سٹیٹس

سب سے بڑی مصیبت یہ تھی کہ اس کے سٹیٹس کیمطابق اس سے ملنا پڑتا تھا جو کہ بہت مشکل کام تھا..محبت نبھانے کیلۓ کتنا خوار ہونا پڑرہا تھا یہ مجھے پتہ تھا…..
میٹرک تھرڈ ڈویژن میں پاس کرکے ادھر ادھر مزدوری کرتا تو اتنی دیہاڑی بن جاتی کہ ہم ماں بیٹے کا دو وقت کی دال روٹی کا بندوبست ہوجاتا..ان دنوں میں ایک سروس سٹیشن پہ نوکری کررہاتھا..سارا دن لوگوں کی گاڑیاں دھوتا…چٹھی والے دن پارکوں,بازاروں کے چکر لگاتا کہ شاید کوئی لڑکی تھوڑی بہت لفٹ دےدے …زندگی کا بڑا مقصد ہی یہی تھا..خدا نے شکل وصورت اچھی دی تھی مانگے کے کپڑوں میں سوٹڈ بوٹڈ ہوکر لڑکیاں متوجہ ہوجاتیں….
اس کو پہلی بار میں نے سپرجناح میں شاپنگ کرتے دیکھا تھا اس کے ساتھ ایک اور لڑکی بھی تھی …اس نے مسکراکر میری طرف کیا دیکھا کہ میں حسب عادت پیچھے ہی لگ گیا..
شاپنگ کرکے وہ دونوں نئے ماڈل کی گاڑی میں بیٹھ کر چلی گئیں مگر اس سے پہلے میں نے اس سے موبائل نمبر حاصل کیا تھا..
یہ آج کے دن کی بہت بڑی کامیابی تھی..میں بہت خوش تھا…ہم ساری رات ایک دوسرے کو ایس ایم ایس کرتے رہے…
میں نے اس سے جھوٹ بولا کہ میڈیکل کا سٹوڈنٹ ہوں اور ڈیڈی بھی ڈاکٹر ہیں…
اس نے بتایا کہ اس کے پاپا بہت بڑے بزنس مین ہیں جو بزنس کیلیۓ زیادہ تر دوبئی ہوتے ہیں….میری تو گویا لاٹری ہی نکل آئی تھی..
آہستہ آہستہ ہماری دوستی گہری ہوتی گئی..ہم ایک دوسرے سے ملنے لگے..میں اسے واقعی ہی شدت سے چاہنے لگا…
اللہ بھلا کرے سروس سٹیشن کے مالک کے بیٹے کا..جو میرا دوست بن گیا تھا…ہر ملاقات پہ جانے کیلیۓ اس کا سوٹ,شوز,قیمتی گھڑی,موبائل ,گلاسز اور گاڑی لیکر جاتا…
مجھے اپنا آپ مرزاظاہردار بیگ لگ رہا تھا مگر کیا کرتا مجبوری تھی..
یہ کوئی فلمی سٹوری تو تھی نہیں کہ وہ میری اصلیت جان کر گلے لگاتی..رئیل لائف کا قصہ تھا مجھے پتہ تھا کہ جس دن اس کو میری دو ٹکے کی حیثیت کا پتہ چل گیا..سیدھی کک لگاتی اور شاید پٹائی بھی کرتی…ویسے بھی وہ بڑے باپ کی اکلوتی بیٹی تھی دماع عرش پہ ہی رہتا تھا…..
ایک روز صبح جب میں میلے کچیلے کپڑوں میں سروس سٹیشن پر گاڑی دھونے پہ جتا ہوا تھا اچانک کسی نے پیچھے سے میرے کندھے پہ ہاتھ رکھا…جیسے ہی میں نے پیچھے مڑکر دیکھا….میرا دل دھڑکنا بھول گیا..حلق خشک ہوگیا اور رنگت ایسی کہ کاٹو تو لہو نہیں…
سامنے وہ بڑے سٹائل سے کولہو پہ ہاتھ رکھے کھڑی تھی اور حسب_عادت چیونگم چبارہی تھی….
,,ڈاکٹر صاحب کیا حال ہے,,وہ طنزیہ لہجے میں بولی….
میں ہونقوں کی طرح اس کا منہ تکنے لگا ..منہ سے آواز ہی نہیں نکل رہی تھی اس نے مجھے رنگے ہاتھوں پکڑلیا تھا اسے میری دو ٹکے کی حیثیت کا پتہ چل گیا تھا….
,,تم تو یار بہت بڑے فنکار نکلے ..واہ جی واہ..اداکاری تو کوئی تم سے سیکھے استاد جی,,
اس کے الفاظ ہتھوڑے کیطرح میری کھوپڑی پہ لگ رہے تھے..میں شرمندگی اور بے عزتی کی شدت سے رونے ہی لگ گیا..
اس نے اچانک دھکا دیکر مجھے پیچھے رکھی کرسی پہ گرادیا…وہ میرے نزدیک آکر مجھے کان سے پکڑکر مجھ پہ جھک گئی…پھر ٹھوڑی سے پکڑ کر میرا چہرہ اٹھایا..اس کی چیونگم کی خوشبو میرے نتھنوں سے ٹکرارہی تھی…
میرے کان کے ساتھ منہ لگا کر اس نے جارحانہ انداز میں کہا..
,,کل ماں کو رشتے کیلیۓ ہمارے گھر بھیجنا اوکے,,
میں حیرت و بے یقینی سے اچھل پڑا بے اختیار میرے منہ سے نکلا….
,,کیا,,
اگلے دن اماں انکے گھر چلی گئی…واپسی پہ بہت خوش تھی انہوں نے اماں کو بہت محبت دی تھیی اور رشتہ بھی پکا ہوگیا تھا…..
شادی کے بعد اس کے ,,,پاپا,,,نےاپنی اکلوتی بیٹی کا خاوند ہونے کی وجہ سے چالو بزنس ہی میرے حوالے کیا…
آج کل میں سسر کی دی ہوئی منڈی موڑ پہ چاٹ سموسے کی چھوٹی سی دوکان چلارہا ہوں..خدا کا شکر ہے اچھا گزارہ ہورہا ہے…
اور میرے سسر نے ان دنوں لاری اڈے کے باہر پکوڑوں کی ریڑھی لگا رکھی ہے

Advertisements

اٹیچی

شادی کے دن نئی نویلی دلہن نے ایک اٹیچی کیس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے شوہر سے وعدہ لیا کہ وہ اس اٹیچی کیس کو کبھی نہیں کھولے گا۔ شوہر نے وعدہ کر لیا۔

شادی کے پچاسویں سال بیوی جب بسترمرگ پر پڑ گئی تو خاوند نے اسے اٹیچی کیس یاد دلایا۔
بیوی بولی : ” اب یہ وقت ہے اس اٹیچی کیس کے راز کو افشا کرنے کا۔ اب آپ اس اٹیچی کیس کو کھول لیں۔”
خاوند نے اٹیچی کیس کھولا تو اس میں سے دو گڑیاں اور ایک لاکھ روپے نکلے

