وجود کو جھنجھوڑ گیا۔ میں بڑے بوجھل قدموں سے ٹیلی فون کے قریب آیا۔ جب میں نے فون کیا تو معلوم ہوا شہلا نے اپنے آپ کو زخمی کر لیاہے۔ وہ بے ہوش ہو گئی تھی اور اسی عالم میں اسے لاہور بھیج دیا گیا۔ میں نے ٹیلی فون رکھا ہی تھا کہ گھنٹی بجی۔ میں نے چونگا اٹھایا‘ تو سیٹھ فرقان علی کی آواز آئی ’’کیا تم ابھی آ سکتے ہو؟‘‘ ان کے پاس پہنچا‘ تو وہ بڑے مصروف تھے۔ ایک نئی اور بڑی مل کا منصوبہ اپنے آخری مرحلے سے گزر رہا تھا۔ انھوں نے مجھے کہا ’’میں ذرا کام سے فارغ ہو لوں پھر تم سے بات کرتا ہوں۔‘‘

وہ خاصی دیر مشغول رہے۔ میں کرسی پر پہلو بدلتا رہا۔ پھر انھوں نے گھنٹی بجائی۔ چپراسی آیا‘ تو حکم دیا ’’اکائونٹنٹ کو بلائو۔‘‘ اکائونٹنٹ آیا‘ تو سیٹھ صاحب نے پوچھا ’’آپ نے روپیہ ٹرانسفر کرا لیا۔‘‘ ’’جی ابھی تک تو بینک میں اکائونٹ ہی نہیں کھلا۔‘‘ ’’تو یہ کام آج بلکہ ابھی کر ڈالیے اور پھر لاہور فون کیجیے۔ فی الحال کتنے روپوں کی ضرورت ہو گی؟‘‘

’’جی ضرورت تو مسلسل ہی پڑتی رہے گی۔ پچاس پچاس لاکھ کر کے منگا لیں گے۔‘‘ سیٹھ جی نے جھنجھلا کر کہا ’’نہیں نہیں، سب روپیہ ایک ساتھ منگا لیجیے اور جتنی بھی ضرورت ہو…‘‘ میں یہ باتیں سن کر ایسے چونکا جیسے اب تک خواب کی دنیا میں تھا۔ میں نے کرسی پر پہلو بدلا، ٹائی کی گرہ درست کی اور بولا ’’معاف کیجیے گا۔ میں کچھ گزارش کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ سیٹھ جی اور اکائونٹنٹ نے میری طرف دیکھا۔ میں نے کہا ’’بینکاری سے متعلق آپ کے تمام کاموں کے لیے میں اپنی اور اپنے بینک کی خدمات پیش کر سکتا ہوں۔‘‘

سیٹھ جی نے کھنکار کر گلا صاف کیا اور اکائونٹنٹ سے کہا ’’میں اس سلسلے میں آپ سے تھوڑی دیر بعد گفتگو کروں گا۔ ابھی ذرا ان سے بات کر لوں۔‘‘
اکائونٹنٹ چلا گیا‘ تو سیٹھ صاحب مجھ سے مخاطب ہوئے۔ ’’رات کو شہلا نے تمھارا ذکر کیا تھا۔ میں نے اس کو ایسی بہت سی باتیں سمجھائیں جو تمھیں بتانے کی ضرورت نہیں۔ میں لڑکیوں کو زیادہ آزادی دینے کے خلاف ہوں۔ میں تمھارا یہاں سے کہیں اور تبادلہ بھی کرا سکتا ہوں‘ مگر فی الحال میں نے شہلا کو لاہور بھیج دیا ہے۔ ہاں! تو تم کیا کہہ رہے تھے؟‘‘

میں نے ذرا سنبھل کر کہا ’’میں یہ عرض کر رہا تھا کہ اگر آپ اپنی مل کا اکائونٹ ہمیں دے دیں‘ تو…‘‘ سیٹھ جی نے بھائو چکانے کے انداز میں کہا ’’وہ تو ٹھیک ہے مگر شہلا کا کیا ہو گا؟ کیا تم اس کو یہ لکھ کر بھیج سکتے ہو کہ تم نے اس سے جو وعدہ کیا ہے، اسے پورا کرنے کی اب ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ اگر تم ایسا کر سکو تو…تو ممکن ہے میرا تمام اکائونٹ تمھارے ہی بینک میں آ جائے اور تمھیں ترقی کے امکانات نظر آئیں۔ ورنہ سوچ لو کہ میرا نام فرقان علی ہے اور میں شہلا کا باپ ہوں۔‘‘

جتنی دیر میں سورج کی شعاعیں زمین کے رخسار کا بوسہ لیتی ہیں، اتنی دیر میں، میں نے فیصلہ کر لیا اور سیٹھ صاحب سے کہا ’’مجھے منظور ہے۔‘‘
اس کے بعد مجھ پہ کیا گزر گئی یہ تم لکھو گے۔ مجھے ابھی… آج ہی معلوم ہوا ہے کہ شہلا نے میرا خط پڑھنے کے بعد دوبارہ خودکشی کی ناکام کوشش کی تھی۔ اس کے باوجود میں نے اپنی ترقی کی خوشی میں یہ جشن منایا۔ بتائو کیا تم نے اس گنگناتی فضا میں کوئی سسکی سنی؟ روشنیوں میں اندھیرے کی لکیر دیکھی…؟ بتائو… خدا کے لیے کچھ تو کہو۔‘‘

کاغذ اپنا سینہ کھولے قلم کی برچھی کھانے کو تیار ہے۔ اور میں بڑی دیر سے قلم ہاتھ میں لیے اس فکر میں ہوں کہ اس کہانی کو کیسے شروع کروں اور کہاں ختم؟

روٹی

وہ اپنے ہونے والے کھیت پر بھرپور نگاہ ڈال کر پگڈنڈی پر ہو لیا۔ پانچ میل کا کچا رستہ طے کر کے فیصل آباد پہنچا۔ لاہور کی لاری اسے جاتے ہی مل گئی۔ شیخوپورہ کے اڈے پر جب سواریاں سستانے نیچے اتریں‘ تو اس نے کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھا، جون کے سورج کی دہکتی شعاعیں سیدھی آنکھوں پر پڑ رہی تھیں۔ اس نے لرزتے ہاتھ سے آنکھوں پر سایہ کر اپنی مخصوص مسکراہٹ سے یونہی اڈے والوں کو دیکھا۔

ایک لڑکے نے اپنا تھال بالکل اس کی آنکھوں کے قریب لا کر آواز لگائی ’’گرم پکوڑے۔‘‘ ترغیب اپنا کام کر گئی۔ اس نے دس روپے کے پکوڑے لیے۔ پھر چادر کے پلّو سے رات کی بچی روٹی نکالی جو اس نے چلتے وقت باندھ لی تھی۔ گاڑی چلنے کے بعد اس نے کھانا شروع کیا۔ باسی روٹی کا چھوٹا سا نوالہ توڑتا، دوسرے ہاتھ سے پکوڑے کی گردن یا ٹانگ توڑ کر ساتھ جوڑتا اور منہ میں رکھ لیتا۔ دس منٹ تک اس کے پوپلے منہ میں پکوڑے کے مزے گھلتے رہے… آس پاس کی سواریاں ایک بہت ہی بھولے بھالے منہ کو بچوں کی طرح چلتا ہوا دیکھ کر مسکراتی رہیں۔

آخری نوالہ حلق سے اتارتے ہی اس نے دونوں ہاتھوں پر لگے ریزے صاف کیے، ڈاڑھی پر ہاتھ پھیر کر خدا کا شکر ادا کیا، چپکے چپکے ایک عربی دعا پڑھی، مسکراتی ہوئی سواریوں پر ایک نظر ڈال خود بھی مسکرایا اور بولا ’’پکوڑے مزے دار تھے۔‘‘
لاہور میں شاہی مسجد کے قریب اتر کر وہ دیر تک تپتی سڑکوں پر سنت نگر میں دیوسماج بلڈنگ کا پتا پوچھتا رہا، جہاں محکمہ بحالیات کے پٹواری بیٹھتے ہیںاور جہاں اس کی مسل آئی ہوئی ہے۔ آخر وہ اپنی منزل پر پہنچ ہی گیا۔ دیوسماج کے صدر دروازے پر ایک پہرے دار کھڑا تھا۔ کسی کو بھی اندر جانے کی اجازت نہ تھی۔ پھر بھی ہر کوئی کسی نہ کسی حیلے وسیلے سے اندر جا ہی رہا تھا۔ دروازے کے باہر اپنی اپنی زمینوں کے قضیے چکانے والوںکا ہجوم تھا۔ دیوار کے ساتھ ساتھ بیسیوں عرضی نویس اپنے کام میں مصروف تھے۔ وہ دیر تک سہما کھڑا رہا کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ اس نے کئی لوگوں سے پوچھا، کسی نے اس کی راہبری نہ کی۔ آخر ایک خوبصورت، صحت مند نوجوان جس نے سفید بگلا قمیص اور سفید پتلون پہن رکھی تھی، قریب آ کر بولا ’’بابا پریشان کیوں ہو؟‘‘

وہ مسکرا کر کہنے لگا ’’پریشان تو میں نہیں، پر کچھ میری مدد کرو، میں جی فیصل آباد ضلع سے آیا ہوں۔ پیچھے فیروز پور ضلع کا باشندہ ہوں۔ جھوٹ نہیں بولتا، وہاں میری کوئی زمین نہیںتھی۔ ساری عمر دوسروں کی زمین باہی ہے۔ سرکار نے کچھ بنجر زمین کاشت کاروں کو مفت دی تھی۔ میرے حصے میں بیس ایکڑ آئے۔ میں نے جی کنک اور چھولے بو رکھے ہیں۔ اب ہمارا پٹواری کہتا ہے، تیری چٹ میں باپ کا نام غلط لکھا ہے۔‘‘ اس نے جیب سے چٹ نکال اس کے حوالے کر دی۔ نوجوان نے چٹ کی دسیوں تہیں کھولتے ہوئے پوچھا ’’بابا تیرا نام کیا ہے؟‘‘

