روٹی

وہ اپنے ہونے والے کھیت پر بھرپور نگاہ ڈال کر پگڈنڈی پر ہو لیا۔ پانچ میل کا کچا رستہ طے کر کے فیصل آباد پہنچا۔ لاہور کی لاری اسے جاتے ہی مل گئی۔ شیخوپورہ کے اڈے پر جب سواریاں سستانے نیچے اتریں‘ تو اس نے کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھا، جون کے سورج کی دہکتی شعاعیں سیدھی آنکھوں پر پڑ رہی تھیں۔ اس نے لرزتے ہاتھ سے آنکھوں پر سایہ کر اپنی مخصوص مسکراہٹ سے یونہی اڈے والوں کو دیکھا۔

ایک لڑکے نے اپنا تھال بالکل اس کی آنکھوں کے قریب لا کر آواز لگائی ’’گرم پکوڑے۔‘‘ ترغیب اپنا کام کر گئی۔ اس نے دس روپے کے پکوڑے لیے۔ پھر چادر کے پلّو سے رات کی بچی روٹی نکالی جو اس نے چلتے وقت باندھ لی تھی۔ گاڑی چلنے کے بعد اس نے کھانا شروع کیا۔ باسی روٹی کا چھوٹا سا نوالہ توڑتا، دوسرے ہاتھ سے پکوڑے کی گردن یا ٹانگ توڑ کر ساتھ جوڑتا اور منہ میں رکھ لیتا۔ دس منٹ تک اس کے پوپلے منہ میں پکوڑے کے مزے گھلتے رہے… آس پاس کی سواریاں ایک بہت ہی بھولے بھالے منہ کو بچوں کی طرح چلتا ہوا دیکھ کر مسکراتی رہیں۔

آخری نوالہ حلق سے اتارتے ہی اس نے دونوں ہاتھوں پر لگے ریزے صاف کیے، ڈاڑھی پر ہاتھ پھیر کر خدا کا شکر ادا کیا، چپکے چپکے ایک عربی دعا پڑھی، مسکراتی ہوئی سواریوں پر ایک نظر ڈال خود بھی مسکرایا اور بولا ’’پکوڑے مزے دار تھے۔‘‘
لاہور میں شاہی مسجد کے قریب اتر کر وہ دیر تک تپتی سڑکوں پر سنت نگر میں دیوسماج بلڈنگ کا پتا پوچھتا رہا، جہاں محکمہ بحالیات کے پٹواری بیٹھتے ہیںاور جہاں اس کی مسل آئی ہوئی ہے۔ آخر وہ اپنی منزل پر پہنچ ہی گیا۔ دیوسماج کے صدر دروازے پر ایک پہرے دار کھڑا تھا۔ کسی کو بھی اندر جانے کی اجازت نہ تھی۔ پھر بھی ہر کوئی کسی نہ کسی حیلے وسیلے سے اندر جا ہی رہا تھا۔ دروازے کے باہر اپنی اپنی زمینوں کے قضیے چکانے والوںکا ہجوم تھا۔ دیوار کے ساتھ ساتھ بیسیوں عرضی نویس اپنے کام میں مصروف تھے۔ وہ دیر تک سہما کھڑا رہا کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ اس نے کئی لوگوں سے پوچھا، کسی نے اس کی راہبری نہ کی۔ آخر ایک خوبصورت، صحت مند نوجوان جس نے سفید بگلا قمیص اور سفید پتلون پہن رکھی تھی، قریب آ کر بولا ’’بابا پریشان کیوں ہو؟‘‘

وہ مسکرا کر کہنے لگا ’’پریشان تو میں نہیں، پر کچھ میری مدد کرو، میں جی فیصل آباد ضلع سے آیا ہوں۔ پیچھے فیروز پور ضلع کا باشندہ ہوں۔ جھوٹ نہیں بولتا، وہاں میری کوئی زمین نہیںتھی۔ ساری عمر دوسروں کی زمین باہی ہے۔ سرکار نے کچھ بنجر زمین کاشت کاروں کو مفت دی تھی۔ میرے حصے میں بیس ایکڑ آئے۔ میں نے جی کنک اور چھولے بو رکھے ہیں۔ اب ہمارا پٹواری کہتا ہے، تیری چٹ میں باپ کا نام غلط لکھا ہے۔‘‘ اس نے جیب سے چٹ نکال اس کے حوالے کر دی۔ نوجوان نے چٹ کی دسیوں تہیں کھولتے ہوئے پوچھا ’’بابا تیرا نام کیا ہے؟‘‘

بولا ’’جمال الدین ولد غلام محمد۔‘‘ نوجوان نے کہا ’’یہاں لکھا ہے جمال الدین ولد فضل بیگ۔‘‘ بابا بولا ’’بس جی یہی غلطی ہوئی ہے۔ میرے باپ کا نام غلط لکھا گیا۔ پٹواری کہتا ہے، نام ٹھیک ہوگا‘ تو قبضہ ملے گا اور مسل لاہور سنت نگر دیوسماج بلڈنگ پہنچ چکی۔ بابو جی آٹھ دس دن تک فصل اٹھنے والی ہے۔ مجھے چٹ نہ ملی‘ تو میں بھوکا مر جائوں گا، فصل سرکار لے جائے گی۔‘‘ نوجوان نے بڑی ہمدردی سے پوچھا ’’تم کتنے جی ہو؟‘‘ وہ ایک جھرجھری سی لے کر انگلی کی پوروں پر گنتی کرنے لگا ’’ایک میں، ایک بہو، دو پوترے اور ایک پوتری۔‘‘

نوجوان نے پوچھا ’’کوئی لڑکا نہیں؟‘‘ ’’نہیں بابو صاحب، کوئی نہیں۔ ایک تھا وہ پچھلے برس اللہ کو پیارا ہو گیا… اس کی مرضی! اس کا تھا، اسی نے لے لیا۔‘‘ نوجوان بولا ’’بابا تیرا کام ہو جائے گا بے فکر رہ! میں یہاں پٹواری ہوں مگر دام خرچنے ہوں گے۔‘‘ اس نے ایک کھدر کے کرتے کی اندرونی جیب سے سو روپے کے دو نوٹ، جو اس نے اسی مقصد کے لیے باقی نوٹوں سے الگ رکھے ہوئے تھے، نکالے اور بولا ’’لے پٹواری، اللہ تیرا بھلا کرے۔‘‘
پٹواری نے نوٹ جلدی سے جیب میں رکھ لیے اور کہا ’’بابا تیرا کام ہو جائے گا۔ ہزار روپے لگیں گے۔‘‘

