اندھیرے کی لکیر

میں اجازت لینے آگے بڑھا، تو اس نے میرا ہاتھ دبا کر مجھے ایک لفظ کہنے کا موقع دیے بغیر اپنے قریب روکا اور دوسرے مہمانوں سے مصافحے کرنے میں مصروف ہو گیا۔میری زندگی میںاتنی مکمل اور ایسی حسین شام پہلی مرتبہ آئی تھی۔ حسن اور زندگی، رنگ اور نور، نغمہ اور آہنگ، ان سب کا امتزاج تھی وہ شام! گلرنگ و گلبہار چہرے، دلوں کو شادابی اور تازگی جس سے میسر ہو وہ تبسم، وہ شام کیا تھی یوں سمجھ لیجیے کہ ایک مرصع غزل تھی۔ ایک جلتی دوپہر کی شام ایسی تابندگی اور صباحت کی ردا اُڑھا دینے کا سہرا میرے دوست کے سر تھا۔

لوگ ایک ایک کر کے جاتے رہے۔ رنگ بکھرتے گئے، مسکراہٹیں کم ہوتی گئیں۔ رات کے سائے پھیلتے گئے۔ روشنی سمٹتی رہی۔ سکوت ترنم پر حاوی ہوتا رہا۔ میں گھبرا گیا۔ میں اس خوبصورت شام کا ایسا انجام دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔ چناںچہ اپنے دوست سے کہا ’’میرے پاس وہ لفظ نہیں جن سے میں تمھارا شکریہ ادا کر سکوں۔ تم نے میرے تصور کی ایک جیتی جاگتی تصویر مجھے دکھا دی۔

میں صرف دعا ہی کر سکتا ہوں کہ تم ترقی کی اور منزلیں طے کرو تاکہ میں کچھ اور ان دیکھی حقیقتوں سے آشنا ہوسکوں… اور…‘‘ مگر میرے دوست نے مجھے آگے کچھ کہنے سے روک دیا، بولا ’’لفظوں سے نہ کھیلو۔ تم دوسرے لوگوں سے مختلف ہو۔ میرے درد کو سمجھو۔‘‘ اس نے جس طرح یہ جملہ ٹھہر ٹھہر کرادا کیا، میں اس سے متاثر ہونے کے بجائے ہنس دیا۔ ’’ہنسو مت، میں تمھیں ابھی اپنی کہانی سنائوں گا، تو پھر تم مسکرا بھی نہ سکو گے۔‘‘

اس شام کی گدگداہٹ سے ابھی تک میرے ہونٹوں پر تبسم کی لکیریں پھیلی ہوئی تھیں۔ میں فی الحال کوئی ایسی بات نہیں سننا چاہتا تھا جسے سن کر مسکرا بھی نہ سکوں۔ چناںچہ دوست کے اس جملے کو بھی تمسخر کے انداز میں اُڑا دیا۔ کہا ’’تم ایک بینک منیجر ہو۔ اگر کوئی فراڈ وغیرہ ہو گیا ہے تو خود ہی ایک جاسوسی ناول لکھ ڈالو، تمھارے اکائونٹ میں چند ہزار روپے کا اضافہ ہو جائے گا۔‘‘ اس نے میری بات سنی ان سنی کر دی۔ آخری مہمان کو بھی رخصت کرنے کے بعد وہ مجھے سجے سجائے ڈرائنگ روم میں لے جا کر بیٹھ گیا۔ اور بولا ’’تم شہلا کو جانتے ہو؟‘‘
’’شہلا۔‘‘