خاوند کے پوچھنے پر بیوی بولی “میری ماں نے مجھے کامیاب شادی کا راز بتاتے ہوئے نصیحت کی تھی کہ غصہ پی جانا بہت ہی اچھا ہے۔ اسکے ماں نے مجھے طریقہ بتایا تھا کہ جب بھی اپنے خاوند کی کسی غلط بات پر غصہ آئے تو تم بجائے خاوند پر غصہ نکالنے کی بجائے ایک گڑیا سی لیا کرنا”۔
تو مجھے جب بھی آپ کی کسی غلط بات پر غصہ آیا میں نے گڑیا سی لی

خاوند دو گڑیاں دیکھ کر بہت خوش ہوا کہ اس نے اپنی بیوی کو کتنا خوش رکھا ہوا ہے کیونکہ بیوی نے پچاس سال کی کامیاب ازدواجی زندگی میں صرف دو گڑیاں ہی بنائی تھیں۔

خاوند نے تجسس سے اٹیچی میں موجود ایک لاکھ روپوں کے بارے میں پوچھا تو بیوی بولی

“یہ ایک لاکھ روپے میں نے گڑیاں بیچ بیچ کر اکٹھے کیے ہیں”

سائیں بابا کا مشورہ

میرے   پیارے بیٹے مسٹر غمگین!

جس وقت تمھارا خط ملا، میں ایک بڑے سے پانی کے پائپ کی طرف دیکھ رہا تھا جو سامنے سڑک پر پڑا تھا۔ ایک بھوری آنکھوں والا ننھا سا لڑکا اس پائپ میں داخل ہوتا اور دوسری طرف سے نکل جاتا، تو فرطِ مسرت سے اس کی آنکھیں تابناک ہو جاتیں۔ وہ اُچھلتا کودتا پھر پائپ کے پہلے سرے سے داخل ہو جاتا…
ایسے میں تمھارا خط ملا۔ لکھا تھا: ’’سائیں بابا! میں ایک غمگین انسان ہوں۔ خدارا مجھے مسرت کا راز بتائو۔ یہ کہاں ملتی ہے، کیسے ملتی ہے، کس کو ملتی ہے۔‘‘
مسٹر غمگین! اگر تم اس وقت میرے پاس ہوتے، تو تم سے فوراً کہتا کہ اس پائپ میں داخل ہو جائو اور یہ پروا مت کرو کہ تمھاری استری شدہ پتلون مٹی سے لتھڑ جائے گی۔ اس وقت مسرت ہم سے صرف چھے گز کے فاصلے پر تھی اور مٹی سے لتھڑی پتلون دھوئی بھی جا سکتی تھی…
لیکن ہائے! تم اس وقت بہت دور تھے، کلکتہ میں۔ نجانے تم اتنی دور کیوں ہو؟ مسرت سے اتنی دور! اس دوری کی وجہ سے تمھاری پتلون مٹی سے بچی ہوئی ہے… اور سنو! کیا کلکتہ میں پانی کے پائپ نہیں ہوتے؟ کیا کلکتہ میں بھوری آنکھوں والا کوئی ننھا لڑکا نہیں ہوتا؟ میرا مطلب ہے، مجھے خط لکھنے کے بجائے اگر تم کوئی پائپ تلاش کر لو، تو کیا حرج ہے۔

مسرت کا راز…؟ مسرت کے ساتھ یہ لفظ ’’راز‘‘ لٹکا دینا ان مل حرکت ہے۔ ایسی حرکت صرف پختہ ذہن کے لوگ ہی کرتے ہیں، بھوری آنکھوں والے ننھے لڑکے نہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ ایک فلسفیانہ حرکت ہے۔ مگر پائپ میں داخل ہونے میں کوئی فلاسفی نہیں۔ کیا پانی کا پائپ کوئی راز ہے؟ بالکل نہیں، وہ تو سب کے سامنے سڑک پر پڑا رہتا ہے۔ مگر لوگ اس طرف نہیں بلکہ دور ہمالیہ میں کسی گپھا کی طرف جاتے ہیں تاکہ وہاں جا کر مسرت حاصل کریں۔ ہمالیہ بہت دور ہے مگر پائپ بہت نزدیک بلکہ وہ بھینس اس سے بھی زیادہ قریب ہے جو سامنے جوہڑ میں نہاتے ہوئے خوش ہو رہی ہے۔
بھینس نہانے کے لیے ہمالیہ نہیں گئی۔ کیونکہ وہ فلاسفر نہیں اور نہ اس نے فلسفے کی کوئی کتاب پڑھی ہے۔ مگر مسٹر غمگین! تم نہ بھوری آنکھوں والے لڑکے ہو اور نہ بھینس۔ اس لیے تم مجھ سے مسرت کا راز پوچھنے بیٹھ گئے۔ میں کہتا ہوں کہ تم ایک بھینس خرید لو اور اسے گھر لے آئو۔ اور پھر اسے کھونٹے سے باندھ لو۔ پھر اپنی ننھی بیٹی کو اپنے پاس بلا لو اور اس سے کہو:

’’بیٹی! یہ کیا ہے؟‘‘
’’یہ بھینس ہے۔‘‘
’’اس کے تھنوں میں کیا ہے؟‘‘
’’دودھ ہے۔‘‘
’’دودھ کون پیے گا؟‘‘
’’میں پیوں گی۔‘‘

تو وہ لمحہ… مسٹر غمگین! وہی ایک ننھا سا لمحہ تمھیں بیکراں مسرت عطا کرے گا۔ مگر افسوس تم بھینس نہیں خریدتے بلکہ خط لکھنے بیٹھ جاتے ہو۔ چلو اگر بھینس مہنگی ہے تو ایک بکری خرید لو۔پرسوں ایک مفلس دیہاتی نوجوان کو دیکھا کہ اُس نے پیادہ راہ پر بیٹھنے والے ایک میناری فروش سے کانچ کا ایک ہار آٹھ آنے میں خریدا۔ اور اپنی دیہاتی محبوبہ کی گردن میں اپنے ہاتھ سے پہنا دیا۔ تب فرطِ مسرت سے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ میں نے اس سے یہ نہیں کہا کہ تم فینسی جیولرز شاپ پر جا کر سونے کا ہار خریدو۔ میں تم سے بھی نہیں کہتا کہ بھینس ہی خریدو، نہیں، بکری ہی خرید لو۔ کانچ کا ہار ہو یا بکری، مگر شرط یہ ہے کہ فرطِ مسرت سے ہاتھ ضرور کانپنا چاہیے۔

