انمول

امی امی میری جرابیں کدهر ہیں ؟؟؟؟
ہارون الماری سے سارے کپڑے زمین پہ پهینکتے ہوے چلا رہا تها …
دیتی ہوں بیٹا بس آی ماں نے پراٹها توے سے اتارے ہوے کہا اور دوڑی آیی…
یہ لو ! یہاں رکهی تهی سایڈ ٹیبل پہ ساری الماری خراب کر دی ماں نے جرابیں اٹها کے دیتے ہوے کہا
اچها جلدی کریں ناشتہ رکهیں دیر ہو رہی هے …ہارون تیز لہجے میں بولا….
لگا دیا هے نا صبح اٹهتے ہو نہیں وقت پہ ماں نے ٹیبل پہ ناشتہ رکها اور کچن میں جا کے بڑ بڑانے لگی …..شادی کرو اب جلدی میری بوڑهی ہڈیوں میں اب اتنا دم نہیں هے ….کوی لڑکی جو تمہیں پسند آ جاے …کوی ماں کا خیال هے …کل کلاں کو مر گئ تو روتے پهرو گے……..مسز ہمدانی دوسال سے روزانہ ہارون کو یہ لیکچر دیتی اور اس کی وجہ یہ تهی کہ کوی لڑکی اس کو پسند نہیں آتی تهی …دو بیٹیاں اور تهیں جو اپنے گهر کی ہو گئ تهیں مسسز ہمدانی چاہتی تهی کہ بہو آ جاے اور وہ بهی سکهہ کا سانس لیں ….لیکن ہارون صاحب تهے کہ کوی لڑکی ان کے معیار پہ پوری نا اترتی تهی..
آچها نا امی اب صبح صبح ایسی باتیں تو نا کریں میری اچهی امی اللہ اپ کو للللمبی عمر دے آمین …ہارون نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال کے پیار سے کہا
اچها اچها اب مسکے نا لگا اتنا تو ماں کا ہمدرد ……ماں نے بظاہر غصہ دکهاتے ہوے کہا
اچها امی چلتا ہوں دیر ہو رہی هے اللہ حافظ ہارون گاڑی کی چابیاں سنبهالتے ہوے باہر نکل گیا.
………………. . ………..
کمپنی کی طرف سے تین روزہ سیمینار تها جس میں ملک بهر سے مختلف لوگ سیمینار اٹینڈ کرنے آے ہوے تهے…
زبردست مقررین تهے معلومات سے بهر پور سیمینار کی خاص بات ‘ سوالوں و جواب کے سیشن میں ہارون کے ٹیبل کے ساتهہ کے ٹیبل میں موجود لڑکی کے سوالات تهے……….اس لڑکی کا اعتماد ‘ انداز ‘ اور آواز میں عجیب سا سحر تها …….سوال ایسا اٹهاتی کے پہلے تو بندہ سٹپٹا جاتا اور اس وقت تک سوال کرتی جب تک نکتہ اس پہ واضح نا ہو جاتا….بڑی بڑی سرمئ حیا دار آنکهوں ‘ سرخ و سفید رنگت دوپٹے سے اچهی طرح سر کو ڈهانپے ہوے وہ پر اعتماد لڑکی ہارون کے دل میں اتر گئ تهی……..اس سے بات کرنے کا خواہشمند تها لیکن سیمینار کے اختتام سے پہلے ہی ہارون کو جانا پڑ گیا …..
لیکن رات دیر تک وہ اس حسینہ کے خیالوں میں کهویا رہا …..کیا یہ ممکن هے کہ میں اسے اپنی زندگی میں شامل کر لوں ..کیوں ممکن نہیں …..اللہ کرے اس کی کہیں بات وات پکی نا ہوی ہو …..پتہ نہیں ہارون کو کیا سوجی کہ رات دو بجے وضو کر کے دو نفل ادا کیے اور اللہ کے سامنے التجا کرنے لگا …
” اللہ جی اپ کو تو پتہ ہی هے میری والدہ محترمہ آے دن میری کلاس لیتی ہیں…..انہیں بهی تو اب آرام چاہیے اب اتنی مشکلوں سے تو مجهے کوی لڑکی پسند آی هے ہر لحاظ سے پرفیکٹ ….اللہ جی پلیز پلیز اسے میری شریک حیات بنا دیجے …اگر اس کی منگنی ونگنی بهی ہوی هے تو تڑوا دیجیے گا پلیز پلیز میرے پیارے اللہ !!!! ہارون نے ملتجای نگاہوں کے ساتهہ چهت کی طرف دیکها جیسے اللہ سے مخاطب ہو …
اور پهر سکون سے سو گیا خلاف توقع اگلی صبح خود ہی اٹهہ گیا…..اور وقت پہ تیار بهی ہو گیا ..ہارون کے چہرے کی بشاشت دیکهہ کے مسسز ہمدانی کافی حیران تهی…..زمانہ ساز عورت تهی یہ سوچ کے خوش ہو گئ کہ شاید برخودار عنقریب کوی خوشخبری سنا دیں …
……………….. ..
ہارون نے رات ٹهان لیا تها کہ آج ممکن ہوا تو ان محترمہ کے بارے میں معلومات اکهٹی کریں گے..
ہال میں یہ دیکهہ کہ ان کی خوشی دو چند ہو گی کہ محترمہ جس ٹیبل پر تهی وہاں ایک سیٹ خالی تهی ..فورا سے برا جمان ہو گیے اور وقت ضایع کیے بناء ہی اپنا تعارف بهی کرا دیا ….
جس کے جواب میں ایسی مدهم معصوم مسکراہٹ کا سامنا کرنا پڑا کہ دل تهام کے رہ گیے…..
اپنے بارے میں بتایے نا کچهہ ہارون نے سوالیہ نگاہوں سے محترمہ کے چہرے کی طرف دیکهتے ہوے کہا..
انمول ریاض ….انمول ریاض نام هے میرا …انمول نے اپنا مکمل تعارف دیا تو ہارون کے دل کی کلی کهل اٹهی ….اس کی پسند تو بہت اعلی تهی ….ہر لحاظ سے پرفیکٹ …باتوں باتوں میں وہ یہ بهی جان چکا تها کہ انمول ابهی تک کسی سے منسوب نہیں …
اعلی تعلیم یافتہ ….خوب صورت اواز و انداز اور پاکیزہ صورت ..قاتل مسکراہٹ والی انمول واقعی میں انمول ہیرا تهی…..
لیکن مسلہ یہ تها کہ ہارون اپنے دل کی بات لبوں پر کیسے لاے….بے چینی سے کرسی پہ پہلو بدلتا ہارون بات کرنا ہی چاہتا تها کہ گهر سے امی کی کال آ گئ …ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئ تهی ….ہارون کو سب کچهہ چهوڑ چهاڑ گهر آنا پڑا….
…………………….