’’ہاں۔ وہی جو…‘‘
’’سمجھ گیا۔ اچھی طرح جانتا ہوں۔ سیٹھ فرقان علی کی بیٹی جو کالج میںاپنی جہاز جیسی بڑی کار لیے آیا کرتی تھی۔ اس سے تمھارا ہلکا پھلکا رومان بھی چل رہا تھا۔‘‘
’’ہاں وہی۔‘‘
’’کیا ہوا اس کو۔‘‘
’’اس نے خودکشی کی کوشش کی تھی مگر بچ گئی۔‘‘
’’بڑے باپ کی بیٹی ہے۔ ہر نیا فیشن اپنانے والی… خود کشی بھی تو آج کل فیشن میں داخل ہو گئی ہے نا‘‘
’’بکواس نہ کرو۔‘‘ وہ نہایت سنجیدہ تھا۔
’’آخر اس نے یہ کوشش کیوں کی؟‘‘
’’اس کا ذمے دار میں ہوں۔‘‘
’’آں…‘‘حیرت سے میرا منہ کھلا کا کھلے رہ گیا۔
اس نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور بولا ’’ہاں میں۔‘‘

میں سنبھل کر اپنی جگہ بیٹھ گیا۔ چند لمحے اسے تکتا رہا۔ پھر اس سے مخاطب ہوا۔ ’’ہاں بینک منیجر صاحب۔ اب آپ اپنی کہانی سنا دیجیے۔‘‘ ’’مجھ پر طنز نہ کرو۔‘‘ اس نے بہت ہی گھٹے ہوئے لہجے میں کہا۔ ’’اس ملازمت کی خاطر میں نے اپنی زندگی کی بھرپور مسرتیں اور دائمی خوشیاں ترک کی ہیں۔‘‘ ’’یوں کہو کہ خوشیوں کو تم نے اپنی زندگی کے لیجر میں سے ڈیبیٹ کر دیا۔‘‘ میں نے مسکرا کر کہا۔ ’’اگر تم اسی قسم کی فضول گفتگو کرنے کے موڈ میں ہو تو جہنم میں جائو۔ میں کچھ نہیں سناتا۔‘‘

اس کو یوں ناراض کر دینے سے مجھے کچھ خوشی سی ہوئی۔ لیکن میں شہلا کی خودکشی کا پس منظر معلوم کرنا چاہتا تھا۔ اس کو منایا اور کہانی سنانے پر رضا مند کر لیا۔ ’’وہ بولنے لگا ’’تم جانتے ہو کہ میں نے تنک مزاج اور زود حس ہونے کے باعث والد کی ذرا سی سرزنش پر ایم۔اے کرنے کا ارادہ ملتوی کر دیا تھا۔ پھر ملازمت ڈھونڈتا رہا۔ آخر مجھے بینک میں ملازمت مل گئی۔

شروع میں تو بینک والوں نے مجھے چھوٹے قصبوں میں بھیجا جہاں ان کی شاخیں تھیں۔ ان چھوٹی جگہوں میں نہ تو شہر کی سی سہولتیں تھیں اور نہ دیہات کی سی خوبیاں۔ دو چار ہزار کی آبادی میں مطلب کے آدمی تلاش کرنے کے باوجود نہ ملتے۔ چھوٹے چھوٹے دکانداروں کے ساتھ واسطہ پڑتا۔‘‘ ’’تم شہلا کی خودکشی سے متعلق بتائو۔‘‘ اس نے مجھے جھڑک دیا۔ ’’خاموشی کے ساتھ جو کچھ میں کہتا ہوں، سنتے رہو۔‘‘

میں چپ ہو گیا۔ وہ کہنے لگا ’’صبح سے شام تک میں بینک میں رہتا۔ شام کو تفریح کے لیے جانے کے بجائے تنگ بازاروں میں گھومتا۔ دکانداروں سے ملتا اور انھیں بینکاری کے متعلق بتاتا۔ رات کو کچھ دیر کتاب کے اوراق پر نظریں گھمانے کے بعد سو جاتا۔ اتوار کو قریب کے دیہات میں جاتا، وہاں کے زمینداروں سے ملتا اور زمین میں گڑی دولت بینک میں جمع کرنے کا مشورہ دیتا۔ یہ تمام تبدیلیاں مجھ میں بڑے غیر محسوس طریقے سے پیدا ہوتی رہیں۔ ’’شروع میں‘ تو میں چھوٹے قصبوں میں جانے کے خیال سے بدکتا تھا۔