بولا ’’جمال الدین ولد غلام محمد۔‘‘ نوجوان نے کہا ’’یہاں لکھا ہے جمال الدین ولد فضل بیگ۔‘‘ بابا بولا ’’بس جی یہی غلطی ہوئی ہے۔ میرے باپ کا نام غلط لکھا گیا۔ پٹواری کہتا ہے، نام ٹھیک ہوگا‘ تو قبضہ ملے گا اور مسل لاہور سنت نگر دیوسماج بلڈنگ پہنچ چکی۔ بابو جی آٹھ دس دن تک فصل اٹھنے والی ہے۔ مجھے چٹ نہ ملی‘ تو میں بھوکا مر جائوں گا، فصل سرکار لے جائے گی۔‘‘ نوجوان نے بڑی ہمدردی سے پوچھا ’’تم کتنے جی ہو؟‘‘ وہ ایک جھرجھری سی لے کر انگلی کی پوروں پر گنتی کرنے لگا ’’ایک میں، ایک بہو، دو پوترے اور ایک پوتری۔‘‘

نوجوان نے پوچھا ’’کوئی لڑکا نہیں؟‘‘ ’’نہیں بابو صاحب، کوئی نہیں۔ ایک تھا وہ پچھلے برس اللہ کو پیارا ہو گیا… اس کی مرضی! اس کا تھا، اسی نے لے لیا۔‘‘ نوجوان بولا ’’بابا تیرا کام ہو جائے گا بے فکر رہ! میں یہاں پٹواری ہوں مگر دام خرچنے ہوں گے۔‘‘ اس نے ایک کھدر کے کرتے کی اندرونی جیب سے سو روپے کے دو نوٹ، جو اس نے اسی مقصد کے لیے باقی نوٹوں سے الگ رکھے ہوئے تھے، نکالے اور بولا ’’لے پٹواری، اللہ تیرا بھلا کرے۔‘‘
پٹواری نے نوٹ جلدی سے جیب میں رکھ لیے اور کہا ’’بابا تیرا کام ہو جائے گا۔ ہزار روپے لگیں گے۔‘‘

بابا نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ کہا ’’میں دو سو سے زیادہ نہیں دے سکتا۔‘‘ پٹواری نے کہا ’’بابا کسی اور پٹواری سے کام کرانا ہے اور وہ ہزار روپے سے کم نہیں لے گا۔ میرے پاس ضلع انبالہ ہے، مسل میرے پاس ہوتی تو ایک دھیلا بھی نہ لیتا۔‘‘ بابا بولا’’میں تو جی یہی دے سکتا ہوں، مرضی ہو لو مرضی ہو نہ لو۔‘‘ پٹواری نے بے پروائی سے کہا ’’تیری مرضی ہے بابا، کوئی زبردستی نہیں۔‘‘ بابا نے کہا ’’زمین کا قبضہ مل جائے، فصل مل جائے تو دو سو اور بھی دے سکتا ہوں۔‘‘

پٹواری ہنس پڑا ’’قبضہ مفت میں نہیں مل جاتا، پیسے خرچنے پڑتے ہیں۔‘‘ وہ بولا ’’جب تک قبضہ نہ ملے، پیسے کہاں سے آئیں، ہم تو روٹی پتا نہیں کس طرح کھاتے ہیں۔‘‘ پٹواری نے مشورہ دیا ’’اچھا یوں کر، تیری جیب میں جتنے پیسے ہیں، سب نکال دے، میں تیرا کام کرا دوں گا۔‘‘ وہ کہنے لگا ’’تو میں واپس کیسے جائوں گا جی؟ اگر مجھے یہاں ٹھہرنا پڑا، تو میں کھائوں گا کیا؟‘‘ پٹواری نے صدر دروازے کی طرف قدم بڑھا کر ترغیب پیدا کرنے کی کوشش کی ’’اچھا بابا، تیری مرضی۔‘‘ وہ فوراً اپنی اندرونی جیب سے ساری رقم نکال کر گننے لگا۔

’’لو پٹواری جی، یہ سو کا نوٹ اور یہ ہوئے ستر روپے! تیرا من بھاوے تو مجھے کھان پین واسطے دے دے، نہیں تو میں نے تو تجھے اپنی کل پونجی دے دی۔‘‘ پٹواری نے اپنا پورا اطمینان کر لینے کے لیے خود اس کی جیب میں ہاتھ ڈال کر دیکھا۔ مایوس ہو کے وہ رقم بھی اپنی جیب میں ڈال ہنس کر پوچھا ’’بابا! دھوتی کی ڈب میں تو نہیں باندھ رکھے؟‘‘ ’’نہیں پٹواری جی، میں کوئی بے ایمان آدمی نہیں۔‘‘ پٹواری صدر دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ اس نے لپک کر پوچھا ’’پھر پٹواری صاحب، میرا کام کب تک ہو جائے گا؟‘‘

پٹواری نے اسے ایک طرف لے جا کر کہا ’’تو یوں سمجھ، تیرا کام ہو چکا۔ اب یہاں آنے کی ضرورت نہیں، تجھے دو چار دن میں چٹ ڈاک سے مل جائے گی۔ تو بے فکر ہو کر لاری چڑھ جا۔‘‘ اس نے پٹواری کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہمدردی طلب کرنے کے انداز میں کہا ’’میں لاری کیسے چڑھ سکتا ہوں؟ میرے پاس اب ایک پیسا بھی نہیں رہا، پٹواری جی! اس طرح کرو، مجھے اپنے گھر کا پتا بتا دو، میں شام کو معلوم کر لوں گا۔ اگر چٹ مجھے دستی مل جائے تو بڑی مہربانی ہو گی۔ میں پیدل چلا جائوں گا۔‘‘ اسے پورا یقین تھا کہ وہ شام کو پٹواری سے واپسی کا کرایہ لے لے گا۔

پٹواری نے ایک پرچی پر اپنے گھر کا پتا لکھ کر اسے حوصلہ دیا ’’اگر چٹ مل گئی تو آج ہی دستی دے دوں گا… ویسے مجھے امید نہیں، کئی دن لگ جائیں گے۔ بابا میری مان، تو آج ہی ٹُر جا، یہاں خواہ مخواہ خجل خوار ہوتا پھرے گا۔‘‘ شام کو وہ پٹواری کے گھر گوالمنڈی پہنچ گیا۔ دیر تک دروازے کے باہر کھڑا رہا، پھر دودھ دہی والے سے پوچھا ’’پٹواری کس وقت آتے ہیں؟‘‘ اس نے جواب دیا ’’بابا سامنے بیٹھک میں اس کا بڑا بھائی بیٹھا ہے، اس سے پوچھ۔‘‘

وہ ڈرتے ڈرتے مکان میں داخل ہوا۔ ڈیوڑھی میں چند منٹ انتظار کر کے آخر اس نے بیٹھک کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ آواز آئی ’’کون ہے؟ اندر آ جائو۔‘‘ وہ کواڑ آہستہ سے کھول کر اندر چلا گیا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اسے ٹھنڈک محسوس ہوئی۔ باہر کی چلچلاتی دھوپ سے اس کا جسم پسینے سے شرابور ہو چکا تھا۔ چھت پر چلتے پنکھے کی ہوا پسینے کو لگی تو جسم ٹھنڈا لگنے لگا۔ اس نے مسکرا کر پٹواری کے ہم شکل بھائی کو غور سے دیکھا جو اسے غصے سے گھور رہا تھا۔ اس نے وہیں ٹھٹک کر سلام کر کے پوچھا ’’ابھی پٹواری صاحب نہیں آئے جی؟‘‘

پٹواری کے بھائی نے تنک کر کہا ’’جب تجھے معلوم ہے کہ وہ ابھی نہیں آئے تو مجھ سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ بابا ڈر گیا، بولا ’’میرا مطبل ہے، وہ کس وقت آئیں گے؟‘‘ اس نے کہا ’’میں نے کوئی اس کا ٹھیکا لیا ہوا ہے یا میں اس کی دم سے لگا ہوں… چل جا کے باہر بیٹھ۔‘‘ بابا بولا ’’بہت اچھا سرکار، آپ ناراض نہ ہوں۔‘‘ یہ کہہ کواڑ اسی طرح بند کر وہ چلچلاتی دھوپ میں چلا گیا۔ پٹواری کا بھائی پھر اپنے نئے ناول کی تخلیق میں مصروف ہو گیا۔ زیر قلم باب میں وہ ہیروئن کو زیادہ سے زیادہ خوب صورت بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ نصف ناول تک وہ قارئین کا دل بہلانے کے لیے ہیروئن کو چند معاشقوں کا شکار دکھلانا چاہتا تھا۔ اصل موضوع کا اظہار دوسرے نصف حصے میں ہونا تھا۔ وہ ہیروئن کو سچے پیار سے مایوس کر کے اس کا ضمیر بیدار کرنے روحانی سفر پر بھیجنا چاہتا تھا۔ اس سفر کے دوران وہ نرس بن کر مختلف دیہات میں رہ کر سیدھے سادھے کسانوںکی خدمت کرے گی۔ عرصہ دراز تک ان لوگوں میں زندگی گزارنے کے بعد جب وہ واپس شہر آئے گی، تو اس کے سارے گناہ دھل چکے ہوں گے۔

غرض پہلا نصف بال بچوں کی روٹی اور دوسرا نصف حصہ فن کے لیے مخصوص تھا۔ بابا باہر گیا، تو اس نے دوبارہ قلم اٹھایا، خیالات جمع کیے اور آخری سطر پر توجہ مرکوز کی۔ وہ ہیروئن کی خوبصورتی ابھارنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اظہار کو شرافت کی حدود میں رکھنے والے الفاظ کی تلاش میں اس نے آنکھیں میچ لیں۔ تصّورات بہت دور دور تک گئے۔ لیکن حسب منشا صحیح الفاظ نہ ملے۔ ہاں لفظوں کے اندر سے ایک عجیب و غریب چہرہ نمودار ہوا۔ لمبی سفید ڈاڑھی، موٹی موٹی جھریاں، آنکھوں میں سدا مسکراتی سادگی، بھولا بھالا چہرہ، سر پر پگڑی، ستر پچھتر برس کی عمر اور سکون دینے والے انداز میں ایک میٹھا بول ’’بہت اچھا سرکار، آپ ناراض نہ ہوں۔‘‘
وہ قلم ہاتھ سے چھوڑ کر دوڑا دوڑا اوپر گیا اور جاتے ہی دہاڑنے لگا ’’تم لوگوں نے آخر مجھے کیا سمجھا ہوا ہے۔ دن رات میری یہی ڈیوٹی رہ گئی ہے کہ پٹواری صاحب کی اسامیوں کا استقبال کرتا رہوں۔‘‘