شکر هے امی آپ کی طبیعت سنبهل گئ …صبح ہارون نے خود ہی چاے بنای بریڈ پہ مکهن لگا کے امی کو بهی ناشتہ دیا اور خود بهی کیا ……آج تیسرا اور آخری دن تها…..اج وہ پختہ عزم کر کے آیا تها کہ انمول سے اپنے دل کی بات کرے گا اور ایک ماہ کے اندر بیاہ کے لے آے گا …میرے گهر کو اور مجهے ایسی ہی پر اعتماد ..سگهڑ …باشعور باتمیز اور خوب صورت خوب سیرت لڑکی کی ضرورت هے…
تیسرا اور آخری دن بهر پور تها اور انمول کے سوالات نے چار چاند لگا دیے تهے ہر ایک اس پر اعتماد اور ذہین لڑکی کو رشک کی نگاہ سے دیکهہ رہا تها…
ہارون تو انمول کے عشق میں اس بری طرح مبتلا ہو چکا تها کہ دو ہی دن میں اسے انمول کی طرف اٹهتی نگاہوں سے حسد ہونے لگا…..گویا میرے محبوب کو میرے سوا کوی نا دیکهے والا حال تها…
موقع پا کر ہارون انمول کے ٹیبل پہ جا بیٹها سلام دعا کے بعد گهبراتے ہوے اپنے دل کی بات انمول کو کہہ سنای ….تو حیران رہ گیا کہ انمول نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پر اعتماد لہجے میں کہا
ہارون صاحب …میں آپ کے جذبے کی قدر کرتی ہوں لیکن اپ کو مجهہ عشق ہو گیا هے اور میرے بناء آپ رہ نہیں سکتے یہ میں نہیں مان سکتی..
آپ میرا یقین کریں میں نے جب سے آپ کو دیکها هے آپ کو سنا هے تب سے ہر سانس کے ساتهہ اللہ سے اپ کو مانگ رہا ہوں …..میری امی بہت اچهی ہیں اگر آپ کے گهر میں کوی مسلہ هے تو وہ انہیں منا لیں گی…
نہیں میرے گهر میں کوی مسلہ نہیں ….لیکن شاید آپ میرا ساتهہ نا دے سکیں زندگی کا سفر پگڈنڈیوں اور کٹهن راہوں سے ہو کر گزرتا هے ….لیکن کچهہ لوگوں کے حصے میں کٹهن راہیں زیادہ آتی ہیں ہر کوی ان راہوں پہ ساتهہ نہیں چل پاتے ..
میں اپ کے ساتهہ چلوں گا ہر کٹهن راہ پہ آپ مجهے پلیز آزما کر تو دیکهیں ….ہارون قریب تها کہ رو پڑے
ہارون صاحب وقت بہت بڑا استاد هے …..بڑی بڑی باتیں کرنے والوں کو آزمانے کا وقت بہت جلد آ جایا کرتا هے …پهر بهاگیے گا مت
میں بهاگنے والوں میں سے نہیں ہوں ….آپ میرا اعتبار تو کیجیے ایک بار ہاں کہہ دیجے آپ مجهے ثابت قدم پایں گی….
انمول پہلی بار کهلکهلا کے ہنسی تهی …… اور اس کی یہ ہنسی اس کی مسکراہٹ سے بهی زیادہ دلفریب تهی …
ہارون کو لگا اس کی دعایں کام آ گی ہیں ….انمول خاموش تهی زیرلب مسکراہٹ تهی
ہارون کی خوشی کا کوی ٹهکانہ نہیں تها اس کا دل کر رہا تها کہ وہ اڑ کے امی کے پاس پہنچ جاے اور انہیں ان کی ہونے والی بہو سے ملواے…
تو پهر آپ چلیں گی نا میرے ساتهہ میری امی سے ملنے ….ہارون نے محبت سے انمول کے چہرے کو دیکهتے ہوے سوال کیا
جی چلوں گی….انمول کے چہرے پہ مسکراہٹ تهی
ہارون کی خوشی کا کوی ٹهکانہ نا تها خوشی اس کے انگ انگ سے پهوٹ رہی تهی ..
چلیں پهر چلتے ہیں سچ میں اپ میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہیں میں بہت خوش ہوں کہ اپ جیسی پیاری سیرت کی باشعور لڑکی میری زندگی کا حصہ بننے جا رہی هے …الفاظ نہیں مل رہے کہ شکریہ ادا کر سکوں
انمول جواب میں صرف مسکرا رہی تهی اس کے گالوں کی شفق میں اضافہ ہو گیا تها اس کی بڑی بڑی سرمئ آنکهیں جهکی تهی…..
چلیں انمول پهر دیر ہو رہی هے ہارون کرسی سے اٹهہ کهڑا ہوا
جی اچها یہ کہتے ہوے انمول نے ہال کے کونے میں بیٹهے ہوے اپنے ملازم کی طرف دیکها
ہارون خوشی اور مسرت سے دروازے سے باہر نکلا
انمول ….اپ کو پتا هے…..یہ کہتے ہوے ہارون نے اپنے دایں طرف دیکها انمول نا تهی بایں طرف دیکها انمول وہاں بهی نہیں تهی….گهبرا کے پلٹ کے دیکها …..تو ساکت ہو گیا..
انمول ویل چیر پہ تهیں…….مسکراہٹ ابهی بهی انمول کے چہرے پہ تهی
ہارون اپنی گاڑی کے پاس ششدر کهڑا تها ….دل و دماغ میں طوفان برپا تها زبان کنگ تهی
ہارون صاحب ..مجهے اپ کی گاڑی میں بیٹهنا هے یا اپنی گاڑی میں پلیز بتا دیجے ؟؟؟ انمول کے چہرے پہ وہی مسکراہٹ سجی تهی
ہہہہہم..جی….. جی….وہ….میں…….آپ …..معذور ….ہیں ……….؟؟؟
جی شاید نارمل لوگ تو ٹانگوں پہ چل کے یہاں تک آتے ہیں نا ؟؟؟ انمول نے شاید گہرا طنز کیا تها لیکن لب مسکرا رہے تهے
انمول ……میں …..وہ……آپ …..مجهے معاف کر دیں گی نا…..بد دعا تو نہیں دیں گی نا…. اصل …میں …میں لیکن زبان ہارون کا ساتهہ نہیں دے رہی تهی اور الفاظ گم ہو گیے تهے….اس کی شریک حیات ڈس ایبل ہو اس کا تو اس نے تصور بهی نا کیا تها …..میں بہت کمزور ہوں ….میں….اپ …ہارون نے کار کا دروازہ کهولا …گاڑی میں بیٹها اور تیزی سے گاڑی آگے بڑها دی ….اسے اس کے سوا کچهہ نہیں سجهای دے رہا تها کہ وہ بهاگ جاے….
ہارون کو جاتا دیکهہ کے انمول مسکرای ….چلو خادم حسین دیر ہو رہی هے ….خادم حسین نے وہیل چیر سامنے کهڑی کار کی طرف موڑ دی ………
ہارون کے کہے تمام الفاظ انمول کے دل و دماغ پہ ضرب لگانے لگے ..آس ٹوٹی تو…….جن آنسووں کو وہ مسکراہٹ کے پردے میں چهپاے ہوے تهی دل کے درد سے بے قرار ہو کہ وہ گوہر نایاب گالوں پر بہہ نکلے …..