یہ جھوٹ ہے کہ مسرت ابدی ہوتی ہے۔ جو لوگ یہ پروپیگنڈا کریں، وہ دراصل مسرت کی تجارت کرتے ہیں۔ وہ مسرت کو بوتلوں میں بند کر دکان کی الماریوں میں رکھتے ہیں۔ ان پر خوب صورت اور سریع الاثرلیبل لگاتے ہیں۔ اس پر انگڑائی لیتی دوشیزہ کی تصویر بھی چسپاں کرتے ہیں۔ اگر ان کا بس چلے، تو آسمان پر اڑتے، رقص کرتے بادلوں کو بھی شیشے کے جگمگاتے شو کیس میں ساڑھی پہنا کر بند کر دیں۔ اور جب آپ نم آلود بادلوں سے بھیگنے کی مسرت حاصل کرنا چاہیں، تو ظاہر ہے کہ اس کے لیے آپ کو شو کیس کا شیشہ توڑنا پڑے گا اور مسرت کا بیوپاری شورمچا دے گا: ’’پولیس! پولیس! پولیس۔‘‘

اس لیے بادلوں کو ہمیشہ آسمان پر ہی رہنا چاہیے۔ میرا مطلب ہے کہ وہ ہماری چھت سے اتنے دور رہیں کہ ہمارا ہاتھ اُن تک نہ پہنچ سکے۔ ورنہ ہمارے ہاتھوں کے لمس ہی سے وہ مرجھا جائیں گے۔ بادل تو پھولوں کی طرح ہیں اور تم جانتے ہو کہ ہم نے پھولوں کے نرخ مقرر کر رکھے ہیں۔ (کیونکہ ہم علم ریاضی بھی جانتے ہیں) اگر مسرت کے سوداگروں کو یہ علم ہو جائے کہ پانی والے پائپ سے بھی بھوری آنکھوں والا لڑکا مسرت حاصل کر سکتا ہے، تو وہ اسے بھی سڑک سے اٹھا شیشے کے شو کیس میں بند کر

دیں۔ وہ اس پر مندرجہ ذیل نرخ نامہ لگائیں گے:
ایک مرتبہ پائپ میں داخلہ… فیس آٹھ آنے
پانچ مرتبہ داخلہ… فیس اڑھائی روپے،
تھوک مرتبہ داخلہ… آدھی فیس کی رعایت
پچاس مرتبہ داخل ہونے والوں کو… ایک غبارہ انعام۔

مسٹر غمگین! اگر تمھارے پاس اتنی دولت ہو کہ تم جنم سے لے کر مرن تک بغیر ایک لمحہ ضائع کیے مسلسل نرخ نامے کے مطابق پائپ میں داخل ہوتے رہو، تو تمھیں ابدی مسرت مل سکتی ہے۔ مگر یاد رکھو کہ بھینس عمر بھر پانی کے جوہڑ میں نہیں رہ سکتی۔ تم ایک امیر ترین آدمی کا منہ چڑا کر کہو کہ تمھاری ناک پر مکھی بیٹھی ہے۔ وہ سخت مشتعل ہو جائے گا کہ مسٹر غمگین، جو اپنے بوٹ پر پالش نہیں کرا سکتا، میرے ایسے ارب پتی کو مکھی کا طعنہ دیتا ہے۔ لہٰذا وہ مکھی کے بجائے تم پر جھپٹ پڑے گا…
میرا مطلب یہ ہے کہ جیسے بھینس مسلسل جوہڑ میں رہنے سے مسرت حاصل نہیں کر سکتی، ویسے ہی امیر ترین آدمی بھی مسلسل پھول خرید کر مسرت حاصل نہیں پا سکتا۔ کیونکہ ابدی مسرت کا کوئی وجود نہیں، بلکہ ایک نہ ایک دن ناک پر مکھی ضرور بیٹھتی اور غم دے جاتی ہے!
کیا تم سمجھتے ہو کہ مکھی کا طعنہ سننے کے بعد اس امیر آدمی کو رات بھر نیند آئے گی؟ کبھی نہیں، چاہے وہ گلستانِ ارم کے سارے پھول خرید کر بھی اپنے بسترپر کیوں نہ بچھا دے۔

اس لیے میں یہ سن کر سکتے میں آ گیا کہ تم مستقل طور پر غمگین رہتے ہو۔ اگر ابدی مسرت کوئی چیز نہیں، تو ابدی غم کا بھی کہیں وجود نہیں۔ جھوٹ مت بولو۔ اب سنو۔ میرے دو دوست ہیں۔ ایک کا نام مسٹر وائے ہے اور دوسرے کا مسٹر ہائے۔ مسٹر وائے جب بھی چلے اس کے پائوں زمین پر نہیں ٹکتے۔ اچھل پھاند اس کا شیوہ ہے۔ وہ نہایت معمولی، ہلکی سی بات پر خوشی سے بے چین ہو جاتا ہے۔ راستے پر کھڑے بجلی کے کھمبے پر جاتے جاتے اپنی چھوٹی سی سوٹی مار دیتا ہے۔ کھمبے میں سے ایک لمبی ’’جھن‘‘ کی آواز نکلتی ہے۔

’’آہاہاہا۔‘‘ مسٹر وائے کی آنکھیں مسرت سے پھیل جاتی ہیں۔ وہ احباب کو مخاطب ہوتے ہوئے کہتا ہے۔ ’’دیکھا کیسی آواز آتی ہے۔ ’’جھن‘‘ اگر تم کہو تو ایک بار پھر سوٹی لگا دوں۔‘‘ یہ رہی ’’جھن!‘‘

وہ انبساط کے جوش میں کلائی سے پکڑ کر مجھے اتنے زور سے کھینچ لیتا ہے کہ میں گرتے گرتے بچتا ہوں۔
اور مسٹر ہائے، ہمارا وہ نازک اور ہر وقت نکٹائی کی گرہ درست کرتے رہنے والا دوست بڑی گمبھیرتا سے کہتا ہے:
’’یہ صریحاً بدتمیزی ہے۔ ڈنڈا مارنے سے کھمبے کا روغن اتر گیا۔ یہ قومی سرمائے کا نقصان ہے۔‘‘
مسٹر غمگین! جھن کی آواز اگر نہ نکالی جائے، تو قومی سرمایہ محفوظ رہتا ہے۔مگر مسٹر ہائے، جھن کی لذت محسوس نہیں کرنا چاہتا کیونکہ وہ عالم فاضل آدمی ہے۔ وہ جب بھی پیگ اٹھا کر پیے تو آہ بھر کر کہتا ہے: ’’میں حیران ہوں کہ تم لوگ پاگلوں کی طرح کیوں اکٹھے ہو کر پینے بیٹھ جاتے ہو۔ میں پوچھتا ہوں کہ آخر تم کیوں پیتے ہو؟ کیا اپنا غم چھپانے کے لیے؟‘‘