بابا نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ کہا ’’میں دو سو سے زیادہ نہیں دے سکتا۔‘‘ پٹواری نے کہا ’’بابا کسی اور پٹواری سے کام کرانا ہے اور وہ ہزار روپے سے کم نہیں لے گا۔ میرے پاس ضلع انبالہ ہے، مسل میرے پاس ہوتی تو ایک دھیلا بھی نہ لیتا۔‘‘ بابا بولا’’میں تو جی یہی دے سکتا ہوں، مرضی ہو لو مرضی ہو نہ لو۔‘‘ پٹواری نے بے پروائی سے کہا ’’تیری مرضی ہے بابا، کوئی زبردستی نہیں۔‘‘ بابا نے کہا ’’زمین کا قبضہ مل جائے، فصل مل جائے تو دو سو اور بھی دے سکتا ہوں۔‘‘

پٹواری ہنس پڑا ’’قبضہ مفت میں نہیں مل جاتا، پیسے خرچنے پڑتے ہیں۔‘‘ وہ بولا ’’جب تک قبضہ نہ ملے، پیسے کہاں سے آئیں، ہم تو روٹی پتا نہیں کس طرح کھاتے ہیں۔‘‘ پٹواری نے مشورہ دیا ’’اچھا یوں کر، تیری جیب میں جتنے پیسے ہیں، سب نکال دے، میں تیرا کام کرا دوں گا۔‘‘ وہ کہنے لگا ’’تو میں واپس کیسے جائوں گا جی؟ اگر مجھے یہاں ٹھہرنا پڑا، تو میں کھائوں گا کیا؟‘‘ پٹواری نے صدر دروازے کی طرف قدم بڑھا کر ترغیب پیدا کرنے کی کوشش کی ’’اچھا بابا، تیری مرضی۔‘‘ وہ فوراً اپنی اندرونی جیب سے ساری رقم نکال کر گننے لگا۔

’’لو پٹواری جی، یہ سو کا نوٹ اور یہ ہوئے ستر روپے! تیرا من بھاوے تو مجھے کھان پین واسطے دے دے، نہیں تو میں نے تو تجھے اپنی کل پونجی دے دی۔‘‘ پٹواری نے اپنا پورا اطمینان کر لینے کے لیے خود اس کی جیب میں ہاتھ ڈال کر دیکھا۔ مایوس ہو کے وہ رقم بھی اپنی جیب میں ڈال ہنس کر پوچھا ’’بابا! دھوتی کی ڈب میں تو نہیں باندھ رکھے؟‘‘ ’’نہیں پٹواری جی، میں کوئی بے ایمان آدمی نہیں۔‘‘ پٹواری صدر دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ اس نے لپک کر پوچھا ’’پھر پٹواری صاحب، میرا کام کب تک ہو جائے گا؟‘‘

پٹواری نے اسے ایک طرف لے جا کر کہا ’’تو یوں سمجھ، تیرا کام ہو چکا۔ اب یہاں آنے کی ضرورت نہیں، تجھے دو چار دن میں چٹ ڈاک سے مل جائے گی۔ تو بے فکر ہو کر لاری چڑھ جا۔‘‘ اس نے پٹواری کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہمدردی طلب کرنے کے انداز میں کہا ’’میں لاری کیسے چڑھ سکتا ہوں؟ میرے پاس اب ایک پیسا بھی نہیں رہا، پٹواری جی! اس طرح کرو، مجھے اپنے گھر کا پتا بتا دو، میں شام کو معلوم کر لوں گا۔ اگر چٹ مجھے دستی مل جائے تو بڑی مہربانی ہو گی۔ میں پیدل چلا جائوں گا۔‘‘ اسے پورا یقین تھا کہ وہ شام کو پٹواری سے واپسی کا کرایہ لے لے گا۔

پٹواری نے ایک پرچی پر اپنے گھر کا پتا لکھ کر اسے حوصلہ دیا ’’اگر چٹ مل گئی تو آج ہی دستی دے دوں گا… ویسے مجھے امید نہیں، کئی دن لگ جائیں گے۔ بابا میری مان، تو آج ہی ٹُر جا، یہاں خواہ مخواہ خجل خوار ہوتا پھرے گا۔‘‘ شام کو وہ پٹواری کے گھر گوالمنڈی پہنچ گیا۔ دیر تک دروازے کے باہر کھڑا رہا، پھر دودھ دہی والے سے پوچھا ’’پٹواری کس وقت آتے ہیں؟‘‘ اس نے جواب دیا ’’بابا سامنے بیٹھک میں اس کا بڑا بھائی بیٹھا ہے، اس سے پوچھ۔‘‘

وہ ڈرتے ڈرتے مکان میں داخل ہوا۔ ڈیوڑھی میں چند منٹ انتظار کر کے آخر اس نے بیٹھک کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ آواز آئی ’’کون ہے؟ اندر آ جائو۔‘‘ وہ کواڑ آہستہ سے کھول کر اندر چلا گیا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اسے ٹھنڈک محسوس ہوئی۔ باہر کی چلچلاتی دھوپ سے اس کا جسم پسینے سے شرابور ہو چکا تھا۔ چھت پر چلتے پنکھے کی ہوا پسینے کو لگی تو جسم ٹھنڈا لگنے لگا۔ اس نے مسکرا کر پٹواری کے ہم شکل بھائی کو غور سے دیکھا جو اسے غصے سے گھور رہا تھا۔ اس نے وہیں ٹھٹک کر سلام کر کے پوچھا ’’ابھی پٹواری صاحب نہیں آئے جی؟‘‘