او نیگیٹو

آج صبح اچانک ہی آنکھ کھل گئی ۔ وقت دیکھا تو ابھی رات کے ساڑھے تین بجے تھے۔ حیرت سی ہوئی کہ ایسے کبھی پہلے نہیں ہوا۔ ہمیشہ موبائل کے الارم بجنے سے آنکھ کھلتی تھی۔ دوبارہ سونے کی کوشش کی لیکن نیند کوسوں دور بھاگ گئی۔ ایسے ہی سوچنے لگا ۔ اتنی جلدی آنکھ کھلنے کا سسب کیا ہے؟ کیا خواب میں کچھ ایسا دیکھ لیا۔ ذہن پہ زور دینے پر بھی کوئی خواب یا خواب سے متعلقہ کوئی منظر ذہن میں نہ آیا۔ بس الجھن سی ہونے لگی۔

کروٹ پہ کروٹ لیتا رہا نہ نیند آئی نہ بے چینی اور الجھن ختم ہوئی ۔ اتنے میں اذان کی آواز آئی ۔ سوچا جاگ تو رہا ہوں نماز پڑھ لوں۔ پلنک سے اٹھا اور جوتے پہن کر واش روم گیا ۔ وضو کرکے باہر نکلا تو بیگم بھی جاگتی نظر آئی۔

اس نے حیرت، غصے اور الجھن بھری نظروں سے مجھے دیکھا
میں نے جان بوجھ کر نظر انداز کیا اور کمرے سے باہر نکلنے لگا تو پیچھے سے بیگم نے پوچھا

کہاں چلے
نماز کے لئے مسجد جا رہا ہوں۔
میں نے پلٹ کر جواب دیا۔
اور اسے حیرت اور الجھن میں ہی چھوڑ کر باہر آگیا۔

جب میں مسجد سے نماز پڑھ کر باہر نکلا تو محلے کے ایک صاحب نے سلام کیا اور حال احوال پوچھا ۔