’’نہیں مسرت پیدا کرنے کے لیے!‘‘ مسٹر وائے جواب دیتا ہے۔
’’فضول… اپنے آپ سے جھوٹ مت بولو، غم چھپانے کو مسرت پیدا کرنا کہہ رہے ہو۔ تم یہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم سب غمگین اور دکھی آدمی ہیں۔‘‘
’’غم کی کیا تعریف ہے؟‘‘ ایک اور دوست پوچھتے ہیں۔
’’میں بتائوں؟ مسٹر وائے لمبی گمبھیر بحث پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ ’’ارسطو نے کہا تھا کہ غم انسان کے لمحات…‘‘
’’جھن‘‘

اتنے میں آواز آتی ہے۔ سب لوگ یہ دیکھ کر حیران ہو جاتے ہیں کہ مسٹر وائے چھلانگ لگا کر قریب کی آہنی سیڑھی پر جا بیٹھا ہے اور سیڑھی پر اپنا ڈنڈا بجا رہا ہے۔‘‘
’’جھن‘‘
مسٹر وائے اعلان کرتا ہے:

’’دوستو! ارسطو نے کہا تھا کہ جھن! یعنی ارسطو نے کہا تھا کہ جھن!… یعنی …مارا وہ تیر سینے میں میرے کہ جھن!‘‘
چاروں طرف ایک قہقہہ گونج اٹھتا ہے۔ مسٹر ہائے کی فلسفیانہ بحث کا سرکٹ بھی قہقہوں پر اچھلنے لگتا ہے۔ وہ اور بھی غمگین ہو جاتا ہے۔ مسٹر ہائے کی مسرت اس میں ہے کہ کوئی اس کے ساتھ بیٹھ کر غم کے فلسفے پر بحث کرتا رہے۔ مگر مسٹر وائے بڑا ستمگر ہے، اسے یہ موقع ہی نہیں دیتا۔
لہٰذا مسٹر غمگین! میں تم سے پھر کہوں گا کہ کلکتہ کی کسی سڑک پر پڑے پائپ کو تلاش کرو اور اس پر سوٹی مار کر ’’جھن ‘‘ کی سی آواز پیدا کرو۔ اور وعدہ کرو کہ تم مجھے اس جھن کے بعد خط نہیں لکھا کرو گے۔‘‘
تمھارا
سائیں بابا

ٹوبہ ٹیک سنگھ

بٹوارے کے دو تین سال بعد پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں کو خیال آیا کہ اخلاقی قیدیوں کی طرح پاگلوں کا تبادلہ بھی ہونا چاہئے یعنی جو مسلمان پاگل ، ہندوستان کے پاگل خانوں میں ہیں انہیں پاکستان پہنچا دیا جائے اور جو ہندو اور سکھ پاکستان کے پاگل خانوں میں ہیں انہیں ہندوستان کے حوالے کر دیا جائے .

معلوم نہیں یہ بات معقول تھی یا غیر معقول ، بہر حال دانش مندوں کے فیصلے کے مطابق ادھر ادھر اونچی سطح کی کانفرنسیں ہوئیں ، اور با‌لاخر ایک دن پاگلوں کے تبادلے کے لئے مقرّر ہو گیا۔ اچّھی طرح چھان بین کی گئی۔ وہ مسلمان پاگل جن کے لواحقین ہندوستان ہی میں تھے۔ وہیں رہنے دئے گئے تھے۔ جو باقی تھے ان کو سرحد پر روانہ کر دیا گیا۔ یہاں پاکستان میں چونکہ قریب قریب تمام ہندو سکھ جا چکے تھے۔ اس لئے کسی کو رکھنے رکھانے کا سوال ہی نہ پیدا ہوا۔ جتنے ہندو سکھ پاگل تھے۔ سب کے سب پولیس کی حفاظت میں بارڈر پر پہنچا دیے گئے

ادھر کا معلوم نہیں۔ لیکن ادھر لاہور کے پاگل خانے میں جب اس تبادلے کی خبر پہنچی تو بڑی دلچسپ چہ می گوئیاں ہونے لگیں۔ ایک مسلمان پاگل جو بارہ برس سے ہر روز با قاعدگی کے ساتھ ” زمیندار ” پڑھتا تھا اس سے جب اس کے ایک دوست نے پوچھا۔ ” مولبی ساب ، یہ پاکستان کیا ہوتا ہے “۔ تو اس نے بڑے غور و فکر کے بعد جواب دیا۔” ہندوستان میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں استرے بنتے ہیں “۔

یہ جواب سن کر اس کا دوست مطمئن ہو گیا .

اسی طرح ایک سکھ پاگل نے ایک دوسرے سکھ پاگل سے پوچھا۔” سردار جی ہمیں ہندوستان کیوں بھیجا جا رہا ہے ہمیں تو وہاں کی بولی نہیں آتی “۔

دوسرا مسکرایا۔ ” مجھے تو ہندوستوڑوں کی بولی آتی ہے ہندوستانی بڑے شیطانی آکڑ  آکڑ پھرتے ہیں “

ایک دن نہاتے نہاتے ایک مسلمان پاگل نے ” پاکستان زندہ باد ” کا نعرہ اس زور سے بلند کیا کہ فرش پر پھسل کر گرا اور

بیہوش ہو گیا۔

بعض پاگل ایسے بھی تھے جو پاگل نہیں تھے۔ ان میں اکثریت ایسے قاتلوں کی تھی جن کے رشتہ داروں نے افسروں کو دے دلا کر پاگل خانے بھجوا دیا تھا کہ پھانسی کے پھندے سے بچ جائیں۔ یہ کچھ کچھ سمجھتے تھے کہ ہندوستان کیوں تقسیم ہوا ہے اور یہ پاکستان کیا ہے۔ لیکن صحیح واقعات سے یہ بھی بے خبر تھے۔ اخباروں سے کچھ پتا نہیں چلتا تھا اور پہرہ دار سپاہی انپڑھ اور جاہل تھے۔ ان کی گفتگو سے بھی وہ کوئی نتیجہ برآمد نہیں کر سکتے تھے۔ ان کو صرف اتنا معلوم تھا کہ ایک آدمی محمّد علی جناح ہے جس کو قائدِ اعظم کہتے ہیں۔ اس نے مسلمانوں کے لئے ایک علیٰحدہ ملک بنایا ہے جس کا نام پاکستان ہے۔ یہ کہاں ہے ، اس کا محلِّ وقوع کیا ہے۔ اس کے متعلّق وہ کچھ نہیں جانتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پاگل خانے میں وہ سب پاگل جن کا دماغ پوری طرح ماؤف نہیں ہوا تھا اس مخمصے میں گرفتار تھے کہ وہ پاکستان میں ہیں یا ہندوستان میں۔ اگر ہندوستان میں ہیں تو پاکستان کہاں ہے۔ اگر وہ پاکستان میں ہیں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ عرصہ پہلے یہیں رہتے ہوئے بھی ہندوستان میں تھے۔

