بھرتی

میرا بیٹا کہتا تھا کہ ماں جب میں فوج میں افسر بنوں گا تو سب تجھے سلیوٹ کریں گے۔

اُس کی عمر 40 کے لگ بھگ تھی اور وہ پچھلے کئی گھنٹوں سے پاک فوج کے ایک سلیکشن سینٹر کے سامنے لگی نوجوانوں کی لمبی قطار میں کھڑی اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی۔

یہ آنٹی لگتا ہے اپنے بیٹے کی درخواست جمع کروانے آ گئی ہیں، لیکن شاید انہیں یہ نہیں معلوم کہ اپلائی کرنے کے لئے ان کے بیٹے کو خود آنا پڑے گا۔ ایسے بات نہیں بنے گی، احمد نے اپنے دوست سے کہا، یہ دونوں بھی صبح سے قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کرتے کرتے تھک چکے تھے۔

’’تو تم اُنہیں جا کر بتا کیوں نہیں دیتے کہ یہاں یوں خوامخواہ کھڑے ہونے سے کچھ نہیں ملنے والا، گھر جا کر اپنے بیٹے کو بھیجیں۔ بتایا ہے یار! وہ کہتی ہیں کہ میں جو آگئی ہوں۔ کیسے بھرتی نہیں کریں گے۔ ماں ہے ناں! بیٹے نے کہا ہوگا اور چل پڑیں۔ بیچاری کو یہ بھی نہیں معلوم کہ ابھی صرف بھرتی کے لئے درخواستیں جمع ہو رہی ہیں۔ بھرتی ہونے کے لئے تو نہ جانے ابھی اور کتنے مرحلوں سے گذرنا پڑے گا۔ پھر کہیں جا کر ہم میں سے چند خوش نصیب منتخب ہوں گے۔ احمد کو جتنا اُس عورت پر ترس آ رہا تھا اُتنا ہی اُس کے بیٹے پر غصّہ، مگر وہ کر بھی کیا سکتا تھا۔

جی محترمہ! کیا آپ یہاں کسی کے فارم جمع کروانے آئی ہیں؟ نگرانی پر مامور ایک سپاہی نے اُس کے قریب آکر بڑے احترام سے پوچھا۔ وہ منہ سے تو کچھ نہ بولی، مگر اثبات میں سر ہلا کر سپاہی کے سوال کا جواب دے دیا۔ دیکھئیے محترمہ! آپ یہ فارم جمع نہیں کروا سکتیں، برائے مہربانی آپ گھر جائیں اور اُسے بھیجیں جس کے یہ فارم ہیں۔ میں کیوں نہیں کروا سکتی؟ میں اُس کی ماں ہوں، میں اُسے بھرتی کروائے بغیر ہرگز یہاں سے نہیں جاؤں گی۔ وہ ابھی تک اپنی بات پر ڈٹی ہوئی تھی۔

دیکھیئے آپ میری بات شاید سمجھ نہیں پا رہیں، درخواست جمع کروانے کا ایک مخصوص طریقہ کارہوتا ہے جس کے تحت، کوئی بھی طریقہ کار ہو لیکن میں نے اُسے ہر صورت افسر بھرتی کروانا ہے۔ یہ میرا اُس سے وعدہ ہے۔ اُس نے سپاہی کی بات کاٹتے ہوئے کہا اور اردگرد کھڑے نوجوان اُس کی سادگی پر ہنس پڑے۔

آنٹی! آپ اپنے بیٹے کا فون نمبر مجھے دیں، میں اُس سے خود بات کرتا ہوں۔ احمد نے جیب سے موبائل نکالتے ہوئے کہا، وہ اُسے مزید تماشہ نہیں بنوانا چاہتا تھا۔ ہاں ہاں بیٹا! تم بات کرو، شاید وہ تمہاری بات مان کر آجائے۔ اُس نے جلدی جلدی اپنے بیٹے کا فون نمبر احمد کو لکھواتے ہوئے کہا، احمد کی بات سن کر اُس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک اُمڈ آئی تھی۔ احمد نے نمبر ڈائل کرکے موبائل کان سے لگا لیا۔ ’’نمبر بند ہے‘‘ احمد نے کچھ دیر بعد مایوسی سے کہا۔

میں بھی جب کال کرتی ہوں تو یہی جواب آتا ہے۔ شاید بیٹری ختم ہوگئی ہوگی۔ موبائل ہے بھی تو بہت پرانا، پہلے ضد کرتا تھا کہ نیا موبائل لے کر دو۔ اُس وقت اُس کے ابّو نہیں مانتے تھے۔ کہتے تھے کہ بچوں کے پاس بھلا موبائل کا کیا کام، اب اُس کے ابّو اچھے سے اچھا موبائل خرید کر دینے کو تیار ہیں مگر وہ نہیں مانتا۔ آجکل کے بچے ضدی بھی تو بہت ہیں ناں۔