ماں نے پوچھا ’’آخر ہوا کیا؟‘‘ بولا ’’صبح سے تین آدمی آ چکے۔ میرے کام کے لیے تنہائی اشد ضروری ہے، وقت پر پیسا نہیں ملتا‘ تو پھر تم چیختی ہو۔‘‘ بیوی نے ذرا سمجھانے کے لیے کہا ’’آدمی تو آئیں گے۔ جب انھیں یہاں کام ہوتا ہے، تو وہ یہیں آئیں گے، کہیں اور کیسے چلے جائیں؟‘‘ اس نے اپنے بال نوچ لیے ’’اف، میں بہت غلط گھر پیدا ہو گیا۔ ادیبوں کو پٹواریوں کے گھر پیدا نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ ماں نے بہت آہستہ گویا اپنے آپ سے کہا ’’ایسے ادیبوں سے پٹواری اچھے۔‘‘

اسے جیسے آگ سی لگ گئی، چیخا ’’تم تو اس کی حمایت کرو گی ہی، کیونکہ وہ تمھیں روٹی دیتا ہے… دیکھو میں بتائے دیتا ہوں‘ آئندہ نہ تو میرے نام سے کوئی منی آرڈر آئے اور نہ کوئی شخص میری بیٹھک میں گھسے، بس بہت لحاظ ہو چکا۔ بھلا غضب خدا کا، منی آرڈر بھی میرے نام سے منگواتا ہے لاٹ صاحب کا بچہ، اگر کبھی حکومت کو پتا چلا، تو جیل میں جائوں گا، میری شہرت کرکری ہو جائے گی… میں اس حرامزادے کا سر پھاڑ دوں گا… اس کی شکایت کر دوں گا میں… وہ کچھ اور کہنے والا تھا کہ اسے محسوس ہوا‘ اس کی بات یہاں کون سمجھے گا۔ وہ غصہ دبا کر نیچے چلا آیا۔ یہ بڑی عجیب بات ہوئی کہ آتے وقت زینے میں اُسے حسن کے بیان کو شرافت کی حدود میں رکھنے والے بے شمار الفاظ مل گئے۔ مگر اب یہ الفاظ قلم بند کرنا ممکن نہ تھا کیونکہ اس کی کرسی پر پٹواری صاحب بڑے حاکمانہ انداز میں بیٹھے تھے۔ سامنے کرسی پر ان کی اسامی دراز تھی جو دس روز سے مقامی ہوٹل میں ٹھہری ہوئی تھی۔ دونوں بوتلیں پی رہے تھے۔ ناول نویس اس وقت ٹہلنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ ٹہلنے سے خیالات بھٹک جاتے تھے۔

ابھی ابھی زینے اترتے وقت جو خوش نما خیالات پکڑ کر لایا تھا، وہ انھیں بکھرنے سے بچانے کے لیے ایک کرسی پر اکڑوں بیٹھ گیا۔ پٹواری صاحب نے اس کے ناول پر ایک نگاہ غلط انداز ڈالی پھر مسودہ اٹھا ساتھ والی میز پر یوں بے نیازانہ پھینک دیا جیسے یہ واہیات چیز ہمارے حضور کس لیے رکھی گئی؟ ناول نویس نے زمین پر گرے چند اوراق اٹھا باقی پلندے کے ساتھ بڑے پیار سے ہموار کیے اور بھائی کے لیے اپنی نفرت ظاہری معصومیت تلے دبا کر بیٹھ گیا۔

بوتل ختم کرنے کے بعد پٹواری صاحب نے اپنا صندوقچہ نکالا جس میں ہر نمونے اور رنگ کی سیاہیاں تھیں۔ مختلف نبوں کے قلم تھے اور سیاہی مٹانے والی سفیدی بھی۔ پہلے اس نے ایک ایک ورق خوب کھڑکھڑاتے ہوئے اسامی کی مسل آہستہ آہستہ کھولی۔ پھر مسل میں اصل کلیم فارم آنے پر زور سے ایک دو ہتڑ جمایا اور بولا ’’ابھی تیرا تیاپانچا کر دیا جائے گا۔‘‘ پھر سیاہی مٹانے والی شیشی میں سے موقلم نکالا اور کلیم فارم پر سے الفاظ اور ہندسوں میں لکھے ’’تین سو ایکڑ‘‘ سفیدے سے مٹانے لگا۔

ناول نویس کا جی چاہا بغاوت کر کے صاف صاف اعلان کر ڈالے کہ اس مقدس کرسی سے انسانی فلاح کے خیالات کی اشاعت ہوتی ہے۔ اس پر بیٹھ کر گناہ نہیں کیا جا سکتا۔ پٹواری نے سفیدہ خشک ہو جانے کے بعد اسامی کے اپنے ہاتھ سے کلیم فارم کی اصل سیاہی کے عین مطابق ’’تین ہزار ایکڑ‘‘ الفاظ میں لکھوائے اور ہندسوں میں بھی، پھر مسل بند کر دی۔ اسامی کا ہاتھ خودبخود اچکن کی جیب میں پہنچا۔ نوٹوں کا بنڈلپٹواری کو پیش کرتے ہوئے اس نے کہا ’’باقی رقم اس وقت جب تحریری پروانہ ملے گا۔‘‘

پٹواری نے وہ نوٹ ناول نویس کو تھماتے ہوئے کہا ’’والدہ کو دے دینا، اپنی طرف سے۔‘‘ ناول نویس نے نوٹ میز کے کونے پر رکھ اوپر اپنا رنگین پیپر ویٹ رکھ دیا۔ اسے معاً احساس ہوا کہ یہ پیپر ویٹ ناول کے اوپر رکھا جاتا ہے۔ اس نے شیشے کا گولہ وہاں سے ہٹا کر چھوٹی میز پہ اپنے ناول پر رکھ دیا۔ اسامی کے باہر نکلتے ہی پٹواری نے میز پر سے نوٹ اٹھائے اور بھائی کی ناک کے پاس لہرا کر بولا ’’تم دس برس سے کما رہے ہو، کیا کبھی اتنی رقم دیکھی؟ میں نے یہ دس منٹ میں کمائے ہیں۔‘‘

ناول نویس نے چھوٹے بھائی کی طرف دیکھتے ہوئے غصے اور نفرت کو مسکراہٹ میں چھپا لیا اور بولا ’’بھئی مجھے کیا دکھاتے ہو، خدا تمھیں اور دے۔‘‘ پٹواری نے برجستہ کہا ’’دعا جل کر نہ دو، دل سے دو۔‘‘ ناول نویس چڑ گیا‘ مگر فوراً بھائی کا روپ اختیار کر لیا، کہنے لگا ’’دیکھو، میں صرف ایک بات کہتا ہوں۔ یہ درست ہے کہ تمھارے پیشے کی روایت ہی یہ ہے کہ تمھیں بالائی آمدنی ہو، کمائو خوب کمائو، لیکن غریبوں کا کام جہاں تک ہو سکے، مفت کر دیا کرو، وہ بوڑھا شخص جو…‘‘ پٹواری بات کاٹتے ہوئے بولا ’’میں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے تھے یا میں اسے گھر سے بلا کر لایا تھا؟‘‘ ناول نویس بوڑھے پر ترس کھاتے ہوئے بولا ’’پھر بھی وہ بھولا آدمی ہے، سادہ ہے۔‘‘ پٹواری بولا ’’بھولا نہیں احمق اور جاہل ہے۔ جہالت کی اسے ضرور سزا ملنی چاہیے۔ اس بے وقوف کو پٹواری نے بہکا دیا۔ بھلا اس کی مسل کا لاہور میں کیا کام؟ مسل ہو گی تو اول گائوں میں پٹواری کے پاس ہو گی ورنہ زیادہ سے زیادہ تحصیل فیصل آباد میں۔ پٹواری خود کھانا چاہتا ہے۔ اسی نے چٹ جاری کی ہے۔ جان بوجھ کر اس نے باپ کا نام غلط لکھا۔ اب فصل کٹنے کا موقع آیا تو اسے دڑبڑا دیا اور یہ گدھا سیدھا یہاں چلا آیا۔‘‘
ناول نویس نے کہا ’’مگر تمھیں تو اسے سیدھا راستہ دکھانا چاہیے۔ اگر تم نے اس سے کچھ لیا ہے‘ تو وہ واپس کر دو۔‘‘

پٹواری بولا ’’تم بیٹھ کر اپنا ناول لکھو اور اگرایسے ہی رحم دل ہو‘ تو اپنی جیب سے ادا کر دو۔‘‘ پٹواری بیٹھک سے نکل ہی رہا تھا کہ بابا آ گیا۔ پٹواری نے اس سے کہا ’’بابا تیرا کام ہو گیا۔ آج چٹ ڈاک سے بھیج دی۔ تجھے ایک دو روز میں مل جائے گی‘ جا موج اُڑا۔ سیدھا پنڈ پہنچ جا نہیں تو چٹ گم ہو جائے گی۔‘‘ بابا بولا ’’بڑی بڑی مہربانی جی‘ بڑی بڑی مہربانی، خدا وند کریم تیرا رُتبہ اور بلند کرے۔‘‘ پٹواری دعائیں لے کر اوپر گیا، تو ناول نویس نے بابا کو اندر بیٹھک میں بلا کر کہا ’’بابا، ابھی تیرا کام نہیںہوا۔ یہ سخت جھوٹا آدمی ہے، اس کے دھوکے میں نہ آنا۔‘‘ ناول نویس پھر خود بھی بیٹھک بند کر میکلوڈ روڈ کا ایک چکر لگانے چلا گیا۔ بابا عشا کی نماز پڑھنے مسجد چلا آیا۔ نماز کے بعد جب سارے نمازی رخصت ہوئے‘ تو مسجد میں فقط دو آدمی رہ گئے، ایک موذن اور ایک وہ خود۔ موذن نے صفیں سمیٹ مسجد کے ایک گوشے میں رکھ دیں اور قمیص اتار پنکھا ذرا تیز کر کے روٹی کھانے بیٹھ گیا۔ محلے سے اللہ واسطے کے نام کی آئی ہوئی روٹیاں اس کے سامنے تھیں اور ایک بڑا تانبے کا بغیرقلعی پیالہ جس میں کوفتے، آلو گوشت، قیمہ، دال اڑو، دال مسور اور ترکاریاںمل جل کر عجب وضع کا سالن بن گئی تھیں۔ بابا پانچ گز پرے فرش پر لیٹا بار بار لالچی نظروں سے موذن کی طرف دیکھ رہا تھا۔ موذن بچے کھچے دانتوں سے روٹی چبانے کی کوشش کرتے ہوئے چپڑ چپڑ کرتے وقت آنکھیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھتا‘ تو اسے محسوس ہوتا کہ بس اب وہ کہنے ہی والا ہے ’’آئو بابا جی روٹی کھائو۔‘‘