میں نے اپنی خیریت سے آگاہ کرنے کے بعد اخلاقا اس سے خیریت دریافت کی تو اس نے بتا یا کہ اس کی بیگم پچھلے کئی دن سے ہسپتا ل میں داخل ہیں اور ڈاکٹر نے آپریشن کی تاریخ دی ہوئی ہے لیکن اس کی بیگم کے خون کا گروپ او نیگیٹو ہے ۔ جو کہ ایک کم باب گروپ ہے۔ ڈاکٹر ز نے کہا ہے کہ آپ کم از کم چھ بوتل او نیگیٹو گروپ کا انتظام کرلیں۔ ورنہ آپریشن مقررہ تاریخ کو نہ ہو سکے گا۔ اس نے اپنی سی پوری کوشش کر لی لیکن انتظام نہ ہو سکا۔ ہسپتال انتظامیہ نے کہا کہ وہ دو بوتل اس گروپ کے خون کی دے سکتے ہیں لیکن اس کے لئے اسے آٹھ بوتل کسی دوسرے گروپ کے خون کی دینی ہوں گی۔

وہ اسی پریشانی میں تھا اور اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے ۔
مجھے چند سال پہلے کا ایک منظر یا د آگیا۔
میں بھی اسی کی طرح پریشان ایک مشہور ہسپتال کے سامنے کھڑا اور تقریبا اسی طرح کی پریشانی سے دوچار تھا۔ تب ایک نوجوان نے مجھے سلام کیا اور کہا

سر آپ یہاں ؟ خیریت تو ہے۔
میں نے اسے جب بتایا کہ میری والدہ اسی ہسپتال میں ہیں اور انہیں فوری طور پر خون کی ضرورت ہے تو اس نوجوان نے میں مجھے کہا
اگرتو ایک بوتل چاہیے تو میں ابھی حاضر ہوں سر ورنہ مجھے صرف ایک گھنٹہ دیں ۔ میں اپنے سب دوستوں کو بلا لیتاہوں۔

میں نے اس دن پہلی بار ایک فرشتے کو انسانی شکل میں دیکھا تھا۔
مجھے سوچوں میں گم دیکھ کر وہ صاحب بولے
لگتا ہے آپ خود کسی پریشانی میں ہیں
نہیں نہیں۔ الحمدللہ ایسی بات نہیں ۔
آپ صرف یہ بتائیں کہ آپ کی بیگم کس ہسپتال میں ہیں۔ وارڈ اور بیڈ نمبر کیا ہے ۔
آپ کے لئے خون کا انتظام ہو جائے گا۔
وہ ایک دم سے جھٹکا کھا کر رک گیا۔
سچ کہ رہے ہیں آپ ؟
میں نے اسے مکمل تفصیل سے بتا یا کہ میں اس کے لئے کیسے خون کا انتظام کر سکتا ہوں اور یہ کا م میرے لئے کوئی مشکل نہیں ۔ تو اس کی آنکھیں بے اختیار نم ہو گئیں۔
اور اس نے ایک مجھے گلے لگا لیا۔
اور کہا
قسم کھا کر کہ رہاہوں ۔ میں نے آج زندگی میں پہلی بار ایک فرشتے کو انسانی شکل میں دیکھا ہے۔
میں چپ تھا ۔ لیکن مجھے صبح سویرے آنکھ کھلنے کی وجہ سمجھ میں آگئی