پٹواری کے بھائی نے تنک کر کہا ’’جب تجھے معلوم ہے کہ وہ ابھی نہیں آئے تو مجھ سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ بابا ڈر گیا، بولا ’’میرا مطبل ہے، وہ کس وقت آئیں گے؟‘‘ اس نے کہا ’’میں نے کوئی اس کا ٹھیکا لیا ہوا ہے یا میں اس کی دم سے لگا ہوں… چل جا کے باہر بیٹھ۔‘‘ بابا بولا ’’بہت اچھا سرکار، آپ ناراض نہ ہوں۔‘‘ یہ کہہ کواڑ اسی طرح بند کر وہ چلچلاتی دھوپ میں چلا گیا۔ پٹواری کا بھائی پھر اپنے نئے ناول کی تخلیق میں مصروف ہو گیا۔ زیر قلم باب میں وہ ہیروئن کو زیادہ سے زیادہ خوب صورت بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ نصف ناول تک وہ قارئین کا دل بہلانے کے لیے ہیروئن کو چند معاشقوں کا شکار دکھلانا چاہتا تھا۔ اصل موضوع کا اظہار دوسرے نصف حصے میں ہونا تھا۔ وہ ہیروئن کو سچے پیار سے مایوس کر کے اس کا ضمیر بیدار کرنے روحانی سفر پر بھیجنا چاہتا تھا۔ اس سفر کے دوران وہ نرس بن کر مختلف دیہات میں رہ کر سیدھے سادھے کسانوںکی خدمت کرے گی۔ عرصہ دراز تک ان لوگوں میں زندگی گزارنے کے بعد جب وہ واپس شہر آئے گی، تو اس کے سارے گناہ دھل چکے ہوں گے۔

غرض پہلا نصف بال بچوں کی روٹی اور دوسرا نصف حصہ فن کے لیے مخصوص تھا۔ بابا باہر گیا، تو اس نے دوبارہ قلم اٹھایا، خیالات جمع کیے اور آخری سطر پر توجہ مرکوز کی۔ وہ ہیروئن کی خوبصورتی ابھارنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اظہار کو شرافت کی حدود میں رکھنے والے الفاظ کی تلاش میں اس نے آنکھیں میچ لیں۔ تصّورات بہت دور دور تک گئے۔ لیکن حسب منشا صحیح الفاظ نہ ملے۔ ہاں لفظوں کے اندر سے ایک عجیب و غریب چہرہ نمودار ہوا۔ لمبی سفید ڈاڑھی، موٹی موٹی جھریاں، آنکھوں میں سدا مسکراتی سادگی، بھولا بھالا چہرہ، سر پر پگڑی، ستر پچھتر برس کی عمر اور سکون دینے والے انداز میں ایک میٹھا بول ’’بہت اچھا سرکار، آپ ناراض نہ ہوں۔‘‘
وہ قلم ہاتھ سے چھوڑ کر دوڑا دوڑا اوپر گیا اور جاتے ہی دہاڑنے لگا ’’تم لوگوں نے آخر مجھے کیا سمجھا ہوا ہے۔ دن رات میری یہی ڈیوٹی رہ گئی ہے کہ پٹواری صاحب کی اسامیوں کا استقبال کرتا رہوں۔‘‘

ماں نے پوچھا ’’آخر ہوا کیا؟‘‘ بولا ’’صبح سے تین آدمی آ چکے۔ میرے کام کے لیے تنہائی اشد ضروری ہے، وقت پر پیسا نہیں ملتا‘ تو پھر تم چیختی ہو۔‘‘ بیوی نے ذرا سمجھانے کے لیے کہا ’’آدمی تو آئیں گے۔ جب انھیں یہاں کام ہوتا ہے، تو وہ یہیں آئیں گے، کہیں اور کیسے چلے جائیں؟‘‘ اس نے اپنے بال نوچ لیے ’’اف، میں بہت غلط گھر پیدا ہو گیا۔ ادیبوں کو پٹواریوں کے گھر پیدا نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ ماں نے بہت آہستہ گویا اپنے آپ سے کہا ’’ایسے ادیبوں سے پٹواری اچھے۔‘‘

اسے جیسے آگ سی لگ گئی، چیخا ’’تم تو اس کی حمایت کرو گی ہی، کیونکہ وہ تمھیں روٹی دیتا ہے… دیکھو میں بتائے دیتا ہوں‘ آئندہ نہ تو میرے نام سے کوئی منی آرڈر آئے اور نہ کوئی شخص میری بیٹھک میں گھسے، بس بہت لحاظ ہو چکا۔ بھلا غضب خدا کا، منی آرڈر بھی میرے نام سے منگواتا ہے لاٹ صاحب کا بچہ، اگر کبھی حکومت کو پتا چلا، تو جیل میں جائوں گا، میری شہرت کرکری ہو جائے گی… میں اس حرامزادے کا سر پھاڑ دوں گا… اس کی شکایت کر دوں گا میں… وہ کچھ اور کہنے والا تھا کہ اسے محسوس ہوا‘ اس کی بات یہاں کون سمجھے گا۔ وہ غصہ دبا کر نیچے چلا آیا۔ یہ بڑی عجیب بات ہوئی کہ آتے وقت زینے میں اُسے حسن کے بیان کو شرافت کی حدود میں رکھنے والے بے شمار الفاظ مل گئے۔ مگر اب یہ الفاظ قلم بند کرنا ممکن نہ تھا کیونکہ اس کی کرسی پر پٹواری صاحب بڑے حاکمانہ انداز میں بیٹھے تھے۔ سامنے کرسی پر ان کی اسامی دراز تھی جو دس روز سے مقامی ہوٹل میں ٹھہری ہوئی تھی۔ دونوں بوتلیں پی رہے تھے۔ ناول نویس اس وقت ٹہلنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ ٹہلنے سے خیالات بھٹک جاتے تھے۔

ابھی ابھی زینے اترتے وقت جو خوش نما خیالات پکڑ کر لایا تھا، وہ انھیں بکھرنے سے بچانے کے لیے ایک کرسی پر اکڑوں بیٹھ گیا۔ پٹواری صاحب نے اس کے ناول پر ایک نگاہ غلط انداز ڈالی پھر مسودہ اٹھا ساتھ والی میز پر یوں بے نیازانہ پھینک دیا جیسے یہ واہیات چیز ہمارے حضور کس لیے رکھی گئی؟ ناول نویس نے زمین پر گرے چند اوراق اٹھا باقی پلندے کے ساتھ بڑے پیار سے ہموار کیے اور بھائی کے لیے اپنی نفرت ظاہری معصومیت تلے دبا کر بیٹھ گیا۔