ایک پاگل تو پاکستان اور ہندوستان ، اور ہندوستان اور پاکستان کے چکّر میں کچھ ایسا گرفتار ہوا کہ اور زیادہ پاگل ہو گیا۔ جھاڑو دیتے دیتے ایک دن درخت پر چڑھ گیا اور ٹہنے پر بیٹھ کر دو گھنٹے مسلسل تقریر کرتا رہا جو پاکستان اور ہندوستان کے نازک مسئلے پر تھی۔ سپاہیوں نے اسے نیچے اترنے کو کہا تو وہ اور اوپر چڑھ گیا۔ ڈرایا دھمکایا گیا تو اس نے کہا ” میں ہندوستان میں رہنا چاہتا ہوں نہ پاکستان میں۔ میں اس درخت ہی پر رہوں گا “۔

بڑی مشکلوں کے بعد جب اس کا دورہ سرد پڑا تو وہ نیچے اترا اور اپنے ہندو سکھ دوستوں سے گلے مل مل کر رونے لگا۔ اس خیال سے اس کا دل بھر آیا تھا کہ وہ اسے چھوڑ کر ہندوستان چلے جائینگے۔

ایک ایم ایس سی پاس ریڈیو انجینئر جو مسلمان تھا اور دوسرے پاگلوں سے با‌لکل الگ تھلگ باغ کی ایک خاص روش پر سارا دن خاموش ٹہلتا رہتا تھا یہ تبدیلی نمودار ہوئی کہ اس نے تمام کپڑے اتار کر دفعدار کے حوالے کر دئے اور ننگ دھڑنگ سارے باغ میں چلنا پھرنا شروع کر دیا۔

چنیوٹ کے ایک موٹے مسلمان پاگل نے جو مسلم لیگ کا سر گرم کارکن رہ چکا تھا اور دن میں پندرہ سولہ مرتبہ نہایا کرتا تھا یک لخت یہ عادت ترک کر دی۔ اس کا نام محمّد علی تھا۔ چنانچہ اس نے ایک دن اپنے جنگلے میں اعلان کر دیا کہ وہ قائدِ اعظم محمّد علی جنّاح ہے۔ اس کی دیکھا دیکھی ایک سکھ پاگل ماسٹر تارا سنگھ بن گیا۔ قریب تھا کہ اس جنگلے میں خون خرابہ ہو جائے مگر دونوں کو خطرناک پاگل قرار دے کر علیحدہ علیٰحدہ بند کر دیا گیا۔

لاہور کا ایک نوجوان ہندو وکیل تھا جو محبّت میں نا کام ہو کر پاگل ہو گیا تھا۔ جب اس نے سنا کہ امرتسر ہندوستان میں چلا گیا ہے تو اسے بہت دکھ ہوا۔ اسی شہر کی ایک ہندو لڑکی سے اسے محبّت ہو گئی تھی۔ گو اس نے اس وکیل کو ٹھکرا دیا تھا مگر دیوانگی کی حالت میں بھی وہ اس کو نہیں بھولا تھا۔ چنانچہ ان تمام ہندو اور مسلم لیڈروں کو گالیاں دیتا تھا جنہوں نے مل ملا کر ہندوستان کے دو ٹکڑے کر دئے اس کی محبوبہ ہندوستانی بن گئی اور وہ پاکستانی۔

جب تبادلے کی بات شروع ہوئی تو وکیل کو کئی پاگلوں نے سمجھایا کہ وہ دل برا نہ کرے۔ اس کو ہندوستان بھیج دیا جائیگا۔ اس ہندوستان میں جہاں اس کی محبوبہ رہتی ہے۔ مگر وہ لاہور چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اس لئے کہ اس کا خیال تھا کہ امرتسر میں اس کی پریکٹس نہیں چلے گی۔

یوروپین وارڈ میں دو اینگلو انڈین پاگل تھے۔ ان کو جب معلوم ہوا کہ ہندوستان کو آزاد کر کے انگریز چلے گئے ہیں تو ان کو بہت صدمہ ہوا۔ وہ چھپ چھپ کر گھنٹوں آپس میں اس اہم مسئلے پر گفتگو کرتے رہتے کہ پاگل خانے میں ان کی حیثیت کس قسم کی ہو گی۔ یوروپین وارڈ رہیگا یا اڑا دیا جائیگا۔ بریک فاسٹ ملا کریگا یا نہیں۔ کیا انہیں ڈبل روٹی کے بجائے بلڈی انڈین چپاٹی تو زہر مار نہیں کرنا پڑے گی۔

ایک سکھ تھا جس کو پاگل خانے میں داخل ہوئے پندرہ برس ہو چکے تھے۔ ہر وقت اس کی زبان سے یہ عجیب و غریب الفاظ سننے میں آتے تھے۔ ” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی لالٹین”۔ دن کو سوتا تھا نہ رات کو۔ پہرہ داروں کا یہ کہنا تھا کہ پندرہ برس کے طویل عرصے میں وہ ایک لحظے کے لئے بھی نہیں سویا۔ لیٹتا بھی نہیں تھا۔ البتّہ کبھی کبھی کسی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لیتا تھا۔

ہر وقت کھڑے رہنے سے اس کے پاؤں سوج گئے تھے۔ پنڈلیاں بھی پھول گئی تھیں۔ مگر اس جسمانی تکلیف کے باوجود لیٹ کر آرام نہیں کرتا تھا۔ ہندوستان ، پاکستان اور پاگلوں کے تبادلے کے متعلّق جب کبھی پاگل خانے میں گفتگو ہوتی تھی تو وہ غور سے سنتا تھا۔ کوئی اس سے پوچھتا کہ اس کا کیا خیال ہے تو وہ بڑی سنجیدگی سے جواب دیتا۔” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی مونگ دی دال آف دی پاکستان گورنمنٹ “۔

لیکن بعد میں ” آف دی پاکستان گورنمنٹ ” کی جگہ ” آف دی ٹوبہ ٹیک سنگھ گورنمنٹ ” نے لے لی اور اس نے دوسرے پاگلوں سے پوچھنا شروع کیا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے جہاں کا وہ رہنے والا ہے۔ لیکن کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں۔ جو بتانے کی کوشش کرتے تھے وہ خود اس الجھاؤ میں گرفتار ہو جاتے تھے کہ سیالکوٹ پہلے ہندوستان میں ہوتا تھا پر اب سنا ہے کہ پاکستان میں ہے۔ کیا پتا ہے کہ لاہور جو اب پاکستان میں ہے کل ہندوستان میں چلا جائے۔ یا سارا ہندوستان ہی پاکستان بن جائے۔ اور یہ بھی کون سینے پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کسی دن سرے سے غیب ہی ہو جائیں۔

