انمول

امی امی میری جرابیں کدهر ہیں ؟؟؟؟
ہارون الماری سے سارے کپڑے زمین پہ پهینکتے ہوے چلا رہا تها …
دیتی ہوں بیٹا بس آی ماں نے پراٹها توے سے اتارے ہوے کہا اور دوڑی آیی…
یہ لو ! یہاں رکهی تهی سایڈ ٹیبل پہ ساری الماری خراب کر دی ماں نے جرابیں اٹها کے دیتے ہوے کہا
اچها جلدی کریں ناشتہ رکهیں دیر ہو رہی هے …ہارون تیز لہجے میں بولا….
لگا دیا هے نا صبح اٹهتے ہو نہیں وقت پہ ماں نے ٹیبل پہ ناشتہ رکها اور کچن میں جا کے بڑ بڑانے لگی …..شادی کرو اب جلدی میری بوڑهی ہڈیوں میں اب اتنا دم نہیں هے ….کوی لڑکی جو تمہیں پسند آ جاے …کوی ماں کا خیال هے …کل کلاں کو مر گئ تو روتے پهرو گے……..مسز ہمدانی دوسال سے روزانہ ہارون کو یہ لیکچر دیتی اور اس کی وجہ یہ تهی کہ کوی لڑکی اس کو پسند نہیں آتی تهی …دو بیٹیاں اور تهیں جو اپنے گهر کی ہو گئ تهیں مسسز ہمدانی چاہتی تهی کہ بہو آ جاے اور وہ بهی سکهہ کا سانس لیں ….لیکن ہارون صاحب تهے کہ کوی لڑکی ان کے معیار پہ پوری نا اترتی تهی..
آچها نا امی اب صبح صبح ایسی باتیں تو نا کریں میری اچهی امی اللہ اپ کو للللمبی عمر دے آمین …ہارون نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال کے پیار سے کہا
اچها اچها اب مسکے نا لگا اتنا تو ماں کا ہمدرد ……ماں نے بظاہر غصہ دکهاتے ہوے کہا
اچها امی چلتا ہوں دیر ہو رہی هے اللہ حافظ ہارون گاڑی کی چابیاں سنبهالتے ہوے باہر نکل گیا.
………………. . ………..
کمپنی کی طرف سے تین روزہ سیمینار تها جس میں ملک بهر سے مختلف لوگ سیمینار اٹینڈ کرنے آے ہوے تهے…
زبردست مقررین تهے معلومات سے بهر پور سیمینار کی خاص بات ‘ سوالوں و جواب کے سیشن میں ہارون کے ٹیبل کے ساتهہ کے ٹیبل میں موجود لڑکی کے سوالات تهے……….اس لڑکی کا اعتماد ‘ انداز ‘ اور آواز میں عجیب سا سحر تها …….سوال ایسا اٹهاتی کے پہلے تو بندہ سٹپٹا جاتا اور اس وقت تک سوال کرتی جب تک نکتہ اس پہ واضح نا ہو جاتا….بڑی بڑی سرمئ حیا دار آنکهوں ‘ سرخ و سفید رنگت دوپٹے سے اچهی طرح سر کو ڈهانپے ہوے وہ پر اعتماد لڑکی ہارون کے دل میں اتر گئ تهی……..اس سے بات کرنے کا خواہشمند تها لیکن سیمینار کے اختتام سے پہلے ہی ہارون کو جانا پڑ گیا …..
لیکن رات دیر تک وہ اس حسینہ کے خیالوں میں کهویا رہا …..کیا یہ ممکن هے کہ میں اسے اپنی زندگی میں شامل کر لوں ..کیوں ممکن نہیں …..اللہ کرے اس کی کہیں بات وات پکی نا ہوی ہو …..پتہ نہیں ہارون کو کیا سوجی کہ رات دو بجے وضو کر کے دو نفل ادا کیے اور اللہ کے سامنے التجا کرنے لگا …
” اللہ جی اپ کو تو پتہ ہی هے میری والدہ محترمہ آے دن میری کلاس لیتی ہیں…..انہیں بهی تو اب آرام چاہیے اب اتنی مشکلوں سے تو مجهے کوی لڑکی پسند آی هے ہر لحاظ سے پرفیکٹ ….اللہ جی پلیز پلیز اسے میری شریک حیات بنا دیجے …اگر اس کی منگنی ونگنی بهی ہوی هے تو تڑوا دیجیے گا پلیز پلیز میرے پیارے اللہ !!!! ہارون نے ملتجای نگاہوں کے ساتهہ چهت کی طرف دیکها جیسے اللہ سے مخاطب ہو …
اور پهر سکون سے سو گیا خلاف توقع اگلی صبح خود ہی اٹهہ گیا…..اور وقت پہ تیار بهی ہو گیا ..ہارون کے چہرے کی بشاشت دیکهہ کے مسسز ہمدانی کافی حیران تهی…..زمانہ ساز عورت تهی یہ سوچ کے خوش ہو گئ کہ شاید برخودار عنقریب کوی خوشخبری سنا دیں …
……………….. ..
ہارون نے رات ٹهان لیا تها کہ آج ممکن ہوا تو ان محترمہ کے بارے میں معلومات اکهٹی کریں گے..
ہال میں یہ دیکهہ کہ ان کی خوشی دو چند ہو گی کہ محترمہ جس ٹیبل پر تهی وہاں ایک سیٹ خالی تهی ..فورا سے برا جمان ہو گیے اور وقت ضایع کیے بناء ہی اپنا تعارف بهی کرا دیا ….
جس کے جواب میں ایسی مدهم معصوم مسکراہٹ کا سامنا کرنا پڑا کہ دل تهام کے رہ گیے…..
اپنے بارے میں بتایے نا کچهہ ہارون نے سوالیہ نگاہوں سے محترمہ کے چہرے کی طرف دیکهتے ہوے کہا..
انمول ریاض ….انمول ریاض نام هے میرا …انمول نے اپنا مکمل تعارف دیا تو ہارون کے دل کی کلی کهل اٹهی ….اس کی پسند تو بہت اعلی تهی ….ہر لحاظ سے پرفیکٹ …باتوں باتوں میں وہ یہ بهی جان چکا تها کہ انمول ابهی تک کسی سے منسوب نہیں …
اعلی تعلیم یافتہ ….خوب صورت اواز و انداز اور پاکیزہ صورت ..قاتل مسکراہٹ والی انمول واقعی میں انمول ہیرا تهی…..
لیکن مسلہ یہ تها کہ ہارون اپنے دل کی بات لبوں پر کیسے لاے….بے چینی سے کرسی پہ پہلو بدلتا ہارون بات کرنا ہی چاہتا تها کہ گهر سے امی کی کال آ گئ …ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئ تهی ….ہارون کو سب کچهہ چهوڑ چهاڑ گهر آنا پڑا….
…………………….
شکر هے امی آپ کی طبیعت سنبهل گئ …صبح ہارون نے خود ہی چاے بنای بریڈ پہ مکهن لگا کے امی کو بهی ناشتہ دیا اور خود بهی کیا ……آج تیسرا اور آخری دن تها…..اج وہ پختہ عزم کر کے آیا تها کہ انمول سے اپنے دل کی بات کرے گا اور ایک ماہ کے اندر بیاہ کے لے آے گا …میرے گهر کو اور مجهے ایسی ہی پر اعتماد ..سگهڑ …باشعور باتمیز اور خوب صورت خوب سیرت لڑکی کی ضرورت هے…
تیسرا اور آخری دن بهر پور تها اور انمول کے سوالات نے چار چاند لگا دیے تهے ہر ایک اس پر اعتماد اور ذہین لڑکی کو رشک کی نگاہ سے دیکهہ رہا تها…
ہارون تو انمول کے عشق میں اس بری طرح مبتلا ہو چکا تها کہ دو ہی دن میں اسے انمول کی طرف اٹهتی نگاہوں سے حسد ہونے لگا…..گویا میرے محبوب کو میرے سوا کوی نا دیکهے والا حال تها…
موقع پا کر ہارون انمول کے ٹیبل پہ جا بیٹها سلام دعا کے بعد گهبراتے ہوے اپنے دل کی بات انمول کو کہہ سنای ….تو حیران رہ گیا کہ انمول نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پر اعتماد لہجے میں کہا
ہارون صاحب …میں آپ کے جذبے کی قدر کرتی ہوں لیکن اپ کو مجهہ عشق ہو گیا هے اور میرے بناء آپ رہ نہیں سکتے یہ میں نہیں مان سکتی..
آپ میرا یقین کریں میں نے جب سے آپ کو دیکها هے آپ کو سنا هے تب سے ہر سانس کے ساتهہ اللہ سے اپ کو مانگ رہا ہوں …..میری امی بہت اچهی ہیں اگر آپ کے گهر میں کوی مسلہ هے تو وہ انہیں منا لیں گی…
نہیں میرے گهر میں کوی مسلہ نہیں ….لیکن شاید آپ میرا ساتهہ نا دے سکیں زندگی کا سفر پگڈنڈیوں اور کٹهن راہوں سے ہو کر گزرتا هے ….لیکن کچهہ لوگوں کے حصے میں کٹهن راہیں زیادہ آتی ہیں ہر کوی ان راہوں پہ ساتهہ نہیں چل پاتے ..
میں اپ کے ساتهہ چلوں گا ہر کٹهن راہ پہ آپ مجهے پلیز آزما کر تو دیکهیں ….ہارون قریب تها کہ رو پڑے
ہارون صاحب وقت بہت بڑا استاد هے …..بڑی بڑی باتیں کرنے والوں کو آزمانے کا وقت بہت جلد آ جایا کرتا هے …پهر بهاگیے گا مت
میں بهاگنے والوں میں سے نہیں ہوں ….آپ میرا اعتبار تو کیجیے ایک بار ہاں کہہ دیجے آپ مجهے ثابت قدم پایں گی….
انمول پہلی بار کهلکهلا کے ہنسی تهی …… اور اس کی یہ ہنسی اس کی مسکراہٹ سے بهی زیادہ دلفریب تهی …
ہارون کو لگا اس کی دعایں کام آ گی ہیں ….انمول خاموش تهی زیرلب مسکراہٹ تهی
ہارون کی خوشی کا کوی ٹهکانہ نہیں تها اس کا دل کر رہا تها کہ وہ اڑ کے امی کے پاس پہنچ جاے اور انہیں ان کی ہونے والی بہو سے ملواے…
تو پهر آپ چلیں گی نا میرے ساتهہ میری امی سے ملنے ….ہارون نے محبت سے انمول کے چہرے کو دیکهتے ہوے سوال کیا
جی چلوں گی….انمول کے چہرے پہ مسکراہٹ تهی
ہارون کی خوشی کا کوی ٹهکانہ نا تها خوشی اس کے انگ انگ سے پهوٹ رہی تهی ..
چلیں پهر چلتے ہیں سچ میں اپ میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہیں میں بہت خوش ہوں کہ اپ جیسی پیاری سیرت کی باشعور لڑکی میری زندگی کا حصہ بننے جا رہی هے …الفاظ نہیں مل رہے کہ شکریہ ادا کر سکوں
انمول جواب میں صرف مسکرا رہی تهی اس کے گالوں کی شفق میں اضافہ ہو گیا تها اس کی بڑی بڑی سرمئ آنکهیں جهکی تهی…..
چلیں انمول پهر دیر ہو رہی هے ہارون کرسی سے اٹهہ کهڑا ہوا
جی اچها یہ کہتے ہوے انمول نے ہال کے کونے میں بیٹهے ہوے اپنے ملازم کی طرف دیکها
ہارون خوشی اور مسرت سے دروازے سے باہر نکلا
انمول ….اپ کو پتا هے…..یہ کہتے ہوے ہارون نے اپنے دایں طرف دیکها انمول نا تهی بایں طرف دیکها انمول وہاں بهی نہیں تهی….گهبرا کے پلٹ کے دیکها …..تو ساکت ہو گیا..
انمول ویل چیر پہ تهیں…….مسکراہٹ ابهی بهی انمول کے چہرے پہ تهی
ہارون اپنی گاڑی کے پاس ششدر کهڑا تها ….دل و دماغ میں طوفان برپا تها زبان کنگ تهی
ہارون صاحب ..مجهے اپ کی گاڑی میں بیٹهنا هے یا اپنی گاڑی میں پلیز بتا دیجے ؟؟؟ انمول کے چہرے پہ وہی مسکراہٹ سجی تهی
ہہہہہم..جی….. جی….وہ….میں…….آپ …..معذور ….ہیں ……….؟؟؟
جی شاید نارمل لوگ تو ٹانگوں پہ چل کے یہاں تک آتے ہیں نا ؟؟؟ انمول نے شاید گہرا طنز کیا تها لیکن لب مسکرا رہے تهے
انمول ……میں …..وہ……آپ …..مجهے معاف کر دیں گی نا…..بد دعا تو نہیں دیں گی نا…. اصل …میں …میں لیکن زبان ہارون کا ساتهہ نہیں دے رہی تهی اور الفاظ گم ہو گیے تهے….اس کی شریک حیات ڈس ایبل ہو اس کا تو اس نے تصور بهی نا کیا تها …..میں بہت کمزور ہوں ….میں….اپ …ہارون نے کار کا دروازہ کهولا …گاڑی میں بیٹها اور تیزی سے گاڑی آگے بڑها دی ….اسے اس کے سوا کچهہ نہیں سجهای دے رہا تها کہ وہ بهاگ جاے….
ہارون کو جاتا دیکهہ کے انمول مسکرای ….چلو خادم حسین دیر ہو رہی هے ….خادم حسین نے وہیل چیر سامنے کهڑی کار کی طرف موڑ دی ………
ہارون کے کہے تمام الفاظ انمول کے دل و دماغ پہ ضرب لگانے لگے ..آس ٹوٹی تو…….جن آنسووں کو وہ مسکراہٹ کے پردے میں چهپاے ہوے تهی دل کے درد سے بے قرار ہو کہ وہ گوہر نایاب گالوں پر بہہ نکلے …..

بڑا آسیب

یہ لڑکا کون ہے جو ابھی گزرا ہے ؟؟

دوھزار گز پر بنی قلعے جیسی حویلی سے بڑے سائیں کی پراڈو آہستہ آہستہ باہر نکل رہی تھی ۔۔

زینت مائی کا پوتا ہے سائیں ! ۔ ۔ ۔ ۔اگلی سیٹ سے آواز آئی

اُس کالی چمارن کا ! ! ! ! ۔ ۔ ۔ ۔ بڑے سائیں چونکے
ذرا روک تو اسے

جی حکم !!! سامنے آتے ہی لڑکے نے ہاتھ جوڑ لئیے اور نظریں جُھکالیں
کیا نام ہے تیرا؟ ۔ ۔ ۔ آواز میں گرج تھی

ہارون سائیں ! ۔ ۔ ۔ لڑکا کچھ اور جھُک گیا

یہ تُو اتنا صاف ستھرا ہوکر بستہ اُٹھائے کہاں جا رہا ہے ؟؟
غراتا ہوا سوال تھا ۔۔۔۔

سکول جارہا ہوں سائیں ۔ ۔ ۔ ۔لڑکا تھر تھر کانپ رہا تھا
سکول ! ! ! ! !
اب کمیوں کے بچے بھی سکول جائیں گے ۔ ۔ ۔ ایک بھاری قہقہہ فضا میں گونجا
آقا ہنسا تو حواری بھی ہنسنے لگے ۔۔۔

پاگل ہو گیا ہے کیا ۔ کبھی تیرے اگلوں نے بھی سکول کی شکل دیکھی ہے
بڑے سائیں کی آواز میں اب بھی گرج تھی ۔۔۔

خنک موسم کے باوجود لڑکا پسینے سے شرابور تھا ۔

چل پھینک بستہ ! ! ! ! !

لرزتے ہاتھوں سے بستہ چھُٹا اور ساتھ ہی لڑکا بھی گھٹنوں پر گرگیا ۔ ۔ ۔
یہ صاف کپڑے اُتار ۔ ۔ ۔ ۔

کانپتے ہاتھ اپنے بدن سے اپنے خواب الگ کر رہے تھے
یہ جوتے بھی اتار ۔ ۔ ۔

اب لڑکا جھلنگے بدرنگ بنیان اور پاجامے میں تھا ۔ ۔ ۔ ۔

ہاں اب لگ رہا ہے نا تُو اپنی ذات کا ۔ ۔ ۔ چل اب زمین پر لوٹ لگا۔ ۔ ۔ ۔

بڑے سائیں کا حکم حتمی تھا

خاک کو خاک میں ملا تے وقت بھی لڑکے کے ہاتھ جُڑے ہوئے تھے ۔ ۔ ۔

کمی غلامی کے جملة آداب سے واقف جو تھا

چل اُٹھ اب جا کر گند سمیٹ ۔ ۔
جھاڑو مار ۔ ۔ ۔ ۔

گاڑی کا بلیک کوٹڈ شیشہ آہستہ آہستہ اوپر اُٹھتا چلا گیا ۔ ۔ ۔
۔
بڑے سائیں کی بیوی نماز پڑھ رہی تھی جب زینت مائی حویلی کے واش روم صاف کرنے آئی

اس نے روتے ہوئے کہا ۔ ۔
اماں سائیں تم تو ولی لوگ ہو نا ۔۔۔۔میرے ہارون کے لئیے دعا کرو

درگاہ والے بابا کہتے ہیں اُس پر کسی بڑے آسیب کا سایہ ہوگیا ہے
نہ کھاتا ہے نہ سوتا ہے ۔

بس دن رات دیوانوں کی طرح گلیوں کی جھاڑو لگاتا رہتا ہے اور اسکی آنکھوں سے آنسو بہتے رہتے ہیں