بوتل ختم کرنے کے بعد پٹواری صاحب نے اپنا صندوقچہ نکالا جس میں ہر نمونے اور رنگ کی سیاہیاں تھیں۔ مختلف نبوں کے قلم تھے اور سیاہی مٹانے والی سفیدی بھی۔ پہلے اس نے ایک ایک ورق خوب کھڑکھڑاتے ہوئے اسامی کی مسل آہستہ آہستہ کھولی۔ پھر مسل میں اصل کلیم فارم آنے پر زور سے ایک دو ہتڑ جمایا اور بولا ’’ابھی تیرا تیاپانچا کر دیا جائے گا۔‘‘ پھر سیاہی مٹانے والی شیشی میں سے موقلم نکالا اور کلیم فارم پر سے الفاظ اور ہندسوں میں لکھے ’’تین سو ایکڑ‘‘ سفیدے سے مٹانے لگا۔

ناول نویس کا جی چاہا بغاوت کر کے صاف صاف اعلان کر ڈالے کہ اس مقدس کرسی سے انسانی فلاح کے خیالات کی اشاعت ہوتی ہے۔ اس پر بیٹھ کر گناہ نہیں کیا جا سکتا۔ پٹواری نے سفیدہ خشک ہو جانے کے بعد اسامی کے اپنے ہاتھ سے کلیم فارم کی اصل سیاہی کے عین مطابق ’’تین ہزار ایکڑ‘‘ الفاظ میں لکھوائے اور ہندسوں میں بھی، پھر مسل بند کر دی۔ اسامی کا ہاتھ خودبخود اچکن کی جیب میں پہنچا۔ نوٹوں کا بنڈلپٹواری کو پیش کرتے ہوئے اس نے کہا ’’باقی رقم اس وقت جب تحریری پروانہ ملے گا۔‘‘

پٹواری نے وہ نوٹ ناول نویس کو تھماتے ہوئے کہا ’’والدہ کو دے دینا، اپنی طرف سے۔‘‘ ناول نویس نے نوٹ میز کے کونے پر رکھ اوپر اپنا رنگین پیپر ویٹ رکھ دیا۔ اسے معاً احساس ہوا کہ یہ پیپر ویٹ ناول کے اوپر رکھا جاتا ہے۔ اس نے شیشے کا گولہ وہاں سے ہٹا کر چھوٹی میز پہ اپنے ناول پر رکھ دیا۔ اسامی کے باہر نکلتے ہی پٹواری نے میز پر سے نوٹ اٹھائے اور بھائی کی ناک کے پاس لہرا کر بولا ’’تم دس برس سے کما رہے ہو، کیا کبھی اتنی رقم دیکھی؟ میں نے یہ دس منٹ میں کمائے ہیں۔‘‘

ناول نویس نے چھوٹے بھائی کی طرف دیکھتے ہوئے غصے اور نفرت کو مسکراہٹ میں چھپا لیا اور بولا ’’بھئی مجھے کیا دکھاتے ہو، خدا تمھیں اور دے۔‘‘ پٹواری نے برجستہ کہا ’’دعا جل کر نہ دو، دل سے دو۔‘‘ ناول نویس چڑ گیا‘ مگر فوراً بھائی کا روپ اختیار کر لیا، کہنے لگا ’’دیکھو، میں صرف ایک بات کہتا ہوں۔ یہ درست ہے کہ تمھارے پیشے کی روایت ہی یہ ہے کہ تمھیں بالائی آمدنی ہو، کمائو خوب کمائو، لیکن غریبوں کا کام جہاں تک ہو سکے، مفت کر دیا کرو، وہ بوڑھا شخص جو…‘‘ پٹواری بات کاٹتے ہوئے بولا ’’میں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے تھے یا میں اسے گھر سے بلا کر لایا تھا؟‘‘ ناول نویس بوڑھے پر ترس کھاتے ہوئے بولا ’’پھر بھی وہ بھولا آدمی ہے، سادہ ہے۔‘‘ پٹواری بولا ’’بھولا نہیں احمق اور جاہل ہے۔ جہالت کی اسے ضرور سزا ملنی چاہیے۔ اس بے وقوف کو پٹواری نے بہکا دیا۔ بھلا اس کی مسل کا لاہور میں کیا کام؟ مسل ہو گی تو اول گائوں میں پٹواری کے پاس ہو گی ورنہ زیادہ سے زیادہ تحصیل فیصل آباد میں۔ پٹواری خود کھانا چاہتا ہے۔ اسی نے چٹ جاری کی ہے۔ جان بوجھ کر اس نے باپ کا نام غلط لکھا۔ اب فصل کٹنے کا موقع آیا تو اسے دڑبڑا دیا اور یہ گدھا سیدھا یہاں چلا آیا۔‘‘
ناول نویس نے کہا ’’مگر تمھیں تو اسے سیدھا راستہ دکھانا چاہیے۔ اگر تم نے اس سے کچھ لیا ہے‘ تو وہ واپس کر دو۔‘‘