تبادلے کے لیے کوششیں کرتا مگر‘ پھر کسی جہاں دیدہ باس کے سمجھانے سے مان بھی جاتا۔ اس ملازمت نے مجھ سے میرا پندار، میری خودسری اور اناچھین لی اور اس طرح کہ مجھے محسوس بھی نہیں ہوا۔ میں چھوٹے چھوٹے دکانداروں سے باتیں، اکائونٹ کھلوانے کے لیے ان کی خوشامد کرنے اور چاپلوسی برتنے میں کوئی عار، شرم اور کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرتا۔ بس ایک دھن تھی، لگن تھی کہ میں جہاں جائوں، میرا بینک کامیاب رہے۔ لوگوں کو بینک کی افادیت معلوم ہو سکے۔

’’ رفتہ رفتہ مجھے اپنی ہر چھوٹی بڑی کامیابی پر یہ محسوس ہونے لگا جیسے بینک کی ملازمت ہی میرا نصب العین تھی۔ جیسے میں پیدا ہی اس کے لیے ہوا تھا۔ پانچ چھے برس تک میں ایسی ہی چھوٹی چھوٹی جگہوں پر رہا۔ اس کے بعد مجھے اپنے شہر میں تبدیل کر دیا گیا۔‘‘ جب وہ کہتے کہتے ذرا رکا تو میں نے آہستہ سے کہا۔ ’’ان باتوں کا تعلق شہلا کی خودکشی سے کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘

’’تفصیل میں تمھیں اس لیے بتا رہا ہوں کہ تم جب کہانی لکھنے بیٹھو تو نفسیاتی نقطۂ نظر سے کوئی بات سمجھنے میں الجھن سے دو چار نہ ہو۔ ہاں تو میرا تبادلہ اپنے شہر میں ہو گیا۔ اب بینک کی طرف سے مجھے یہاں زیادہ سہولتیں بلکہ آسائشیں میسر ہوئیں۔ میں بینک کا ڈپازٹ بڑھانے کی طرف تن من سے لگ گیا۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ سیٹھ فرقان علی ایک نئی مل قائم کر رہے ہیں، تو بہ حیثیت بینکر اُن سے ملا۔ وہیں شہلا سے عرصے بعد ملاقات ہوئی۔

وہ بالکل دیسی ہی تھی، وہی لیلیٰ شب کو شکست دیتے ہوئے گیسو، ستاروں کی سی چمک لیے ہوئے آنکھیں اور پیشانی پر اترا ہوا چاند۔ میں طویل عرصے بعد ملا تھا۔ بہت کچھ بدل گیا تھا‘ مگر وہ وہی تھی اور اسے یاد بھی سب کچھ تھا۔ میں جب اس سے ملا‘ تو میں نے بڑے اجنبی انداز میں اس سے پوچھا:
’’آپ… آپ یہاں کب سے آئی ہوئی ہیں؟‘‘

اس نے پرانے انداز میں سر جھٹک کر بالوں کو ایک طرف کیا۔ اسی دلفریب اور مَن موہ لینے والے طریقے سے ہونٹوں کے گوشوں میں مسکرائی اور اپنائیت سے بھرپور لہجے میں کہا ’’تم اچانک کہاں غائب ہو گئے تھے۔ آج ملے ہو‘ تو غیروں کی طرح مخاطب ہو رہے ہو۔‘‘ میں نے جو جواب دیا، اس سے میں خود بھی مطمئن نہیں تھا‘ مگر شہلا مجھ سے مل کر ہی خوش ہو گئی۔

اس نے بیتے دنوں کی راکھ کرید کر پرانی یادوں کے انگاروں کو اپنے التفات سے ہوادی۔ پھر یوں سمجھ لو ان انگاروں میں میری شخصیت کا وہ خول جل گیا جو میں نے پانچ چھے سال کے عرصے میں اپنی ذات پر منڈھ لیا تھا۔ اب میں وہاں جاتا تو صرف شہلا سے ملنے کے لیے! فون کرتا تو صرف شہلا کو! سارا دن سوچتا اورمیری سوچ کا محور ہوتی تھی شہلا۔ میں راتوں کو عجیب سے سہانے سہانے خواب دیکھتا اور ان خوابوں کا مرکز ہوتی تھی شہلا۔

