انمول

امی امی میری جرابیں کدهر ہیں ؟؟؟؟
ہارون الماری سے سارے کپڑے زمین پہ پهینکتے ہوے چلا رہا تها …
دیتی ہوں بیٹا بس آی ماں نے پراٹها توے سے اتارے ہوے کہا اور دوڑی آیی…
یہ لو ! یہاں رکهی تهی سایڈ ٹیبل پہ ساری الماری خراب کر دی ماں نے جرابیں اٹها کے دیتے ہوے کہا
اچها جلدی کریں ناشتہ رکهیں دیر ہو رہی هے …ہارون تیز لہجے میں بولا….
لگا دیا هے نا صبح اٹهتے ہو نہیں وقت پہ ماں نے ٹیبل پہ ناشتہ رکها اور کچن میں جا کے بڑ بڑانے لگی …..شادی کرو اب جلدی میری بوڑهی ہڈیوں میں اب اتنا دم نہیں هے ….کوی لڑکی جو تمہیں پسند آ جاے …کوی ماں کا خیال هے …کل کلاں کو مر گئ تو روتے پهرو گے……..مسز ہمدانی دوسال سے روزانہ ہارون کو یہ لیکچر دیتی اور اس کی وجہ یہ تهی کہ کوی لڑکی اس کو پسند نہیں آتی تهی …دو بیٹیاں اور تهیں جو اپنے گهر کی ہو گئ تهیں مسسز ہمدانی چاہتی تهی کہ بہو آ جاے اور وہ بهی سکهہ کا سانس لیں ….لیکن ہارون صاحب تهے کہ کوی لڑکی ان کے معیار پہ پوری نا اترتی تهی..
آچها نا امی اب صبح صبح ایسی باتیں تو نا کریں میری اچهی امی اللہ اپ کو للللمبی عمر دے آمین …ہارون نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال کے پیار سے کہا
اچها اچها اب مسکے نا لگا اتنا تو ماں کا ہمدرد ……ماں نے بظاہر غصہ دکهاتے ہوے کہا
اچها امی چلتا ہوں دیر ہو رہی هے اللہ حافظ ہارون گاڑی کی چابیاں سنبهالتے ہوے باہر نکل گیا.
………………. . ………..
کمپنی کی طرف سے تین روزہ سیمینار تها جس میں ملک بهر سے مختلف لوگ سیمینار اٹینڈ کرنے آے ہوے تهے…
زبردست مقررین تهے معلومات سے بهر پور سیمینار کی خاص بات ‘ سوالوں و جواب کے سیشن میں ہارون کے ٹیبل کے ساتهہ کے ٹیبل میں موجود لڑکی کے سوالات تهے……….اس لڑکی کا اعتماد ‘ انداز ‘ اور آواز میں عجیب سا سحر تها …….سوال ایسا اٹهاتی کے پہلے تو بندہ سٹپٹا جاتا اور اس وقت تک سوال کرتی جب تک نکتہ اس پہ واضح نا ہو جاتا….بڑی بڑی سرمئ حیا دار آنکهوں ‘ سرخ و سفید رنگت دوپٹے سے اچهی طرح سر کو ڈهانپے ہوے وہ پر اعتماد لڑکی ہارون کے دل میں اتر گئ تهی……..اس سے بات کرنے کا خواہشمند تها لیکن سیمینار کے اختتام سے پہلے ہی ہارون کو جانا پڑ گیا …..
لیکن رات دیر تک وہ اس حسینہ کے خیالوں میں کهویا رہا …..کیا یہ ممکن هے کہ میں اسے اپنی زندگی میں شامل کر لوں ..کیوں ممکن نہیں …..اللہ کرے اس کی کہیں بات وات پکی نا ہوی ہو …..پتہ نہیں ہارون کو کیا سوجی کہ رات دو بجے وضو کر کے دو نفل ادا کیے اور اللہ کے سامنے التجا کرنے لگا …
” اللہ جی اپ کو تو پتہ ہی هے میری والدہ محترمہ آے دن میری کلاس لیتی ہیں…..انہیں بهی تو اب آرام چاہیے اب اتنی مشکلوں سے تو مجهے کوی لڑکی پسند آی هے ہر لحاظ سے پرفیکٹ ….اللہ جی پلیز پلیز اسے میری شریک حیات بنا دیجے …اگر اس کی منگنی ونگنی بهی ہوی هے تو تڑوا دیجیے گا پلیز پلیز میرے پیارے اللہ !!!! ہارون نے ملتجای نگاہوں کے ساتهہ چهت کی طرف دیکها جیسے اللہ سے مخاطب ہو …
اور پهر سکون سے سو گیا خلاف توقع اگلی صبح خود ہی اٹهہ گیا…..اور وقت پہ تیار بهی ہو گیا ..ہارون کے چہرے کی بشاشت دیکهہ کے مسسز ہمدانی کافی حیران تهی…..زمانہ ساز عورت تهی یہ سوچ کے خوش ہو گئ کہ شاید برخودار عنقریب کوی خوشخبری سنا دیں …
……………….. ..