پٹواری بولا ’’تم بیٹھ کر اپنا ناول لکھو اور اگرایسے ہی رحم دل ہو‘ تو اپنی جیب سے ادا کر دو۔‘‘ پٹواری بیٹھک سے نکل ہی رہا تھا کہ بابا آ گیا۔ پٹواری نے اس سے کہا ’’بابا تیرا کام ہو گیا۔ آج چٹ ڈاک سے بھیج دی۔ تجھے ایک دو روز میں مل جائے گی‘ جا موج اُڑا۔ سیدھا پنڈ پہنچ جا نہیں تو چٹ گم ہو جائے گی۔‘‘ بابا بولا ’’بڑی بڑی مہربانی جی‘ بڑی بڑی مہربانی، خدا وند کریم تیرا رُتبہ اور بلند کرے۔‘‘ پٹواری دعائیں لے کر اوپر گیا، تو ناول نویس نے بابا کو اندر بیٹھک میں بلا کر کہا ’’بابا، ابھی تیرا کام نہیںہوا۔ یہ سخت جھوٹا آدمی ہے، اس کے دھوکے میں نہ آنا۔‘‘ ناول نویس پھر خود بھی بیٹھک بند کر میکلوڈ روڈ کا ایک چکر لگانے چلا گیا۔ بابا عشا کی نماز پڑھنے مسجد چلا آیا۔ نماز کے بعد جب سارے نمازی رخصت ہوئے‘ تو مسجد میں فقط دو آدمی رہ گئے، ایک موذن اور ایک وہ خود۔ موذن نے صفیں سمیٹ مسجد کے ایک گوشے میں رکھ دیں اور قمیص اتار پنکھا ذرا تیز کر کے روٹی کھانے بیٹھ گیا۔ محلے سے اللہ واسطے کے نام کی آئی ہوئی روٹیاں اس کے سامنے تھیں اور ایک بڑا تانبے کا بغیرقلعی پیالہ جس میں کوفتے، آلو گوشت، قیمہ، دال اڑو، دال مسور اور ترکاریاںمل جل کر عجب وضع کا سالن بن گئی تھیں۔ بابا پانچ گز پرے فرش پر لیٹا بار بار لالچی نظروں سے موذن کی طرف دیکھ رہا تھا۔ موذن بچے کھچے دانتوں سے روٹی چبانے کی کوشش کرتے ہوئے چپڑ چپڑ کرتے وقت آنکھیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھتا‘ تو اسے محسوس ہوتا کہ بس اب وہ کہنے ہی والا ہے ’’آئو بابا جی روٹی کھائو۔‘‘

اُسے اتنی شدید بھوک لگی ہوئی تھی کہ وہ موذن کے رسمی فقرے کا بری طرح انتظار کر رہا تھا۔ آدھ گھنٹے کی مسلسل کاوش کے بعد جب موذن سے ساری روٹیاں نہ کھائی جا سکیں، تو اس نے پیالہ اٹھایا اور سارا سالن منہ لگا کر پی گیا۔ باقی روٹیاں دسترخوان میں لپیٹ الماری میں رکھنے لگا، تو بابا نے کہنا چاہا، مولوی صاحب ایک روٹی مجھے دے دو، سخت بھوکا ہوں، مگر وہ کچھ بھی نہ کہہ سکا۔ موذن نے الماری کو تالا لگا کر تالاب کے پانی سے ہاتھ دھوئے، کچھ پانی اپنے سر پر ڈالا اور عین پنکھے کے نیچے آ کر لیٹ رہا۔ بابا اپنی جگہ سے اٹھا اور موذن کے قریب ہی پنکھے کے نیچے لیٹنے لگا، تو وہ فوراً بولا ’’یہاں مسافروں کو ٹھہرنے کی اجازت نہیں۔‘‘ بابا بولا ’’ہمارے گائوں میں کوئی مسافر آئے، تو ہم اسے مہمان سمجھ کر روٹی کھلاتے ہیں اور وہ مسجد میں سوتا بھی ہے۔‘‘

موذن نے برہم ہو کر کہا ’’یہ شہر ہے بابا، گائوں نہیں۔‘‘ بابا اٹھا اور پٹواری والے مکان کے سامنے بنی دکانوں کے تھڑے پر لیٹ گیا۔ قیامت کی گرمی پڑ رہی تھی۔ ہوا بالکل رکی ہوئی تھی۔ دن بھر کی تپتی زمین سے جھلسے بخارات نکل رہے تھے۔ وہ جلتے ہوئے تھڑے پہ لیٹا، کروٹیں بدلتا سوچ رہا تھا کہ چٹ ملتے ہی زمین پر اس کا قبضہ ہو جائے گا۔ یہ کھڑی فصل بھی اسے مل جائے گی۔ اسے قبضہ اور فصل ملنے کی اتنی خوشی نہیں تھی جتنا اس بات پہ فخر کہ وہ بھی زمین والا ہو جائے گا۔ زندگی بھر وہ تیرے میرے کی زمین جوتا رہا اور اب اس کے پاس زمین ہو گی۔ وہ کوشش کرے گا کہ اس کے مرنے کے بعد دونوں پوتروں میں زمین تقسیم نہ ہو بلکہ مل جل کر کاشت کریں، کھائیں کمائیں۔ شدید بھوک اور گرمی کے باوجود اس کے تصورات میں بس اپنا ہونے والا کھیت بسا ہوا تھا۔

پگڈنڈی پہ اونچی پلیا پر کھڑے ہوں تو سامنے شہتوت کے درخت تک اور دائیں ہاتھ رانا صاحب کے کنویں اور بائیں ہاتھ راجباہے تک! تھوڑی دیر بعد اسے کسی نے جگایا، کوئی اس سے سرگوشی میں کہہ رہا تھا ’’بابا! ابھی ترا کام نہیں ہوا، یہ سخت جھوٹا آدمی ہے۔ اس کے دھوکے میںنہ آنا۔‘‘ وہ ساری رات اسی طرح انگاروں پر لوٹتا رہا۔ دوسرے دن نماز فجر پڑھتے ہی وہ دیوسماج کے دروازے پر جا بیٹھا۔ رفتہ رفتہ اپنی اپنی زمینوں کے قضیے چکانے والوں کا ہجوم ہو گیا۔ دیوار کے ساتھ ساتھ بیسیوں عرضی نویس اپنے اپنے کام میں مصروف ہو گئے۔ وہ کبھی عرضی نویسوں کے پاس دیوار کا سہارا لے کر بیٹھتا، کبھی ہجوم میں غائب ہو جاتا۔ پٹواری باہر آتا تو لوگوں کی اوٹ میں ہو جاتا، وہ اس پر اپنی موجودگی ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ کیونکہ اس نے تو کل ہی کہہ دیا تھا کہ چٹ ڈاک سے بھیجی جا چکی۔ پھر بھی پٹواری کے بھائی کی بات سن کر وہ سچ اور جھوٹ میں سے ایک کی تصدیق چاہتا تھا۔ دفتر بند ہونے سے ایک گھنٹا پہلے ایک نیلی دھوتی والا پٹواری اس کے پاس آیا اور بولا ’’بابا پریشان کیوں ہے؟‘‘