اُسے اتنی شدید بھوک لگی ہوئی تھی کہ وہ موذن کے رسمی فقرے کا بری طرح انتظار کر رہا تھا۔ آدھ گھنٹے کی مسلسل کاوش کے بعد جب موذن سے ساری روٹیاں نہ کھائی جا سکیں، تو اس نے پیالہ اٹھایا اور سارا سالن منہ لگا کر پی گیا۔ باقی روٹیاں دسترخوان میں لپیٹ الماری میں رکھنے لگا، تو بابا نے کہنا چاہا، مولوی صاحب ایک روٹی مجھے دے دو، سخت بھوکا ہوں، مگر وہ کچھ بھی نہ کہہ سکا۔ موذن نے الماری کو تالا لگا کر تالاب کے پانی سے ہاتھ دھوئے، کچھ پانی اپنے سر پر ڈالا اور عین پنکھے کے نیچے آ کر لیٹ رہا۔ بابا اپنی جگہ سے اٹھا اور موذن کے قریب ہی پنکھے کے نیچے لیٹنے لگا، تو وہ فوراً بولا ’’یہاں مسافروں کو ٹھہرنے کی اجازت نہیں۔‘‘ بابا بولا ’’ہمارے گائوں میں کوئی مسافر آئے، تو ہم اسے مہمان سمجھ کر روٹی کھلاتے ہیں اور وہ مسجد میں سوتا بھی ہے۔‘‘

موذن نے برہم ہو کر کہا ’’یہ شہر ہے بابا، گائوں نہیں۔‘‘ بابا اٹھا اور پٹواری والے مکان کے سامنے بنی دکانوں کے تھڑے پر لیٹ گیا۔ قیامت کی گرمی پڑ رہی تھی۔ ہوا بالکل رکی ہوئی تھی۔ دن بھر کی تپتی زمین سے جھلسے بخارات نکل رہے تھے۔ وہ جلتے ہوئے تھڑے پہ لیٹا، کروٹیں بدلتا سوچ رہا تھا کہ چٹ ملتے ہی زمین پر اس کا قبضہ ہو جائے گا۔ یہ کھڑی فصل بھی اسے مل جائے گی۔ اسے قبضہ اور فصل ملنے کی اتنی خوشی نہیں تھی جتنا اس بات پہ فخر کہ وہ بھی زمین والا ہو جائے گا۔ زندگی بھر وہ تیرے میرے کی زمین جوتا رہا اور اب اس کے پاس زمین ہو گی۔ وہ کوشش کرے گا کہ اس کے مرنے کے بعد دونوں پوتروں میں زمین تقسیم نہ ہو بلکہ مل جل کر کاشت کریں، کھائیں کمائیں۔ شدید بھوک اور گرمی کے باوجود اس کے تصورات میں بس اپنا ہونے والا کھیت بسا ہوا تھا۔

پگڈنڈی پہ اونچی پلیا پر کھڑے ہوں تو سامنے شہتوت کے درخت تک اور دائیں ہاتھ رانا صاحب کے کنویں اور بائیں ہاتھ راجباہے تک! تھوڑی دیر بعد اسے کسی نے جگایا، کوئی اس سے سرگوشی میں کہہ رہا تھا ’’بابا! ابھی ترا کام نہیں ہوا، یہ سخت جھوٹا آدمی ہے۔ اس کے دھوکے میںنہ آنا۔‘‘ وہ ساری رات اسی طرح انگاروں پر لوٹتا رہا۔ دوسرے دن نماز فجر پڑھتے ہی وہ دیوسماج کے دروازے پر جا بیٹھا۔ رفتہ رفتہ اپنی اپنی زمینوں کے قضیے چکانے والوں کا ہجوم ہو گیا۔ دیوار کے ساتھ ساتھ بیسیوں عرضی نویس اپنے اپنے کام میں مصروف ہو گئے۔ وہ کبھی عرضی نویسوں کے پاس دیوار کا سہارا لے کر بیٹھتا، کبھی ہجوم میں غائب ہو جاتا۔ پٹواری باہر آتا تو لوگوں کی اوٹ میں ہو جاتا، وہ اس پر اپنی موجودگی ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ کیونکہ اس نے تو کل ہی کہہ دیا تھا کہ چٹ ڈاک سے بھیجی جا چکی۔ پھر بھی پٹواری کے بھائی کی بات سن کر وہ سچ اور جھوٹ میں سے ایک کی تصدیق چاہتا تھا۔ دفتر بند ہونے سے ایک گھنٹا پہلے ایک نیلی دھوتی والا پٹواری اس کے پاس آیا اور بولا ’’بابا پریشان کیوں ہے؟‘‘

بابا نے سارا ماجرا سنایا۔ ساتھ ہی وہ کاغذ بھی دکھایا جس پر کل والے پٹواری نے اپنے گھر کا پتا لکھا تھا۔ آج کا پٹواری بات کی تہ تک پہنچ گیا۔ وہ عرصے سے سفید قمیص پتلون والے پٹواری کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت فراہم کرنے کی فکر میں تھا۔ اس نے ایک عرضی نویس سے اس مفہوم کی درخواست لکھوائی کہ جناب تحصیل دار صاحب، آپ کے فلاں پٹواری نے مجھ غریب و نادار پردیسی پناہ گزین کے اتنے پیسے ہتھیا لیے ہیں۔ مہربانی کر کے اس کے خلاف کارروائی کی جائے اور میرے پیسے واپس دلائے جائیں۔ درخواست کے آخر میں اس نے بابا کا انگوٹھا لگوایا۔ پھر اسے اپنے ساتھ اندر لے جانے لگا تاکہ وہ تحصیل دار کی خدمت میں بہ نفس نفیس حاضر ہو کر درخواست پیش کر دے۔

بابا نے کہا ’’پٹواری جی میں ایسا نہیں کروں گا، شریعت میں ہے کہ آدمی کو تین مرتبہ مہلت دو۔ اگر اس نے کل تک میرا کام نہ کرایا یا پیسے واپس نہ دیے‘ تو میں حاضر ہو جائوں گا۔ میں بہت خراب آدمی ہوں، جھوٹے آدمی کو ننگا کر دیتا ہوں۔ میں اسے چھوڑوں گا نہیں، کل شکایت کروں گا۔‘‘ یہ کہہ کے اس نے درخواست تہ کر اپنی جیب میں رکھ لی۔ دفتر بند ہونے کے بعد وہ کافی دیر دیوسماج کے باہر بیٹھا رہا۔ سب لوگ چلے گئے، عرضی نویس بھی آہستہ آہستہ غائب ہو گئے۔ اس نے اپنے آپ سے کہا ’’اچھا بچہ، شام کو توگھر آئے گا ہی، وہاں پکڑوں گا۔‘‘ وہ چلچلاتی دھوپ میں ایک ایک موڑ پر لوگوں سے پتا پوچھتاگوالمنڈی کی اسی گلی میں پہنچ گیا۔ بہت دیر تک تھڑے پر بیٹھا رہا، جب دھوپ اس کی ٹانگوں تک آ گئی، تو وہ اٹھا اور مسجد چلا گیا۔ ابھی نماز عصر میں پندرہ منٹ باقی تھے۔

وہ پگڑی فرش پررکھ تالاب کے کنارے جا بیٹھا۔ پہلے اس نے اپنی ٹانگیں ٹھنڈی کیں، پھر سر کے بال بھگوئے۔ موذن اذان دینے منار پر چڑھا، تو اس نے وضو شروع کیا۔ ہاتھوں پر تین مرتبہ پانی ڈالنے کے بعد منہ صاف کیا، غرارے کیے۔ تیسری مرتبہ پانی منہ میں ڈالا، تو بجائے کلی کرنے کے نگل گیا۔ ٹھنڈے ٹھنڈے پانی نے سینہ تر کر دیا۔ پھر تو وہ دونوں ہاتھوں سے چلو بھر بھر کے غٹا غٹ پانی پینے لگا۔ طبیعت کچھ سنبھل رہی تھی۔ جب بالکل ہی گنجائش نہ رہی تو اس کی گردن آپ ہی آپ اوپر کو اٹھی۔ اس نے زور کی لمبی ڈکار لی، منہ میں پکوڑوں کا مزا آ گیا۔ بولا، ’’سبحان اللہ، سبحان اللہ‘ بھوک بھی کیسی عجیب شے ہے۔‘‘ پھر نئے سرے سے خوشی خوشی ہاتھ دھوئے اور وضو مکمل کیا۔