الٹی شلوار

"ساب اب میرا کام ہو جائے گا نا   ”
اس نے دیوار کی طرف رُخ موڑا اور تیزی سے کپڑے پہننے لگی۔
"ہاں ہاں بھئی ”  ۔۔۔
میری سانسیں ابھی بھی بے ترتیب تھیں ۔
پھر میں پیسے لینے کب آؤں ؟”
دوپٹے سے اس نے منہ پونچھا اور پھر  جھٹک کر لپیٹ لیا ۔
"پیسے ملنے تک تمہیں ایک دو چکر تو اور لگانے ہی پڑیں گے ۔کل ہی میں مالکان سے تمہارے شوہر کا زکر کرتا ہوں ”
میں نے شرٹ کے بٹن لگائے ،ہاتھوں سے بال سنوارے اور دفتر کے پیچھے ریٹائرنگ روم کے دروازے سے باہر جھانک کر آس پاس  احتیاتاً ایک طائرانہ نظر دوڑانے لگا  ۔
ویسے تو  نیا چوکیدار  وقتا فوقتا چائے پانی کے نام پر  میری طرف سے ملنے والی چھوٹی موٹی رقم کے بدلے میں میرا خیر خواہ تھا مگر پھر بھی   میں کسی مشکل میں گرفتار نہیں ہونا چاہتا تھا ۔
” پھر میں کل ہی آجاؤں ” وہ میرے  پختہ جواب کی منتظر تھی ۔
” کل نہیں ! ! !  ”
میں روز اس طرح یہاں آنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا اس لئیے بس آہ بھر کر رہ گیا ۔۔۔۔۔
ہائے غریبوں کو بھی کیسے کیسے لعل مل جاتے ہیں ۔۔۔ میں نے نظروں سے اسکے جسم کے  پیچ و خم  کو تولتے ہوئے سوچا ۔
” ارے سنو ! !  تم نے شلوار اُلٹی پہنی ہے ۔”
وہ چونک کر اپنی ٹانگوں کی طرف جھکی اور خجل ہوگئی ۔
” اسے اتار کر سیدھا کرلو ۔ میں چلتا ہوں پانچ منٹ بعد تم بھی پچھلے دروازے سے نکل جانا۔ ۔ ۔ اور ہاں احتیاط سے کوئی دیکھ نہ لے تمہیں ۔

زیمل خان چار سال سے ہماری فیکٹری میں رات کا چوکیدار تھا تین ہفتے  پہلے فیکٹری میں داخل ہونے والے ڈاکوؤں کے ساتھ مزاحمت میں ٹانگ پر گولی کھا کر گھر میں لاچار پڑا ہوا تھا ۔ مالکان اسکے علاج کے لئیے  پچاس ہزار دینے کا اعلان کر کے بھول گئے تھے ۔ سو اسکی بیوی اسی سلسلے میں بار بار چکر لگا رہی تھی ۔ میں نے اسکی مدد کا فیصلہ کیا اور چھٹی کے بعد شام میں اسے فیکٹری آنے کا اشارہ دے دیا ۔

عمر ! عمر!
اپارٹمنٹ کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے  مجھے عقب سے اپنی بیوی کی آواز سنائی دی ۔ اسکے اور میرے گھر لوٹنے کا وقت تقریبا ایک ہی تھا اور کبھی کبھار تو  ہم  اسی طرح اکھٹے گھر میں داخل ہوتے تھے ۔ وہ ایک چھوٹے  بینک میں کلرک  تھی ۔
"ایک خوشخبری ہے ” قدرے فربہی مائل وجود کو سنبھالے وہ تیزی سے اوپر آرہی تھی
خوشی سیے اسکی بانچھیں کھلی جا رہی تھیں

”  مینیجر صاحب میرے کام سے بہت خوش ہیں اور آج ہی انہوں میرے پرونوشن کی بات ہے ”
دروازے کے سامنے  رک کر اس نے ہینڈ بیگ ٹٹولااور چابی نکالی
۔”انہوں نے کہا ہے تھوڑا وقت لگے گا مگر کام ہوجائے گا
"ارے واہ مبارک ہو ”   ” میں نے خوشدلی سے اسے مبارکباد دی
” تمہیں پتا ہے مجھ سمیت پانچ امیدوار ہیں  ، اور وہ  آصفہ ہے نا وہ بھی میرے حق میں  نہیں   مگر ڈائیریکٹر  صاحب میرے کام سے بہت خوش ہیں ۔۔ کیوں نہ ہوں میں اتنی محنت جو کرتی ہوں اور ویسے بھی ۔ ۔ ۔ ۔
۔وہ گھر کے اندر داخل ہوتے ہوئے  بھی مسلسل بولے چلی گئی
۔میں اسکی پیروی کرتے ہوئے اسکی فتح کی داستان سے محظوظ ہورہا تھا کہ اچانک میری نظر اسکی الٹی شلوار کے ریشمی دھاگوں میں الجھ گئیں

اندھیرے کی لکیر

میں اجازت لینے آگے بڑھا، تو اس نے میرا ہاتھ دبا کر مجھے ایک لفظ کہنے کا موقع دیے بغیر اپنے قریب روکا اور دوسرے مہمانوں سے مصافحے کرنے میں مصروف ہو گیا۔میری زندگی میںاتنی مکمل اور ایسی حسین شام پہلی مرتبہ آئی تھی۔ حسن اور زندگی، رنگ اور نور، نغمہ اور آہنگ، ان سب کا امتزاج تھی وہ شام! گلرنگ و گلبہار چہرے، دلوں کو شادابی اور تازگی جس سے میسر ہو وہ تبسم، وہ شام کیا تھی یوں سمجھ لیجیے کہ ایک مرصع غزل تھی۔ ایک جلتی دوپہر کی شام ایسی تابندگی اور صباحت کی ردا اُڑھا دینے کا سہرا میرے دوست کے سر تھا۔

لوگ ایک ایک کر کے جاتے رہے۔ رنگ بکھرتے گئے، مسکراہٹیں کم ہوتی گئیں۔ رات کے سائے پھیلتے گئے۔ روشنی سمٹتی رہی۔ سکوت ترنم پر حاوی ہوتا رہا۔ میں گھبرا گیا۔ میں اس خوبصورت شام کا ایسا انجام دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔ چناںچہ اپنے دوست سے کہا ’’میرے پاس وہ لفظ نہیں جن سے میں تمھارا شکریہ ادا کر سکوں۔ تم نے میرے تصور کی ایک جیتی جاگتی تصویر مجھے دکھا دی۔

میں صرف دعا ہی کر سکتا ہوں کہ تم ترقی کی اور منزلیں طے کرو تاکہ میں کچھ اور ان دیکھی حقیقتوں سے آشنا ہوسکوں… اور…‘‘ مگر میرے دوست نے مجھے آگے کچھ کہنے سے روک دیا، بولا ’’لفظوں سے نہ کھیلو۔ تم دوسرے لوگوں سے مختلف ہو۔ میرے درد کو سمجھو۔‘‘ اس نے جس طرح یہ جملہ ٹھہر ٹھہر کرادا کیا، میں اس سے متاثر ہونے کے بجائے ہنس دیا۔ ’’ہنسو مت، میں تمھیں ابھی اپنی کہانی سنائوں گا، تو پھر تم مسکرا بھی نہ سکو گے۔‘‘

اس شام کی گدگداہٹ سے ابھی تک میرے ہونٹوں پر تبسم کی لکیریں پھیلی ہوئی تھیں۔ میں فی الحال کوئی ایسی بات نہیں سننا چاہتا تھا جسے سن کر مسکرا بھی نہ سکوں۔ چناںچہ دوست کے اس جملے کو بھی تمسخر کے انداز میں اُڑا دیا۔ کہا ’’تم ایک بینک منیجر ہو۔ اگر کوئی فراڈ وغیرہ ہو گیا ہے تو خود ہی ایک جاسوسی ناول لکھ ڈالو، تمھارے اکائونٹ میں چند ہزار روپے کا اضافہ ہو جائے گا۔‘‘ اس نے میری بات سنی ان سنی کر دی۔ آخری مہمان کو بھی رخصت کرنے کے بعد وہ مجھے سجے سجائے ڈرائنگ روم میں لے جا کر بیٹھ گیا۔ اور بولا ’’تم شہلا کو جانتے ہو؟‘‘
’’شہلا۔‘‘

’’ہاں۔ وہی جو…‘‘
’’سمجھ گیا۔ اچھی طرح جانتا ہوں۔ سیٹھ فرقان علی کی بیٹی جو کالج میںاپنی جہاز جیسی بڑی کار لیے آیا کرتی تھی۔ اس سے تمھارا ہلکا پھلکا رومان بھی چل رہا تھا۔‘‘
’’ہاں وہی۔‘‘
’’کیا ہوا اس کو۔‘‘
’’اس نے خودکشی کی کوشش کی تھی مگر بچ گئی۔‘‘
’’بڑے باپ کی بیٹی ہے۔ ہر نیا فیشن اپنانے والی… خود کشی بھی تو آج کل فیشن میں داخل ہو گئی ہے نا‘‘
’’بکواس نہ کرو۔‘‘ وہ نہایت سنجیدہ تھا۔
’’آخر اس نے یہ کوشش کیوں کی؟‘‘
’’اس کا ذمے دار میں ہوں۔‘‘
’’آں…‘‘حیرت سے میرا منہ کھلا کا کھلے رہ گیا۔
اس نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور بولا ’’ہاں میں۔‘‘

میں سنبھل کر اپنی جگہ بیٹھ گیا۔ چند لمحے اسے تکتا رہا۔ پھر اس سے مخاطب ہوا۔ ’’ہاں بینک منیجر صاحب۔ اب آپ اپنی کہانی سنا دیجیے۔‘‘ ’’مجھ پر طنز نہ کرو۔‘‘ اس نے بہت ہی گھٹے ہوئے لہجے میں کہا۔ ’’اس ملازمت کی خاطر میں نے اپنی زندگی کی بھرپور مسرتیں اور دائمی خوشیاں ترک کی ہیں۔‘‘ ’’یوں کہو کہ خوشیوں کو تم نے اپنی زندگی کے لیجر میں سے ڈیبیٹ کر دیا۔‘‘ میں نے مسکرا کر کہا۔ ’’اگر تم اسی قسم کی فضول گفتگو کرنے کے موڈ میں ہو تو جہنم میں جائو۔ میں کچھ نہیں سناتا۔‘‘

اس کو یوں ناراض کر دینے سے مجھے کچھ خوشی سی ہوئی۔ لیکن میں شہلا کی خودکشی کا پس منظر معلوم کرنا چاہتا تھا۔ اس کو منایا اور کہانی سنانے پر رضا مند کر لیا۔ ’’وہ بولنے لگا ’’تم جانتے ہو کہ میں نے تنک مزاج اور زود حس ہونے کے باعث والد کی ذرا سی سرزنش پر ایم۔اے کرنے کا ارادہ ملتوی کر دیا تھا۔ پھر ملازمت ڈھونڈتا رہا۔ آخر مجھے بینک میں ملازمت مل گئی۔

شروع میں تو بینک والوں نے مجھے چھوٹے قصبوں میں بھیجا جہاں ان کی شاخیں تھیں۔ ان چھوٹی جگہوں میں نہ تو شہر کی سی سہولتیں تھیں اور نہ دیہات کی سی خوبیاں۔ دو چار ہزار کی آبادی میں مطلب کے آدمی تلاش کرنے کے باوجود نہ ملتے۔ چھوٹے چھوٹے دکانداروں کے ساتھ واسطہ پڑتا۔‘‘ ’’تم شہلا کی خودکشی سے متعلق بتائو۔‘‘ اس نے مجھے جھڑک دیا۔ ’’خاموشی کے ساتھ جو کچھ میں کہتا ہوں، سنتے رہو۔‘‘

میں چپ ہو گیا۔ وہ کہنے لگا ’’صبح سے شام تک میں بینک میں رہتا۔ شام کو تفریح کے لیے جانے کے بجائے تنگ بازاروں میں گھومتا۔ دکانداروں سے ملتا اور انھیں بینکاری کے متعلق بتاتا۔ رات کو کچھ دیر کتاب کے اوراق پر نظریں گھمانے کے بعد سو جاتا۔ اتوار کو قریب کے دیہات میں جاتا، وہاں کے زمینداروں سے ملتا اور زمین میں گڑی دولت بینک میں جمع کرنے کا مشورہ دیتا۔ یہ تمام تبدیلیاں مجھ میں بڑے غیر محسوس طریقے سے پیدا ہوتی رہیں۔ ’’شروع میں‘ تو میں چھوٹے قصبوں میں جانے کے خیال سے بدکتا تھا۔

تبادلے کے لیے کوششیں کرتا مگر‘ پھر کسی جہاں دیدہ باس کے سمجھانے سے مان بھی جاتا۔ اس ملازمت نے مجھ سے میرا پندار، میری خودسری اور اناچھین لی اور اس طرح کہ مجھے محسوس بھی نہیں ہوا۔ میں چھوٹے چھوٹے دکانداروں سے باتیں، اکائونٹ کھلوانے کے لیے ان کی خوشامد کرنے اور چاپلوسی برتنے میں کوئی عار، شرم اور کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرتا۔ بس ایک دھن تھی، لگن تھی کہ میں جہاں جائوں، میرا بینک کامیاب رہے۔ لوگوں کو بینک کی افادیت معلوم ہو سکے۔

’’ رفتہ رفتہ مجھے اپنی ہر چھوٹی بڑی کامیابی پر یہ محسوس ہونے لگا جیسے بینک کی ملازمت ہی میرا نصب العین تھی۔ جیسے میں پیدا ہی اس کے لیے ہوا تھا۔ پانچ چھے برس تک میں ایسی ہی چھوٹی چھوٹی جگہوں پر رہا۔ اس کے بعد مجھے اپنے شہر میں تبدیل کر دیا گیا۔‘‘ جب وہ کہتے کہتے ذرا رکا تو میں نے آہستہ سے کہا۔ ’’ان باتوں کا تعلق شہلا کی خودکشی سے کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘

’’تفصیل میں تمھیں اس لیے بتا رہا ہوں کہ تم جب کہانی لکھنے بیٹھو تو نفسیاتی نقطۂ نظر سے کوئی بات سمجھنے میں الجھن سے دو چار نہ ہو۔ ہاں تو میرا تبادلہ اپنے شہر میں ہو گیا۔ اب بینک کی طرف سے مجھے یہاں زیادہ سہولتیں بلکہ آسائشیں میسر ہوئیں۔ میں بینک کا ڈپازٹ بڑھانے کی طرف تن من سے لگ گیا۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ سیٹھ فرقان علی ایک نئی مل قائم کر رہے ہیں، تو بہ حیثیت بینکر اُن سے ملا۔ وہیں شہلا سے عرصے بعد ملاقات ہوئی۔

وہ بالکل دیسی ہی تھی، وہی لیلیٰ شب کو شکست دیتے ہوئے گیسو، ستاروں کی سی چمک لیے ہوئے آنکھیں اور پیشانی پر اترا ہوا چاند۔ میں طویل عرصے بعد ملا تھا۔ بہت کچھ بدل گیا تھا‘ مگر وہ وہی تھی اور اسے یاد بھی سب کچھ تھا۔ میں جب اس سے ملا‘ تو میں نے بڑے اجنبی انداز میں اس سے پوچھا:
’’آپ… آپ یہاں کب سے آئی ہوئی ہیں؟‘‘

اس نے پرانے انداز میں سر جھٹک کر بالوں کو ایک طرف کیا۔ اسی دلفریب اور مَن موہ لینے والے طریقے سے ہونٹوں کے گوشوں میں مسکرائی اور اپنائیت سے بھرپور لہجے میں کہا ’’تم اچانک کہاں غائب ہو گئے تھے۔ آج ملے ہو‘ تو غیروں کی طرح مخاطب ہو رہے ہو۔‘‘ میں نے جو جواب دیا، اس سے میں خود بھی مطمئن نہیں تھا‘ مگر شہلا مجھ سے مل کر ہی خوش ہو گئی۔

اس نے بیتے دنوں کی راکھ کرید کر پرانی یادوں کے انگاروں کو اپنے التفات سے ہوادی۔ پھر یوں سمجھ لو ان انگاروں میں میری شخصیت کا وہ خول جل گیا جو میں نے پانچ چھے سال کے عرصے میں اپنی ذات پر منڈھ لیا تھا۔ اب میں وہاں جاتا تو صرف شہلا سے ملنے کے لیے! فون کرتا تو صرف شہلا کو! سارا دن سوچتا اورمیری سوچ کا محور ہوتی تھی شہلا۔ میں راتوں کو عجیب سے سہانے سہانے خواب دیکھتا اور ان خوابوں کا مرکز ہوتی تھی شہلا۔

محبت کی یہ دھوپ اتنی پھیلی کہ مجھے اپنے فرائض کا سایہ تو درکنار خود اپنا نظر آنا مشکل ہو گیا۔ شہلا… شہلا… ہر وقت… ہر لمحہ اس کا خیال رہتا۔ اس کی آواز کا جادو مجھ پر چھایا رہتا۔ آخر ایک دن میں نے طے کر لیا کہ اب شادی کر لینی چاہیے۔ شہلا نے مجھے مشورہ دیا ’’تم ڈیڈی سے بات کر لو۔‘‘
میں سیٹھ فرقان علی سے ملا۔ بڑی خندہ پیشانی سے پیش آئے۔ میں نے دبے لفظوں میں اپنی تمنا کا اظہار کیا۔ بولے ’’تم کرتے کیا ہو۔‘‘

’’جی بینک منیجر ہوں۔‘‘
’’کون سے بینک میں؟‘‘
میں نے بینک کا نام بتا دیا
پھر پوچھا ’’کیا تنخواہ ہے؟‘‘
’’جی پچاس ہزار روپے۔‘‘
’’گاڑی تمھاری ہے؟‘‘
’’جی نہیں، بینک کی ہے۔‘‘
’’رہتے کہاں ہو؟‘‘
میں نے علاقے کا نام بتا دیا۔
پھر کہنے لگے ’’بنگلہ تمھارا ہے؟‘‘
’’جی نہیں،بینک نے کرائے پر لے کے دیا ہے۔‘‘
انھوں نے پھر بہت ہی شفقت آمیز انداز میں پوچھا، ’’تمھارا بینک بیلنس کتنا ہے؟‘‘

میں نے شرمندگی سے گردن جھکا لی۔ انھوں نے آہستہ سے یوں ’’ہوں‘‘ کہا جیسے سب کچھ سمجھ گئے ہوں اور پھر مجھ سے کہا۔ ’’میں اس معاملے میں شہلا سے بات کیے بغیر تمھیں کوئی جواب نہیں دے سکتا۔‘‘ پہلے میں نے سوچا کہ انھیں اس حقیقت سے بھی روشناس کرا دوں کہ شہلا ہی کے ایما سے میں یہاں آیا ہوں۔ ہم دونوں میں وہی رشتہ ہے جو پھول اور ڈالی، دریا اور کنارے، بادل اور ہوا میں ہوتا ہے۔

ہم دونوں آپس میں دلوں، دماغوں، آنکھوں اور زبان کا تبادلہ کر چکے۔ جو کچھ انھیں شہلا سے معلوم کرنا ہے وہ مجھ سے پوچھ لیں۔ جو کچھ وہ میرے متعلق جاننا چاہتے ہیں شہلا سے دریافت کریں۔ مگر یہ سوچ کر خاموش رہا کہ اچھا ہے، سیٹھ صاحب یوں بھی اپنا اطمینان کر لیں۔ دوسرے دن شہلا نے مجھے فون کیا اور فوراً ملنے کو کہا۔ جب میں اس سے ملا‘ تو اس نے کہا: ’’میں رات بھر ڈیڈی سے الجھتی رہی ہوں۔‘‘ ’’کیوں؟‘‘