بابا نے سارا ماجرا سنایا۔ ساتھ ہی وہ کاغذ بھی دکھایا جس پر کل والے پٹواری نے اپنے گھر کا پتا لکھا تھا۔ آج کا پٹواری بات کی تہ تک پہنچ گیا۔ وہ عرصے سے سفید قمیص پتلون والے پٹواری کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت فراہم کرنے کی فکر میں تھا۔ اس نے ایک عرضی نویس سے اس مفہوم کی درخواست لکھوائی کہ جناب تحصیل دار صاحب، آپ کے فلاں پٹواری نے مجھ غریب و نادار پردیسی پناہ گزین کے اتنے پیسے ہتھیا لیے ہیں۔ مہربانی کر کے اس کے خلاف کارروائی کی جائے اور میرے پیسے واپس دلائے جائیں۔ درخواست کے آخر میں اس نے بابا کا انگوٹھا لگوایا۔ پھر اسے اپنے ساتھ اندر لے جانے لگا تاکہ وہ تحصیل دار کی خدمت میں بہ نفس نفیس حاضر ہو کر درخواست پیش کر دے۔

بابا نے کہا ’’پٹواری جی میں ایسا نہیں کروں گا، شریعت میں ہے کہ آدمی کو تین مرتبہ مہلت دو۔ اگر اس نے کل تک میرا کام نہ کرایا یا پیسے واپس نہ دیے‘ تو میں حاضر ہو جائوں گا۔ میں بہت خراب آدمی ہوں، جھوٹے آدمی کو ننگا کر دیتا ہوں۔ میں اسے چھوڑوں گا نہیں، کل شکایت کروں گا۔‘‘ یہ کہہ کے اس نے درخواست تہ کر اپنی جیب میں رکھ لی۔ دفتر بند ہونے کے بعد وہ کافی دیر دیوسماج کے باہر بیٹھا رہا۔ سب لوگ چلے گئے، عرضی نویس بھی آہستہ آہستہ غائب ہو گئے۔ اس نے اپنے آپ سے کہا ’’اچھا بچہ، شام کو توگھر آئے گا ہی، وہاں پکڑوں گا۔‘‘ وہ چلچلاتی دھوپ میں ایک ایک موڑ پر لوگوں سے پتا پوچھتاگوالمنڈی کی اسی گلی میں پہنچ گیا۔ بہت دیر تک تھڑے پر بیٹھا رہا، جب دھوپ اس کی ٹانگوں تک آ گئی، تو وہ اٹھا اور مسجد چلا گیا۔ ابھی نماز عصر میں پندرہ منٹ باقی تھے۔

وہ پگڑی فرش پررکھ تالاب کے کنارے جا بیٹھا۔ پہلے اس نے اپنی ٹانگیں ٹھنڈی کیں، پھر سر کے بال بھگوئے۔ موذن اذان دینے منار پر چڑھا، تو اس نے وضو شروع کیا۔ ہاتھوں پر تین مرتبہ پانی ڈالنے کے بعد منہ صاف کیا، غرارے کیے۔ تیسری مرتبہ پانی منہ میں ڈالا، تو بجائے کلی کرنے کے نگل گیا۔ ٹھنڈے ٹھنڈے پانی نے سینہ تر کر دیا۔ پھر تو وہ دونوں ہاتھوں سے چلو بھر بھر کے غٹا غٹ پانی پینے لگا۔ طبیعت کچھ سنبھل رہی تھی۔ جب بالکل ہی گنجائش نہ رہی تو اس کی گردن آپ ہی آپ اوپر کو اٹھی۔ اس نے زور کی لمبی ڈکار لی، منہ میں پکوڑوں کا مزا آ گیا۔ بولا، ’’سبحان اللہ، سبحان اللہ‘ بھوک بھی کیسی عجیب شے ہے۔‘‘ پھر نئے سرے سے خوشی خوشی ہاتھ دھوئے اور وضو مکمل کیا۔

نماز پڑھ کر وہ ناول نویس کی بیٹھک کے آس پاس ٹہلنے لگا۔ اس وقت وہ بڑے غصے میں تھا۔ وہ جلد از جلد پٹواری کو پکڑ کر دو ٹوک فیصلہ چاہتا تھا۔ کبھی گلی کے موڑ پر دیکھتا، کبھی بیٹھک کی کھڑکی میں سے پٹواری کے بھائی کو گھورتا۔ ناول نویس اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر مشتعل تو نہ ہوا، مگر خیالات کی ڈوری اس کے ہاتھ سے نکل گئی۔ آج کے باب میں وہ ہیروئن کو پہلے عاشق کے ساتھ پہلی بار شہر کے معروف باغ میں لے گیا۔ رات ہو چکی تھی۔ سیروتفریح کے لیے آئے جوڑے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے خراماں خراماں باغ کے اندرونی اجاڑ حصے کی طرف جا رہے تھے۔ ہیرو نے اپناہاتھ ہیروئن کے کندھے پر رکھا ہی تھا کہ ناول نویس کو بابا کی شکل نظر آ گئی۔ اسے غصہ یوں نہیں آیا کہ اس وقت بابا کی شکل اسے اچھی لگی۔ وہ ہیرو اور ہیروئن کو اب ایک درخت کے نیچے بٹھانا چاہتا تھا۔ پھر ایسے رومانی جملے لکھتا کہ ناشر انھیں پسند کرے اور اس کا ضمیر بھی مطمئن رہے۔
اس نے ناول بند کر الماری میں رکھا۔ اوپر گیا۔ جلدی جلدی منہ ہاتھ دھو کر کپڑے تبدیل کیے اور نیچے اترا۔ بابا نے آگے بڑھ کر پوچھا ’’پٹواری صاحب کس وقت آئیں گے بابو جی۔‘‘