نماز پڑھ کر وہ ناول نویس کی بیٹھک کے آس پاس ٹہلنے لگا۔ اس وقت وہ بڑے غصے میں تھا۔ وہ جلد از جلد پٹواری کو پکڑ کر دو ٹوک فیصلہ چاہتا تھا۔ کبھی گلی کے موڑ پر دیکھتا، کبھی بیٹھک کی کھڑکی میں سے پٹواری کے بھائی کو گھورتا۔ ناول نویس اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر مشتعل تو نہ ہوا، مگر خیالات کی ڈوری اس کے ہاتھ سے نکل گئی۔ آج کے باب میں وہ ہیروئن کو پہلے عاشق کے ساتھ پہلی بار شہر کے معروف باغ میں لے گیا۔ رات ہو چکی تھی۔ سیروتفریح کے لیے آئے جوڑے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے خراماں خراماں باغ کے اندرونی اجاڑ حصے کی طرف جا رہے تھے۔ ہیرو نے اپناہاتھ ہیروئن کے کندھے پر رکھا ہی تھا کہ ناول نویس کو بابا کی شکل نظر آ گئی۔ اسے غصہ یوں نہیں آیا کہ اس وقت بابا کی شکل اسے اچھی لگی۔ وہ ہیرو اور ہیروئن کو اب ایک درخت کے نیچے بٹھانا چاہتا تھا۔ پھر ایسے رومانی جملے لکھتا کہ ناشر انھیں پسند کرے اور اس کا ضمیر بھی مطمئن رہے۔
اس نے ناول بند کر الماری میں رکھا۔ اوپر گیا۔ جلدی جلدی منہ ہاتھ دھو کر کپڑے تبدیل کیے اور نیچے اترا۔ بابا نے آگے بڑھ کر پوچھا ’’پٹواری صاحب کس وقت آئیں گے بابو جی۔‘‘

جواب دیا ’’بس آتے ہی ہوں گے۔‘‘ اس نے پھر غور سے بابا کی طرف دیکھا‘ تو اسے اپنے دل میں ہمدردی سی محسوس ہوئی۔ اس نے بیٹھک سے چھوٹی چارپائی نکال دیوار کے سائے میں بچھائی اور بولا ’’بابا لیٹو‘ بیٹھو‘ آرام کرو۔‘‘ بابا نے بے حد ممنویت کے ساتھ کہا ’’بڑی بڑی مہربانی جی، بڑی بڑی مہربانی۔‘‘ ناول نویس کو شدید جذبات سے بھرا جملہ سن کر عجیب و غریب خوشی محسوس ہوئی۔ وہ پھر میکلوڈ روڈ کے اس ہوٹل میں پہنچا جہاں شام کے وقت ہم عصر ادیب چائے پیتے تھے۔ ہوٹل پہنچا‘ تو حسب معمول ادیبوںکا دل پسند موضوع چھڑا ہوا تھا‘ یہی کہ ہمارے ملک میں بے حد غربت ہے، بھوک ہے، بیماری ہے، جہالت ہے۔ وہ خاموش بیٹھا ادیب بھائیوں کے پرجوش دلائل سنتا رہا۔ اقتصادی نظام میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ سرمایہ داروں سے ساری دولت چھین کر مزدورں اور کسانوں میں تقسیم کر دینی چاہیے۔ دولت کے وسائل کی مساوی تقسیم کے بغیر ملک میں خوش حالی نہیں آ سکتی۔ وغیرہ وغیرہ۔

اچانک اسے دورہ سا پڑا اور بجلی سی آنکھوں کے آگے کوند گئی۔ بابا کی بھولی بھالی صورت سے اس کا تصور عکس کھا کر ملک کے کھیتوں، جنگلوں اور پہاڑوں میں چلا گیا۔ دور دور تک پھیلے کھیتوں کے سلسلے اور ان میں کام کرتے لاکھوں مرد ‘ عورتیں اور بچے! اس نے جھرجھری لی اور اپنے آپ سے کہا ’’یہ کتنا اچھا ہو، اگر میری ہیروئن نرس بن کر جگہ جگہ دیہات میں پہنچے، تو وہ اقتصادی انقلاب کے بارے میں میرے خیالات کی علامت بن جائے گی۔ کھیتوں سے زیادہ پیداوار کم سے کم محنت میں حاصل کرنے کے لیے وہ میرے نظریات کی تبلیغ کرے۔‘‘

مگر اسے فوراً اپنی اس کمزوری کا احساس ہوا کہ آج تک اس نے کھیت نہیں دیکھے تھے۔ ایک سے دوسرے شہر جاتے وقت گاڑی کی کھڑکیوں میں سے تو کھیت نظر آتے لیکن سچ مچ کے جیتے جاگتے کھیتوں میں، جن کے اندر سے آدمی کا رزق نکلتا ہے، اس نے آج تک چل کر نہیں دیکھا تھا۔ اسے خیال آیا کہ بابا سے تعلق قائم کیا جائے۔ ’’دو چار دن اس کے گائوں رہنے سے میں دیہی زندگی کے مسائل کا مشاہدہ کر سکوں گا۔ اپنی آنکھوں سے دیکھوں گا کہ سوکھی مٹی دانہ گندم مل جانے سے گل و گلزار کس طرح ہوتی ہے۔ پھر ناول میں ہیروئن کی نصف زندگی دیہی شفا خانوں ہی میں بسر ہونی ہے۔‘‘

وہ بڑے بے ہنگم انداز میں اپنے ہم عصر ادیبوں سے ہاتھ ملا کر جلدی جلدی گھر واپس آیا۔ بابا سر کے نیچے پگڑی اور دونوں ہاتھوں کا تکیہ بنائے چار پائی پر لیٹا تھا۔ ناول نویس اس کے قریب گیا، تو بابا احتراماً اُٹھ کر بیٹھ گیا۔
بابا نے پوچھا ’’کیوں بابو جی، پٹواری صاحب کس وقت آئیں گے؟ رات ہو گئی ہے،اب تک تو آئے نہیں۔‘‘ ناول نویس بولا ’’اوہو مجھے یاد آیا بابا، وہ آج نہیں آئے گا۔ آج ہفتہ ہے۔ وہ ہفتے کی رات اپنے یار دوستوں کے ساتھ رہا کرتا ہے۔ کل صبح آئے گا۔‘‘ بابا بالکل مایوس ہو گیا ’’یہ تو بہت بری بات ہوئی۔ اب کیا ہو گا۔‘‘ ناول نویس نے ترس کھا کر پوچھا ’’میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائو۔‘‘

بابا تڑپ کر بولا ’’ظالمو، خدمت کیا ہونی ہے‘ مجھے روٹی تو کھلا دو، یہ شہر کیسا ہے، یہاں کے لوگ کیسے ہیں؟ دو دن سے بھوکا پھر رہا ہوں۔ تیرے بھائی نے میرا ایک ایک پیسا چھین لیا۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں اتنی بھوک نہیں اٹھائی۔ ساٹھ برس اپنے ہاتھ سے ہل چلایا ہے۔ اور دیکھ لے کہ میں دنیا کا سب سے غریب آدمی ہوں، پر مجھے دو وقت کی روٹی ہمیشہ ملتی رہی۔ دو دن میں کبھی بھوکا نہیں رہا۔ روٹی کا ٹکڑا تو کتے کو بھی دے دیتے ہیں۔‘‘

ناول نویس کو ایک دم جھٹکا لگا۔ وہ چکرا گیا اور پھر دوڑتا ہوا اوپر گیا۔ اجلے دستر خوان میں چھے روٹیاں رکھیں‘ اس خیال سے کہ دیہاتیوں کا پیٹ بڑا ہوتا ہے۔ پلیٹ میں سالن ڈلوایا۔ شیشے کے گلاس میں پانی لیا اور یہ سب چیزیں صاف ستھری ٹرے میں سجا کر نیچے اترنے لگا۔ زینے کے اندھیرے میں اسے محسوس ہوا کہ قدرت اپنا انتقام ترت لے لیتی ہے۔ کل جس شخص کو میں نے جانوروں کی طرح دھتکار دیا تھا، آج اسی کے لیے وہ کھانا لیے جا رہا تا۔ اور کھانا بھی کیا، رشوت کی کمائی سے خریدی ہوئی گندم اور سبزی ! ایک آنسو اس کی آنکھ سے ٹپکا اور اندھیرے میں کہیں گم ہو گیا۔

اس نے ٹرے بابا کے سامنے رکھی۔ بابا نے جلدی سے دستر خوان کھول کر اوپر کی روٹی اٹھائی۔ دستر خوان اسی طرح لپیٹا اور ٹرے ناول نویس کی طرف سرکا کر بولا ’’بس بابو جی، میں نے اپنی قسمت کا حصہ لے لیا۔‘‘ پھر ایک نوالہ توڑا اور پوپلے منہ میں گھلانے لگا۔ سامنے والے کھمبے کی روشنی میں ناول نویس نے اس کی آنکھوں میں کچھ تڑپتے ہوئے دیکھ کر محسوس کیا کہ وہ صدیوں سے بھوکا تھا۔ بابا نے دوسرا نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا ’’مجھے اس وقت روٹی نہ ملتی تو شاید صبح تک مر جاتا۔ بڑی سخت بھوک لگی تھی۔ اپنی زندگی میں اتنی بھوک نہیں دیکھی۔‘‘

ناول نویس نے سالن کی پلیٹ اس کے قریب کرتے ہوئے پیار کے ساتھ کہا ’’بابا، سالن سے کھائو۔‘‘ بابا نے پلیٹ اٹھا کر پھر ٹرے میں رکھ دی۔ ناول نویس نے اصرار کیا ’’لو نا بابا، تکلف نہ کرو، اسے اپنا گھر سمجھو۔‘‘ بابا بولا ’’نہ بابو تیرے سالن سے روٹی نہ کھائوں گا، اس میںتیرا نمک ہے۔ اگر میں نے یہ نمک کھا لیا، تو پھر میں اس گھر کے خلاف شکایت نہیں کر سکتا۔ روٹی کی بات اور ہے،یہ خدا کی دی ہوئی چیز ہے۔ میں نے مانگ کر کھا لی۔ سالن انسان کی بنائی چیز ہے۔ اور یہ میں بتا دوں بابو، تیرے بھائی کی شکایت ضرور کروں گا، چھوڑوں گا نہیں، اس نے مجھے ستایا ہے، میں اسے ستائوںگا۔‘‘