’’وہ اس شادی کے مخالف ہیں۔ کہتے ہیں کہ تمھارے پاس نہ اپنا بنگلہ ہے نہ موٹر اور نہ دولت۔‘‘ ’’وہ سچ کہتے ہیں۔‘‘ ’’مگر تمھارے پاس وہ سب کچھ ہے جو میں چاہتی ہوں۔ میں نے ان سے صاف کہہ دیا کہ اگر انھوں نے اپنی ضد کو میری راہ کی رکاوٹ بنایا‘ تو میں خودکشی کر لوں گی… ’’بے وقوف نہ بنو۔ جذبات سب کچھ نہیں ہوتے۔ زندگی بڑی شے ہے۔ تمھارے ڈیڈی نے اس دنیا کے بہت سارے رنگ دیکھے ہیں۔ انھیں جو رنگ پسند ہے اسی میں وہ تمہیں بھی رنگا دیکھنا چاہتے ہیں اور…‘‘ شہلا نے میری بات کاٹی اور کہا ’’تم مجھے نصیحتیں مت کرو۔

ڈیڈی کو زندگی کا جو رنگ پسند ہے، ضروری نہیں کہ وہ میری آنکھیں بھی قبول کر لیں۔‘‘ اور پھر میں اور شہلا تمام دن دنیا، رنگوں، آنکھوں اور دلوں کی باتیں کرتے رہے۔ مگر وہ شام ایک مفلس عاشق کی طرح بڑی اداس تھی۔ اس شام کی اداسی ہمارے ذہنوں پر چھائی ہوئی تھی۔ ہم دونوں اس کی اداس فضا کا سانس لیتا ایک حصہ بن گئے۔ شہلا نے تجویز پیش کی۔ ’’کیوں نہ ہم کورٹ میرج کر لیں۔‘‘

شہلا سے یہ سن کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں اب تک خود کو فریب دیتا رہا ہوں۔ یہ احساس اس لیے پیدا ہوا کہ جب کورٹ میرج کی بات سنی‘ تو میں نے شہلا کے اندازِ فکر سے الگ ہٹ کر سوچا اور بہت سارے گوشوں کی طرف دیکھا۔

مگر شہلا کے دماغ میں تو جذبات کا چاند جگمگا رہا تھا۔ وہ تمام رکاوٹیں، سارے رشتے اور بندھن توڑ کر میری بن جانا چاہتی تھی۔ میں نے اسے سمجھایا، دلاسہ دیا، اپنی محبت کا یقین دلایا مگر وہ اپنی بات پر اڑی ہوئی تھی۔ اس نے پوچھا ’’تم گھبراتے کیوں ہو؟‘‘ ’’سنو شہلا میں گھبراتا نہیں… بلکہ یہ سوچتا ہوں کہ اگر ہم نے وقت اور حالات کی مخالفت کر کے اپنی من مانی کر ڈالی تو کہیں یہ ہمارے مخالف نہ ہو جائیں۔ اگر ایسا ہوا‘ تو حالات ہمیں روند ڈالیں گے اور وقت ہمیں گرد کے مانند اڑا دے گا۔ ‘‘ لیکن وہ بضد تھی۔ پھر میں نے کہا ’’جیسی ضد تم مجھ سے کر رہی ہو، اسی طرح اپنی بات ڈیڈی سے کیوں نہیں منوا لیتیں؟‘‘

یوں میں نے شہلا کے دل و دماغ میں اٹھنے والے طوفان کا رخ پلٹ دیا۔ میں نے اُسے سمجھایا کہ وہ اپنی ضد کو ایسی آندھی بنا دے جس کے سامنے اس کے ڈیڈی کی ہٹ دھرمی کا دیا گل ہو جائے۔ پھر ہم دونوں جو زندگی گزاریں گے اس پر پریشانیوں اورپشیمانیوں کا سایہ تک نہیں ہو گا۔ شہلا میری بات مان گئی۔
اس رات اپنے دل میں عجیب سے وسوسے لیے، دماغ میں طرح طرح کے خیالات بسائے دیر تک زرد چاندنی اور ستاروں کی مریض روشنی میں جاگتا رہا۔ زندگی کے وہ لمحے میری نظروں کے سامنے آتے رہے جو میرے لیے ان دیکھے تھے۔ کبھی میں سوچتا، شہلا میرے لیے نہیں اپنے اسی کزن کے لیے موزوں ہے جس کا باپ کروڑوں روپے کی جائداد چھوڑ گیا ہے۔

کبھی خیال آتا کہ میں بھی کتنا مادہ پرست اور انسانی عظمتوں سے کتنا منحرف ہو گیا ہوں۔ ہر بات کو دولت کے پیمانے پر ناپ رہا ہوں۔ دلوں اور محبتوں کی قیمت میری نظر میں اپنی وقعت کیوں کھو چکی؟ محبت، انسان اور دل اس وقت بھی تھے جب دولت نہیں تھی۔ دل محبت اور انسان اس وقت تک رہیں گے جب دولت نہیں ہو گی پھر میں یہ کیسی کشمکش میں مبتلا ہوں؟ ذرا سی رکاوٹوں، اندیشوں اور پریشانیوں کو اتنی اہمیت کیوں دے رہا ہوں… کیوں؟

سوالوں کے بھنور تھے… اور میرا دل تھا۔
اندیشوں کی پاتال تھی… اور میرا دماغ تھا۔
وسوسوں کی دلدل تھی… اور میرا وجود تھا۔

صبح ہوئی مگر رات کا آسیب میرے وجود کو جھنجھوڑ گیا۔ میں بڑے بوجھل قدموں سے ٹیلی فون کے قریب آیا۔ جب میں نے فون کیا تو معلوم ہوا شہلا نے اپنے آپ کو زخمی کر لیاہے۔ وہ بے ہوش ہو گئی تھی اور اسی عالم میں اسے لاہور بھیج دیا گیا۔ میں نے ٹیلی فون رکھا ہی تھا کہ گھنٹی بجی۔ میں نے چونگا اٹھایا‘ تو سیٹھ فرقان علی کی آواز آئی ’’کیا تم ابھی آ سکتے ہو؟‘‘ ان کے پاس پہنچا‘ تو وہ بڑے مصروف تھے۔ ایک نئی اور بڑی مل کا منصوبہ اپنے آخری مرحلے سے گزر رہا تھا۔ انھوں نے مجھے کہا ’’میں ذرا کام سے فارغ ہو لوں پھر تم سے بات کرتا ہوں۔‘‘

وہ خاصی دیر مشغول رہے۔ میں کرسی پر پہلو بدلتا رہا۔ پھر انھوں نے گھنٹی بجائی۔ چپراسی آیا‘ تو حکم دیا ’’اکائونٹنٹ کو بلائو۔‘‘ اکائونٹنٹ آیا‘ تو سیٹھ صاحب نے پوچھا ’’آپ نے روپیہ ٹرانسفر کرا لیا۔‘‘ ’’جی ابھی تک تو بینک میں اکائونٹ ہی نہیں کھلا۔‘‘ ’’تو یہ کام آج بلکہ ابھی کر ڈالیے اور پھر لاہور فون کیجیے۔ فی الحال کتنے روپوں کی ضرورت ہو گی؟‘‘

’’جی ضرورت تو مسلسل ہی پڑتی رہے گی۔ پچاس پچاس لاکھ کر کے منگا لیں گے۔‘‘ سیٹھ جی نے جھنجھلا کر کہا ’’نہیں نہیں، سب روپیہ ایک ساتھ منگا لیجیے اور جتنی بھی ضرورت ہو…‘‘ میں یہ باتیں سن کر ایسے چونکا جیسے اب تک خواب کی دنیا میں تھا۔ میں نے کرسی پر پہلو بدلا، ٹائی کی گرہ درست کی اور بولا ’’معاف کیجیے گا۔ میں کچھ گزارش کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ سیٹھ جی اور اکائونٹنٹ نے میری طرف دیکھا۔ میں نے کہا ’’بینکاری سے متعلق آپ کے تمام کاموں کے لیے میں اپنی اور اپنے بینک کی خدمات پیش کر سکتا ہوں۔‘‘

سیٹھ جی نے کھنکار کر گلا صاف کیا اور اکائونٹنٹ سے کہا ’’میں اس سلسلے میں آپ سے تھوڑی دیر بعد گفتگو کروں گا۔ ابھی ذرا ان سے بات کر لوں۔‘‘
اکائونٹنٹ چلا گیا‘ تو سیٹھ صاحب مجھ سے مخاطب ہوئے۔ ’’رات کو شہلا نے تمھارا ذکر کیا تھا۔ میں نے اس کو ایسی بہت سی باتیں سمجھائیں جو تمھیں بتانے کی ضرورت نہیں۔ میں لڑکیوں کو زیادہ آزادی دینے کے خلاف ہوں۔ میں تمھارا یہاں سے کہیں اور تبادلہ بھی کرا سکتا ہوں‘ مگر فی الحال میں نے شہلا کو لاہور بھیج دیا ہے۔ ہاں! تو تم کیا کہہ رہے تھے؟‘‘

میں نے ذرا سنبھل کر کہا ’’میں یہ عرض کر رہا تھا کہ اگر آپ اپنی مل کا اکائونٹ ہمیں دے دیں‘ تو…‘‘ سیٹھ جی نے بھائو چکانے کے انداز میں کہا ’’وہ تو ٹھیک ہے مگر شہلا کا کیا ہو گا؟ کیا تم اس کو یہ لکھ کر بھیج سکتے ہو کہ تم نے اس سے جو وعدہ کیا ہے، اسے پورا کرنے کی اب ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ اگر تم ایسا کر سکو تو…تو ممکن ہے میرا تمام اکائونٹ تمھارے ہی بینک میں آ جائے اور تمھیں ترقی کے امکانات نظر آئیں۔ ورنہ سوچ لو کہ میرا نام فرقان علی ہے اور میں شہلا کا باپ ہوں۔‘‘

جتنی دیر میں سورج کی شعاعیں زمین کے رخسار کا بوسہ لیتی ہیں، اتنی دیر میں، میں نے فیصلہ کر لیا اور سیٹھ صاحب سے کہا ’’مجھے منظور ہے۔‘‘
اس کے بعد مجھ پہ کیا گزر گئی یہ تم لکھو گے۔ مجھے ابھی… آج ہی معلوم ہوا ہے کہ شہلا نے میرا خط پڑھنے کے بعد دوبارہ خودکشی کی ناکام کوشش کی تھی۔ اس کے باوجود میں نے اپنی ترقی کی خوشی میں یہ جشن منایا۔ بتائو کیا تم نے اس گنگناتی فضا میں کوئی سسکی سنی؟ روشنیوں میں اندھیرے کی لکیر دیکھی…؟ بتائو… خدا کے لیے کچھ تو کہو۔‘‘

کاغذ اپنا سینہ کھولے قلم کی برچھی کھانے کو تیار ہے۔ اور میں بڑی دیر سے قلم ہاتھ میں لیے اس فکر میں ہوں کہ اس کہانی کو کیسے شروع کروں اور کہاں ختم؟

روٹی

وہ اپنے ہونے والے کھیت پر بھرپور نگاہ ڈال کر پگڈنڈی پر ہو لیا۔ پانچ میل کا کچا رستہ طے کر کے فیصل آباد پہنچا۔ لاہور کی لاری اسے جاتے ہی مل گئی۔ شیخوپورہ کے اڈے پر جب سواریاں سستانے نیچے اتریں‘ تو اس نے کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھا، جون کے سورج کی دہکتی شعاعیں سیدھی آنکھوں پر پڑ رہی تھیں۔ اس نے لرزتے ہاتھ سے آنکھوں پر سایہ کر اپنی مخصوص مسکراہٹ سے یونہی اڈے والوں کو دیکھا۔

ایک لڑکے نے اپنا تھال بالکل اس کی آنکھوں کے قریب لا کر آواز لگائی ’’گرم پکوڑے۔‘‘ ترغیب اپنا کام کر گئی۔ اس نے دس روپے کے پکوڑے لیے۔ پھر چادر کے پلّو سے رات کی بچی روٹی نکالی جو اس نے چلتے وقت باندھ لی تھی۔ گاڑی چلنے کے بعد اس نے کھانا شروع کیا۔ باسی روٹی کا چھوٹا سا نوالہ توڑتا، دوسرے ہاتھ سے پکوڑے کی گردن یا ٹانگ توڑ کر ساتھ جوڑتا اور منہ میں رکھ لیتا۔ دس منٹ تک اس کے پوپلے منہ میں پکوڑے کے مزے گھلتے رہے… آس پاس کی سواریاں ایک بہت ہی بھولے بھالے منہ کو بچوں کی طرح چلتا ہوا دیکھ کر مسکراتی رہیں۔

آخری نوالہ حلق سے اتارتے ہی اس نے دونوں ہاتھوں پر لگے ریزے صاف کیے، ڈاڑھی پر ہاتھ پھیر کر خدا کا شکر ادا کیا، چپکے چپکے ایک عربی دعا پڑھی، مسکراتی ہوئی سواریوں پر ایک نظر ڈال خود بھی مسکرایا اور بولا ’’پکوڑے مزے دار تھے۔‘‘
لاہور میں شاہی مسجد کے قریب اتر کر وہ دیر تک تپتی سڑکوں پر سنت نگر میں دیوسماج بلڈنگ کا پتا پوچھتا رہا، جہاں محکمہ بحالیات کے پٹواری بیٹھتے ہیںاور جہاں اس کی مسل آئی ہوئی ہے۔ آخر وہ اپنی منزل پر پہنچ ہی گیا۔ دیوسماج کے صدر دروازے پر ایک پہرے دار کھڑا تھا۔ کسی کو بھی اندر جانے کی اجازت نہ تھی۔ پھر بھی ہر کوئی کسی نہ کسی حیلے وسیلے سے اندر جا ہی رہا تھا۔ دروازے کے باہر اپنی اپنی زمینوں کے قضیے چکانے والوںکا ہجوم تھا۔ دیوار کے ساتھ ساتھ بیسیوں عرضی نویس اپنے کام میں مصروف تھے۔ وہ دیر تک سہما کھڑا رہا کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ اس نے کئی لوگوں سے پوچھا، کسی نے اس کی راہبری نہ کی۔ آخر ایک خوبصورت، صحت مند نوجوان جس نے سفید بگلا قمیص اور سفید پتلون پہن رکھی تھی، قریب آ کر بولا ’’بابا پریشان کیوں ہو؟‘‘

وہ مسکرا کر کہنے لگا ’’پریشان تو میں نہیں، پر کچھ میری مدد کرو، میں جی فیصل آباد ضلع سے آیا ہوں۔ پیچھے فیروز پور ضلع کا باشندہ ہوں۔ جھوٹ نہیں بولتا، وہاں میری کوئی زمین نہیںتھی۔ ساری عمر دوسروں کی زمین باہی ہے۔ سرکار نے کچھ بنجر زمین کاشت کاروں کو مفت دی تھی۔ میرے حصے میں بیس ایکڑ آئے۔ میں نے جی کنک اور چھولے بو رکھے ہیں۔ اب ہمارا پٹواری کہتا ہے، تیری چٹ میں باپ کا نام غلط لکھا ہے۔‘‘ اس نے جیب سے چٹ نکال اس کے حوالے کر دی۔ نوجوان نے چٹ کی دسیوں تہیں کھولتے ہوئے پوچھا ’’بابا تیرا نام کیا ہے؟‘‘

بولا ’’جمال الدین ولد غلام محمد۔‘‘ نوجوان نے کہا ’’یہاں لکھا ہے جمال الدین ولد فضل بیگ۔‘‘ بابا بولا ’’بس جی یہی غلطی ہوئی ہے۔ میرے باپ کا نام غلط لکھا گیا۔ پٹواری کہتا ہے، نام ٹھیک ہوگا‘ تو قبضہ ملے گا اور مسل لاہور سنت نگر دیوسماج بلڈنگ پہنچ چکی۔ بابو جی آٹھ دس دن تک فصل اٹھنے والی ہے۔ مجھے چٹ نہ ملی‘ تو میں بھوکا مر جائوں گا، فصل سرکار لے جائے گی۔‘‘ نوجوان نے بڑی ہمدردی سے پوچھا ’’تم کتنے جی ہو؟‘‘ وہ ایک جھرجھری سی لے کر انگلی کی پوروں پر گنتی کرنے لگا ’’ایک میں، ایک بہو، دو پوترے اور ایک پوتری۔‘‘

نوجوان نے پوچھا ’’کوئی لڑکا نہیں؟‘‘ ’’نہیں بابو صاحب، کوئی نہیں۔ ایک تھا وہ پچھلے برس اللہ کو پیارا ہو گیا… اس کی مرضی! اس کا تھا، اسی نے لے لیا۔‘‘ نوجوان بولا ’’بابا تیرا کام ہو جائے گا بے فکر رہ! میں یہاں پٹواری ہوں مگر دام خرچنے ہوں گے۔‘‘ اس نے ایک کھدر کے کرتے کی اندرونی جیب سے سو روپے کے دو نوٹ، جو اس نے اسی مقصد کے لیے باقی نوٹوں سے الگ رکھے ہوئے تھے، نکالے اور بولا ’’لے پٹواری، اللہ تیرا بھلا کرے۔‘‘
پٹواری نے نوٹ جلدی سے جیب میں رکھ لیے اور کہا ’’بابا تیرا کام ہو جائے گا۔ ہزار روپے لگیں گے۔‘‘

بابا نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ کہا ’’میں دو سو سے زیادہ نہیں دے سکتا۔‘‘ پٹواری نے کہا ’’بابا کسی اور پٹواری سے کام کرانا ہے اور وہ ہزار روپے سے کم نہیں لے گا۔ میرے پاس ضلع انبالہ ہے، مسل میرے پاس ہوتی تو ایک دھیلا بھی نہ لیتا۔‘‘ بابا بولا’’میں تو جی یہی دے سکتا ہوں، مرضی ہو لو مرضی ہو نہ لو۔‘‘ پٹواری نے بے پروائی سے کہا ’’تیری مرضی ہے بابا، کوئی زبردستی نہیں۔‘‘ بابا نے کہا ’’زمین کا قبضہ مل جائے، فصل مل جائے تو دو سو اور بھی دے سکتا ہوں۔‘‘