جواب دیا ’’بس آتے ہی ہوں گے۔‘‘ اس نے پھر غور سے بابا کی طرف دیکھا‘ تو اسے اپنے دل میں ہمدردی سی محسوس ہوئی۔ اس نے بیٹھک سے چھوٹی چارپائی نکال دیوار کے سائے میں بچھائی اور بولا ’’بابا لیٹو‘ بیٹھو‘ آرام کرو۔‘‘ بابا نے بے حد ممنویت کے ساتھ کہا ’’بڑی بڑی مہربانی جی، بڑی بڑی مہربانی۔‘‘ ناول نویس کو شدید جذبات سے بھرا جملہ سن کر عجیب و غریب خوشی محسوس ہوئی۔ وہ پھر میکلوڈ روڈ کے اس ہوٹل میں پہنچا جہاں شام کے وقت ہم عصر ادیب چائے پیتے تھے۔ ہوٹل پہنچا‘ تو حسب معمول ادیبوںکا دل پسند موضوع چھڑا ہوا تھا‘ یہی کہ ہمارے ملک میں بے حد غربت ہے، بھوک ہے، بیماری ہے، جہالت ہے۔ وہ خاموش بیٹھا ادیب بھائیوں کے پرجوش دلائل سنتا رہا۔ اقتصادی نظام میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ سرمایہ داروں سے ساری دولت چھین کر مزدورں اور کسانوں میں تقسیم کر دینی چاہیے۔ دولت کے وسائل کی مساوی تقسیم کے بغیر ملک میں خوش حالی نہیں آ سکتی۔ وغیرہ وغیرہ۔

اچانک اسے دورہ سا پڑا اور بجلی سی آنکھوں کے آگے کوند گئی۔ بابا کی بھولی بھالی صورت سے اس کا تصور عکس کھا کر ملک کے کھیتوں، جنگلوں اور پہاڑوں میں چلا گیا۔ دور دور تک پھیلے کھیتوں کے سلسلے اور ان میں کام کرتے لاکھوں مرد ‘ عورتیں اور بچے! اس نے جھرجھری لی اور اپنے آپ سے کہا ’’یہ کتنا اچھا ہو، اگر میری ہیروئن نرس بن کر جگہ جگہ دیہات میں پہنچے، تو وہ اقتصادی انقلاب کے بارے میں میرے خیالات کی علامت بن جائے گی۔ کھیتوں سے زیادہ پیداوار کم سے کم محنت میں حاصل کرنے کے لیے وہ میرے نظریات کی تبلیغ کرے۔‘‘

مگر اسے فوراً اپنی اس کمزوری کا احساس ہوا کہ آج تک اس نے کھیت نہیں دیکھے تھے۔ ایک سے دوسرے شہر جاتے وقت گاڑی کی کھڑکیوں میں سے تو کھیت نظر آتے لیکن سچ مچ کے جیتے جاگتے کھیتوں میں، جن کے اندر سے آدمی کا رزق نکلتا ہے، اس نے آج تک چل کر نہیں دیکھا تھا۔ اسے خیال آیا کہ بابا سے تعلق قائم کیا جائے۔ ’’دو چار دن اس کے گائوں رہنے سے میں دیہی زندگی کے مسائل کا مشاہدہ کر سکوں گا۔ اپنی آنکھوں سے دیکھوں گا کہ سوکھی مٹی دانہ گندم مل جانے سے گل و گلزار کس طرح ہوتی ہے۔ پھر ناول میں ہیروئن کی نصف زندگی دیہی شفا خانوں ہی میں بسر ہونی ہے۔‘‘

وہ بڑے بے ہنگم انداز میں اپنے ہم عصر ادیبوں سے ہاتھ ملا کر جلدی جلدی گھر واپس آیا۔ بابا سر کے نیچے پگڑی اور دونوں ہاتھوں کا تکیہ بنائے چار پائی پر لیٹا تھا۔ ناول نویس اس کے قریب گیا، تو بابا احتراماً اُٹھ کر بیٹھ گیا۔
بابا نے پوچھا ’’کیوں بابو جی، پٹواری صاحب کس وقت آئیں گے؟ رات ہو گئی ہے،اب تک تو آئے نہیں۔‘‘ ناول نویس بولا ’’اوہو مجھے یاد آیا بابا، وہ آج نہیں آئے گا۔ آج ہفتہ ہے۔ وہ ہفتے کی رات اپنے یار دوستوں کے ساتھ رہا کرتا ہے۔ کل صبح آئے گا۔‘‘ بابا بالکل مایوس ہو گیا ’’یہ تو بہت بری بات ہوئی۔ اب کیا ہو گا۔‘‘ ناول نویس نے ترس کھا کر پوچھا ’’میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائو۔‘‘

بابا تڑپ کر بولا ’’ظالمو، خدمت کیا ہونی ہے‘ مجھے روٹی تو کھلا دو، یہ شہر کیسا ہے، یہاں کے لوگ کیسے ہیں؟ دو دن سے بھوکا پھر رہا ہوں۔ تیرے بھائی نے میرا ایک ایک پیسا چھین لیا۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں اتنی بھوک نہیں اٹھائی۔ ساٹھ برس اپنے ہاتھ سے ہل چلایا ہے۔ اور دیکھ لے کہ میں دنیا کا سب سے غریب آدمی ہوں، پر مجھے دو وقت کی روٹی ہمیشہ ملتی رہی۔ دو دن میں کبھی بھوکا نہیں رہا۔ روٹی کا ٹکڑا تو کتے کو بھی دے دیتے ہیں۔‘‘

ناول نویس کو ایک دم جھٹکا لگا۔ وہ چکرا گیا اور پھر دوڑتا ہوا اوپر گیا۔ اجلے دستر خوان میں چھے روٹیاں رکھیں‘ اس خیال سے کہ دیہاتیوں کا پیٹ بڑا ہوتا ہے۔ پلیٹ میں سالن ڈلوایا۔ شیشے کے گلاس میں پانی لیا اور یہ سب چیزیں صاف ستھری ٹرے میں سجا کر نیچے اترنے لگا۔ زینے کے اندھیرے میں اسے محسوس ہوا کہ قدرت اپنا انتقام ترت لے لیتی ہے۔ کل جس شخص کو میں نے جانوروں کی طرح دھتکار دیا تھا، آج اسی کے لیے وہ کھانا لیے جا رہا تا۔ اور کھانا بھی کیا، رشوت کی کمائی سے خریدی ہوئی گندم اور سبزی ! ایک آنسو اس کی آنکھ سے ٹپکا اور اندھیرے میں کہیں گم ہو گیا۔