ناول نویس بالکل نئی دنیا میں داخل ہو رہا تھا… نئی بصیرت، نیا شعور جہاںانقلابی تبدیلی پیدا کرنی ہے، وہ کھیت یا جنگل نہیں، انسان کا دل ہے۔ روٹی کی اصل قیمت کا اسے علم ہوا۔ اس کے سارے نظریات خیالات بکھر گئے۔ آدھی رات تک وہ اوپر والے کوٹھے پر بے قراری سے ٹہلتا رہا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ میں اپنی کہانیوں میں ایسا کردار کبھی تخلیق نہیں کر سکتا جس میں اتنی عظمت ہو اور جب میں ایسا نہیں کر سکتا تو پھر کہانیاں لکھنے سے کیا فائدہ؟ روٹی تو میں کوئی اور پیشہ بھی اختیار کر کے کما سکتا ہوں جس میں محنت بھی کم اٹھانی پڑے گی۔ میں کہانی لکھنے کے سوا دنیا کا اور کوئی کام نہیں کر سکتا مگر روٹی کمانے کے لیے اپنے کرداروں کو پست سطح پر لے جانا حد درجہ کمینگی ہے۔ اگر میں ناول نویسی ترک بھی کر دوں تو پھر…
وہ اس قسم کی ذہنی کشمکش میں مبتلا تھا، نیچے بابا جمال اپنی چارپائی پر لیٹا کروٹیں بدل رہا تھا۔ گلی میں چار پانچ چارپائیاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بچھی ہوئی تھیں۔ چوکیدار تھوڑی تھوڑی دیر بعد لاٹھی ٹیکتا بابا کے قریب سے گزرتا اور گلی کے دوسرے کونے پر جا کر واپس لوٹتا۔ ہر بار اسے یوں محسوس ہوتا کہ بابا اسے روک کر کچھ کہنا چاہتا ہے۔ وہ آتا اور گزر جاتا۔ ایک دفعہ وہ قریب آ رہا تھا تو بابا اٹھا۔ اس نے پگڑی باندھی، پرانی جوتیاں پہنیں، چارپائی پٹواری کی دیوار کے ساتھ کھڑی کی اور جیب سے اس کی شکایت نکال کر پھاڑنے لگا۔

چوکیدار نے قریب آ کر پوچھا ’’بابا کیا بات ہے؟‘‘ بابا نے بڑی بے پروائی سے جواب دیا ’’کوئی بات نہیں۔‘‘ چوکیدار اپنا سا منہ لیے گلی کے دوسرے سرے تک بڑھتا چلا گیا۔ بابا شکایت کے ننھے ننھے پرزے کرتا رہا۔ واپسی پر چوکیدار اس کے برابر سے گزرا‘ تو بابا نے کہا ’’چوکیدار! یہ منجی پٹواری صاحب کی ہے، میں نے تجھے سونپی‘ صبح اس کو حفاظت سے دے دینا۔‘‘ پھر اس نے منہ اٹھا کر دروازے کو مخاطب کیا ’’اچھا پٹواری صاحب، ہم نے اپنا معاملہ خدا کو سونپا۔‘‘
یہ کہہ کر وہ گوالمنڈی سے نکل کر میو اسپتال کے چوک میں آ گیا۔ پھر تانگے والوں سے پتا پوچھتا بڈھے دریا کے پل پر نکل آیا۔ وہاں سے سیدھا راوی کے پل پر پہنچا۔ پھر شاہدرے کے موڑ پر چائے والے سے پوچھ کر فیصل آباد جانے والی سڑک پر ہو لیا۔ آہستہ آہستہ وہ بڑھتا گیا۔ چاروں طرف ہو کا سناٹا تھا۔ قیامت کی گرمی اور غضب کا اندھیرا تھا۔ سڑک کے دونوں طرف اونچے اونچے، کالے کالے درخت تھے۔ درختوں سے پرے دور دور تک کھیتوں اور باغوں کے سلسلے پھیلے تھے، نہریں اور جھیلیں تھیں۔ پہاڑ اور دریا تھے، قصبے اور بستیاں تھیں، مگر بابا کو اندھیرے میں کچھ بھی نظر نہ آ رہا تھا، سوائے اپنے ہونے والے کھیت کے!

ٹوبہ ٹیک سنگھ

بٹوارے کے دو تین سال بعد پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں کو خیال آیا کہ اخلاقی قیدیوں کی طرح پاگلوں کا تبادلہ بھی ہونا چاہئے یعنی جو مسلمان پاگل ، ہندوستان کے پاگل خانوں میں ہیں انہیں پاکستان پہنچا دیا جائے اور جو ہندو اور سکھ پاکستان کے پاگل خانوں میں ہیں انہیں ہندوستان کے حوالے کر دیا جائے .

معلوم نہیں یہ بات معقول تھی یا غیر معقول ، بہر حال دانش مندوں کے فیصلے کے مطابق ادھر ادھر اونچی سطح کی کانفرنسیں ہوئیں ، اور با‌لاخر ایک دن پاگلوں کے تبادلے کے لئے مقرّر ہو گیا۔ اچّھی طرح چھان بین کی گئی۔ وہ مسلمان پاگل جن کے لواحقین ہندوستان ہی میں تھے۔ وہیں رہنے دئے گئے تھے۔ جو باقی تھے ان کو سرحد پر روانہ کر دیا گیا۔ یہاں پاکستان میں چونکہ قریب قریب تمام ہندو سکھ جا چکے تھے۔ اس لئے کسی کو رکھنے رکھانے کا سوال ہی نہ پیدا ہوا۔ جتنے ہندو سکھ پاگل تھے۔ سب کے سب پولیس کی حفاظت میں بارڈر پر پہنچا دیے گئے

ادھر کا معلوم نہیں۔ لیکن ادھر لاہور کے پاگل خانے میں جب اس تبادلے کی خبر پہنچی تو بڑی دلچسپ چہ می گوئیاں ہونے لگیں۔ ایک مسلمان پاگل جو بارہ برس سے ہر روز با قاعدگی کے ساتھ ” زمیندار ” پڑھتا تھا اس سے جب اس کے ایک دوست نے پوچھا۔ ” مولبی ساب ، یہ پاکستان کیا ہوتا ہے “۔ تو اس نے بڑے غور و فکر کے بعد جواب دیا۔” ہندوستان میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں استرے بنتے ہیں “۔

یہ جواب سن کر اس کا دوست مطمئن ہو گیا .

اسی طرح ایک سکھ پاگل نے ایک دوسرے سکھ پاگل سے پوچھا۔” سردار جی ہمیں ہندوستان کیوں بھیجا جا رہا ہے ہمیں تو وہاں کی بولی نہیں آتی “۔

دوسرا مسکرایا۔ ” مجھے تو ہندوستوڑوں کی بولی آتی ہے ہندوستانی بڑے شیطانی آکڑ  آکڑ پھرتے ہیں “

ایک دن نہاتے نہاتے ایک مسلمان پاگل نے ” پاکستان زندہ باد ” کا نعرہ اس زور سے بلند کیا کہ فرش پر پھسل کر گرا اور

بیہوش ہو گیا۔

بعض پاگل ایسے بھی تھے جو پاگل نہیں تھے۔ ان میں اکثریت ایسے قاتلوں کی تھی جن کے رشتہ داروں نے افسروں کو دے دلا کر پاگل خانے بھجوا دیا تھا کہ پھانسی کے پھندے سے بچ جائیں۔ یہ کچھ کچھ سمجھتے تھے کہ ہندوستان کیوں تقسیم ہوا ہے اور یہ پاکستان کیا ہے۔ لیکن صحیح واقعات سے یہ بھی بے خبر تھے۔ اخباروں سے کچھ پتا نہیں چلتا تھا اور پہرہ دار سپاہی انپڑھ اور جاہل تھے۔ ان کی گفتگو سے بھی وہ کوئی نتیجہ برآمد نہیں کر سکتے تھے۔ ان کو صرف اتنا معلوم تھا کہ ایک آدمی محمّد علی جناح ہے جس کو قائدِ اعظم کہتے ہیں۔ اس نے مسلمانوں کے لئے ایک علیٰحدہ ملک بنایا ہے جس کا نام پاکستان ہے۔ یہ کہاں ہے ، اس کا محلِّ وقوع کیا ہے۔ اس کے متعلّق وہ کچھ نہیں جانتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پاگل خانے میں وہ سب پاگل جن کا دماغ پوری طرح ماؤف نہیں ہوا تھا اس مخمصے میں گرفتار تھے کہ وہ پاکستان میں ہیں یا ہندوستان میں۔ اگر ہندوستان میں ہیں تو پاکستان کہاں ہے۔ اگر وہ پاکستان میں ہیں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ عرصہ پہلے یہیں رہتے ہوئے بھی ہندوستان میں تھے۔

ایک پاگل تو پاکستان اور ہندوستان ، اور ہندوستان اور پاکستان کے چکّر میں کچھ ایسا گرفتار ہوا کہ اور زیادہ پاگل ہو گیا۔ جھاڑو دیتے دیتے ایک دن درخت پر چڑھ گیا اور ٹہنے پر بیٹھ کر دو گھنٹے مسلسل تقریر کرتا رہا جو پاکستان اور ہندوستان کے نازک مسئلے پر تھی۔ سپاہیوں نے اسے نیچے اترنے کو کہا تو وہ اور اوپر چڑھ گیا۔ ڈرایا دھمکایا گیا تو اس نے کہا ” میں ہندوستان میں رہنا چاہتا ہوں نہ پاکستان میں۔ میں اس درخت ہی پر رہوں گا “۔

بڑی مشکلوں کے بعد جب اس کا دورہ سرد پڑا تو وہ نیچے اترا اور اپنے ہندو سکھ دوستوں سے گلے مل مل کر رونے لگا۔ اس خیال سے اس کا دل بھر آیا تھا کہ وہ اسے چھوڑ کر ہندوستان چلے جائینگے۔

ایک ایم ایس سی پاس ریڈیو انجینئر جو مسلمان تھا اور دوسرے پاگلوں سے با‌لکل الگ تھلگ باغ کی ایک خاص روش پر سارا دن خاموش ٹہلتا رہتا تھا یہ تبدیلی نمودار ہوئی کہ اس نے تمام کپڑے اتار کر دفعدار کے حوالے کر دئے اور ننگ دھڑنگ سارے باغ میں چلنا پھرنا شروع کر دیا۔