پٹواری ہنس پڑا ’’قبضہ مفت میں نہیں مل جاتا، پیسے خرچنے پڑتے ہیں۔‘‘ وہ بولا ’’جب تک قبضہ نہ ملے، پیسے کہاں سے آئیں، ہم تو روٹی پتا نہیں کس طرح کھاتے ہیں۔‘‘ پٹواری نے مشورہ دیا ’’اچھا یوں کر، تیری جیب میں جتنے پیسے ہیں، سب نکال دے، میں تیرا کام کرا دوں گا۔‘‘ وہ کہنے لگا ’’تو میں واپس کیسے جائوں گا جی؟ اگر مجھے یہاں ٹھہرنا پڑا، تو میں کھائوں گا کیا؟‘‘ پٹواری نے صدر دروازے کی طرف قدم بڑھا کر ترغیب پیدا کرنے کی کوشش کی ’’اچھا بابا، تیری مرضی۔‘‘ وہ فوراً اپنی اندرونی جیب سے ساری رقم نکال کر گننے لگا۔

’’لو پٹواری جی، یہ سو کا نوٹ اور یہ ہوئے ستر روپے! تیرا من بھاوے تو مجھے کھان پین واسطے دے دے، نہیں تو میں نے تو تجھے اپنی کل پونجی دے دی۔‘‘ پٹواری نے اپنا پورا اطمینان کر لینے کے لیے خود اس کی جیب میں ہاتھ ڈال کر دیکھا۔ مایوس ہو کے وہ رقم بھی اپنی جیب میں ڈال ہنس کر پوچھا ’’بابا! دھوتی کی ڈب میں تو نہیں باندھ رکھے؟‘‘ ’’نہیں پٹواری جی، میں کوئی بے ایمان آدمی نہیں۔‘‘ پٹواری صدر دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ اس نے لپک کر پوچھا ’’پھر پٹواری صاحب، میرا کام کب تک ہو جائے گا؟‘‘

پٹواری نے اسے ایک طرف لے جا کر کہا ’’تو یوں سمجھ، تیرا کام ہو چکا۔ اب یہاں آنے کی ضرورت نہیں، تجھے دو چار دن میں چٹ ڈاک سے مل جائے گی۔ تو بے فکر ہو کر لاری چڑھ جا۔‘‘ اس نے پٹواری کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہمدردی طلب کرنے کے انداز میں کہا ’’میں لاری کیسے چڑھ سکتا ہوں؟ میرے پاس اب ایک پیسا بھی نہیں رہا، پٹواری جی! اس طرح کرو، مجھے اپنے گھر کا پتا بتا دو، میں شام کو معلوم کر لوں گا۔ اگر چٹ مجھے دستی مل جائے تو بڑی مہربانی ہو گی۔ میں پیدل چلا جائوں گا۔‘‘ اسے پورا یقین تھا کہ وہ شام کو پٹواری سے واپسی کا کرایہ لے لے گا۔

پٹواری نے ایک پرچی پر اپنے گھر کا پتا لکھ کر اسے حوصلہ دیا ’’اگر چٹ مل گئی تو آج ہی دستی دے دوں گا… ویسے مجھے امید نہیں، کئی دن لگ جائیں گے۔ بابا میری مان، تو آج ہی ٹُر جا، یہاں خواہ مخواہ خجل خوار ہوتا پھرے گا۔‘‘ شام کو وہ پٹواری کے گھر گوالمنڈی پہنچ گیا۔ دیر تک دروازے کے باہر کھڑا رہا، پھر دودھ دہی والے سے پوچھا ’’پٹواری کس وقت آتے ہیں؟‘‘ اس نے جواب دیا ’’بابا سامنے بیٹھک میں اس کا بڑا بھائی بیٹھا ہے، اس سے پوچھ۔‘‘

وہ ڈرتے ڈرتے مکان میں داخل ہوا۔ ڈیوڑھی میں چند منٹ انتظار کر کے آخر اس نے بیٹھک کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ آواز آئی ’’کون ہے؟ اندر آ جائو۔‘‘ وہ کواڑ آہستہ سے کھول کر اندر چلا گیا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اسے ٹھنڈک محسوس ہوئی۔ باہر کی چلچلاتی دھوپ سے اس کا جسم پسینے سے شرابور ہو چکا تھا۔ چھت پر چلتے پنکھے کی ہوا پسینے کو لگی تو جسم ٹھنڈا لگنے لگا۔ اس نے مسکرا کر پٹواری کے ہم شکل بھائی کو غور سے دیکھا جو اسے غصے سے گھور رہا تھا۔ اس نے وہیں ٹھٹک کر سلام کر کے پوچھا ’’ابھی پٹواری صاحب نہیں آئے جی؟‘‘

پٹواری کے بھائی نے تنک کر کہا ’’جب تجھے معلوم ہے کہ وہ ابھی نہیں آئے تو مجھ سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ بابا ڈر گیا، بولا ’’میرا مطبل ہے، وہ کس وقت آئیں گے؟‘‘ اس نے کہا ’’میں نے کوئی اس کا ٹھیکا لیا ہوا ہے یا میں اس کی دم سے لگا ہوں… چل جا کے باہر بیٹھ۔‘‘ بابا بولا ’’بہت اچھا سرکار، آپ ناراض نہ ہوں۔‘‘ یہ کہہ کواڑ اسی طرح بند کر وہ چلچلاتی دھوپ میں چلا گیا۔ پٹواری کا بھائی پھر اپنے نئے ناول کی تخلیق میں مصروف ہو گیا۔ زیر قلم باب میں وہ ہیروئن کو زیادہ سے زیادہ خوب صورت بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ نصف ناول تک وہ قارئین کا دل بہلانے کے لیے ہیروئن کو چند معاشقوں کا شکار دکھلانا چاہتا تھا۔ اصل موضوع کا اظہار دوسرے نصف حصے میں ہونا تھا۔ وہ ہیروئن کو سچے پیار سے مایوس کر کے اس کا ضمیر بیدار کرنے روحانی سفر پر بھیجنا چاہتا تھا۔ اس سفر کے دوران وہ نرس بن کر مختلف دیہات میں رہ کر سیدھے سادھے کسانوںکی خدمت کرے گی۔ عرصہ دراز تک ان لوگوں میں زندگی گزارنے کے بعد جب وہ واپس شہر آئے گی، تو اس کے سارے گناہ دھل چکے ہوں گے۔

غرض پہلا نصف بال بچوں کی روٹی اور دوسرا نصف حصہ فن کے لیے مخصوص تھا۔ بابا باہر گیا، تو اس نے دوبارہ قلم اٹھایا، خیالات جمع کیے اور آخری سطر پر توجہ مرکوز کی۔ وہ ہیروئن کی خوبصورتی ابھارنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اظہار کو شرافت کی حدود میں رکھنے والے الفاظ کی تلاش میں اس نے آنکھیں میچ لیں۔ تصّورات بہت دور دور تک گئے۔ لیکن حسب منشا صحیح الفاظ نہ ملے۔ ہاں لفظوں کے اندر سے ایک عجیب و غریب چہرہ نمودار ہوا۔ لمبی سفید ڈاڑھی، موٹی موٹی جھریاں، آنکھوں میں سدا مسکراتی سادگی، بھولا بھالا چہرہ، سر پر پگڑی، ستر پچھتر برس کی عمر اور سکون دینے والے انداز میں ایک میٹھا بول ’’بہت اچھا سرکار، آپ ناراض نہ ہوں۔‘‘
وہ قلم ہاتھ سے چھوڑ کر دوڑا دوڑا اوپر گیا اور جاتے ہی دہاڑنے لگا ’’تم لوگوں نے آخر مجھے کیا سمجھا ہوا ہے۔ دن رات میری یہی ڈیوٹی رہ گئی ہے کہ پٹواری صاحب کی اسامیوں کا استقبال کرتا رہوں۔‘‘

ماں نے پوچھا ’’آخر ہوا کیا؟‘‘ بولا ’’صبح سے تین آدمی آ چکے۔ میرے کام کے لیے تنہائی اشد ضروری ہے، وقت پر پیسا نہیں ملتا‘ تو پھر تم چیختی ہو۔‘‘ بیوی نے ذرا سمجھانے کے لیے کہا ’’آدمی تو آئیں گے۔ جب انھیں یہاں کام ہوتا ہے، تو وہ یہیں آئیں گے، کہیں اور کیسے چلے جائیں؟‘‘ اس نے اپنے بال نوچ لیے ’’اف، میں بہت غلط گھر پیدا ہو گیا۔ ادیبوں کو پٹواریوں کے گھر پیدا نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ ماں نے بہت آہستہ گویا اپنے آپ سے کہا ’’ایسے ادیبوں سے پٹواری اچھے۔‘‘

اسے جیسے آگ سی لگ گئی، چیخا ’’تم تو اس کی حمایت کرو گی ہی، کیونکہ وہ تمھیں روٹی دیتا ہے… دیکھو میں بتائے دیتا ہوں‘ آئندہ نہ تو میرے نام سے کوئی منی آرڈر آئے اور نہ کوئی شخص میری بیٹھک میں گھسے، بس بہت لحاظ ہو چکا۔ بھلا غضب خدا کا، منی آرڈر بھی میرے نام سے منگواتا ہے لاٹ صاحب کا بچہ، اگر کبھی حکومت کو پتا چلا، تو جیل میں جائوں گا، میری شہرت کرکری ہو جائے گی… میں اس حرامزادے کا سر پھاڑ دوں گا… اس کی شکایت کر دوں گا میں… وہ کچھ اور کہنے والا تھا کہ اسے محسوس ہوا‘ اس کی بات یہاں کون سمجھے گا۔ وہ غصہ دبا کر نیچے چلا آیا۔ یہ بڑی عجیب بات ہوئی کہ آتے وقت زینے میں اُسے حسن کے بیان کو شرافت کی حدود میں رکھنے والے بے شمار الفاظ مل گئے۔ مگر اب یہ الفاظ قلم بند کرنا ممکن نہ تھا کیونکہ اس کی کرسی پر پٹواری صاحب بڑے حاکمانہ انداز میں بیٹھے تھے۔ سامنے کرسی پر ان کی اسامی دراز تھی جو دس روز سے مقامی ہوٹل میں ٹھہری ہوئی تھی۔ دونوں بوتلیں پی رہے تھے۔ ناول نویس اس وقت ٹہلنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ ٹہلنے سے خیالات بھٹک جاتے تھے۔

ابھی ابھی زینے اترتے وقت جو خوش نما خیالات پکڑ کر لایا تھا، وہ انھیں بکھرنے سے بچانے کے لیے ایک کرسی پر اکڑوں بیٹھ گیا۔ پٹواری صاحب نے اس کے ناول پر ایک نگاہ غلط انداز ڈالی پھر مسودہ اٹھا ساتھ والی میز پر یوں بے نیازانہ پھینک دیا جیسے یہ واہیات چیز ہمارے حضور کس لیے رکھی گئی؟ ناول نویس نے زمین پر گرے چند اوراق اٹھا باقی پلندے کے ساتھ بڑے پیار سے ہموار کیے اور بھائی کے لیے اپنی نفرت ظاہری معصومیت تلے دبا کر بیٹھ گیا۔

بوتل ختم کرنے کے بعد پٹواری صاحب نے اپنا صندوقچہ نکالا جس میں ہر نمونے اور رنگ کی سیاہیاں تھیں۔ مختلف نبوں کے قلم تھے اور سیاہی مٹانے والی سفیدی بھی۔ پہلے اس نے ایک ایک ورق خوب کھڑکھڑاتے ہوئے اسامی کی مسل آہستہ آہستہ کھولی۔ پھر مسل میں اصل کلیم فارم آنے پر زور سے ایک دو ہتڑ جمایا اور بولا ’’ابھی تیرا تیاپانچا کر دیا جائے گا۔‘‘ پھر سیاہی مٹانے والی شیشی میں سے موقلم نکالا اور کلیم فارم پر سے الفاظ اور ہندسوں میں لکھے ’’تین سو ایکڑ‘‘ سفیدے سے مٹانے لگا۔

ناول نویس کا جی چاہا بغاوت کر کے صاف صاف اعلان کر ڈالے کہ اس مقدس کرسی سے انسانی فلاح کے خیالات کی اشاعت ہوتی ہے۔ اس پر بیٹھ کر گناہ نہیں کیا جا سکتا۔ پٹواری نے سفیدہ خشک ہو جانے کے بعد اسامی کے اپنے ہاتھ سے کلیم فارم کی اصل سیاہی کے عین مطابق ’’تین ہزار ایکڑ‘‘ الفاظ میں لکھوائے اور ہندسوں میں بھی، پھر مسل بند کر دی۔ اسامی کا ہاتھ خودبخود اچکن کی جیب میں پہنچا۔ نوٹوں کا بنڈلپٹواری کو پیش کرتے ہوئے اس نے کہا ’’باقی رقم اس وقت جب تحریری پروانہ ملے گا۔‘‘

پٹواری نے وہ نوٹ ناول نویس کو تھماتے ہوئے کہا ’’والدہ کو دے دینا، اپنی طرف سے۔‘‘ ناول نویس نے نوٹ میز کے کونے پر رکھ اوپر اپنا رنگین پیپر ویٹ رکھ دیا۔ اسے معاً احساس ہوا کہ یہ پیپر ویٹ ناول کے اوپر رکھا جاتا ہے۔ اس نے شیشے کا گولہ وہاں سے ہٹا کر چھوٹی میز پہ اپنے ناول پر رکھ دیا۔ اسامی کے باہر نکلتے ہی پٹواری نے میز پر سے نوٹ اٹھائے اور بھائی کی ناک کے پاس لہرا کر بولا ’’تم دس برس سے کما رہے ہو، کیا کبھی اتنی رقم دیکھی؟ میں نے یہ دس منٹ میں کمائے ہیں۔‘‘

ناول نویس نے چھوٹے بھائی کی طرف دیکھتے ہوئے غصے اور نفرت کو مسکراہٹ میں چھپا لیا اور بولا ’’بھئی مجھے کیا دکھاتے ہو، خدا تمھیں اور دے۔‘‘ پٹواری نے برجستہ کہا ’’دعا جل کر نہ دو، دل سے دو۔‘‘ ناول نویس چڑ گیا‘ مگر فوراً بھائی کا روپ اختیار کر لیا، کہنے لگا ’’دیکھو، میں صرف ایک بات کہتا ہوں۔ یہ درست ہے کہ تمھارے پیشے کی روایت ہی یہ ہے کہ تمھیں بالائی آمدنی ہو، کمائو خوب کمائو، لیکن غریبوں کا کام جہاں تک ہو سکے، مفت کر دیا کرو، وہ بوڑھا شخص جو…‘‘ پٹواری بات کاٹتے ہوئے بولا ’’میں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے تھے یا میں اسے گھر سے بلا کر لایا تھا؟‘‘ ناول نویس بوڑھے پر ترس کھاتے ہوئے بولا ’’پھر بھی وہ بھولا آدمی ہے، سادہ ہے۔‘‘ پٹواری بولا ’’بھولا نہیں احمق اور جاہل ہے۔ جہالت کی اسے ضرور سزا ملنی چاہیے۔ اس بے وقوف کو پٹواری نے بہکا دیا۔ بھلا اس کی مسل کا لاہور میں کیا کام؟ مسل ہو گی تو اول گائوں میں پٹواری کے پاس ہو گی ورنہ زیادہ سے زیادہ تحصیل فیصل آباد میں۔ پٹواری خود کھانا چاہتا ہے۔ اسی نے چٹ جاری کی ہے۔ جان بوجھ کر اس نے باپ کا نام غلط لکھا۔ اب فصل کٹنے کا موقع آیا تو اسے دڑبڑا دیا اور یہ گدھا سیدھا یہاں چلا آیا۔‘‘
ناول نویس نے کہا ’’مگر تمھیں تو اسے سیدھا راستہ دکھانا چاہیے۔ اگر تم نے اس سے کچھ لیا ہے‘ تو وہ واپس کر دو۔‘‘

پٹواری بولا ’’تم بیٹھ کر اپنا ناول لکھو اور اگرایسے ہی رحم دل ہو‘ تو اپنی جیب سے ادا کر دو۔‘‘ پٹواری بیٹھک سے نکل ہی رہا تھا کہ بابا آ گیا۔ پٹواری نے اس سے کہا ’’بابا تیرا کام ہو گیا۔ آج چٹ ڈاک سے بھیج دی۔ تجھے ایک دو روز میں مل جائے گی‘ جا موج اُڑا۔ سیدھا پنڈ پہنچ جا نہیں تو چٹ گم ہو جائے گی۔‘‘ بابا بولا ’’بڑی بڑی مہربانی جی‘ بڑی بڑی مہربانی، خدا وند کریم تیرا رُتبہ اور بلند کرے۔‘‘ پٹواری دعائیں لے کر اوپر گیا، تو ناول نویس نے بابا کو اندر بیٹھک میں بلا کر کہا ’’بابا، ابھی تیرا کام نہیںہوا۔ یہ سخت جھوٹا آدمی ہے، اس کے دھوکے میں نہ آنا۔‘‘ ناول نویس پھر خود بھی بیٹھک بند کر میکلوڈ روڈ کا ایک چکر لگانے چلا گیا۔ بابا عشا کی نماز پڑھنے مسجد چلا آیا۔ نماز کے بعد جب سارے نمازی رخصت ہوئے‘ تو مسجد میں فقط دو آدمی رہ گئے، ایک موذن اور ایک وہ خود۔ موذن نے صفیں سمیٹ مسجد کے ایک گوشے میں رکھ دیں اور قمیص اتار پنکھا ذرا تیز کر کے روٹی کھانے بیٹھ گیا۔ محلے سے اللہ واسطے کے نام کی آئی ہوئی روٹیاں اس کے سامنے تھیں اور ایک بڑا تانبے کا بغیرقلعی پیالہ جس میں کوفتے، آلو گوشت، قیمہ، دال اڑو، دال مسور اور ترکاریاںمل جل کر عجب وضع کا سالن بن گئی تھیں۔ بابا پانچ گز پرے فرش پر لیٹا بار بار لالچی نظروں سے موذن کی طرف دیکھ رہا تھا۔ موذن بچے کھچے دانتوں سے روٹی چبانے کی کوشش کرتے ہوئے چپڑ چپڑ کرتے وقت آنکھیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھتا‘ تو اسے محسوس ہوتا کہ بس اب وہ کہنے ہی والا ہے ’’آئو بابا جی روٹی کھائو۔‘‘