حویلی کا راز

نواب راحت سعید خان چھتاری 1940ء کی دہائی میں ہندوستان کے صوبے اتر پردیش کے گورنر رہے ہیں۔ انگریز حکومت نے انہیں یہ اہم عہدہ اس لیئے عطا کیا کہ وہ مسلم لیگ اور کانگریس کی سیاست سے لا تعلق رہ کر انگریزوں کی وفاداری کا دم بھرتے تھے۔ نواب چھتاری اپنی یاداشتیں لکھتے ہوئے انکشاف کرتے ہیں کہ ایک بار انہیں سرکاری ڈیوٹی پر لندن بلایا گیا۔ ان کے ایک پکے انگریز دوست نے جو ہندوستان میں کلکٹر رہ چکا تھا، نواب صاحب سے کہا "آیئے! آپ کو ایک ایسی جگہ کی سیر کراوں جہاں میرے خیال میں آج تک کوئی ہندوستانی نہیں گیا۔” نواب صاحب خوش ہو گئے، انگریز کلکٹر نے پھر نواب صاحب سے پاسپورٹ مانگا کہ وہ جگہ دیکھنے کے لیے حکومت سے تحریری اجازت لینی ضروری تھی، دو روز بعد کلکٹر اجازت نامہ ساتھ لے آیا اور کہا” ہم کل صبح چلیں گے، لیکن میری موٹر میں، سرکاری موٹر وہاں لے جانے کی اجازت نہیں”۔ اگلی صبح نواب صاحب اور وہ انگریز منزل کی طرف روانہ ہوئے۔ شہر سے باہر نکل کر بائیں طرف جنگل شروع ہو گیا۔ جنگل میں ایک پتلی سڑک موجود تھی، جوں جوں چلتے گئے، جنگل گھنا ہوتا گیا۔ سڑک کے دونوں جانب نہ کوئی ٹریفک تھا نہ کوئی پیدل مسافر! نواب صاحب حیران بیٹھے اِدھر اْدھر دیکھ رہے تھے۔ موٹر چلتے چلتے آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت گزر گیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک بہت بڑا دروازہ نظر آیا، پھر دور سامنے ایک نہایت وسیع وعریض عمارت دکھائی دی۔ اس کےچاروں طرف کانٹے دار جھاڑیوں اور درختوں کی ایسی دیوار تھی جسے عبور کرنا ممکن نہ تھا۔ عمارت کے چاروں طرف زبردست فوجی پہرہ تھا۔ اس عمارت کے باہر فوجیوں نے پاسپورٹ اور تحریری اجازت نامہ غور سے دیکھا اور حکم دیا کہ اپنی موٹر وہیں چھوڑ دیں اور آگے جو فوجی موٹر کھڑی ہے اس میں سوار ہو جائیں۔ نواب صاحب اور انگریز کلکٹر پہرے داروں کی موٹر میں بیٹھ گئے۔اب پھر اس پتلی سڑک پر سفر شروع ہوا۔ وہی گھنا جنگل اور دونوں طرف جنگلی درختوں کی دیواریں! نواب صاحب گھبرانے لگے، تو انگریز نے کہا "بس منزل آنے والی ہے”۔ آخر دور ایک اور سرخ پتھر کی بڑی عمارت نظر آئی تو فوجی ڈرائیور نے موٹر روک دی اور کہا "یہاں سے آگے آپ صرف پیدل جاسکتے ہیں”۔ راستے میں کلکٹر نے نواب صاحب سے کہا ” کہ آپ یہاں صرف دیکھنے آئے ہیں بولنے یا سوال کرنے کی بلکل اجازت نہیں”۔ عمارت کے شروع میں وسیع دالان تھا۔ اس کے پیچھے متعد کمرے تھے۔ دالان میں داخل ہوئے تو ایک باریش نوجوان عربی کپڑے پہنے سر پر عربی رومال لپیٹے ایک کمرے سے نکلا۔ دوسرے کمرے سے ایسے ہی دو نوجوان اور نکلے پہلے نے عربی لہجے میں "السلام وعلیکم” کہا۔ دوسرے نے کہا”وعلیکم اسلام”۔ کیا حال ہے? نواب صاحب یہ منظر دیک کر حیران رہ گئے۔ کچھ پوچھنا چاہتے تھے، لیکن انگریز نے فوراً اشارے سے منع کر دیا۔ چلتے چلتے ایک کمرے کے دروازے پر پہنچے۔ دیکھا کہ اندر مسجد جیسا فرش بچھا ہے۔ عربی لباس میں ملبوس متعدد طلبہ فرش پر بیٹھے ہیں، ان کے سامنے استاد بلکل اسی طرح بیٹھے سبق پڑھا رہے ہیں، جیسے اسلامی مدرسوں میں پڑھاتے ہیں۔ طلباء عربی اور کبھی انگریزی میں استاد سے سوال بھی کرتے۔ نواب صاحب نے دیکھاکہ کسی کمرے میں قرآن مجید پڑھایا جا رہا ہے، کہیں قرآت سکھائی جارہی ہے، کہیں تفسیر کا درس ہو رہا ہے، کسی جگہ بخاری شریف کا درس دیا جا رہا ہے اور کہیں مسلم شریف کا۔ ایک کمرے میں مسلمانوں اور مسیحوں درمیان مناظرہ ہو رہا تھا۔ ایک اور کمرے میں فقہی مسائل پر بات ہو رہی تھی۔ سب سے بڑے کمرے میں قرآن کا ترجمہ مختلف زبانوں میں سکھایا جا رہا تھا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ہر جگہ باریک مسئلے مسائل پر زور ہے۔ مثلاً غسل کا طریقہ، وضو، روزے، نمازاور سجدہ سہو کے مسائل، وراثت اور رضاعت کےجھگڑے، لباس اور ڈاڑھی کی وضع قطع، گا گا کر آیات پڑھنا، غسل خانے کے آداب، گھر سے باہر جانا، لونڈی غلاموں کے مسائل، حج کے مناسک بکرا، دنبہ کیسا ہو، چھری کیسی ہو، دنبہ حلال ہے یا حرام? حج اور قضا نمازوں کی بحث، عید کا دن کیسے طے کیا جائے اور حج کا کیسے? میز پر بیٹھ کر کھانا، پتلون پہننا جائز ہے یا ناجائز، عورت کی پاکی اور ناپاکی کے جھگڑے، حضورصلی اللہ و علیہ وسلم کی معراج روحانی تھی یا جسمانی? امام کے پیچھے سورتہ فاتحہ پڑھی جائے یا نہیں? تراویح آٹھ ہیں یا بیس? نماز کے دوران وضو ٹوٹ جائے تو آدمی کیا کرئے? سود مفرد جائزہے یا ناجائز وغیرہ وغیرہ۔

ایک استاد نے سوال کیا، پہلے عربی پھر انگریزی اورآخرمیں نہایت شستہ اردو میں!!!! جماعت اب یہ بتائے کہ جادو نظر بد، تعویز گنڈہ آسیب کا سایہ بر حق ہے یا نہیں? پینتیس چالیس کی جماعت بیک آواز پہلے انگریزی میں بولی "سچ سچ” پھر عربی میں یہی جواب اور پھر اردو میں!!!!