ہارون نے رات ٹهان لیا تها کہ آج ممکن ہوا تو ان محترمہ کے بارے میں معلومات اکهٹی کریں گے..
ہال میں یہ دیکهہ کہ ان کی خوشی دو چند ہو گی کہ محترمہ جس ٹیبل پر تهی وہاں ایک سیٹ خالی تهی ..فورا سے برا جمان ہو گیے اور وقت ضایع کیے بناء ہی اپنا تعارف بهی کرا دیا ….
جس کے جواب میں ایسی مدهم معصوم مسکراہٹ کا سامنا کرنا پڑا کہ دل تهام کے رہ گیے…..
اپنے بارے میں بتایے نا کچهہ ہارون نے سوالیہ نگاہوں سے محترمہ کے چہرے کی طرف دیکهتے ہوے کہا..
انمول ریاض ….انمول ریاض نام هے میرا …انمول نے اپنا مکمل تعارف دیا تو ہارون کے دل کی کلی کهل اٹهی ….اس کی پسند تو بہت اعلی تهی ….ہر لحاظ سے پرفیکٹ …باتوں باتوں میں وہ یہ بهی جان چکا تها کہ انمول ابهی تک کسی سے منسوب نہیں …
اعلی تعلیم یافتہ ….خوب صورت اواز و انداز اور پاکیزہ صورت ..قاتل مسکراہٹ والی انمول واقعی میں انمول ہیرا تهی…..
لیکن مسلہ یہ تها کہ ہارون اپنے دل کی بات لبوں پر کیسے لاے….بے چینی سے کرسی پہ پہلو بدلتا ہارون بات کرنا ہی چاہتا تها کہ گهر سے امی کی کال آ گئ …ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئ تهی ….ہارون کو سب کچهہ چهوڑ چهاڑ گهر آنا پڑا….
…………………….
شکر هے امی آپ کی طبیعت سنبهل گئ …صبح ہارون نے خود ہی چاے بنای بریڈ پہ مکهن لگا کے امی کو بهی ناشتہ دیا اور خود بهی کیا ……آج تیسرا اور آخری دن تها…..اج وہ پختہ عزم کر کے آیا تها کہ انمول سے اپنے دل کی بات کرے گا اور ایک ماہ کے اندر بیاہ کے لے آے گا …میرے گهر کو اور مجهے ایسی ہی پر اعتماد ..سگهڑ …باشعور باتمیز اور خوب صورت خوب سیرت لڑکی کی ضرورت هے…
تیسرا اور آخری دن بهر پور تها اور انمول کے سوالات نے چار چاند لگا دیے تهے ہر ایک اس پر اعتماد اور ذہین لڑکی کو رشک کی نگاہ سے دیکهہ رہا تها…
ہارون تو انمول کے عشق میں اس بری طرح مبتلا ہو چکا تها کہ دو ہی دن میں اسے انمول کی طرف اٹهتی نگاہوں سے حسد ہونے لگا…..گویا میرے محبوب کو میرے سوا کوی نا دیکهے والا حال تها…
موقع پا کر ہارون انمول کے ٹیبل پہ جا بیٹها سلام دعا کے بعد گهبراتے ہوے اپنے دل کی بات انمول کو کہہ سنای ….تو حیران رہ گیا کہ انمول نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پر اعتماد لہجے میں کہا
ہارون صاحب …میں آپ کے جذبے کی قدر کرتی ہوں لیکن اپ کو مجهہ عشق ہو گیا هے اور میرے بناء آپ رہ نہیں سکتے یہ میں نہیں مان سکتی..
آپ میرا یقین کریں میں نے جب سے آپ کو دیکها هے آپ کو سنا هے تب سے ہر سانس کے ساتهہ اللہ سے اپ کو مانگ رہا ہوں …..میری امی بہت اچهی ہیں اگر آپ کے گهر میں کوی مسلہ هے تو وہ انہیں منا لیں گی…
نہیں میرے گهر میں کوی مسلہ نہیں ….لیکن شاید آپ میرا ساتهہ نا دے سکیں زندگی کا سفر پگڈنڈیوں اور کٹهن راہوں سے ہو کر گزرتا هے ….لیکن کچهہ لوگوں کے حصے میں کٹهن راہیں زیادہ آتی ہیں ہر کوی ان راہوں پہ ساتهہ نہیں چل پاتے ..