اُسے اتنی شدید بھوک لگی ہوئی تھی کہ وہ موذن کے رسمی فقرے کا بری طرح انتظار کر رہا تھا۔ آدھ گھنٹے کی مسلسل کاوش کے بعد جب موذن سے ساری روٹیاں نہ کھائی جا سکیں، تو اس نے پیالہ اٹھایا اور سارا سالن منہ لگا کر پی گیا۔ باقی روٹیاں دسترخوان میں لپیٹ الماری میں رکھنے لگا، تو بابا نے کہنا چاہا، مولوی صاحب ایک روٹی مجھے دے دو، سخت بھوکا ہوں، مگر وہ کچھ بھی نہ کہہ سکا۔ موذن نے الماری کو تالا لگا کر تالاب کے پانی سے ہاتھ دھوئے، کچھ پانی اپنے سر پر ڈالا اور عین پنکھے کے نیچے آ کر لیٹ رہا۔ بابا اپنی جگہ سے اٹھا اور موذن کے قریب ہی پنکھے کے نیچے لیٹنے لگا، تو وہ فوراً بولا ’’یہاں مسافروں کو ٹھہرنے کی اجازت نہیں۔‘‘ بابا بولا ’’ہمارے گائوں میں کوئی مسافر آئے، تو ہم اسے مہمان سمجھ کر روٹی کھلاتے ہیں اور وہ مسجد میں سوتا بھی ہے۔‘‘

موذن نے برہم ہو کر کہا ’’یہ شہر ہے بابا، گائوں نہیں۔‘‘ بابا اٹھا اور پٹواری والے مکان کے سامنے بنی دکانوں کے تھڑے پر لیٹ گیا۔ قیامت کی گرمی پڑ رہی تھی۔ ہوا بالکل رکی ہوئی تھی۔ دن بھر کی تپتی زمین سے جھلسے بخارات نکل رہے تھے۔ وہ جلتے ہوئے تھڑے پہ لیٹا، کروٹیں بدلتا سوچ رہا تھا کہ چٹ ملتے ہی زمین پر اس کا قبضہ ہو جائے گا۔ یہ کھڑی فصل بھی اسے مل جائے گی۔ اسے قبضہ اور فصل ملنے کی اتنی خوشی نہیں تھی جتنا اس بات پہ فخر کہ وہ بھی زمین والا ہو جائے گا۔ زندگی بھر وہ تیرے میرے کی زمین جوتا رہا اور اب اس کے پاس زمین ہو گی۔ وہ کوشش کرے گا کہ اس کے مرنے کے بعد دونوں پوتروں میں زمین تقسیم نہ ہو بلکہ مل جل کر کاشت کریں، کھائیں کمائیں۔ شدید بھوک اور گرمی کے باوجود اس کے تصورات میں بس اپنا ہونے والا کھیت بسا ہوا تھا۔

پگڈنڈی پہ اونچی پلیا پر کھڑے ہوں تو سامنے شہتوت کے درخت تک اور دائیں ہاتھ رانا صاحب کے کنویں اور بائیں ہاتھ راجباہے تک! تھوڑی دیر بعد اسے کسی نے جگایا، کوئی اس سے سرگوشی میں کہہ رہا تھا ’’بابا! ابھی ترا کام نہیں ہوا، یہ سخت جھوٹا آدمی ہے۔ اس کے دھوکے میںنہ آنا۔‘‘ وہ ساری رات اسی طرح انگاروں پر لوٹتا رہا۔ دوسرے دن نماز فجر پڑھتے ہی وہ دیوسماج کے دروازے پر جا بیٹھا۔ رفتہ رفتہ اپنی اپنی زمینوں کے قضیے چکانے والوں کا ہجوم ہو گیا۔ دیوار کے ساتھ ساتھ بیسیوں عرضی نویس اپنے اپنے کام میں مصروف ہو گئے۔ وہ کبھی عرضی نویسوں کے پاس دیوار کا سہارا لے کر بیٹھتا، کبھی ہجوم میں غائب ہو جاتا۔ پٹواری باہر آتا تو لوگوں کی اوٹ میں ہو جاتا، وہ اس پر اپنی موجودگی ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ کیونکہ اس نے تو کل ہی کہہ دیا تھا کہ چٹ ڈاک سے بھیجی جا چکی۔ پھر بھی پٹواری کے بھائی کی بات سن کر وہ سچ اور جھوٹ میں سے ایک کی تصدیق چاہتا تھا۔ دفتر بند ہونے سے ایک گھنٹا پہلے ایک نیلی دھوتی والا پٹواری اس کے پاس آیا اور بولا ’’بابا پریشان کیوں ہے؟‘‘

بابا نے سارا ماجرا سنایا۔ ساتھ ہی وہ کاغذ بھی دکھایا جس پر کل والے پٹواری نے اپنے گھر کا پتا لکھا تھا۔ آج کا پٹواری بات کی تہ تک پہنچ گیا۔ وہ عرصے سے سفید قمیص پتلون والے پٹواری کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت فراہم کرنے کی فکر میں تھا۔ اس نے ایک عرضی نویس سے اس مفہوم کی درخواست لکھوائی کہ جناب تحصیل دار صاحب، آپ کے فلاں پٹواری نے مجھ غریب و نادار پردیسی پناہ گزین کے اتنے پیسے ہتھیا لیے ہیں۔ مہربانی کر کے اس کے خلاف کارروائی کی جائے اور میرے پیسے واپس دلائے جائیں۔ درخواست کے آخر میں اس نے بابا کا انگوٹھا لگوایا۔ پھر اسے اپنے ساتھ اندر لے جانے لگا تاکہ وہ تحصیل دار کی خدمت میں بہ نفس نفیس حاضر ہو کر درخواست پیش کر دے۔

بابا نے کہا ’’پٹواری جی میں ایسا نہیں کروں گا، شریعت میں ہے کہ آدمی کو تین مرتبہ مہلت دو۔ اگر اس نے کل تک میرا کام نہ کرایا یا پیسے واپس نہ دیے‘ تو میں حاضر ہو جائوں گا۔ میں بہت خراب آدمی ہوں، جھوٹے آدمی کو ننگا کر دیتا ہوں۔ میں اسے چھوڑوں گا نہیں، کل شکایت کروں گا۔‘‘ یہ کہہ کے اس نے درخواست تہ کر اپنی جیب میں رکھ لی۔ دفتر بند ہونے کے بعد وہ کافی دیر دیوسماج کے باہر بیٹھا رہا۔ سب لوگ چلے گئے، عرضی نویس بھی آہستہ آہستہ غائب ہو گئے۔ اس نے اپنے آپ سے کہا ’’اچھا بچہ، شام کو توگھر آئے گا ہی، وہاں پکڑوں گا۔‘‘ وہ چلچلاتی دھوپ میں ایک ایک موڑ پر لوگوں سے پتا پوچھتاگوالمنڈی کی اسی گلی میں پہنچ گیا۔ بہت دیر تک تھڑے پر بیٹھا رہا، جب دھوپ اس کی ٹانگوں تک آ گئی، تو وہ اٹھا اور مسجد چلا گیا۔ ابھی نماز عصر میں پندرہ منٹ باقی تھے۔

وہ پگڑی فرش پررکھ تالاب کے کنارے جا بیٹھا۔ پہلے اس نے اپنی ٹانگیں ٹھنڈی کیں، پھر سر کے بال بھگوئے۔ موذن اذان دینے منار پر چڑھا، تو اس نے وضو شروع کیا۔ ہاتھوں پر تین مرتبہ پانی ڈالنے کے بعد منہ صاف کیا، غرارے کیے۔ تیسری مرتبہ پانی منہ میں ڈالا، تو بجائے کلی کرنے کے نگل گیا۔ ٹھنڈے ٹھنڈے پانی نے سینہ تر کر دیا۔ پھر تو وہ دونوں ہاتھوں سے چلو بھر بھر کے غٹا غٹ پانی پینے لگا۔ طبیعت کچھ سنبھل رہی تھی۔ جب بالکل ہی گنجائش نہ رہی تو اس کی گردن آپ ہی آپ اوپر کو اٹھی۔ اس نے زور کی لمبی ڈکار لی، منہ میں پکوڑوں کا مزا آ گیا۔ بولا، ’’سبحان اللہ، سبحان اللہ‘ بھوک بھی کیسی عجیب شے ہے۔‘‘ پھر نئے سرے سے خوشی خوشی ہاتھ دھوئے اور وضو مکمل کیا۔

نماز پڑھ کر وہ ناول نویس کی بیٹھک کے آس پاس ٹہلنے لگا۔ اس وقت وہ بڑے غصے میں تھا۔ وہ جلد از جلد پٹواری کو پکڑ کر دو ٹوک فیصلہ چاہتا تھا۔ کبھی گلی کے موڑ پر دیکھتا، کبھی بیٹھک کی کھڑکی میں سے پٹواری کے بھائی کو گھورتا۔ ناول نویس اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر مشتعل تو نہ ہوا، مگر خیالات کی ڈوری اس کے ہاتھ سے نکل گئی۔ آج کے باب میں وہ ہیروئن کو پہلے عاشق کے ساتھ پہلی بار شہر کے معروف باغ میں لے گیا۔ رات ہو چکی تھی۔ سیروتفریح کے لیے آئے جوڑے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے خراماں خراماں باغ کے اندرونی اجاڑ حصے کی طرف جا رہے تھے۔ ہیرو نے اپناہاتھ ہیروئن کے کندھے پر رکھا ہی تھا کہ ناول نویس کو بابا کی شکل نظر آ گئی۔ اسے غصہ یوں نہیں آیا کہ اس وقت بابا کی شکل اسے اچھی لگی۔ وہ ہیرو اور ہیروئن کو اب ایک درخت کے نیچے بٹھانا چاہتا تھا۔ پھر ایسے رومانی جملے لکھتا کہ ناشر انھیں پسند کرے اور اس کا ضمیر بھی مطمئن رہے۔
اس نے ناول بند کر الماری میں رکھا۔ اوپر گیا۔ جلدی جلدی منہ ہاتھ دھو کر کپڑے تبدیل کیے اور نیچے اترا۔ بابا نے آگے بڑھ کر پوچھا ’’پٹواری صاحب کس وقت آئیں گے بابو جی۔‘‘

جواب دیا ’’بس آتے ہی ہوں گے۔‘‘ اس نے پھر غور سے بابا کی طرف دیکھا‘ تو اسے اپنے دل میں ہمدردی سی محسوس ہوئی۔ اس نے بیٹھک سے چھوٹی چارپائی نکال دیوار کے سائے میں بچھائی اور بولا ’’بابا لیٹو‘ بیٹھو‘ آرام کرو۔‘‘ بابا نے بے حد ممنویت کے ساتھ کہا ’’بڑی بڑی مہربانی جی، بڑی بڑی مہربانی۔‘‘ ناول نویس کو شدید جذبات سے بھرا جملہ سن کر عجیب و غریب خوشی محسوس ہوئی۔ وہ پھر میکلوڈ روڈ کے اس ہوٹل میں پہنچا جہاں شام کے وقت ہم عصر ادیب چائے پیتے تھے۔ ہوٹل پہنچا‘ تو حسب معمول ادیبوںکا دل پسند موضوع چھڑا ہوا تھا‘ یہی کہ ہمارے ملک میں بے حد غربت ہے، بھوک ہے، بیماری ہے، جہالت ہے۔ وہ خاموش بیٹھا ادیب بھائیوں کے پرجوش دلائل سنتا رہا۔ اقتصادی نظام میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ سرمایہ داروں سے ساری دولت چھین کر مزدورں اور کسانوں میں تقسیم کر دینی چاہیے۔ دولت کے وسائل کی مساوی تقسیم کے بغیر ملک میں خوش حالی نہیں آ سکتی۔ وغیرہ وغیرہ۔

اچانک اسے دورہ سا پڑا اور بجلی سی آنکھوں کے آگے کوند گئی۔ بابا کی بھولی بھالی صورت سے اس کا تصور عکس کھا کر ملک کے کھیتوں، جنگلوں اور پہاڑوں میں چلا گیا۔ دور دور تک پھیلے کھیتوں کے سلسلے اور ان میں کام کرتے لاکھوں مرد ‘ عورتیں اور بچے! اس نے جھرجھری لی اور اپنے آپ سے کہا ’’یہ کتنا اچھا ہو، اگر میری ہیروئن نرس بن کر جگہ جگہ دیہات میں پہنچے، تو وہ اقتصادی انقلاب کے بارے میں میرے خیالات کی علامت بن جائے گی۔ کھیتوں سے زیادہ پیداوار کم سے کم محنت میں حاصل کرنے کے لیے وہ میرے نظریات کی تبلیغ کرے۔‘‘

مگر اسے فوراً اپنی اس کمزوری کا احساس ہوا کہ آج تک اس نے کھیت نہیں دیکھے تھے۔ ایک سے دوسرے شہر جاتے وقت گاڑی کی کھڑکیوں میں سے تو کھیت نظر آتے لیکن سچ مچ کے جیتے جاگتے کھیتوں میں، جن کے اندر سے آدمی کا رزق نکلتا ہے، اس نے آج تک چل کر نہیں دیکھا تھا۔ اسے خیال آیا کہ بابا سے تعلق قائم کیا جائے۔ ’’دو چار دن اس کے گائوں رہنے سے میں دیہی زندگی کے مسائل کا مشاہدہ کر سکوں گا۔ اپنی آنکھوں سے دیکھوں گا کہ سوکھی مٹی دانہ گندم مل جانے سے گل و گلزار کس طرح ہوتی ہے۔ پھر ناول میں ہیروئن کی نصف زندگی دیہی شفا خانوں ہی میں بسر ہونی ہے۔‘‘

وہ بڑے بے ہنگم انداز میں اپنے ہم عصر ادیبوں سے ہاتھ ملا کر جلدی جلدی گھر واپس آیا۔ بابا سر کے نیچے پگڑی اور دونوں ہاتھوں کا تکیہ بنائے چار پائی پر لیٹا تھا۔ ناول نویس اس کے قریب گیا، تو بابا احتراماً اُٹھ کر بیٹھ گیا۔
بابا نے پوچھا ’’کیوں بابو جی، پٹواری صاحب کس وقت آئیں گے؟ رات ہو گئی ہے،اب تک تو آئے نہیں۔‘‘ ناول نویس بولا ’’اوہو مجھے یاد آیا بابا، وہ آج نہیں آئے گا۔ آج ہفتہ ہے۔ وہ ہفتے کی رات اپنے یار دوستوں کے ساتھ رہا کرتا ہے۔ کل صبح آئے گا۔‘‘ بابا بالکل مایوس ہو گیا ’’یہ تو بہت بری بات ہوئی۔ اب کیا ہو گا۔‘‘ ناول نویس نے ترس کھا کر پوچھا ’’میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائو۔‘‘

بابا تڑپ کر بولا ’’ظالمو، خدمت کیا ہونی ہے‘ مجھے روٹی تو کھلا دو، یہ شہر کیسا ہے، یہاں کے لوگ کیسے ہیں؟ دو دن سے بھوکا پھر رہا ہوں۔ تیرے بھائی نے میرا ایک ایک پیسا چھین لیا۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں اتنی بھوک نہیں اٹھائی۔ ساٹھ برس اپنے ہاتھ سے ہل چلایا ہے۔ اور دیکھ لے کہ میں دنیا کا سب سے غریب آدمی ہوں، پر مجھے دو وقت کی روٹی ہمیشہ ملتی رہی۔ دو دن میں کبھی بھوکا نہیں رہا۔ روٹی کا ٹکڑا تو کتے کو بھی دے دیتے ہیں۔‘‘

ناول نویس کو ایک دم جھٹکا لگا۔ وہ چکرا گیا اور پھر دوڑتا ہوا اوپر گیا۔ اجلے دستر خوان میں چھے روٹیاں رکھیں‘ اس خیال سے کہ دیہاتیوں کا پیٹ بڑا ہوتا ہے۔ پلیٹ میں سالن ڈلوایا۔ شیشے کے گلاس میں پانی لیا اور یہ سب چیزیں صاف ستھری ٹرے میں سجا کر نیچے اترنے لگا۔ زینے کے اندھیرے میں اسے محسوس ہوا کہ قدرت اپنا انتقام ترت لے لیتی ہے۔ کل جس شخص کو میں نے جانوروں کی طرح دھتکار دیا تھا، آج اسی کے لیے وہ کھانا لیے جا رہا تا۔ اور کھانا بھی کیا، رشوت کی کمائی سے خریدی ہوئی گندم اور سبزی ! ایک آنسو اس کی آنکھ سے ٹپکا اور اندھیرے میں کہیں گم ہو گیا۔

اس نے ٹرے بابا کے سامنے رکھی۔ بابا نے جلدی سے دستر خوان کھول کر اوپر کی روٹی اٹھائی۔ دستر خوان اسی طرح لپیٹا اور ٹرے ناول نویس کی طرف سرکا کر بولا ’’بس بابو جی، میں نے اپنی قسمت کا حصہ لے لیا۔‘‘ پھر ایک نوالہ توڑا اور پوپلے منہ میں گھلانے لگا۔ سامنے والے کھمبے کی روشنی میں ناول نویس نے اس کی آنکھوں میں کچھ تڑپتے ہوئے دیکھ کر محسوس کیا کہ وہ صدیوں سے بھوکا تھا۔ بابا نے دوسرا نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا ’’مجھے اس وقت روٹی نہ ملتی تو شاید صبح تک مر جاتا۔ بڑی سخت بھوک لگی تھی۔ اپنی زندگی میں اتنی بھوک نہیں دیکھی۔‘‘

ناول نویس نے سالن کی پلیٹ اس کے قریب کرتے ہوئے پیار کے ساتھ کہا ’’بابا، سالن سے کھائو۔‘‘ بابا نے پلیٹ اٹھا کر پھر ٹرے میں رکھ دی۔ ناول نویس نے اصرار کیا ’’لو نا بابا، تکلف نہ کرو، اسے اپنا گھر سمجھو۔‘‘ بابا بولا ’’نہ بابو تیرے سالن سے روٹی نہ کھائوں گا، اس میںتیرا نمک ہے۔ اگر میں نے یہ نمک کھا لیا، تو پھر میں اس گھر کے خلاف شکایت نہیں کر سکتا۔ روٹی کی بات اور ہے،یہ خدا کی دی ہوئی چیز ہے۔ میں نے مانگ کر کھا لی۔ سالن انسان کی بنائی چیز ہے۔ اور یہ میں بتا دوں بابو، تیرے بھائی کی شکایت ضرور کروں گا، چھوڑوں گا نہیں، اس نے مجھے ستایا ہے، میں اسے ستائوںگا۔‘‘