ایک طالب علم نے کھڑے ہوکر سوال کیا کہ حج کے لیئے نیت ضروری ہے تو مردہ لوگوں کا حج بدل کیسے ہو سکتا ہے? قرآن تو کہتا ہے ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے”۔
استاد بولے” قرآن کی بات مت کرو،روایات، ورد اوراستخارے میں مسلمانوں کا ایمان پکا کرو۔ ستاروں، ہاتھ کی لکیروں، مقدر اور نصیب میں انہیں الجھاو”۔

یہ سب دیکھ کر وہ واپس ہوئے تو نواب چھتاری نے انگریز کلکٹر سے پوچھا، اتنے عظیم دینی مدرسے کو آپ نے کیوں چھپارکھاہے”?

انگریز نے کہا "ارے بھئ، ان سب میں کوئی مسلمان نہیں، یہ سب عیسائی ہیں۔ تعلیم مکمل ہونے پر انہیں مسلمان ملکوں خصوصاً مشرق وسطٰی، ترکی، ایران، اور ہندوستان بھیج دیا جاتا ہے۔ وہاں پہنچ کر یہ کسی بڑی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں۔ پھر نمازیوں سے کہتے ہیں کہ وہ یورپی مسلمان ہیں۔ انہوں نے مصر کی جامعہ الازہر میں تعلیم پائی ہے اور وہ مکمل عالم ہیں۔ یورپ میں اتنے اسلامی ادارے موجود نہیں کہ وہ تعلیم دے سکیں۔ وہ سردست تنخواہ نہیں چاہتے، صرف کھانا، سر چھپانے کی جگہ درکار ہے۔ پھر وہ موذن، پیش امام، بچوں کے لیے قرآن پڑھانے کے طور پر اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ تعلیمی ادارہ ہو تو اس میں استاد مقرر ہو جاتے ہیں، جمعہ کے خطبے تک دیتے ہیں۔”

نواب صاحب کے انگریز مہمان نے انہیں بتا کر حیران کر دیا کہ اس عظیم مدرسے کے بنیادی اہداف یہ ہیں:

— مسلمانوں کو روایات، زکر کے وظیفوں اور نظری مسائل میں الجھا کر قرآن سے دور رکھا جائے۔

— حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کا درجہ جس طرح بھی ہو سکے (نعوذباللہ) گھٹایا جائے۔ کبھی یہ کہو کہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم (نعوذباللہ) رجل مسحور یعنی جادو زدہ تھے۔

اس انگریز نے یہ انکشاف بھی کیا کہ 1920ء میں (رنگیلا رسول) نامی کتاب راجپال سے اسی ادارے نے لکھوائی تھی۔ اس طرح کئی برس پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا نبی بنا کر کھڑا کرنے والا یہی ادارہ تھا۔ ان کتابوں کی بنیاد لندن کی اسی عمارت سے تیار ہو کر جاتی تھی۔

خبر ہے کہ سلیمان رشدی ملعون کی کتاب لکھوانے میں بھی اسی ادارے کا ہاتھ ہے۔

خدایا ایسا نہ ہو کہ مغرب رہن ہی میرا سماج رکھ لے
ہے فتنہ پرور نظام عالم تو اپنے مسلم کی لاج رکھ لے

اب جنگل کی حویلی کے ایک مکین سے ملاقات کیجیئے، یہ واقعہ ایک دوست حسین امیر فرہاد کے ساتھ کویت میں پیش آیا، انہی کی زبانی سنئیے::::::::

یہ 1979ء کا واقعہ ہے، ان دنوں میں کویت کی ایک کمپنی میں مندوب تعلقات العامہ (افسر تعلقات عامہ) تھا۔ ہمارے ڈائریکٹر نے سری لنکا سے گھر کے کام کاج کے لئے ایک خادمہ منگائی، دوسرے دن مجھ سے کہنے لگے کہ اس کو واپس بھیج دو کیوں کہ ہمارے کسی کام کی نہیں نا تو یہ عربی جانتی ہے اور نا انگریزی۔ سو میں اسکی کی دستاویزات لے کر متعلقہ جگہ پہنچا تو پتہ چلا کہ فی الحال سری لنکن سفارت موجود نہیں البتہ برطانوی ہی سری لنکن باشندوں کے معاملا ت دیکھتے ہیں۔ برٹش کونسل میں استقبالیہ کلرک نے میرا کارڈ دیکھا تو مسٹر ولسن سے ملایا۔ وہ بڑے تپاک سے ملے اور بٹھایا، جب اس نے اندازہ لگایا کہ میں بھارتی یا پاکستانی ہوں تو اردو میں کہا، میں کیا خدمت کر سکتا ہوں?”

میں نے سری لنکن خادمہ کے متعلق بتایا، اس نے کہا کوئی مسئلہ نہیں اسے ہم رکھ لیں گے۔ آپ کا جو خرچہ آیا ہے وہ ہم ادا کر دیں گے۔ یہ بتاو کہاں کے رہنے والے ہو?