چنیوٹ کے ایک موٹے مسلمان پاگل نے جو مسلم لیگ کا سر گرم کارکن رہ چکا تھا اور دن میں پندرہ سولہ مرتبہ نہایا کرتا تھا یک لخت یہ عادت ترک کر دی۔ اس کا نام محمّد علی تھا۔ چنانچہ اس نے ایک دن اپنے جنگلے میں اعلان کر دیا کہ وہ قائدِ اعظم محمّد علی جنّاح ہے۔ اس کی دیکھا دیکھی ایک سکھ پاگل ماسٹر تارا سنگھ بن گیا۔ قریب تھا کہ اس جنگلے میں خون خرابہ ہو جائے مگر دونوں کو خطرناک پاگل قرار دے کر علیحدہ علیٰحدہ بند کر دیا گیا۔

لاہور کا ایک نوجوان ہندو وکیل تھا جو محبّت میں نا کام ہو کر پاگل ہو گیا تھا۔ جب اس نے سنا کہ امرتسر ہندوستان میں چلا گیا ہے تو اسے بہت دکھ ہوا۔ اسی شہر کی ایک ہندو لڑکی سے اسے محبّت ہو گئی تھی۔ گو اس نے اس وکیل کو ٹھکرا دیا تھا مگر دیوانگی کی حالت میں بھی وہ اس کو نہیں بھولا تھا۔ چنانچہ ان تمام ہندو اور مسلم لیڈروں کو گالیاں دیتا تھا جنہوں نے مل ملا کر ہندوستان کے دو ٹکڑے کر دئے اس کی محبوبہ ہندوستانی بن گئی اور وہ پاکستانی۔

جب تبادلے کی بات شروع ہوئی تو وکیل کو کئی پاگلوں نے سمجھایا کہ وہ دل برا نہ کرے۔ اس کو ہندوستان بھیج دیا جائیگا۔ اس ہندوستان میں جہاں اس کی محبوبہ رہتی ہے۔ مگر وہ لاہور چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اس لئے کہ اس کا خیال تھا کہ امرتسر میں اس کی پریکٹس نہیں چلے گی۔

یوروپین وارڈ میں دو اینگلو انڈین پاگل تھے۔ ان کو جب معلوم ہوا کہ ہندوستان کو آزاد کر کے انگریز چلے گئے ہیں تو ان کو بہت صدمہ ہوا۔ وہ چھپ چھپ کر گھنٹوں آپس میں اس اہم مسئلے پر گفتگو کرتے رہتے کہ پاگل خانے میں ان کی حیثیت کس قسم کی ہو گی۔ یوروپین وارڈ رہیگا یا اڑا دیا جائیگا۔ بریک فاسٹ ملا کریگا یا نہیں۔ کیا انہیں ڈبل روٹی کے بجائے بلڈی انڈین چپاٹی تو زہر مار نہیں کرنا پڑے گی۔

ایک سکھ تھا جس کو پاگل خانے میں داخل ہوئے پندرہ برس ہو چکے تھے۔ ہر وقت اس کی زبان سے یہ عجیب و غریب الفاظ سننے میں آتے تھے۔ ” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی لالٹین”۔ دن کو سوتا تھا نہ رات کو۔ پہرہ داروں کا یہ کہنا تھا کہ پندرہ برس کے طویل عرصے میں وہ ایک لحظے کے لئے بھی نہیں سویا۔ لیٹتا بھی نہیں تھا۔ البتّہ کبھی کبھی کسی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لیتا تھا۔

ہر وقت کھڑے رہنے سے اس کے پاؤں سوج گئے تھے۔ پنڈلیاں بھی پھول گئی تھیں۔ مگر اس جسمانی تکلیف کے باوجود لیٹ کر آرام نہیں کرتا تھا۔ ہندوستان ، پاکستان اور پاگلوں کے تبادلے کے متعلّق جب کبھی پاگل خانے میں گفتگو ہوتی تھی تو وہ غور سے سنتا تھا۔ کوئی اس سے پوچھتا کہ اس کا کیا خیال ہے تو وہ بڑی سنجیدگی سے جواب دیتا۔” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی مونگ دی دال آف دی پاکستان گورنمنٹ “۔

لیکن بعد میں ” آف دی پاکستان گورنمنٹ ” کی جگہ ” آف دی ٹوبہ ٹیک سنگھ گورنمنٹ ” نے لے لی اور اس نے دوسرے پاگلوں سے پوچھنا شروع کیا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے جہاں کا وہ رہنے والا ہے۔ لیکن کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں۔ جو بتانے کی کوشش کرتے تھے وہ خود اس الجھاؤ میں گرفتار ہو جاتے تھے کہ سیالکوٹ پہلے ہندوستان میں ہوتا تھا پر اب سنا ہے کہ پاکستان میں ہے۔ کیا پتا ہے کہ لاہور جو اب پاکستان میں ہے کل ہندوستان میں چلا جائے۔ یا سارا ہندوستان ہی پاکستان بن جائے۔ اور یہ بھی کون سینے پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کسی دن سرے سے غیب ہی ہو جائیں۔

اس سکھ پاگل کے کیس چھدرے ہو کے بہت مختصر رہ گئے تھے۔ چونکہ بہت کم نہاتا تھا اس لئے ڈاڑھی اور سر کے بال آپس میں جم گئے تھے۔ جن کے باعث اس کی شکل بڑی بھیانک ہو گئی تھی۔ مگر آدمی بے ضرر تھا۔ پندرہ برسوں میں اس نے کبھی کسی سے جھگڑا فساد نہیں کیا تھا۔ پاگل خانے کے جو پرانے ملازم تھے وہ اس کے متعلّق اتنا جانتے تھے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اس کی کئی زمینیں تھیں۔ اچّھا کھاتا پیتا زمین دار تھا کہ اچانک دماغ الٹ گیا۔ اس کے رشتہ دار لوہے کی موٹی موٹی زنجیروں میں اسے باندھ کر لائے اور پاگل خانے میں داخل کرا گئے۔

مہینے میں ایک بار ملاقات کے لئے یہ لوگ آتے تھے اور اس کی خیر خیریت دریافت کر کے چلے جاتے تھے۔ ایک مدّت تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ پر جب پاکستان ، ہندستان کی گڑبڑ شروع ہوئی تو ان کا آنا بند ہو گیا۔

اس کا نام بشن سنگھ تھا مگر سب اسے ٹوبہ ٹیک سنگھ کہتے تھے۔ اس کو قطعاً معلوم نہیں تھا کہ دن کون سا ہے ، مہینہ کون سا ہے ، یا کتنے سال بیت چکے ہیں۔ لیکن ہر مہینے جب اس کے عزیز و اقارب اس سے ملنے کے لئے آتے تھے تو اسے اپنے آپ پتا چل جاتا تھا۔ چنانچہ وہ دفعدار سے کہتا کہ اس کی ملاقات آ رہی ہے۔ اس دن وہ اچّھی طرح نہاتا ، بدن پر خوب صابن گھستا اور سر میں تیل لگا کر کنگھا کرتا ، اپنے کپڑے جو وہ کبھی استعمال نہیں کرتا تھا نکلوا کے پہنتا اور یوں سج بن کر ملنے والوں کے پاس جاتا۔ وہ اس سے کچھ پوچھتے تو وہ خاموش رہتا یا کبھی کبھار ” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی مونگ دی دال آف دی لالٹین ” کہ دیتا۔

اس کی ایک لڑکی تھی جو ہر مہینے ایک انگلی بڑھتی بڑھتی پندرہ برسوں میں جوان ہو گئی تھی۔ بشن سنگھ اس کو پہچانتا ہی نہیں تھا۔ وہ بچّی تھی جب بھی اپنے باپ کو دیکھ کر روتی تھی ، جوان ہوئی تب بھی اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے تھے۔

پاکستان اور ہندوستان کا قصّہ شروع ہوا تو اس نے دوسرے پاگلوں سے پوچھنا شروع کیا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے۔ جب اطمینان بخش جواب نہ ملا تو اس کی کرید دن بدن بڑھتی گئی۔ اب ملاقات بھی نہیں آتی تھی۔ پہلے تو اسے اپنے آپ پتہ چل جاتا تھا کہ ملنے والے آ رہے ہیں ، پر اب جیسے اس کے دل کی آواز بھی بند ہو گئی تھی جو اسے ان کی آمد کی خبر دے دیا کرتی تھی۔

اس کی بڑی خواہش تھی کہ وہ لوگ آئیں جو اس سے ہم دردی کا اظہار کرتے تھے اور اس کے لئے پھل ، مٹھائیاں اور کپڑے لاتے تھے۔ وہ اگر ان سے پوچھتا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے تو وہ یقیناً اسے بتا دیتے کہ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں۔ کیونکہ اس کا خیال تھا کہ وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ہی سے آتے ہیں جہاں اس کی زمینیں ہیں۔

پاگل خانے میں ایک پاگل ایسا بھی تھا جو خود کو خدا کہتا تھا۔ اس سے جب ایک روز بشن سنگھ نے پوچھا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں ، تو اس نے حسبِ عادت قہقہہ لگایا اور کہا۔” وہ پاکستان میں ہے نہ ہندوستان میں۔ اس لئے کہ ہم نے ابھی تک حکم نہیں دیا “۔

بشن سنگھ نے اس خدا سے کئی مرتبہ بڑی منّت سماجت سے کہا کہ وہ حکم دے دے تاکہ جھنجھٹ ختم ہو مگر وہ بہت مصروف تھا اسلئے کہ اسے اور بے شمار حکم دینے تھے۔ ایک دن تنگ آ کر وہ اس پر برس پڑا۔ ” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف واہے گورو جی دا خالصہ اینڈ واہے گورو جی کی فتح جو بولے سو نہال ، ست سری اکال “۔

اس کا شاید یہ مطلب تھا کہ تم مسلمانوں کے خدا ہو سکھوں کے خدا ہوتے تو ضرور میری سنتے۔

تبادلے سے کچھ دن پہلے ٹوبہ ٹیک سنگھ کا ایک مسلمان جو اس کا دوست تھا ملاقات کے لئے آیا۔ پہلے وہ کبھی نہیں آیا تھا۔ جب بشن سنگھ نے اسے دیکھا تو ایک طرف ہٹ گیا اور واپس جانے لگا۔ مگر سپاہیوں نے اسے روکا۔ ” یہ تم سے ملنے آیا ہے تمہارا دوست فضل دین ہے “۔