ناول نویس بالکل نئی دنیا میں داخل ہو رہا تھا… نئی بصیرت، نیا شعور جہاںانقلابی تبدیلی پیدا کرنی ہے، وہ کھیت یا جنگل نہیں، انسان کا دل ہے۔ روٹی کی اصل قیمت کا اسے علم ہوا۔ اس کے سارے نظریات خیالات بکھر گئے۔ آدھی رات تک وہ اوپر والے کوٹھے پر بے قراری سے ٹہلتا رہا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ میں اپنی کہانیوں میں ایسا کردار کبھی تخلیق نہیں کر سکتا جس میں اتنی عظمت ہو اور جب میں ایسا نہیں کر سکتا تو پھر کہانیاں لکھنے سے کیا فائدہ؟ روٹی تو میں کوئی اور پیشہ بھی اختیار کر کے کما سکتا ہوں جس میں محنت بھی کم اٹھانی پڑے گی۔ میں کہانی لکھنے کے سوا دنیا کا اور کوئی کام نہیں کر سکتا مگر روٹی کمانے کے لیے اپنے کرداروں کو پست سطح پر لے جانا حد درجہ کمینگی ہے۔ اگر میں ناول نویسی ترک بھی کر دوں تو پھر…
وہ اس قسم کی ذہنی کشمکش میں مبتلا تھا، نیچے بابا جمال اپنی چارپائی پر لیٹا کروٹیں بدل رہا تھا۔ گلی میں چار پانچ چارپائیاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بچھی ہوئی تھیں۔ چوکیدار تھوڑی تھوڑی دیر بعد لاٹھی ٹیکتا بابا کے قریب سے گزرتا اور گلی کے دوسرے کونے پر جا کر واپس لوٹتا۔ ہر بار اسے یوں محسوس ہوتا کہ بابا اسے روک کر کچھ کہنا چاہتا ہے۔ وہ آتا اور گزر جاتا۔ ایک دفعہ وہ قریب آ رہا تھا تو بابا اٹھا۔ اس نے پگڑی باندھی، پرانی جوتیاں پہنیں، چارپائی پٹواری کی دیوار کے ساتھ کھڑی کی اور جیب سے اس کی شکایت نکال کر پھاڑنے لگا۔

چوکیدار نے قریب آ کر پوچھا ’’بابا کیا بات ہے؟‘‘ بابا نے بڑی بے پروائی سے جواب دیا ’’کوئی بات نہیں۔‘‘ چوکیدار اپنا سا منہ لیے گلی کے دوسرے سرے تک بڑھتا چلا گیا۔ بابا شکایت کے ننھے ننھے پرزے کرتا رہا۔ واپسی پر چوکیدار اس کے برابر سے گزرا‘ تو بابا نے کہا ’’چوکیدار! یہ منجی پٹواری صاحب کی ہے، میں نے تجھے سونپی‘ صبح اس کو حفاظت سے دے دینا۔‘‘ پھر اس نے منہ اٹھا کر دروازے کو مخاطب کیا ’’اچھا پٹواری صاحب، ہم نے اپنا معاملہ خدا کو سونپا۔‘‘
یہ کہہ کر وہ گوالمنڈی سے نکل کر میو اسپتال کے چوک میں آ گیا۔ پھر تانگے والوں سے پتا پوچھتا بڈھے دریا کے پل پر نکل آیا۔ وہاں سے سیدھا راوی کے پل پر پہنچا۔ پھر شاہدرے کے موڑ پر چائے والے سے پوچھ کر فیصل آباد جانے والی سڑک پر ہو لیا۔ آہستہ آہستہ وہ بڑھتا گیا۔ چاروں طرف ہو کا سناٹا تھا۔ قیامت کی گرمی اور غضب کا اندھیرا تھا۔ سڑک کے دونوں طرف اونچے اونچے، کالے کالے درخت تھے۔ درختوں سے پرے دور دور تک کھیتوں اور باغوں کے سلسلے پھیلے تھے، نہریں اور جھیلیں تھیں۔ پہاڑ اور دریا تھے، قصبے اور بستیاں تھیں، مگر بابا کو اندھیرے میں کچھ بھی نظر نہ آ رہا تھا، سوائے اپنے ہونے والے کھیت کے!

ٹوبہ ٹیک سنگھ

بٹوارے کے دو تین سال بعد پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں کو خیال آیا کہ اخلاقی قیدیوں کی طرح پاگلوں کا تبادلہ بھی ہونا چاہئے یعنی جو مسلمان پاگل ، ہندوستان کے پاگل خانوں میں ہیں انہیں پاکستان پہنچا دیا جائے اور جو ہندو اور سکھ پاکستان کے پاگل خانوں میں ہیں انہیں ہندوستان کے حوالے کر دیا جائے .

معلوم نہیں یہ بات معقول تھی یا غیر معقول ، بہر حال دانش مندوں کے فیصلے کے مطابق ادھر ادھر اونچی سطح کی کانفرنسیں ہوئیں ، اور با‌لاخر ایک دن پاگلوں کے تبادلے کے لئے مقرّر ہو گیا۔ اچّھی طرح چھان بین کی گئی۔ وہ مسلمان پاگل جن کے لواحقین ہندوستان ہی میں تھے۔ وہیں رہنے دئے گئے تھے۔ جو باقی تھے ان کو سرحد پر روانہ کر دیا گیا۔ یہاں پاکستان میں چونکہ قریب قریب تمام ہندو سکھ جا چکے تھے۔ اس لئے کسی کو رکھنے رکھانے کا سوال ہی نہ پیدا ہوا۔ جتنے ہندو سکھ پاگل تھے۔ سب کے سب پولیس کی حفاظت میں بارڈر پر پہنچا دیے گئے

ادھر کا معلوم نہیں۔ لیکن ادھر لاہور کے پاگل خانے میں جب اس تبادلے کی خبر پہنچی تو بڑی دلچسپ چہ می گوئیاں ہونے لگیں۔ ایک مسلمان پاگل جو بارہ برس سے ہر روز با قاعدگی کے ساتھ ” زمیندار ” پڑھتا تھا اس سے جب اس کے ایک دوست نے پوچھا۔ ” مولبی ساب ، یہ پاکستان کیا ہوتا ہے “۔ تو اس نے بڑے غور و فکر کے بعد جواب دیا۔” ہندوستان میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں استرے بنتے ہیں “۔

یہ جواب سن کر اس کا دوست مطمئن ہو گیا .

اسی طرح ایک سکھ پاگل نے ایک دوسرے سکھ پاگل سے پوچھا۔” سردار جی ہمیں ہندوستان کیوں بھیجا جا رہا ہے ہمیں تو وہاں کی بولی نہیں آتی “۔

دوسرا مسکرایا۔ ” مجھے تو ہندوستوڑوں کی بولی آتی ہے ہندوستانی بڑے شیطانی آکڑ  آکڑ پھرتے ہیں “

ایک دن نہاتے نہاتے ایک مسلمان پاگل نے ” پاکستان زندہ باد ” کا نعرہ اس زور سے بلند کیا کہ فرش پر پھسل کر گرا اور

بیہوش ہو گیا۔

بعض پاگل ایسے بھی تھے جو پاگل نہیں تھے۔ ان میں اکثریت ایسے قاتلوں کی تھی جن کے رشتہ داروں نے افسروں کو دے دلا کر پاگل خانے بھجوا دیا تھا کہ پھانسی کے پھندے سے بچ جائیں۔ یہ کچھ کچھ سمجھتے تھے کہ ہندوستان کیوں تقسیم ہوا ہے اور یہ پاکستان کیا ہے۔ لیکن صحیح واقعات سے یہ بھی بے خبر تھے۔ اخباروں سے کچھ پتا نہیں چلتا تھا اور پہرہ دار سپاہی انپڑھ اور جاہل تھے۔ ان کی گفتگو سے بھی وہ کوئی نتیجہ برآمد نہیں کر سکتے تھے۔ ان کو صرف اتنا معلوم تھا کہ ایک آدمی محمّد علی جناح ہے جس کو قائدِ اعظم کہتے ہیں۔ اس نے مسلمانوں کے لئے ایک علیٰحدہ ملک بنایا ہے جس کا نام پاکستان ہے۔ یہ کہاں ہے ، اس کا محلِّ وقوع کیا ہے۔ اس کے متعلّق وہ کچھ نہیں جانتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پاگل خانے میں وہ سب پاگل جن کا دماغ پوری طرح ماؤف نہیں ہوا تھا اس مخمصے میں گرفتار تھے کہ وہ پاکستان میں ہیں یا ہندوستان میں۔ اگر ہندوستان میں ہیں تو پاکستان کہاں ہے۔ اگر وہ پاکستان میں ہیں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ عرصہ پہلے یہیں رہتے ہوئے بھی ہندوستان میں تھے۔

ایک پاگل تو پاکستان اور ہندوستان ، اور ہندوستان اور پاکستان کے چکّر میں کچھ ایسا گرفتار ہوا کہ اور زیادہ پاگل ہو گیا۔ جھاڑو دیتے دیتے ایک دن درخت پر چڑھ گیا اور ٹہنے پر بیٹھ کر دو گھنٹے مسلسل تقریر کرتا رہا جو پاکستان اور ہندوستان کے نازک مسئلے پر تھی۔ سپاہیوں نے اسے نیچے اترنے کو کہا تو وہ اور اوپر چڑھ گیا۔ ڈرایا دھمکایا گیا تو اس نے کہا ” میں ہندوستان میں رہنا چاہتا ہوں نہ پاکستان میں۔ میں اس درخت ہی پر رہوں گا “۔

بڑی مشکلوں کے بعد جب اس کا دورہ سرد پڑا تو وہ نیچے اترا اور اپنے ہندو سکھ دوستوں سے گلے مل مل کر رونے لگا۔ اس خیال سے اس کا دل بھر آیا تھا کہ وہ اسے چھوڑ کر ہندوستان چلے جائینگے۔

ایک ایم ایس سی پاس ریڈیو انجینئر جو مسلمان تھا اور دوسرے پاگلوں سے با‌لکل الگ تھلگ باغ کی ایک خاص روش پر سارا دن خاموش ٹہلتا رہتا تھا یہ تبدیلی نمودار ہوئی کہ اس نے تمام کپڑے اتار کر دفعدار کے حوالے کر دئے اور ننگ دھڑنگ سارے باغ میں چلنا پھرنا شروع کر دیا۔

چنیوٹ کے ایک موٹے مسلمان پاگل نے جو مسلم لیگ کا سر گرم کارکن رہ چکا تھا اور دن میں پندرہ سولہ مرتبہ نہایا کرتا تھا یک لخت یہ عادت ترک کر دی۔ اس کا نام محمّد علی تھا۔ چنانچہ اس نے ایک دن اپنے جنگلے میں اعلان کر دیا کہ وہ قائدِ اعظم محمّد علی جنّاح ہے۔ اس کی دیکھا دیکھی ایک سکھ پاگل ماسٹر تارا سنگھ بن گیا۔ قریب تھا کہ اس جنگلے میں خون خرابہ ہو جائے مگر دونوں کو خطرناک پاگل قرار دے کر علیحدہ علیٰحدہ بند کر دیا گیا۔

لاہور کا ایک نوجوان ہندو وکیل تھا جو محبّت میں نا کام ہو کر پاگل ہو گیا تھا۔ جب اس نے سنا کہ امرتسر ہندوستان میں چلا گیا ہے تو اسے بہت دکھ ہوا۔ اسی شہر کی ایک ہندو لڑکی سے اسے محبّت ہو گئی تھی۔ گو اس نے اس وکیل کو ٹھکرا دیا تھا مگر دیوانگی کی حالت میں بھی وہ اس کو نہیں بھولا تھا۔ چنانچہ ان تمام ہندو اور مسلم لیڈروں کو گالیاں دیتا تھا جنہوں نے مل ملا کر ہندوستان کے دو ٹکڑے کر دئے اس کی محبوبہ ہندوستانی بن گئی اور وہ پاکستانی۔

جب تبادلے کی بات شروع ہوئی تو وکیل کو کئی پاگلوں نے سمجھایا کہ وہ دل برا نہ کرے۔ اس کو ہندوستان بھیج دیا جائیگا۔ اس ہندوستان میں جہاں اس کی محبوبہ رہتی ہے۔ مگر وہ لاہور چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اس لئے کہ اس کا خیال تھا کہ امرتسر میں اس کی پریکٹس نہیں چلے گی۔

یوروپین وارڈ میں دو اینگلو انڈین پاگل تھے۔ ان کو جب معلوم ہوا کہ ہندوستان کو آزاد کر کے انگریز چلے گئے ہیں تو ان کو بہت صدمہ ہوا۔ وہ چھپ چھپ کر گھنٹوں آپس میں اس اہم مسئلے پر گفتگو کرتے رہتے کہ پاگل خانے میں ان کی حیثیت کس قسم کی ہو گی۔ یوروپین وارڈ رہیگا یا اڑا دیا جائیگا۔ بریک فاسٹ ملا کریگا یا نہیں۔ کیا انہیں ڈبل روٹی کے بجائے بلڈی انڈین چپاٹی تو زہر مار نہیں کرنا پڑے گی۔

ایک سکھ تھا جس کو پاگل خانے میں داخل ہوئے پندرہ برس ہو چکے تھے۔ ہر وقت اس کی زبان سے یہ عجیب و غریب الفاظ سننے میں آتے تھے۔ ” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی لالٹین”۔ دن کو سوتا تھا نہ رات کو۔ پہرہ داروں کا یہ کہنا تھا کہ پندرہ برس کے طویل عرصے میں وہ ایک لحظے کے لئے بھی نہیں سویا۔ لیٹتا بھی نہیں تھا۔ البتّہ کبھی کبھی کسی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لیتا تھا۔

ہر وقت کھڑے رہنے سے اس کے پاؤں سوج گئے تھے۔ پنڈلیاں بھی پھول گئی تھیں۔ مگر اس جسمانی تکلیف کے باوجود لیٹ کر آرام نہیں کرتا تھا۔ ہندوستان ، پاکستان اور پاگلوں کے تبادلے کے متعلّق جب کبھی پاگل خانے میں گفتگو ہوتی تھی تو وہ غور سے سنتا تھا۔ کوئی اس سے پوچھتا کہ اس کا کیا خیال ہے تو وہ بڑی سنجیدگی سے جواب دیتا۔” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی مونگ دی دال آف دی پاکستان گورنمنٹ “۔

لیکن بعد میں ” آف دی پاکستان گورنمنٹ ” کی جگہ ” آف دی ٹوبہ ٹیک سنگھ گورنمنٹ ” نے لے لی اور اس نے دوسرے پاگلوں سے پوچھنا شروع کیا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے جہاں کا وہ رہنے والا ہے۔ لیکن کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں۔ جو بتانے کی کوشش کرتے تھے وہ خود اس الجھاؤ میں گرفتار ہو جاتے تھے کہ سیالکوٹ پہلے ہندوستان میں ہوتا تھا پر اب سنا ہے کہ پاکستان میں ہے۔ کیا پتا ہے کہ لاہور جو اب پاکستان میں ہے کل ہندوستان میں چلا جائے۔ یا سارا ہندوستان ہی پاکستان بن جائے۔ اور یہ بھی کون سینے پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کسی دن سرے سے غیب ہی ہو جائیں۔

اس سکھ پاگل کے کیس چھدرے ہو کے بہت مختصر رہ گئے تھے۔ چونکہ بہت کم نہاتا تھا اس لئے ڈاڑھی اور سر کے بال آپس میں جم گئے تھے۔ جن کے باعث اس کی شکل بڑی بھیانک ہو گئی تھی۔ مگر آدمی بے ضرر تھا۔ پندرہ برسوں میں اس نے کبھی کسی سے جھگڑا فساد نہیں کیا تھا۔ پاگل خانے کے جو پرانے ملازم تھے وہ اس کے متعلّق اتنا جانتے تھے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اس کی کئی زمینیں تھیں۔ اچّھا کھاتا پیتا زمین دار تھا کہ اچانک دماغ الٹ گیا۔ اس کے رشتہ دار لوہے کی موٹی موٹی زنجیروں میں اسے باندھ کر لائے اور پاگل خانے میں داخل کرا گئے۔

مہینے میں ایک بار ملاقات کے لئے یہ لوگ آتے تھے اور اس کی خیر خیریت دریافت کر کے چلے جاتے تھے۔ ایک مدّت تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ پر جب پاکستان ، ہندستان کی گڑبڑ شروع ہوئی تو ان کا آنا بند ہو گیا۔

اس کا نام بشن سنگھ تھا مگر سب اسے ٹوبہ ٹیک سنگھ کہتے تھے۔ اس کو قطعاً معلوم نہیں تھا کہ دن کون سا ہے ، مہینہ کون سا ہے ، یا کتنے سال بیت چکے ہیں۔ لیکن ہر مہینے جب اس کے عزیز و اقارب اس سے ملنے کے لئے آتے تھے تو اسے اپنے آپ پتا چل جاتا تھا۔ چنانچہ وہ دفعدار سے کہتا کہ اس کی ملاقات آ رہی ہے۔ اس دن وہ اچّھی طرح نہاتا ، بدن پر خوب صابن گھستا اور سر میں تیل لگا کر کنگھا کرتا ، اپنے کپڑے جو وہ کبھی استعمال نہیں کرتا تھا نکلوا کے پہنتا اور یوں سج بن کر ملنے والوں کے پاس جاتا۔ وہ اس سے کچھ پوچھتے تو وہ خاموش رہتا یا کبھی کبھار ” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی مونگ دی دال آف دی لالٹین ” کہ دیتا۔

اس کی ایک لڑکی تھی جو ہر مہینے ایک انگلی بڑھتی بڑھتی پندرہ برسوں میں جوان ہو گئی تھی۔ بشن سنگھ اس کو پہچانتا ہی نہیں تھا۔ وہ بچّی تھی جب بھی اپنے باپ کو دیکھ کر روتی تھی ، جوان ہوئی تب بھی اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے تھے۔

پاکستان اور ہندوستان کا قصّہ شروع ہوا تو اس نے دوسرے پاگلوں سے پوچھنا شروع کیا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے۔ جب اطمینان بخش جواب نہ ملا تو اس کی کرید دن بدن بڑھتی گئی۔ اب ملاقات بھی نہیں آتی تھی۔ پہلے تو اسے اپنے آپ پتہ چل جاتا تھا کہ ملنے والے آ رہے ہیں ، پر اب جیسے اس کے دل کی آواز بھی بند ہو گئی تھی جو اسے ان کی آمد کی خبر دے دیا کرتی تھی۔