میں نے کہا پاکستان سے،
وہ بولا وہ تو بہت بڑا ملک ہے،
میں نے کہا پشاور کا رہنے والا ہوں،
پشتو میں پوچھنے لگا کے کون سی جگہ?
میں نے بتایا "نوشہرہ”
جب میں نے گاوں کا نام بتایا تو اس کی آنکھوں میں عجیب چمک پیدا ہو گئی۔ پھر وہ مختلف لوگوں کا پوچھنے لگا، میں نے میں نے بتایا کہ کون مر گیا اور کون زندہ ہے۔ میں نے سوچا ہو سکتا ہے نوشہرہ چھاونی میں ملازمت کرتا رہا ہو، لیکن اس کی عمر زیادہ نہیں تھی۔ لیکن اس نے کچھ اور کہانی سنائی۔ پہلے اس نے کافی منگائی پھر انٹر کام پر کلرک سے کہا کہ اس کے پاس کسی کو مت بھیجنا۔ وہ اتنا خوش تھا کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ کافی کے دوران اس نے بتایا”میں آپ کے گاوں، محلہ عیسٰی خیل میں چار سال تک پیش امام رہاہوں۔

میں نے پوچھا” کیا آپ مسلمان ہیں?”

وہ بولا” میں چار سال آپ کے گاوں کا نمک کھایا ہے۔ آپ کے گاوں والوں نے مجھے بڑی عزت دی۔ میں آپ سے جھوٹ نہیں بولوں گا۔ میں عیسائی ہوں یعنی اہل کتاب”۔

اس کے بعد میرا اس کے ہاں آناجانا رہا۔ وہ مجھے اپنا ہم وطن سمجھتا رہا اور تقریباً میرا ہم عمر تھا۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ ہمارے ہاں پاکستان بننے کے بعد رہا تھا۔ ایک دن میں نے پوچھا "آپ پٹھانوں کا کھانا کیسے کھاتے رہے?”

وہ کہنے لگا” آپ لوگوں کا کھانا اتنا مزیدار ہوتا ہے کہ میں یہاں آج بھی گھر جاتے ہوئے ایرانی تندور سے روٹی لے کر موٹر میں روکھی کھاتا ہوں”۔

جب میں کویت سے پاکستان آ رہا تھا تو میں نے اس سے وہی سوال پوچھا جسے وہ ہمیشہ ٹالتا رہا تھا۔ میں نے دریافت کیا” اب تو بتادو کہ تم عیسائی ہو کر پٹھانوں کے گاوں میں روکھی سوکھی کھاتے اور پیش امام کی خدمات انجام دیتے رہے۔۔۔۔۔۔آخر کیوں?

وہ کافی دیر سرجھکائے سوچتا رہا پھر سر اٹھا کر میری آنکھوں میں جھانکا اور کہا "ہمیں اپنے ملک کے مفادات کی خاطر بعض اوقات بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں لندن کے مضافات میں ایک مرکز ہے جہاں شکل وشباہت دیکھ کر انگریزوں کی بیرونی مذاہب اور زبانوں کی تعلیم دی جاتی ہے۔ وہاں سے فارغ تحصیل ہو کر پھر ہمیں مختلف ممالک اور علاقوں میں بھیجا جاتا ہے۔”

گاوں آکر میں محلہ عیسٰی خیل کے بزرگوں کو یہ واقعہ سنایا توایک بوڑھے طالب گل نے کہا” مجھے شک پڑاتھا مگر سب کہہ رہے تھے کہ چترالی ہے۔ وہاں اکثر چترالی مولوی پیش امام ہیں۔ وہ بھی گورے ہیں بلکل انگریزوں کی طرح۔ پھر طالب گل نے کہا "چلو بھائی اب چار سال کی نمازیں لوٹائیں جو ہم نے انگریز کے پیچھے پڑھیں۔۔۔۔۔۔خانہ خراب ہو اس کا۔”
جب میں نے جنگل کی حویلی کا پڑھا تو مجھے یقین ہو گیا کہ مسٹر ولسن بھی ضروراسی جنگل کی حویلی کا پروردہ تھا۔

مائیں دوائی سے کہاں ٹھیک ہوتی ہیں بابوجی!