میں اپ کے ساتهہ چلوں گا ہر کٹهن راہ پہ آپ مجهے پلیز آزما کر تو دیکهیں ….ہارون قریب تها کہ رو پڑے
ہارون صاحب وقت بہت بڑا استاد هے …..بڑی بڑی باتیں کرنے والوں کو آزمانے کا وقت بہت جلد آ جایا کرتا هے …پهر بهاگیے گا مت
میں بهاگنے والوں میں سے نہیں ہوں ….آپ میرا اعتبار تو کیجیے ایک بار ہاں کہہ دیجے آپ مجهے ثابت قدم پایں گی….
انمول پہلی بار کهلکهلا کے ہنسی تهی …… اور اس کی یہ ہنسی اس کی مسکراہٹ سے بهی زیادہ دلفریب تهی …
ہارون کو لگا اس کی دعایں کام آ گی ہیں ….انمول خاموش تهی زیرلب مسکراہٹ تهی
ہارون کی خوشی کا کوی ٹهکانہ نہیں تها اس کا دل کر رہا تها کہ وہ اڑ کے امی کے پاس پہنچ جاے اور انہیں ان کی ہونے والی بہو سے ملواے…
تو پهر آپ چلیں گی نا میرے ساتهہ میری امی سے ملنے ….ہارون نے محبت سے انمول کے چہرے کو دیکهتے ہوے سوال کیا
جی چلوں گی….انمول کے چہرے پہ مسکراہٹ تهی
ہارون کی خوشی کا کوی ٹهکانہ نا تها خوشی اس کے انگ انگ سے پهوٹ رہی تهی ..
چلیں پهر چلتے ہیں سچ میں اپ میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہیں میں بہت خوش ہوں کہ اپ جیسی پیاری سیرت کی باشعور لڑکی میری زندگی کا حصہ بننے جا رہی هے …الفاظ نہیں مل رہے کہ شکریہ ادا کر سکوں
انمول جواب میں صرف مسکرا رہی تهی اس کے گالوں کی شفق میں اضافہ ہو گیا تها اس کی بڑی بڑی سرمئ آنکهیں جهکی تهی…..
چلیں انمول پهر دیر ہو رہی هے ہارون کرسی سے اٹهہ کهڑا ہوا
جی اچها یہ کہتے ہوے انمول نے ہال کے کونے میں بیٹهے ہوے اپنے ملازم کی طرف دیکها
ہارون خوشی اور مسرت سے دروازے سے باہر نکلا
انمول ….اپ کو پتا هے…..یہ کہتے ہوے ہارون نے اپنے دایں طرف دیکها انمول نا تهی بایں طرف دیکها انمول وہاں بهی نہیں تهی….گهبرا کے پلٹ کے دیکها …..تو ساکت ہو گیا..
انمول ویل چیر پہ تهیں…….مسکراہٹ ابهی بهی انمول کے چہرے پہ تهی
ہارون اپنی گاڑی کے پاس ششدر کهڑا تها ….دل و دماغ میں طوفان برپا تها زبان کنگ تهی
ہارون صاحب ..مجهے اپ کی گاڑی میں بیٹهنا هے یا اپنی گاڑی میں پلیز بتا دیجے ؟؟؟ انمول کے چہرے پہ وہی مسکراہٹ سجی تهی
ہہہہہم..جی….. جی….وہ….میں…….آپ …..معذور ….ہیں ……….؟؟؟
جی شاید نارمل لوگ تو ٹانگوں پہ چل کے یہاں تک آتے ہیں نا ؟؟؟ انمول نے شاید گہرا طنز کیا تها لیکن لب مسکرا رہے تهے
انمول ……میں …..وہ……آپ …..مجهے معاف کر دیں گی نا…..بد دعا تو نہیں دیں گی نا…. اصل …میں …میں لیکن زبان ہارون کا ساتهہ نہیں دے رہی تهی اور الفاظ گم ہو گیے تهے….اس کی شریک حیات ڈس ایبل ہو اس کا تو اس نے تصور بهی نا کیا تها …..میں بہت کمزور ہوں ….میں….اپ …ہارون نے کار کا دروازہ کهولا …گاڑی میں بیٹها اور تیزی سے گاڑی آگے بڑها دی ….اسے اس کے سوا کچهہ نہیں سجهای دے رہا تها کہ وہ بهاگ جاے….
ہارون کو جاتا دیکهہ کے انمول مسکرای ….چلو خادم حسین دیر ہو رہی هے ….خادم حسین نے وہیل چیر سامنے کهڑی کار کی طرف موڑ دی ………
ہارون کے کہے تمام الفاظ انمول کے دل و دماغ پہ ضرب لگانے لگے ..آس ٹوٹی تو…….جن آنسووں کو وہ مسکراہٹ کے پردے میں چهپاے ہوے تهی دل کے درد سے بے قرار ہو کہ وہ گوہر نایاب گالوں پر بہہ نکلے …..

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s