اس کی بڑی خواہش تھی کہ وہ لوگ آئیں جو اس سے ہم دردی کا اظہار کرتے تھے اور اس کے لئے پھل ، مٹھائیاں اور کپڑے لاتے تھے۔ وہ اگر ان سے پوچھتا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے تو وہ یقیناً اسے بتا دیتے کہ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں۔ کیونکہ اس کا خیال تھا کہ وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ہی سے آتے ہیں جہاں اس کی زمینیں ہیں۔

پاگل خانے میں ایک پاگل ایسا بھی تھا جو خود کو خدا کہتا تھا۔ اس سے جب ایک روز بشن سنگھ نے پوچھا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں ، تو اس نے حسبِ عادت قہقہہ لگایا اور کہا۔” وہ پاکستان میں ہے نہ ہندوستان میں۔ اس لئے کہ ہم نے ابھی تک حکم نہیں دیا “۔

بشن سنگھ نے اس خدا سے کئی مرتبہ بڑی منّت سماجت سے کہا کہ وہ حکم دے دے تاکہ جھنجھٹ ختم ہو مگر وہ بہت مصروف تھا اسلئے کہ اسے اور بے شمار حکم دینے تھے۔ ایک دن تنگ آ کر وہ اس پر برس پڑا۔ ” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف واہے گورو جی دا خالصہ اینڈ واہے گورو جی کی فتح جو بولے سو نہال ، ست سری اکال “۔

اس کا شاید یہ مطلب تھا کہ تم مسلمانوں کے خدا ہو سکھوں کے خدا ہوتے تو ضرور میری سنتے۔

تبادلے سے کچھ دن پہلے ٹوبہ ٹیک سنگھ کا ایک مسلمان جو اس کا دوست تھا ملاقات کے لئے آیا۔ پہلے وہ کبھی نہیں آیا تھا۔ جب بشن سنگھ نے اسے دیکھا تو ایک طرف ہٹ گیا اور واپس جانے لگا۔ مگر سپاہیوں نے اسے روکا۔ ” یہ تم سے ملنے آیا ہے تمہارا دوست فضل دین ہے “۔

بشن سنگھ نے فضل دین کو ایک نظر دیکھا اور کچھ بڑبڑانے لگا۔ فضل دین نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ” میں بہت دنوں سے سوچ رہا تھا کہ تم سے ملوں لیکن فرصت ہی نہ ملی تمہارے سب آدمی خیریت سے ہندوستان چلے گئے تھے مجھ سے جتنی مدد ہو سکی ، میں نے کی۔ تمہاری بیٹی روپ کور . . . . “

وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔ بشن سنگھ کچھ یاد کرنے لگا۔” بیٹی روپ کور “۔

فضل دین نے رک رک کر کہا۔ ” ہاں . . . . وہ . . . . وہ بھی ٹھیک ٹھاک ہے۔۔۔ان کے ساتھ ہی چلی گئی تھی “۔

بشن سنگھ خاموش رہا۔ فضل دین نے کہنا شروع کیا۔ ” انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ تمہاری خیر خیریت پوچھتا رہوں۔ اب میں نے سنا ہے کہ تم ہندوستان جا رہے ہو۔ بھائی بلبیسر سنگھ اور بھائی ودھاوا سنگھ سے میرا سلام کہنا-اور بہن امرت کور سے بھی . . . . بھائی بلبیسر سے کہنا۔ فضل دین راضی خوشی ہے۔ وہ بھوری بھینسیں جو وہ چھوڑ گئے تھے۔ ان میں سے ایک نے کٹّا دیا ہے۔ دوسری کے کٹّی ہوئی تھی پر وہ چھ دن کی ہو کے مر گئی . . . . اور . . . . میری لائق جو خدمت ہو ، کہنا ، میں ہر وقت تیار ہوں . . . . اور یہ تمہارے لئے تھوڑے سے مرونڈے لایا ہوں “۔

بشن سنگھ نے مرونڈوں کی پوٹلی لے کر پاس کھڑے سپاہی کے حوالے کر دی اور فضل دین سے پوچھا۔ “ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے ؟ “۔

فضل دین نے قدرے حیرت سے کہا۔ ” کہاں ہے ؟ وہیں ہے جہاں تھا “۔

بشن سنگھ نے پھر پوچھا۔ ” پاکستان میں یا ہندوستان میں ؟ “

” ہندوستان میں نہیں پاکستان میں “۔ فضل دین بوکھلا سا گیا۔

بشن سنگھ بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔ ” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی آف دی پاکستان اینڈ ہندوستان آف دی دور فٹے منہ ! ،،

تبادلے کے تیاریاں مکمّل ہو چکی تھیں۔ ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر آنے والے پاگلوں کی فہرستیں پہنچ گئی تھیں اور تبادلے کا دن بھی مقرّر ہو چکا تھا۔

سخت سردیاں تھیں جب لاہور کے پاگل خانے سے ہندو سکھ پاگلوں سے بھری ہوئی لاریاں پولیس کے محافظ دستے کے ساتھ روانہ ہوئیں۔ متعلّقہ افسر بھی ہمراہ تھے۔ واہگہ کے بورڈر پر طرفین کے سپرنٹندنٹ ایک دوسرے سے ملے اور ابتدائی کاروائی ختم ہونے کے بعد تبادلہ شروع ہو گیا جو رات بھر جاری رہا۔

پاگلوں کو لاریوں سے نکالنا اور دوسرے افسروں کے حوالے کرنا بڑا کٹھن کام تھا۔ بعض تو باہر نکلتے ہی نہیں تھے۔ جو نکلنے پر رضا مند ہوتے تھے۔ ان کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا تھا۔ کیونکہ ادھر ادھر بھاگ اٹھتے تھے ، جو ننگے تھے ان کو کپڑے پہنائے جاتے تو وہ پھاڑ کر اپنے تن سے جدا کر دیتے۔کوئی گالیاں بک رہا ہے۔ کوئی گا رہا ہے۔ آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ رو رہے ہیں ، بلک رہے ہیں۔ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ پاگل عورتوں کا شور و غوغا الگ تھا اور سردی اتنی کڑاکے کی تھی کہ دانت سے دانت بج رہے تھے۔

پاگلوں کی اکثریت اس تبادلے کے حق میں نہیں تھی۔ اسلئے کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ انہیں اپنی جگہ سے اکھاڑ کر کہاں پھینکا جا رہا ہے۔ وہ چند جو کچھ سوچ سمجھ سکتے تھے ” پاکستان زندہ باد ” اور ” پاکستان مردہ باد ” کے نعرے لگا رہے تھے۔ دو تین مرتبہ فساد ہوتے ہوتے بچا ، کیونکہ بعض مسلمانوں اور سکھوں کو یہ نعرے سن کر طیش آ گیا تھا۔

جب بشن سنگھ کی باری آئی اور واہگہ کے اس پار متعلّقہ افسر اس کا نام رجسٹر میں درج کرنے لگا تو اس نے پوچھا۔ ” ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے ؟ پاکستان میں یا ہندوستان میں ؟

متعلّقہ افسر ہنسا۔ ” پاکستان میں “۔

یہ سن کر بشن سنگھ اچھل کر ایک طرف ہٹا اور دوڑ کر اپنے باقی ماندہ ساتھیوں کے پاس پہنچ گیا۔ پاکستانی سپاہیوں نے اسے پکڑ لیا اور دوسری طرف لے جانے لگے ، مگر اس نے چلنے سے انکار کر دیا۔ “ٹوبہ ٹیک سنگھ یہاں ہے ” اور زور زور سے چلّانے لگا۔ ” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف ٹوبہ ٹیک سنگھ اینڈ پاکستان “۔

اسے بہت سمجھایا گیا کہ دیکھو اب ٹوبہ ٹیک سنگھ ہندوستان میں چلا گیا ہے۔اگر نہیں گیا تو اسے فوراً وہاں بھیج دیا جائیگا۔ مگر وہ نہ مانا۔ جب اس کو زبردستی دوسری طرف لے جانے کی کوشش کی گئی تو وہ درمیان میں ایک جگہ اس انداز میں اپن سوجی ہوئی ٹانگوں پر کھڑا ہو گیا جیسے اب اسے کوئی طاقت وہاں سے نہیں ہلا سکے گی۔

آدمی چونکہ بے ضرر تھا اس لئے اس سے مزید زبردستی نہ کی گئی ، اس کو وہیں کھڑا رہنے دیا گیا اور تبادلے کا باقی کام

ہوتا رہا۔

سورج نکلنے سے پہلے ساکت و صامت بشن سنگھ کے حلق سے ایک فلک شگاف چیخ نکلی۔ ادھر ادھر سے کئی افسر دوڑے آئے اور دیکھا کہ وہ آدمی جو پندرہ برس تک دن رات اپنی ٹانگوں پر کھڑا رہا ، اوندھے منہ لیٹا ہے۔ ادھر خاردار تاروں کے پیچھے ہندوستان تھا ادھر ویسے ہی تاروں کے پیچھے پاکستان۔ درمیان میں زمین کے اس ٹکڑے پر جس کا کوئی نام نہیں تھا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ پڑا تھا۔

کفن

جھونپڑے کے دروازے پر باپ اور بیٹا دونوں ایک بجھے ہوئے الاؤ کے سامنے خاموش بیٹھے ہوئے تھے ۔ اور اندر بیٹے کی نوجوان بیوی بدھیا دردِ زہ سے پچھاڑیں کھا رہی تھی ۔ اور رہ رہ کر اس کے منہ سے ایسی دل خراش صدا نکلتی تھی کہ دونوں کلیجہ تھام لیتے تھے _ جاڑوں کی رات تھی ، فضا سنّاٹے میں غرق۔ سارا گاؤں تاریکی میں جذب ہو گیا تھا ۔
گھیسو نے کہا ، ” معلوم ہوتا ہے بچے گی نہیں ۔ سارا دن تڑپتے ہو گیا ۔ جا ، دیکھ تو آ۔”
مادھو دردناک لہجے میں بولا ، ” مرنا ہی ہے تو جلدی مر کیوں نہیں جاتی ۔ دیکھ کر کیا کروں ”
” تو بڑا بیدرد ہے بے ۔ سال بھر جس کے ساتھ جندگانی کا سکھ بھوگا اسی کے ساتھ اتنی بیوپھائی ۔”
” تو مجھ سے تو اس کا تڑپنا اور ہاتھ پاؤں پٹکنا نہیں دیکھا جاتا ۔”
چماروں کا کنبہ تھا اور سارے گاؤں میں بدنام ۔ گھیسو اک دن کام کرتا تو تین دن آرام ۔ مادھو اتنا کام چور تھا کہ گھنٹہ بھر کام کرتا تو گھنٹے بھر چلم پیتا ۔ اسلئے انہیں کوئی رکھتا ہی نہ تھا ۔ گھر میں مٹّھی بھر اناج بھی موجود ہو تو ان کے لیے کام کرنے کی قسم تھی ۔ جب دو ایک فاقے ہو جاتے تو گھیسو درختوں پر چڑھ کر لکڑیاں توڑ لاتا اور مادھو بازار سے بیچ لاتا ۔ اور جب تک وہ پیسے رہتے دونوں ادھر ادھر مارے مارے پھرتے ۔ جب فاقے کی نوبت آ جاتی تو پھر لکڑیاں توڑتے ، یا کوئی مزدوری تلاش کرتے ۔ گاؤں میں کام کی کمی نہ تھی _ کاشتکاروں کا گاؤں تھا ۔ محنتی آدمی کے لئے پچاس کام تھے _ مگر ان دونوں کو لوگ اسی وقت بلاتے جب دو آدمیوں سے ایک کا کام پا کر بھی قناعت کر لینے کے سوا اور کوئی چارہ نہ ہوتا ۔
کاش دونوں سادھو ہوتے تو انہیں قناعت اور توکّل کے لئے ضبطِ نفس کی مطلق ضرورت نہ ہوتی ۔ یہ ان کی خلقی صفت تھی ۔ عجیب زندگی تھی ان کی ۔ گھر میں مٹّی کے دو چار برتنوں کے سوا کوئی اثاثہ نہیں ۔ پھٹے چیتھڑوں سے اپنی عریانی ڈھانکے ہوئے ، دنیا کی فکروں سے آزاد ۔ قرض سے لدے ہوئے ۔ گالیاں بھی کھاتے ، مار بھی کھاتے ، مگر کوئی غم نہیں ۔ مسکین اتنے کہ وصولی کی مطلق امّید نہ ہونے پر بھی لوگ انہیں کچھ نہ کچھ قرض دے دیتے تھے ۔ مٹر یا آلو کی فصل میں کھیتوں سے مٹر یا آلو اکھاڑ لاتے اور بھون بھون کر کھا لیتے ۔ یا دس پانچ اوکھ توڑ لاتے اور رات کو چوستے ۔ گھیسو نے اسی زاہدانہ انداز سے ساٹھ سال کی عمر کاٹ دی ۔ اور مادھو بھی سعادتمند بیٹے کی طرح باپ کے نقشِ قدم پر چل رہا تھا ۔ بلکہ اس کا نام اور بھی روشن کر رہا تھا۔ اس وقت بھی دونوں الاؤ کے سامنے بیٹھے آلو بھون رہے تھے جو کسی کے کھیت سے کھود لائے تھے ۔ گھیسو کی بیوی کا تو مدّت ہوئی انتقال ہو گیا تھا ۔ مادھو کی شادی پچھلے سال ہوئی تھی ۔ جب سے یہ عورت آئی تھی اس نے اس خاندان میں تمدّن کی بنیاد ڈالی تھی ۔ پسائی کر کے ، گھاس چھیل کر ، وہ سیر بھر آٹے کا انتظام کر لیتی تھی ۔ اور ان دونوں بے غیرتوں کا دوزخ بھرتی رہتی تھی ۔ جب سے وہ آئی یہ دونوں اور بھی آرام طلب اور آلسی ہو گئے تھے۔ بلکہ کچھ اکڑنے بھی لگے تھے ۔ کوئی کام کرنے کو بلاتا تو بے نیازی کی شان سے دوگنی مزدوری مانگتے ۔ وہی عورت آج صبح سے دردِ زہ سے مر رہی تھی ۔ اور یہ دونوں شاید اسی انتظار میں تھے کہ وہ مر جائے تو آرام سے سوئیں ۔
گھیسو نے آلو نکال کر چھیلتے ہوئے کہا ، ” جا کر دیکھ تو کیا حالت ہے اس کی ۔ چڑیل کا پھساد ہوگا اور کیا ۔ یہاں تو اوجھا بھی ایک روپیہ مانگتا ہے ۔کس کے گھر سے آئے ۔”

مادھو کو اندیشہ تھا کہ وہ کوٹھری میں گیا تو گھیسو آلوؤں کا بڑا حصّہ صاف کر دیگا ۔ بولا ، ” مجھے وہاں ڈر لگتا ہے ۔،،

” ڈر کس بات کا ہے ۔ میں تو یہاں ہوں ہی ۔،،

” تو تمہیں جا کر دیکھو نہ ۔”

” میری عورت جب مری تھی تو میں تین دن اس کے پاس سے ہلا بھی نہیں _ اور پھر مجھ سے لجائیگی کہ نہیں ۔ کبھی اس کا منہ نہیں دیکھا ، آج اس کا اگھڑا ہوا بدن دیکھوں ! اسے تن کی سدھ بھی تو نہ ہوگی _ مجھے دیکھ لیگی تو کھل کر ہاتھ پاؤں بھی نہ پٹک سکےگی _”

” میں سوچتا ہوں کوئی بال بچّہ ہو گیا تو کیا ہوگا _ سونٹھ ، گڑ ، تیل ، کچھ بھی تو نہیں ہے گھر میں ۔،،

” سب کچھ آ جائیگا ۔ بھگوان بچّہ دیں تو ۔ جو لوگ ابھی ایک پیسہ نہیں دے رہے ہیں وہی تب بلا کر دینگے ۔ میرے نو لڑکے ہوئے ۔ گھر میں کبھی کچھ نہ تھا۔ مگر اسی طرح ہر بار کام چل گیا۔”
جس سماج میں رات دن محنت کرنے والوں کی حالت ان کی حالت سے کچھ بہت اچّھی نہ تھی ، اور کسانوں کے مقابلے میں وہ لوگ جو کسانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا جانتے تھے ، کہیں زیادہ فارغ البال تھے ، وہاں اس قسم کی ذہنیت کا پیدا ہو جانا کوئی تعجّب کی بات نہ تھی _ ہم تو کہینگے گھیسو کسانوں کے مقابلے میں زیادہ باریک بین تھا _ اور کسانوں کی تہی دماغ جمعیت میں شامل ہونے کے بدلے شاطروں کی فتنہ پرداز جماعت میں شامل ہو گیا تھا _ ہاں اس میں یہ صلاحیت نہ تھی کہ شاطروں کے آئین و آداب کی پابندی بھی کرتا _ اسلئے جہاں اس کی جماعت کے اور لوگ گاؤں کے سرغنہ اور مکھیا بنے ہوئے تھے ، اس پر سارا گاؤں انگشت نمائی کرتا تھا _ پھر بھی اسے یہ تسکین تو تھی ہی کہ اگر وہ خستہ حال ہے تو کم سے کم اسے کسانوں کی سی جگر توڑ محنت تو نہیں کرنی پڑتی _ اور اس کی سادگی اور بے زبانی سے دوسرے بے جا فائدہ تو نہیں اٹھاتے _
دونوں آلو نکال نکال کر جلتے جلتے کھانے لگے ۔ کل سے کچھ نہیں کھایا تھا ۔ اتنا صبر نہ تھا کہ انہیں ٹھنڈا ہو جانے دیں ۔ کئی بار دونوں کی زبانیں جل گئیں ۔ چھل جانے پر آلو کا بیرونی حصّہ تو بہت زیادہ گرم نہ معلوم ہوتا ۔ لیکن دانتوں کے تلے پڑتے ہی اندر کا حصّہ زبان اور حلق اور تالو کو جلا دیتا تھا ۔ اور اس انگارے کو منہ میں رکھنے سے زیادہ خیریت اسی میں تھی کہ وہ اندر پہنچ جائے _ وہاں اسے ٹھنڈا کرنے کے لئے کافی سامان تھے ۔ اسلئے دونوں جلد جلد نگل جاتے ۔ حالانکہ اس کوشش میں ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آتے۔
گھیسو کو اس وقت ٹھاکر کی برات یاد آئی جس میں بیس سال پہلے وہ گیا تھا ۔ اس دعوت میں اسے جو سیری نصیب ہوئی تھی وہ اس کی زندگی میں ایک یادگار واقعہ تھی ۔ اور آج بھی اس کی یاد تازہ تھی ۔ بولا ، ” وہ بھوج نہیں بھولتا ۔ تب سے پھر اس طرح کا کھانا اور بھر پیٹ نہیں ملا ۔ لڑکی والوں نے سب کو پوڑیاں کھلائی تھیں سب کو ۔ چھوٹے بڑے ، سب نے پوڑیاں کھائیں ، اور اصلی گھی کی ۔ چٹنی ، رائتہ ، تین طرح کے سوکھے ساگ ۔ ایک رسیدار ترکاری ، دہی ، چٹنی ، مٹھائی ۔ اب کیا بتاؤں کہ اس بھوج میں کتنا سواد ملا ۔ کوئی روک نہیں تھی ۔ جو چیز چاہو مانگو ۔ اور جتنا چاہو کھاؤ ۔ لوگوں نے ایسا کھایا ، ایسا کھایا ، کہ کسی سے پانی نہ پیا گیا ۔ مگر پروسنے ولے ہیں کہ سامنے گرم گرم ، گول گول ، مہکتی ہوئی کچوریاں ڈالے دیتے ہیں ۔ منع کرتے ہیں کہ نہیں چاہئے _ پتّل کو ہاتھ سے روکے ہوئے ہیں ۔ مگر وہ ہیں کہ دئے جاتے ہیں ۔ اور جب سب نے منہ دھو لیا تو ایک ایک بیڑا پان بھی ملا۔ مگر مجھے پان لینے کی کہاں سدھ تھی ۔ کھڑا نہ ہوا جاتا تھا۔ چٹ پٹ جا کر اپنے کمبل پر لیٹ گیا ۔ ایسا دریا دل تھا وہ ٹھاکر ۔”