محترمہ! آپ یہاں کھڑی بلا وجہ اپنا وقت ضائع مت کریں۔ اگر آپ کا بیٹا فوج میں بھرتی ہونا چاہتا ہے تو اُسے خود ہی آنا پڑے گا۔ آپ کے یوں ۔۔۔۔ آپ کچھ بھی کہہ لیں، مگر میں یہاں سے نہیں جاؤں گی۔ میں صبح سے یہاں کھڑی اپنی باری آنے کا انتظار کر رہی ہوں اور آپ کہہ رہے ہیں کہ یہاں سے چلی جاؤ۔ اُس نے ایک مرتبہ پھر سپاہی کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی جواب دے دیا، اور اُسے مایوس لوٹنا پڑا۔ مگر پھر تھوڑی ہی دیر بعد وہی سپاہی ایک نوجوان آفیسر کے ہمراہ دوبارہ اُسے قائل کرنے کے لئے پہنچ گیا۔

جی ماں جی! کس کے فارم جمع کروانے ہیں آپ نے؟ آفیسر نے اپنائیت سے کہا۔ اپنے بیٹے کے مگر یہ مجھے کہہ رہے ہیں کہ اگر وہ خود نہ آیا تو اُسے کوئی بھرتی نہیں کرے گا۔ میں ایسے خالی ہاتھ کیسے واپس جاؤں گی؟ اُس نے بڑی مشکل سے اپنے آنسو ضبط کرتے ہوئے کہا۔
ماں جی! یہ درست کہہ رہے ہیں۔ اس پوسٹ کے لئے درخواست جمع کرواتے ہوئے درخواست گذار کا موجود ہونا لازمی ہے، اور یہ فارم پر بھی واضح طورپر لکھا ہے۔ آپ کا بیٹا کہاں ہے؟ وہ خود کیوں نہیں آیا؟ آفیسر نے نرمی سے پوچھا۔

مگر وہ کیسے آئے گا؟ وہ نہیں آ سکتا ۔۔۔ میں جو آگئی ہوں۔ وہ ابھی تک پوری طرح سے اپنے موقف پر قائم تھی۔

مگر ماں جی! ایسے۔۔ ۔ آپ اُسے بھرتی کرلیں۔ وہ یہاں نہیں آسکتا، میں اُس کی ماں ہوں۔ میں نے اُس سے وعدہ کیا ہے۔ اب وہ ہاتھ جوڑے منتیں کر رہی تھی۔

چلیں آپ اُس کے فارم مجھے دے دیں، میں کچھ کرتا ہوں۔ آفیسر کی بات سنتے ہی اُس کا چہرہ خوشی سے دمک اُٹھا۔ اُسے شاید بیچاری کی حالت پر ترس آگیا تھا یا شاید وہ اسے محض ٹالنے کے لیے ایسا کہہ رہا تھا۔

فارم وغیرہ تو کوئی نہیں ہیں میرے پاس، بس یہ اُس کی ایک تصویر ہے، بھرتی کرکے ابھی واپس کردینا۔ اُس نے اسکول یونیفارم میں ملبوس ایک 13، 14 سال کے بچے کی ہنستی مسکراتی تصویر افسر کو دکھاتے ہوئے کہا۔

’’سب کہتے ہیں کہ تیرا بیٹا شہید ہوگیا ہے، اب وہ فوج میں بھرتی نہیں ہوسکتا‘‘۔

کیسے نہیں ہوسکتا؟ اس نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں اسے فوج میں افسر بھرتی کرواؤں گی۔ میں کوئی پاگل نہیں ہوں، مگر کیا کروں اپنے لاڈلے سے کیا ہوا وعدہ بھی تو نبھانا ہے۔ اس نے اپنے بیٹے کی تصویر چومتے ہوئے کہا اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ دیکھو کتنا پیارا ہے، تمہاری طرح شکل سے ہی بڑا افسر لگتا ہے۔ اُس کی باتیں سُن کر وہاں موجود ہر شخص آبدیدہ ہوگیا تھا۔

’’آپ کا بیٹا فوج میں افسر بن گیا ہے، ماں جی!‘‘

آفیسر نے سلیوٹ مارتے ہوئے کہا، اور اپنے آنسو پونچھتا ہوا واپس پلٹ گیا۔ ہم بھی آپ کے بیٹے ہیں ماں جی! آئیں میں آپ کو آپ کے گھر چھوڑ دیتا ہوں۔ آپ کا گھر کہاں ہے؟ احمد نے اُسے سہارا دیتے ہوئے پوچھا۔

تم نے دیکھا بیٹا! اُس نے مجھے سلیوٹ کیا۔ میرا بیٹا کہتا تھا کہ ماں جب میں فوج میں افسر بنوں گا تو سب تجھے سیلیوٹ کریں گے۔ مجھے اُس نے سیلیوٹ کیا۔ آج میرا بیٹا افسر بن گیا ہے۔

’’شہیدوں کی ماؤں کو سلام‘‘

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s