اس نے ٹرے بابا کے سامنے رکھی۔ بابا نے جلدی سے دستر خوان کھول کر اوپر کی روٹی اٹھائی۔ دستر خوان اسی طرح لپیٹا اور ٹرے ناول نویس کی طرف سرکا کر بولا ’’بس بابو جی، میں نے اپنی قسمت کا حصہ لے لیا۔‘‘ پھر ایک نوالہ توڑا اور پوپلے منہ میں گھلانے لگا۔ سامنے والے کھمبے کی روشنی میں ناول نویس نے اس کی آنکھوں میں کچھ تڑپتے ہوئے دیکھ کر محسوس کیا کہ وہ صدیوں سے بھوکا تھا۔ بابا نے دوسرا نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا ’’مجھے اس وقت روٹی نہ ملتی تو شاید صبح تک مر جاتا۔ بڑی سخت بھوک لگی تھی۔ اپنی زندگی میں اتنی بھوک نہیں دیکھی۔‘‘

ناول نویس نے سالن کی پلیٹ اس کے قریب کرتے ہوئے پیار کے ساتھ کہا ’’بابا، سالن سے کھائو۔‘‘ بابا نے پلیٹ اٹھا کر پھر ٹرے میں رکھ دی۔ ناول نویس نے اصرار کیا ’’لو نا بابا، تکلف نہ کرو، اسے اپنا گھر سمجھو۔‘‘ بابا بولا ’’نہ بابو تیرے سالن سے روٹی نہ کھائوں گا، اس میںتیرا نمک ہے۔ اگر میں نے یہ نمک کھا لیا، تو پھر میں اس گھر کے خلاف شکایت نہیں کر سکتا۔ روٹی کی بات اور ہے،یہ خدا کی دی ہوئی چیز ہے۔ میں نے مانگ کر کھا لی۔ سالن انسان کی بنائی چیز ہے۔ اور یہ میں بتا دوں بابو، تیرے بھائی کی شکایت ضرور کروں گا، چھوڑوں گا نہیں، اس نے مجھے ستایا ہے، میں اسے ستائوںگا۔‘‘

ناول نویس بالکل نئی دنیا میں داخل ہو رہا تھا… نئی بصیرت، نیا شعور جہاںانقلابی تبدیلی پیدا کرنی ہے، وہ کھیت یا جنگل نہیں، انسان کا دل ہے۔ روٹی کی اصل قیمت کا اسے علم ہوا۔ اس کے سارے نظریات خیالات بکھر گئے۔ آدھی رات تک وہ اوپر والے کوٹھے پر بے قراری سے ٹہلتا رہا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ میں اپنی کہانیوں میں ایسا کردار کبھی تخلیق نہیں کر سکتا جس میں اتنی عظمت ہو اور جب میں ایسا نہیں کر سکتا تو پھر کہانیاں لکھنے سے کیا فائدہ؟ روٹی تو میں کوئی اور پیشہ بھی اختیار کر کے کما سکتا ہوں جس میں محنت بھی کم اٹھانی پڑے گی۔ میں کہانی لکھنے کے سوا دنیا کا اور کوئی کام نہیں کر سکتا مگر روٹی کمانے کے لیے اپنے کرداروں کو پست سطح پر لے جانا حد درجہ کمینگی ہے۔ اگر میں ناول نویسی ترک بھی کر دوں تو پھر…
وہ اس قسم کی ذہنی کشمکش میں مبتلا تھا، نیچے بابا جمال اپنی چارپائی پر لیٹا کروٹیں بدل رہا تھا۔ گلی میں چار پانچ چارپائیاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بچھی ہوئی تھیں۔ چوکیدار تھوڑی تھوڑی دیر بعد لاٹھی ٹیکتا بابا کے قریب سے گزرتا اور گلی کے دوسرے کونے پر جا کر واپس لوٹتا۔ ہر بار اسے یوں محسوس ہوتا کہ بابا اسے روک کر کچھ کہنا چاہتا ہے۔ وہ آتا اور گزر جاتا۔ ایک دفعہ وہ قریب آ رہا تھا تو بابا اٹھا۔ اس نے پگڑی باندھی، پرانی جوتیاں پہنیں، چارپائی پٹواری کی دیوار کے ساتھ کھڑی کی اور جیب سے اس کی شکایت نکال کر پھاڑنے لگا۔

چوکیدار نے قریب آ کر پوچھا ’’بابا کیا بات ہے؟‘‘ بابا نے بڑی بے پروائی سے جواب دیا ’’کوئی بات نہیں۔‘‘ چوکیدار اپنا سا منہ لیے گلی کے دوسرے سرے تک بڑھتا چلا گیا۔ بابا شکایت کے ننھے ننھے پرزے کرتا رہا۔ واپسی پر چوکیدار اس کے برابر سے گزرا‘ تو بابا نے کہا ’’چوکیدار! یہ منجی پٹواری صاحب کی ہے، میں نے تجھے سونپی‘ صبح اس کو حفاظت سے دے دینا۔‘‘ پھر اس نے منہ اٹھا کر دروازے کو مخاطب کیا ’’اچھا پٹواری صاحب، ہم نے اپنا معاملہ خدا کو سونپا۔‘‘
یہ کہہ کر وہ گوالمنڈی سے نکل کر میو اسپتال کے چوک میں آ گیا۔ پھر تانگے والوں سے پتا پوچھتا بڈھے دریا کے پل پر نکل آیا۔ وہاں سے سیدھا راوی کے پل پر پہنچا۔ پھر شاہدرے کے موڑ پر چائے والے سے پوچھ کر فیصل آباد جانے والی سڑک پر ہو لیا۔ آہستہ آہستہ وہ بڑھتا گیا۔ چاروں طرف ہو کا سناٹا تھا۔ قیامت کی گرمی اور غضب کا اندھیرا تھا۔ سڑک کے دونوں طرف اونچے اونچے، کالے کالے درخت تھے۔ درختوں سے پرے دور دور تک کھیتوں اور باغوں کے سلسلے پھیلے تھے، نہریں اور جھیلیں تھیں۔ پہاڑ اور دریا تھے، قصبے اور بستیاں تھیں، مگر بابا کو اندھیرے میں کچھ بھی نظر نہ آ رہا تھا، سوائے اپنے ہونے والے کھیت کے!

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s