اس سکھ پاگل کے کیس چھدرے ہو کے بہت مختصر رہ گئے تھے۔ چونکہ بہت کم نہاتا تھا اس لئے ڈاڑھی اور سر کے بال آپس میں جم گئے تھے۔ جن کے باعث اس کی شکل بڑی بھیانک ہو گئی تھی۔ مگر آدمی بے ضرر تھا۔ پندرہ برسوں میں اس نے کبھی کسی سے جھگڑا فساد نہیں کیا تھا۔ پاگل خانے کے جو پرانے ملازم تھے وہ اس کے متعلّق اتنا جانتے تھے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اس کی کئی زمینیں تھیں۔ اچّھا کھاتا پیتا زمین دار تھا کہ اچانک دماغ الٹ گیا۔ اس کے رشتہ دار لوہے کی موٹی موٹی زنجیروں میں اسے باندھ کر لائے اور پاگل خانے میں داخل کرا گئے۔

مہینے میں ایک بار ملاقات کے لئے یہ لوگ آتے تھے اور اس کی خیر خیریت دریافت کر کے چلے جاتے تھے۔ ایک مدّت تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ پر جب پاکستان ، ہندستان کی گڑبڑ شروع ہوئی تو ان کا آنا بند ہو گیا۔

اس کا نام بشن سنگھ تھا مگر سب اسے ٹوبہ ٹیک سنگھ کہتے تھے۔ اس کو قطعاً معلوم نہیں تھا کہ دن کون سا ہے ، مہینہ کون سا ہے ، یا کتنے سال بیت چکے ہیں۔ لیکن ہر مہینے جب اس کے عزیز و اقارب اس سے ملنے کے لئے آتے تھے تو اسے اپنے آپ پتا چل جاتا تھا۔ چنانچہ وہ دفعدار سے کہتا کہ اس کی ملاقات آ رہی ہے۔ اس دن وہ اچّھی طرح نہاتا ، بدن پر خوب صابن گھستا اور سر میں تیل لگا کر کنگھا کرتا ، اپنے کپڑے جو وہ کبھی استعمال نہیں کرتا تھا نکلوا کے پہنتا اور یوں سج بن کر ملنے والوں کے پاس جاتا۔ وہ اس سے کچھ پوچھتے تو وہ خاموش رہتا یا کبھی کبھار ” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی مونگ دی دال آف دی لالٹین ” کہ دیتا۔

اس کی ایک لڑکی تھی جو ہر مہینے ایک انگلی بڑھتی بڑھتی پندرہ برسوں میں جوان ہو گئی تھی۔ بشن سنگھ اس کو پہچانتا ہی نہیں تھا۔ وہ بچّی تھی جب بھی اپنے باپ کو دیکھ کر روتی تھی ، جوان ہوئی تب بھی اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے تھے۔

پاکستان اور ہندوستان کا قصّہ شروع ہوا تو اس نے دوسرے پاگلوں سے پوچھنا شروع کیا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے۔ جب اطمینان بخش جواب نہ ملا تو اس کی کرید دن بدن بڑھتی گئی۔ اب ملاقات بھی نہیں آتی تھی۔ پہلے تو اسے اپنے آپ پتہ چل جاتا تھا کہ ملنے والے آ رہے ہیں ، پر اب جیسے اس کے دل کی آواز بھی بند ہو گئی تھی جو اسے ان کی آمد کی خبر دے دیا کرتی تھی۔

اس کی بڑی خواہش تھی کہ وہ لوگ آئیں جو اس سے ہم دردی کا اظہار کرتے تھے اور اس کے لئے پھل ، مٹھائیاں اور کپڑے لاتے تھے۔ وہ اگر ان سے پوچھتا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے تو وہ یقیناً اسے بتا دیتے کہ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں۔ کیونکہ اس کا خیال تھا کہ وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ہی سے آتے ہیں جہاں اس کی زمینیں ہیں۔

پاگل خانے میں ایک پاگل ایسا بھی تھا جو خود کو خدا کہتا تھا۔ اس سے جب ایک روز بشن سنگھ نے پوچھا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں ، تو اس نے حسبِ عادت قہقہہ لگایا اور کہا۔” وہ پاکستان میں ہے نہ ہندوستان میں۔ اس لئے کہ ہم نے ابھی تک حکم نہیں دیا “۔

بشن سنگھ نے اس خدا سے کئی مرتبہ بڑی منّت سماجت سے کہا کہ وہ حکم دے دے تاکہ جھنجھٹ ختم ہو مگر وہ بہت مصروف تھا اسلئے کہ اسے اور بے شمار حکم دینے تھے۔ ایک دن تنگ آ کر وہ اس پر برس پڑا۔ ” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف واہے گورو جی دا خالصہ اینڈ واہے گورو جی کی فتح جو بولے سو نہال ، ست سری اکال “۔

اس کا شاید یہ مطلب تھا کہ تم مسلمانوں کے خدا ہو سکھوں کے خدا ہوتے تو ضرور میری سنتے۔

تبادلے سے کچھ دن پہلے ٹوبہ ٹیک سنگھ کا ایک مسلمان جو اس کا دوست تھا ملاقات کے لئے آیا۔ پہلے وہ کبھی نہیں آیا تھا۔ جب بشن سنگھ نے اسے دیکھا تو ایک طرف ہٹ گیا اور واپس جانے لگا۔ مگر سپاہیوں نے اسے روکا۔ ” یہ تم سے ملنے آیا ہے تمہارا دوست فضل دین ہے “۔

بشن سنگھ نے فضل دین کو ایک نظر دیکھا اور کچھ بڑبڑانے لگا۔ فضل دین نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ” میں بہت دنوں سے سوچ رہا تھا کہ تم سے ملوں لیکن فرصت ہی نہ ملی تمہارے سب آدمی خیریت سے ہندوستان چلے گئے تھے مجھ سے جتنی مدد ہو سکی ، میں نے کی۔ تمہاری بیٹی روپ کور . . . . “

وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔ بشن سنگھ کچھ یاد کرنے لگا۔” بیٹی روپ کور “۔

فضل دین نے رک رک کر کہا۔ ” ہاں . . . . وہ . . . . وہ بھی ٹھیک ٹھاک ہے۔۔۔ان کے ساتھ ہی چلی گئی تھی “۔

بشن سنگھ خاموش رہا۔ فضل دین نے کہنا شروع کیا۔ ” انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ تمہاری خیر خیریت پوچھتا رہوں۔ اب میں نے سنا ہے کہ تم ہندوستان جا رہے ہو۔ بھائی بلبیسر سنگھ اور بھائی ودھاوا سنگھ سے میرا سلام کہنا-اور بہن امرت کور سے بھی . . . . بھائی بلبیسر سے کہنا۔ فضل دین راضی خوشی ہے۔ وہ بھوری بھینسیں جو وہ چھوڑ گئے تھے۔ ان میں سے ایک نے کٹّا دیا ہے۔ دوسری کے کٹّی ہوئی تھی پر وہ چھ دن کی ہو کے مر گئی . . . . اور . . . . میری لائق جو خدمت ہو ، کہنا ، میں ہر وقت تیار ہوں . . . . اور یہ تمہارے لئے تھوڑے سے مرونڈے لایا ہوں “۔