بشن سنگھ نے فضل دین کو ایک نظر دیکھا اور کچھ بڑبڑانے لگا۔ فضل دین نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ” میں بہت دنوں سے سوچ رہا تھا کہ تم سے ملوں لیکن فرصت ہی نہ ملی تمہارے سب آدمی خیریت سے ہندوستان چلے گئے تھے مجھ سے جتنی مدد ہو سکی ، میں نے کی۔ تمہاری بیٹی روپ کور . . . . “

وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔ بشن سنگھ کچھ یاد کرنے لگا۔” بیٹی روپ کور “۔

فضل دین نے رک رک کر کہا۔ ” ہاں . . . . وہ . . . . وہ بھی ٹھیک ٹھاک ہے۔۔۔ان کے ساتھ ہی چلی گئی تھی “۔

بشن سنگھ خاموش رہا۔ فضل دین نے کہنا شروع کیا۔ ” انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ تمہاری خیر خیریت پوچھتا رہوں۔ اب میں نے سنا ہے کہ تم ہندوستان جا رہے ہو۔ بھائی بلبیسر سنگھ اور بھائی ودھاوا سنگھ سے میرا سلام کہنا-اور بہن امرت کور سے بھی . . . . بھائی بلبیسر سے کہنا۔ فضل دین راضی خوشی ہے۔ وہ بھوری بھینسیں جو وہ چھوڑ گئے تھے۔ ان میں سے ایک نے کٹّا دیا ہے۔ دوسری کے کٹّی ہوئی تھی پر وہ چھ دن کی ہو کے مر گئی . . . . اور . . . . میری لائق جو خدمت ہو ، کہنا ، میں ہر وقت تیار ہوں . . . . اور یہ تمہارے لئے تھوڑے سے مرونڈے لایا ہوں “۔

بشن سنگھ نے مرونڈوں کی پوٹلی لے کر پاس کھڑے سپاہی کے حوالے کر دی اور فضل دین سے پوچھا۔ “ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے ؟ “۔

فضل دین نے قدرے حیرت سے کہا۔ ” کہاں ہے ؟ وہیں ہے جہاں تھا “۔

بشن سنگھ نے پھر پوچھا۔ ” پاکستان میں یا ہندوستان میں ؟ “

” ہندوستان میں نہیں پاکستان میں “۔ فضل دین بوکھلا سا گیا۔

بشن سنگھ بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔ ” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی آف دی پاکستان اینڈ ہندوستان آف دی دور فٹے منہ ! ،،

تبادلے کے تیاریاں مکمّل ہو چکی تھیں۔ ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر آنے والے پاگلوں کی فہرستیں پہنچ گئی تھیں اور تبادلے کا دن بھی مقرّر ہو چکا تھا۔

سخت سردیاں تھیں جب لاہور کے پاگل خانے سے ہندو سکھ پاگلوں سے بھری ہوئی لاریاں پولیس کے محافظ دستے کے ساتھ روانہ ہوئیں۔ متعلّقہ افسر بھی ہمراہ تھے۔ واہگہ کے بورڈر پر طرفین کے سپرنٹندنٹ ایک دوسرے سے ملے اور ابتدائی کاروائی ختم ہونے کے بعد تبادلہ شروع ہو گیا جو رات بھر جاری رہا۔

پاگلوں کو لاریوں سے نکالنا اور دوسرے افسروں کے حوالے کرنا بڑا کٹھن کام تھا۔ بعض تو باہر نکلتے ہی نہیں تھے۔ جو نکلنے پر رضا مند ہوتے تھے۔ ان کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا تھا۔ کیونکہ ادھر ادھر بھاگ اٹھتے تھے ، جو ننگے تھے ان کو کپڑے پہنائے جاتے تو وہ پھاڑ کر اپنے تن سے جدا کر دیتے۔کوئی گالیاں بک رہا ہے۔ کوئی گا رہا ہے۔ آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ رو رہے ہیں ، بلک رہے ہیں۔ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ پاگل عورتوں کا شور و غوغا الگ تھا اور سردی اتنی کڑاکے کی تھی کہ دانت سے دانت بج رہے تھے۔

پاگلوں کی اکثریت اس تبادلے کے حق میں نہیں تھی۔ اسلئے کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ انہیں اپنی جگہ سے اکھاڑ کر کہاں پھینکا جا رہا ہے۔ وہ چند جو کچھ سوچ سمجھ سکتے تھے ” پاکستان زندہ باد ” اور ” پاکستان مردہ باد ” کے نعرے لگا رہے تھے۔ دو تین مرتبہ فساد ہوتے ہوتے بچا ، کیونکہ بعض مسلمانوں اور سکھوں کو یہ نعرے سن کر طیش آ گیا تھا۔

جب بشن سنگھ کی باری آئی اور واہگہ کے اس پار متعلّقہ افسر اس کا نام رجسٹر میں درج کرنے لگا تو اس نے پوچھا۔ ” ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے ؟ پاکستان میں یا ہندوستان میں ؟

متعلّقہ افسر ہنسا۔ ” پاکستان میں “۔

یہ سن کر بشن سنگھ اچھل کر ایک طرف ہٹا اور دوڑ کر اپنے باقی ماندہ ساتھیوں کے پاس پہنچ گیا۔ پاکستانی سپاہیوں نے اسے پکڑ لیا اور دوسری طرف لے جانے لگے ، مگر اس نے چلنے سے انکار کر دیا۔ “ٹوبہ ٹیک سنگھ یہاں ہے ” اور زور زور سے چلّانے لگا۔ ” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف ٹوبہ ٹیک سنگھ اینڈ پاکستان “۔

اسے بہت سمجھایا گیا کہ دیکھو اب ٹوبہ ٹیک سنگھ ہندوستان میں چلا گیا ہے۔اگر نہیں گیا تو اسے فوراً وہاں بھیج دیا جائیگا۔ مگر وہ نہ مانا۔ جب اس کو زبردستی دوسری طرف لے جانے کی کوشش کی گئی تو وہ درمیان میں ایک جگہ اس انداز میں اپن سوجی ہوئی ٹانگوں پر کھڑا ہو گیا جیسے اب اسے کوئی طاقت وہاں سے نہیں ہلا سکے گی۔

آدمی چونکہ بے ضرر تھا اس لئے اس سے مزید زبردستی نہ کی گئی ، اس کو وہیں کھڑا رہنے دیا گیا اور تبادلے کا باقی کام

ہوتا رہا۔

سورج نکلنے سے پہلے ساکت و صامت بشن سنگھ کے حلق سے ایک فلک شگاف چیخ نکلی۔ ادھر ادھر سے کئی افسر دوڑے آئے اور دیکھا کہ وہ آدمی جو پندرہ برس تک دن رات اپنی ٹانگوں پر کھڑا رہا ، اوندھے منہ لیٹا ہے۔ ادھر خاردار تاروں کے پیچھے ہندوستان تھا ادھر ویسے ہی تاروں کے پیچھے پاکستان۔ درمیان میں زمین کے اس ٹکڑے پر جس کا کوئی نام نہیں تھا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ پڑا تھا۔

گدھا

جانوروں میں سب سے زیادہ عزت محترم گدھے کو ہی دی جاتی ہے۔آپ کا بیٹا ہو یا آپ کی بیگم کا بھائی، دوست ہو یا دشمن، ڈاکٹر ہو یا انجینئر، چپراسی ہو یا منسٹر صبح سے شام تک آپ جس کا بھی قصیدہ پڑھتے یا ذکر کرتے ہیں اسے گدھے کے نام سے یاد کرتے ہیں ملاحظہ ہو:

خانصاحب اخبار پڑھتے ہی آگ بگولا ہوگئے اور چیخ کر انہوں نے بیوی سے کہا ” دیکھا تمہارا گدھا (بیٹا) پھر فیل ہوگیا ” ۔
اس کے دوستوں کی شان میں بھی انہوں نے قصیدہ پڑھ دیا ” گدھوں کے ساتھ رہے گا تو اور کیا ہوگا "۔ ہمارا مالی بہت ایماندار تھا۔ کبھی ایک پھل بھی توڑ کر نہیں کھاتا تھا۔ ایک دن اس نے جب ابّا جان کے سامنے آم لاکر رکھے تو چکھتے ہی ابّا جان برس پڑے ” گدھے تجھے اتنے سال ہوگئے نوکری کرتے ہوئے کھٹے میٹھے کی تمیز نہیں "۔
دھوبی بے چارہ تو ہمشہ ہی اس نام سے نوازا جاتا تھا۔ ارے گدھے تو نے میری نئی قمیض میں رنگ لگا دیا۔

جب آپ بغیر ٹکٹ کے سفر کر رہے ہوں اور ٹکٹ چیکر نے آپ سے ٹرین سے اتر جانے کو کہا ہو تب آپ دل ہی میں کہتے ہیں ” گدھے کو اتنی عقل نہیں کہ میں چلتی ٹرین سے کیسے اتروں گا "۔

ہمارا نوکر کریم تو روز ہی اس خطاب سے نوازا جاتا تھا ” ارے گدھے سالن میں کتنا نمک بھر دیا۔ بی پی بڑھا دیا میرا ” اور کبھی کہتے اتنے سال ہوگئے نوکری کرتے کرتے۔ پھر بھی گدھے کا گدھا ہی رہا۔ چائے بھی ٹھیک سے بنانا نہیں آتا "۔ جس نے ہمارا گھر بنایا تھا۔ اس انجینئر کی بھی شامت آجاتی تھی ۔ کیا گھر بنایا گدھے نے جگہ جگہ سے پانی ٹپک رہا ہے۔ کبھی کبھی ڈاکٹروں کی بھی باری آجاتی ہے جب وہ برابر تشخیص نہ کر پائیں تو کہا جائے گا ۔ آج کے ڈاکٹر بالکل گدھے ہیں۔ معمولی سی بیماری کا بھی علاج نہیں آتا "۔

سب سے بڑا گدھا تو منسٹر ہوتا ہے ہر وقت اس کی شان میں قصیدہ پڑھا جاتا ہے۔
” کیا چیف منسٹر ہے۔ بالکل گدھا ہے۔ پوری اسٹیٹ کو تباہ کر کے رکھ دیا ” ۔

ماتحتوں نے کام خراب کیا اور باس کا پارہ چڑھ جاتا ہے۔”کیا گدھوں کا بازار ہے”۔