ہائی سٹریٹ ساہیوال پر موٹر سائیکل کو پنکچر لگواتے ہوئے میں فیصلہ کر چکا تھا کہ اس ہفتے بھی اپنے گھر واپس کبیروالا نہ ہی جاوں تو بہتر ہے ،دیر تو ویسے بھی ہوچکی تھی اورجہاں پچھلےتین ہفتے گزر گئے ہیں یہ بھی گزار ہی لوں تو گرمیوں کی چھٹیوں میں ایک ہی بار چلا جاوں گا۔ اسی سوچ بچار میں روڈ پر کھڑے میں نے پندرہ سولہ سال کے ایک نوجواں کو اپنی طرف متوجہ پایا۔وہ عجیب سوالیہ نظروں سے میری جانب دیکھ رہا تھا،جیسے کوئی بات کرنا چاہ رہا ہو۔لیکن رش کی وجہ سے نہیں کر پا رہاتھا۔جب پنکچر لگ گیا تو میں نے دکاندار کو 100 روپے کا نوٹ دیا اس نے 20 روپے کاٹ کر باقی مجھے واپس کر دیے۔میں موٹر سائیکل پر سوار ہوکر جونہی واپس شہر کی طرف مڑنے لگاتو وہ لڑکا جلدی سے میرے پاس آکر کہنے لگا ” بھائی جان میں گھر سے مزدوری کرنے آیا تھا ،آج دیہاڑی نہیں لگی آپ مجھے واپسی کا کرایہ 20 روپے دے دیں گے”میں نے ایک اچٹتی سی نگاہ اس پر ڈالی ،سادہ سا لباس،ماتھے پر تیل سے چپکے ہوئے بال ،پاوں میں سیمنٹ بھراجوتا۔مجھے وہ سچا لگا،میں نے 20 روپے نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دئیے ،وہ شکریہ ادا کر کے چلنےلگا تو نہ جانے میرے دل کیا خیال آیا ،میں نے کہا،سنو ،تمہیں دیہاڑی کتنی ملتی ہے،اس کے جواب دینےسے پہلے ہی میں نے باقی کے 60 روپے بھی اس کی طرف بڑھا دیے۔وہ ہچکچاتے ہوئے پیچھے ہٹا اور کہنے لگا”نہیں بھائی جان !میرا گھر منڈھالی شریف ہے،میں پیدل بھی جاسکتا تھا لیکن کل سےماں جی کی طبیعت ٹھیک نہیں ،اوپر سے دیہاڑی بھی نہیں لگی،سوچا آج جلدی جا کر ماں جی کی خدمت کر لوں گا”۔میں نے کہا اچھا یہ پیسے لے لو ماں جی کے لیے دوائی لے جانا۔وہ کہنے لگا” دوائی تو میں کل ہی لے گیا تھا۔آج میں سارا دن ماں جی کے پاس رہوں گا تو وہ خود ہی ٹھیک ہو جائیں گی،مائیں دوائی سے کہاں ٹھیک ہوتی ہیں بابوجی!” میں نے حیران ہو کرپوچھا ،تمہارا نام کیا ہے؟ اتنے میں اس کی بس بھی آگئی،وہ بس کے گیٹ میں لپک کر چڑھ گیا اور میری طرف مسکراتے ہوئے زور سے بولا”گلو” ۔گلو کی بس چل پڑی لیکن گلو کے واپس کیے ہوئے 60 روپے میری ہتھیلی پر پڑے ہوئے تھے اورمیں ہائی سٹریٹ کے رش میں خود کو یک دم بہت اکیلا محسوس کرنے لگا۔کچھ سوچ کر میں نے موٹرسائیکل کارخ ریلوے اسٹیشن کی طرف موڑ لیا۔موٹر سائیکل کو اسٹینڈ پر کھڑا کرکے ٹوکن لیا اور ٹکٹ گھر سے 50 روپے میں خانیوال کا ٹکٹ لے کر گاڑی کے انتظار میں بینچ پر بیٹھ گیا۔کب گاڑی آئی ،کیسے میں سوار ہوا کچھ خبر نہیں، خانیوال اسٹیشن پر اتر کے پھاٹک سے کبیروالا کی وین پر سوار ہوا،آخری بچے ہوئے10 روپے کرایہ دے کر جب شام ڈھلے اپنے گھر کے دروازے سے اندر داخل ہوا تو سامنے صحن میں چارپائی پر امی جان سر پر کپڑا باندھے نیم دارز تھیں۔میرا بڑا بھائی دوائی کا چمچ بھر کر انہیں پلا رہا تھا۔مجھے دیکھتے ہی امی جان اٹھ کر کھڑی ہوئیں اور اونچی آواز میں کہنے لگیں” او! میرا پترخیر سے گھر آگیا ہے! اب میں بالکل ٹھیک ہوں "۔ میں آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے دوڑ کر ان کے سینے سے جالگا۔ بس کے گیٹ میں کھڑے گلوکا مسکراتا ہوا چہرہ یک دم میری آنکھوں کے سامنے آگیا اور میں سمجھ گیا کہ اس نے مجھے 60 روپے واپس کیوں کیے تھے۔

پہل

ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﮔﺪﮬﺎ ﺭﯾﮍﮬﯽ ﭘﺮ ﺷﯿﺸﮧ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺳﮍﮎ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﮭﻠﮯ ﮔﭩﺮ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﯾﮍﮬﯽ ﺍﻟﭧ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﺍ ﺷﯿﺸﮧ ﭨﻮﭦ ﮔﯿﺎ.. ﻭﮦ ﻏﺮﯾﺐ ﻓﭧ ﭘﺎﺗﮫ ﭘﺮ ﺳﺮ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ..

ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺭﺩ ﮔﺮﺩ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﺗﺴﻠﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﻟﮕﮯ.. ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﻮ ﺭﻭﭘﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ.. ” ﺑﯿﭩﺎ ! ﺍﺱ ﺳﮯ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﺗﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺭﮐﮫ ﻟﻮ..”

ﺑﺰﺭﮒ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺑﺎﻗﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺮ ﺳﻮ ﭘﭽﺎﺱ ﮐﮯ ﻧﻮﭦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﺋﯿﮯ.. ﺗﮭﻮﮌﯼ ﮨﯽ ﺩﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺷﯿﺸﮯ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮﮔﺌﯽ..

ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺑﻮﻻ” ..ﺑﮭﺌﯽ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﻥ ﺑﺰﺭﮒ ﮐﺎ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻭ ﺟﻨﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﯾﮧ ﺭﺍﮦ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ چپکے سے چل دیئے.. ” ہم ﺳﺐ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺳﻮﺍﻝ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﮩﻼ ﻗﺪﻡ ﮐﻮﻥ ﺑﮍﮬﺎﺋﮯ ..؟ راستہ کون دکھائے ؟

ﺁئیے ﻋﮩﺪ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﭘﮩﻼ ﻗﺪﻡ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﭨﮭﺎﻧﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺩﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﮯ.. ان شاء اللّٰہ.