بشن سنگھ نے مرونڈوں کی پوٹلی لے کر پاس کھڑے سپاہی کے حوالے کر دی اور فضل دین سے پوچھا۔ “ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے ؟ “۔

فضل دین نے قدرے حیرت سے کہا۔ ” کہاں ہے ؟ وہیں ہے جہاں تھا “۔

بشن سنگھ نے پھر پوچھا۔ ” پاکستان میں یا ہندوستان میں ؟ “

” ہندوستان میں نہیں پاکستان میں “۔ فضل دین بوکھلا سا گیا۔

بشن سنگھ بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔ ” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی آف دی پاکستان اینڈ ہندوستان آف دی دور فٹے منہ ! ،،

تبادلے کے تیاریاں مکمّل ہو چکی تھیں۔ ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر آنے والے پاگلوں کی فہرستیں پہنچ گئی تھیں اور تبادلے کا دن بھی مقرّر ہو چکا تھا۔

سخت سردیاں تھیں جب لاہور کے پاگل خانے سے ہندو سکھ پاگلوں سے بھری ہوئی لاریاں پولیس کے محافظ دستے کے ساتھ روانہ ہوئیں۔ متعلّقہ افسر بھی ہمراہ تھے۔ واہگہ کے بورڈر پر طرفین کے سپرنٹندنٹ ایک دوسرے سے ملے اور ابتدائی کاروائی ختم ہونے کے بعد تبادلہ شروع ہو گیا جو رات بھر جاری رہا۔

پاگلوں کو لاریوں سے نکالنا اور دوسرے افسروں کے حوالے کرنا بڑا کٹھن کام تھا۔ بعض تو باہر نکلتے ہی نہیں تھے۔ جو نکلنے پر رضا مند ہوتے تھے۔ ان کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا تھا۔ کیونکہ ادھر ادھر بھاگ اٹھتے تھے ، جو ننگے تھے ان کو کپڑے پہنائے جاتے تو وہ پھاڑ کر اپنے تن سے جدا کر دیتے۔کوئی گالیاں بک رہا ہے۔ کوئی گا رہا ہے۔ آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ رو رہے ہیں ، بلک رہے ہیں۔ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ پاگل عورتوں کا شور و غوغا الگ تھا اور سردی اتنی کڑاکے کی تھی کہ دانت سے دانت بج رہے تھے۔

پاگلوں کی اکثریت اس تبادلے کے حق میں نہیں تھی۔ اسلئے کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ انہیں اپنی جگہ سے اکھاڑ کر کہاں پھینکا جا رہا ہے۔ وہ چند جو کچھ سوچ سمجھ سکتے تھے ” پاکستان زندہ باد ” اور ” پاکستان مردہ باد ” کے نعرے لگا رہے تھے۔ دو تین مرتبہ فساد ہوتے ہوتے بچا ، کیونکہ بعض مسلمانوں اور سکھوں کو یہ نعرے سن کر طیش آ گیا تھا۔

جب بشن سنگھ کی باری آئی اور واہگہ کے اس پار متعلّقہ افسر اس کا نام رجسٹر میں درج کرنے لگا تو اس نے پوچھا۔ ” ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے ؟ پاکستان میں یا ہندوستان میں ؟

متعلّقہ افسر ہنسا۔ ” پاکستان میں “۔

یہ سن کر بشن سنگھ اچھل کر ایک طرف ہٹا اور دوڑ کر اپنے باقی ماندہ ساتھیوں کے پاس پہنچ گیا۔ پاکستانی سپاہیوں نے اسے پکڑ لیا اور دوسری طرف لے جانے لگے ، مگر اس نے چلنے سے انکار کر دیا۔ “ٹوبہ ٹیک سنگھ یہاں ہے ” اور زور زور سے چلّانے لگا۔ ” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف ٹوبہ ٹیک سنگھ اینڈ پاکستان “۔

اسے بہت سمجھایا گیا کہ دیکھو اب ٹوبہ ٹیک سنگھ ہندوستان میں چلا گیا ہے۔اگر نہیں گیا تو اسے فوراً وہاں بھیج دیا جائیگا۔ مگر وہ نہ مانا۔ جب اس کو زبردستی دوسری طرف لے جانے کی کوشش کی گئی تو وہ درمیان میں ایک جگہ اس انداز میں اپن سوجی ہوئی ٹانگوں پر کھڑا ہو گیا جیسے اب اسے کوئی طاقت وہاں سے نہیں ہلا سکے گی۔

آدمی چونکہ بے ضرر تھا اس لئے اس سے مزید زبردستی نہ کی گئی ، اس کو وہیں کھڑا رہنے دیا گیا اور تبادلے کا باقی کام

ہوتا رہا۔

سورج نکلنے سے پہلے ساکت و صامت بشن سنگھ کے حلق سے ایک فلک شگاف چیخ نکلی۔ ادھر ادھر سے کئی افسر دوڑے آئے اور دیکھا کہ وہ آدمی جو پندرہ برس تک دن رات اپنی ٹانگوں پر کھڑا رہا ، اوندھے منہ لیٹا ہے۔ ادھر خاردار تاروں کے پیچھے ہندوستان تھا ادھر ویسے ہی تاروں کے پیچھے پاکستان۔ درمیان میں زمین کے اس ٹکڑے پر جس کا کوئی نام نہیں تھا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ پڑا تھا۔

گدھا

جانوروں میں سب سے زیادہ عزت محترم گدھے کو ہی دی جاتی ہے۔آپ کا بیٹا ہو یا آپ کی بیگم کا بھائی، دوست ہو یا دشمن، ڈاکٹر ہو یا انجینئر، چپراسی ہو یا منسٹر صبح سے شام تک آپ جس کا بھی قصیدہ پڑھتے یا ذکر کرتے ہیں اسے گدھے کے نام سے یاد کرتے ہیں ملاحظہ ہو:

خانصاحب اخبار پڑھتے ہی آگ بگولا ہوگئے اور چیخ کر انہوں نے بیوی سے کہا ” دیکھا تمہارا گدھا (بیٹا) پھر فیل ہوگیا ” ۔
اس کے دوستوں کی شان میں بھی انہوں نے قصیدہ پڑھ دیا ” گدھوں کے ساتھ رہے گا تو اور کیا ہوگا "۔ ہمارا مالی بہت ایماندار تھا۔ کبھی ایک پھل بھی توڑ کر نہیں کھاتا تھا۔ ایک دن اس نے جب ابّا جان کے سامنے آم لاکر رکھے تو چکھتے ہی ابّا جان برس پڑے ” گدھے تجھے اتنے سال ہوگئے نوکری کرتے ہوئے کھٹے میٹھے کی تمیز نہیں "۔
دھوبی بے چارہ تو ہمشہ ہی اس نام سے نوازا جاتا تھا۔ ارے گدھے تو نے میری نئی قمیض میں رنگ لگا دیا۔