مادھو نے ان تکلّفات کا مزہ لیتے ہوئے کہا ، "اب ہمیں کوئی ایسا بھوج کھلاتا ۔”
” اب کوئی کیا کھلائیگا ، وہ جمانا دوسرا تھا _ اب تو سب کو کپھایت سوجھتی ہے ۔ سادی میں مت کھرچ کرو _ کریا کرم میں مت کھرچ کرو ۔ پوچھو گریبوں کا مال بٹور بٹور کر کہاں رکھوگے ! بٹورنے میں تو کمی نہیں ہے ۔ ہاں کھرچ میں کپھایت سوجھتی ہے ۔”
” تم نے ایک بیس پوڑیاں کھائی ہونگی ! ”
” بیس سے جیادہ کھائی تھیں ۔،،
” میں پچاس کھا جاتا۔”
” پچاس سے کم میں نے بھی نہ کھائی ہونگی _ اچّا پٹّھا تھا _ تو اس کا آدھا بھی نہیں ہے ۔”
آلو کھا کر دونوں نے پانی پیا اور وہیں الاؤ کے سامنے اپنی دھوتیاں اوڑھ کر ، پاؤں پیٹ میں ڈالے سو رہے ، جیسے دو بڑے بڑے اژدر گینڈلیاں مارے پڑے ہوں ۔
اور بدھیا ابھی تک کراہ رہی تھی
صبح کو مادھو نے کوٹھری میں جا کر دیکھا تو اس کی بیوی ٹھنڈی ہو گئی تھی ۔ اس کے منہ پر مکّھیاں بھنک رہی تھیں ۔ پتھرائی ہوئی آنکھیں اوپر ٹنگی ہوئی تھیں۔ سارا جسم خاک میں لت پت تھا۔ اس کے پیٹ میں بچّہ مر گیا تھا۔
مادھو بھاگا ہوا گھیسو کے پاس آیا _ پھر دونوں زور زور سے ہائے ہائے کرنے اور چھاتی پیٹنے لگے _ پڑوس والوں نے یہ آہ و زاری سنی تو دوڑے ہوئے آئے اور رسمِ قدیم کے مطابق غم زدوں کی تشفّی کرنے لگے ۔
مگر زیادہ رونے دھونے کا موقعہ نہ تھا _ کفن کی اور لکڑی کی فکر کرنی تھی ۔ گھر میں تو پیسہ اسی طرح غائب تھا جیسے چیل کے گھونسلے میں ماس۔
باپ بیٹے روتے ہوئے گاؤں کے زمیندار کے پاس گئے _ وہ ان دونوں کی صورت سے نفرت کرتے تھے ۔ کئی بار انہیں اپنے ہاتھوں پیٹ چکے تھے ، چوری کی علّت میں ، وعدہ پر کام پر نہ آنے کی علّت میں _ پوچھا ، ” کیا ہے بے گھسوا ۔ روتا کیوں ہے ۔ اب تو تیری صورت ہی نہیں نظر آتی۔ اب معلوم ہوتا ہے تم اس گاؤں میں رہنا نہیں چاہتے ۔”
گھسو نے زمین پر سر رکھ کر آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے کہا ، ” سرکار بڑی بپت میں ہوں _ مادھو کی گھر والی رت گجر گئی ۔ دن بھر تڑپتی رہی سرکار ۔ آدھی رات تک ہم دونوں اس کے سرہانے بیٹھے رہے ۔ دوا دارو جو کچھ ہو سکا سب کیا ۔ مگر وہ ہمیں دگا دے گئی ۔ اب کوئی ایک روٹی دینے والا نہیں رہا ۔ مالک ، تباہ ہو گئے ۔ گھر اجڑ گیا۔ آپ کا گلام ہوں ۔ اب آپ کے سوا اس کی مٹّی کون پار لگائیگا۔ ہمارے ہاتھ میں تو جو کچھ تھا وہ سب دوا دارو میں اٹھ گیا ۔ سرکار ہی کی دیا ہوگی تو اس کی مٹّی اٹھیگی۔ آپ کے سوا اور کس کے دوار پر جائیں ۔ ”
زمیندار صاحب رحم دل آدمی تھے ۔ مگر گھیسو پر رحم کرنا کالے کمبل پر رنگ چڑھانا تھا۔ جی میں تو آیا کہہ دیں ، ” چل ، دور ہو یہاں سے۔ لاش گھر میں رکھ کر سڑا۔ یوں تو بلانے سے بھی نہیں آتا ۔ آج جب غرض پڑی تو آ کر خوشامد کر رہا ہے ۔ حرام خور کہیں کا ۔ بدمعاش۔ ” مگر یہ غصّہ یا انتقام کا موقعہ نہ تھا۔ طوعاً و کرہاً دو روپئے نکال کر پھینک دئے ۔ مگر تشفّی کا ایک کلمہ بھی منہ سے نہ نکالا ۔ اس کی طرف تاکا تک نہیں۔ گویا سر کا بوجھ اتارا ہو۔
جب زمیندار صاحب نے دو روپیہ دیے تو گاؤں کے بنئے مہاجنوں کو انکار کی جرائت کیونکر ہوتی۔ گھیسو زمیندار کے نام کا ڈھنڈھورا پیٹنا جانتا تھا۔ کسی نے دو آنے دئے ، کسی نے چار آنے ۔ ایک گھنٹہ میں گھیسو کے پاس پانچ روپئے کی معقول رقم جمع ہو گئی ۔ کسی نے غلّہ دے دیا ، کسی نے لکڑی ۔ اور دوپہر کو گھیسو اور مادھو بازار سے کفن لانے چلے۔ ادھر لوگ بانس وانس کاٹنے لگے ۔
گاؤں کی رقیق القلب عورتیں آ آ کر لاش کو دیکھتی تھیں ، اور اس کی بے بسی پر دو بوند آنسو گرا کر چلی جاتی تھیں۔
بازار میں پہنچ کر گھیسو بولا ، ” لکڑی تو اسے جلانے بھر کو مل گئی ہے ، کیوں مادھو۔ ”
مادھو بولا ، ” ہاں لکڑی تو بہت ہے ۔ اب کپھن چاہئے۔”
” تو کوئی ہلکا سا کپھن لے لیں۔”
” ہاں اور کیا ۔ لاش اٹھتے اٹھتے رات ہو جائیگی ۔ رات کو کپھن کون دیکھتا ہے۔”
” کیسا برا رواج ہے کہ جسے جیتے جی تن ڈھانکنے کو چیتھڑا بھی نہ ملے اسے مرنے پر نیا کپھن چاہئے۔ ”
” کپھن لاس کے ساتھ جل ہی تو جاتا ہے۔”
” اور کیا رکھا رہتا ہے۔ یہی پانچ روپیہ ملتے تو کچھ دوا دارو کرتے۔”
دونوں ایک دوسرے کے دل کا ماجرا معنوی طور پر سمجھ رہے تھے۔ بازار میں ادھر ادھر گھومتے رہے۔ کبھی اس بجاج کی دوکان پر گئے کبھی اس کی دوکان پر _ طرح طرح کے کپڑے ، ریشمی اور سوتی ، دیکھے ، مگر کچھ جچتا نہیں ۔ یہاں تک کہ شام ہو گئی ۔ دونوں اتّفاق سے یا عمداً ایک شراب خانے کے سامنے آ پہنچے ۔ اور گویا کسی طے شدہ فیصلے کے مطابق اندر گئے ۔ وہاں ذرا دیر تک دونوں تذبذب کی حالت میں کھڑے رہے ۔ پھر گھیسو نے گَدّی کے سامنے جا کر کہا ، ” ساہو جی ایک بوتل ہمیں بھی دینا۔ ” پھر گھیسو نے ایک بوتل شراب لی ، کچھ گزک۔ اس کے بعد کچھ چکھونہ آیا، تلی ہوئی مچھلی آئی۔ اور دونوں برآمدے میں بیٹھ کر شراب پینے لگے ۔
کئی کجّیاں پیہم پینے کے بعد دونوں سرور میں آ گئے ۔
گھیسو بولا ، ” کپھن لگانے سے کیا ملتا۔ آکھر جل ہی تو جاتا۔ کچھ بہو کے ساتھ تو نہ جاتا۔”
مادھو آسمان ک طرف دیکھ کر بولا ، گویا فرشتوں کو اپنی معصومیت کا یقین دلا رہا ہو ، ” دنیا کا دستور ہے ۔ یہی لوگ بامہنوں کو ہجاروں رپئے کیوں دے دیتے ہیں۔ کون دیکھتا ہے پرلوک میں ملتا ہے یا نہیں ۔”
” بڑے آدمیوں کے پاس دھن ہے، پھونکیں۔ ہمارے پاس پھونکنے کو کیا ہے ۔ ”
” لیکن لوگوں کو جواب کیا دوگے ! لوگ پوچھینگے نہیں ، کپھن کہاں ہے ! ”
گھیسو ہنسا ۔ ” کہہ دینگے روپئے کمر سے کھسک گئے ۔ بہت ڈھونڈا ، ملے نہیں ۔ لوگوں کو وشواس نہ آئیگا ، لیکن پھر وہی روپیہ دینگے۔”
مادھو بھی ہنسا ، اس غیر متوقّع خوش نصیبی پر ، قدرت کو اس طرح شکست دینے پر ۔ بولا ، ” بڑی اچّھی تھی ، بچاری ۔ مری بھی تو خوب کھلا پلا کر۔”
آدھی بوتل سے زیادہ ختم ہو گئی _ گھیسو نے دو سیر پوڑیاں منگوائیں ، گوشت اور سالن ۔ اور چٹپٹی کلیجیاں اور تلی ہوئی مچھلیاں ۔ شراب خانے کے سامنے ہی دوکان تھی ۔ مادھو لپک کر دو پتّلوں میں ساری چیزیں لے آیا ۔ پورے ڈیڑھ روپئے خرچ ہو گئے۔ صرف تھوڑے سے پیسے بچ رہے۔
دونوں اس وقت اس شان سے بیٹھے ہوئے پوڑیاں کھا رہے تھے جیسے جنگل میں کوئی شیر اپنا شکار اڑا رہا ہو ۔ نہ جواب دہی کا خوف تھا ، نہ بدنامی کی فکر۔ ضعف کے ان مراحل کو انہوننے بہت پہلے طے کر لیا تھا ۔ گھیسو فلسفیانہ انداز سے بولا ، ” ہماری آتما پرسنّ ہو رہی ہے تو کیا اسے پنّ نہ ہوگا ؟ ”
مادھو نے فرقِ عقیدت جھکا کر تصدیق کی _ ” جرور اسے جرور ہوگا ۔ بھگوان ، تم انترجامی ( علیم ) ہو ۔ اسے بیکنٹھ لے جانا۔ ہم دونوں ہردے سے اسے دعا دے رہے ہیں۔ آج جو بھوجن ملا وہ کبھی عمر بھر نہ ملا تھا۔”
ایک لمحہ کے بعد مادھو کے دل میں ایک تشویش پیدا ہوئی ۔ بولا ، ” کیوں دادا ، ہم لوگ بھی تو وہاں ایک نہ ایک دن جائینگے ہی۔”
گھیسو نے اس طفلانہ سوال کا جواب نہ دیا ۔مادھو کی طرف پر ملامت انداز سے دیکھا۔ وہ پرلوک کی باتیں سوچ کر اس آنند میں بادھا نہ ڈالنا چاہتا تھا۔
” جو وہاں ہم لوگوں سے وہ پوچے کہ تم نے ہمیں کپھن کیوں نہیں دیا تو کیا کہوگے ؟ ”
” کہینگے تمہارا سر۔”
” پوچھیگی تو جرور۔”
” تو کیسے جانتا ہے اسے کپھن نہ ملیگا ؟ تو مجھے ایسا گدھا سمجھتا ہے ! میں ساٹھ سال دنیا میں کیا گھاس کھودتا رہا ہوں ۔ اس کو کپھن ملیگا اور بہت اچّھا ملیگا ۔اس سے بہت اچّھا ملیگا جو ہم دیتے”
مادھو کو یقین نہ آیا ۔ بولا ، ” کون دیگا ؟ روپئے تو تم نے چٹ کر دئے۔”
گھیسو تیز ہو گیا۔ ” میں کہتا ہوں اسے کپھن ملیگا۔ تو مانتا کیوں نہیں ؟”
” کون دیگا ، بتاتے کیوں نہیں ؟ وہ تو مجھ سے پوچھیگی۔ اس کی مانگ میں تو سندور میں نے ڈالا تھا۔”
” وہی لوگ دینگے جنہوں نے اب کی دیا۔ ہاں وہ روپئے ہمارے ہاتھ نہ آئینگے ۔اور اگر کسی طرح آ جائیں تو پھر ہم اسی طرح یہاں بیٹھے پیّنگے ۔ اور کپھن تیسری بار ملیگا ۔ ”
جیوں جیوں اندھیرا بڑھتا تھا اور ستاروں کی چمک تیز ہوتی تھی ، مے خانہ کی رونق بھی بڑھتی جاتی تھی _ کوئی گاتا تھا ، کوئی بہکتا تھا _ کوئی اپنے رفیق کے گلے لپٹا جاتا تھا ، کوئی اپنے دوست کے منہ میں ساغر لگائے دیتا تھا۔ وہاں کی فضا میں سرور تھا۔ ہوا میں نشہ ۔ کتنے تو چلّو میں الّو ہو جاتے ہیں ۔ یہاں آتے تھے صرف خود فراموشی کا مزہ لینے کے لئے ۔ شراب سے زیادہ یہاں کی ہوا سے مسرور ہوتے تھے ۔ زیست کی بلا یہاں کھینچ لاتی تھی ۔ اور کچھ دیر کے لئے وہ بھول جاتے تھے کہ وہ زندہ ہیں ، یا مردہ ہیں ، یا زندہ در گور ہیں۔
اور یہ دونوں باپ بیٹے اب بھی مزے لے لے کر چسکیاں لے رہے تھے ۔ سب کی نگاہیں ان کی طرف جمی ہوئی تھیں۔ کتنے خوش نصیب ہیں دونوں۔ پوری بوتل بیچ میں ہے ۔
کھانے سے فارغ ہو کر مادھو نے بچی ہوئی پوڑیوں کا پتّل اٹھا کر ایک بھکاری کو دے دیا جو کھڑا ان کی طرف گرسنہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ اور دینے کے غرور اور مسرّت اور ولولہ کا اپنی زندگی میں پہلی بار احساس کیا۔
گھیسو نے کہا ، ” لے جا ۔ کھوب کھا اور اسیرباد دے ۔ جس کی کمائی ہے وہ تو مر گئی ، مگر تیرا اسیرباد اسے جرور پہنچ جائیگا ۔ روئیں روئیں سے اسیرباد دے ۔ بڑی گاڑھی کمائی کے پیسے ہیں۔”
مادھو نے پھر آسمان کی طرف دیکھ کر کہا ، ” بیکنٹھ میں جائیگی دادا ۔ بیکنٹھ کی رانی بنیگی”
گھیسو کھڑا ہو گیا اور جیسے مسرّت کی لہروں میں تیرتا ہوا بولا ، ” ہاں بیٹا ، بیکنٹھ میں جائیگی ۔ کسی کو ستایا نہیں۔ کسی کو دبایا نہیں۔ مرتے مرتے ہماری جندگی کی سب سے بڑی لالسا پوری کر گئی۔ وہ نہ بیکنٹھ میں جائیگی تو کیا یہ موٹے موٹے لوگ جائینگے جو گریبوں کو دونوں ہاتھ سے لوٹتے ہیں ، اور اپنے پاپ کو دھونے کے لئے گنگا میں نہاتے ہیں اور مندر میں جل چڑھاتے ہیں۔”
یہ خوش اعتقادی کا رنگ بھی بدلا۔ تلوّن نشے کی خاصیت ہے ۔ یاس اور غم کا دورہ ہوا۔
مادھو بولا ، ” مگر دادا بچاری نے جندگی میں بڑا دکھ بھوگا۔ مری بھی کتنا دکھ جھیل کر۔ ” وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر رونے لگا ۔چیخیں مار مار کر۔
گھیسو نے سمجھایا ، ” کیوں روتا ہے بیٹا۔ کھس ہو کہ وہ مایا جال سے مکت ہو گئی۔ جنجال سے چھوٹ گئی ۔ بڑی بھاگوان تھی جو اتنی جلد مایا موہ کے بندھن توڑ دئے ۔”
اور دونوں وہیں کھڑے ہو کر گانے لگی۔
ٹھگنی کیوں نیناں جھمکاوے ۔ ٹھگنی۔
سارا مے خانہ محوِ تماشا تھا اور یہ دونوں مے کش محویت کے عالم میں گائے جاتے تھے ۔ پھر دونوں ناچنے لگے۔ اچھلے بھی ، کودے بھی ، گرے بھی ، مٹکے بھی ۔ بھاؤ بھی بتائے ،ابھینے بھی کئیے ، اور آخر نشے سے بدمست ہو کر وہیں گر پڑے ۔