جب آپ بغیر ٹکٹ کے سفر کر رہے ہوں اور ٹکٹ چیکر نے آپ سے ٹرین سے اتر جانے کو کہا ہو تب آپ دل ہی میں کہتے ہیں ” گدھے کو اتنی عقل نہیں کہ میں چلتی ٹرین سے کیسے اتروں گا "۔

ہمارا نوکر کریم تو روز ہی اس خطاب سے نوازا جاتا تھا ” ارے گدھے سالن میں کتنا نمک بھر دیا۔ بی پی بڑھا دیا میرا ” اور کبھی کہتے اتنے سال ہوگئے نوکری کرتے کرتے۔ پھر بھی گدھے کا گدھا ہی رہا۔ چائے بھی ٹھیک سے بنانا نہیں آتا "۔ جس نے ہمارا گھر بنایا تھا۔ اس انجینئر کی بھی شامت آجاتی تھی ۔ کیا گھر بنایا گدھے نے جگہ جگہ سے پانی ٹپک رہا ہے۔ کبھی کبھی ڈاکٹروں کی بھی باری آجاتی ہے جب وہ برابر تشخیص نہ کر پائیں تو کہا جائے گا ۔ آج کے ڈاکٹر بالکل گدھے ہیں۔ معمولی سی بیماری کا بھی علاج نہیں آتا "۔

سب سے بڑا گدھا تو منسٹر ہوتا ہے ہر وقت اس کی شان میں قصیدہ پڑھا جاتا ہے۔
” کیا چیف منسٹر ہے۔ بالکل گدھا ہے۔ پوری اسٹیٹ کو تباہ کر کے رکھ دیا ” ۔

ماتحتوں نے کام خراب کیا اور باس کا پارہ چڑھ جاتا ہے۔”کیا گدھوں کا بازار ہے”۔

ﺳﭽّﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ

ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﭽّﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﮯ ﺟﻮ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻟﻮﻧﺎ ﻭﺍﻻ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﯿﺶ ﺁﯾﺎ ـ ﮨﻮﺍ ﯾﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺎﺭ ﺳﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﮔﮭﺎﭦ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺍُﺳﮑﯽ ﮐﺎﺭ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻈﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ـ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﻟِﻔﭧ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﭼﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﮍﮎ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭼﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ ـ ﺭﺍﺕ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﻃﻮﻓﺎﻧﯽ ﺗﮭﯽ، ﭘﺎﻧﯽ ﺟﮭﻤﺎﺟﮭﻢ ﺑﺮﺱ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﺑﮭﯿﮓ ﮐﺮ ﺗﮭﺮ ﺗﮭﺮ ﮐﺎﻧﭙﻨﮯ ﻟﮕﺎ ـ ﺍُﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﺍِﺗﻨﺎ ﺗﯿﺰ ﺑﺮﺱ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﻣﯿﭩﺮ ﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ـ ﺗﺒﮭﯽ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﺭ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﺗﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺟﺐ ﮐﺎﺭ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺩﮬﯿﻤﯽ ﮨﻮﮔﺌﯽ ـ ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﺁﻭ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻧﮧ ﺗﺎﻭ، ﺟﮭﭧ ﺳﮯ ﮐﺎﺭ ﮐﺎ ﭘﭽﮭﻼ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻻ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﻮﺩ ﮔﯿﺎ ـ ﺟﺐ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺪﺩ ﮔﺎﺭ ﮐﻮ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﺁﮔﮯ ﺟﮭﮑﺎ ﺗﻮ ﺍُﺳﮑﮯ ﮨﻮﺵ ﺍُﮌ ﮔﺌﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﮐﯽ ﺳﯿﭧ ﺧﺎﻟﯽ ﺗﮭﯽ ـ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﮐﯽ ﺳﯿﭧ ﺧﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺠﻦ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﺭ ﺳﮍﮎ ﭘﺮ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ـ ﺗﺒﮭﯽ ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﺁﮔﮯ ﺳﮍﮎ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﮌ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻮﺕ ﮐﻮ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺩﯾﮑﮫ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﺎ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺧﺪﺍ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ـ ﺗﺒﮭﯽ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺎﺗﮫ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﮐﺎﺭ ﮐﮯ ﺳﭩﯿﺮﻧﮓ ﻭﮬﯿﻞ ﮐﻮ ﻣﻮﮌ ﺩﯾﺎ ـ ﮐﺎﺭ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻣﮍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮔﺌﯽ ـ ﻟﮍﮐﺎ ﮨﯿﺒﺖ ﺯﺩﮦ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﺮ ﻣﻮﮌ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﻧﺪﺭ ﺁﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﭩﯿﺮﻧﮓ ﻭﮬﯿﻞ ﮐﻮ ﻣﻮﮌ ﺩﯾﺘﺎ ـ ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ ﺍُﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﺩﻭﺭﯼ ﭘﺮ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯼ ـ ﻟﮍﮐﺎ ﺟﮭﭧ ﺳﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﻮﺩﺍ ﭘﮭﺮ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ ﻭﺍﺭ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﻭﮌﺍ ـ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﻗﺼﺒﮧ ﺗﮭﺎ، ﻗﺮﯾﺐ ﮨﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﮬﺎﺑﮯ ﻣﯿﮟ ﺭُﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﺎﻧﮕﺎ ـ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺑﺮﯼ ﻃﺮﺡ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﺎ ـ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﻻﺳﮧ ﺩﯾﮑﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮭﯿﺎﻧﮏ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺳﻨﺎﻧﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ، ﺩﮬﺎﺑﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻨّﺎﭨﺎ ﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﺒﮭﯽ ــــــــــ ﺳﻨﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﺘﺎ ﺩﮬﺎﺑﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﺘﺎ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍِﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮﮐﮯ ﺑﻨﺘﺎ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﺍُﻭﮮ ﯾﮩﯽ ﻭﮦ ﺑﯿﻮﻗﻮﻑ ﻟﮍﮐﺎ ﮨﮯ ﻧﺎ ﺟﻮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮐﺎﺭ ﺳﮯ ﮐﻮﺩﺍ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﮨﻢ ﮐﺎﺭ ﮐﻮ ﺩﮬﮑّﺎ ﻟﮕﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ـ