محبت کی یہ دھوپ اتنی پھیلی کہ مجھے اپنے فرائض کا سایہ تو درکنار خود اپنا نظر آنا مشکل ہو گیا۔ شہلا… شہلا… ہر وقت… ہر لمحہ اس کا خیال رہتا۔ اس کی آواز کا جادو مجھ پر چھایا رہتا۔ آخر ایک دن میں نے طے کر لیا کہ اب شادی کر لینی چاہیے۔ شہلا نے مجھے مشورہ دیا ’’تم ڈیڈی سے بات کر لو۔‘‘
میں سیٹھ فرقان علی سے ملا۔ بڑی خندہ پیشانی سے پیش آئے۔ میں نے دبے لفظوں میں اپنی تمنا کا اظہار کیا۔ بولے ’’تم کرتے کیا ہو۔‘‘

’’جی بینک منیجر ہوں۔‘‘
’’کون سے بینک میں؟‘‘
میں نے بینک کا نام بتا دیا
پھر پوچھا ’’کیا تنخواہ ہے؟‘‘
’’جی پچاس ہزار روپے۔‘‘
’’گاڑی تمھاری ہے؟‘‘
’’جی نہیں، بینک کی ہے۔‘‘
’’رہتے کہاں ہو؟‘‘
میں نے علاقے کا نام بتا دیا۔
پھر کہنے لگے ’’بنگلہ تمھارا ہے؟‘‘
’’جی نہیں،بینک نے کرائے پر لے کے دیا ہے۔‘‘
انھوں نے پھر بہت ہی شفقت آمیز انداز میں پوچھا، ’’تمھارا بینک بیلنس کتنا ہے؟‘‘

میں نے شرمندگی سے گردن جھکا لی۔ انھوں نے آہستہ سے یوں ’’ہوں‘‘ کہا جیسے سب کچھ سمجھ گئے ہوں اور پھر مجھ سے کہا۔ ’’میں اس معاملے میں شہلا سے بات کیے بغیر تمھیں کوئی جواب نہیں دے سکتا۔‘‘ پہلے میں نے سوچا کہ انھیں اس حقیقت سے بھی روشناس کرا دوں کہ شہلا ہی کے ایما سے میں یہاں آیا ہوں۔ ہم دونوں میں وہی رشتہ ہے جو پھول اور ڈالی، دریا اور کنارے، بادل اور ہوا میں ہوتا ہے۔

ہم دونوں آپس میں دلوں، دماغوں، آنکھوں اور زبان کا تبادلہ کر چکے۔ جو کچھ انھیں شہلا سے معلوم کرنا ہے وہ مجھ سے پوچھ لیں۔ جو کچھ وہ میرے متعلق جاننا چاہتے ہیں شہلا سے دریافت کریں۔ مگر یہ سوچ کر خاموش رہا کہ اچھا ہے، سیٹھ صاحب یوں بھی اپنا اطمینان کر لیں۔ دوسرے دن شہلا نے مجھے فون کیا اور فوراً ملنے کو کہا۔ جب میں اس سے ملا‘ تو اس نے کہا: ’’میں رات بھر ڈیڈی سے الجھتی رہی ہوں۔‘‘ ’’کیوں؟‘‘

’’وہ اس شادی کے مخالف ہیں۔ کہتے ہیں کہ تمھارے پاس نہ اپنا بنگلہ ہے نہ موٹر اور نہ دولت۔‘‘ ’’وہ سچ کہتے ہیں۔‘‘ ’’مگر تمھارے پاس وہ سب کچھ ہے جو میں چاہتی ہوں۔ میں نے ان سے صاف کہہ دیا کہ اگر انھوں نے اپنی ضد کو میری راہ کی رکاوٹ بنایا‘ تو میں خودکشی کر لوں گی… ’’بے وقوف نہ بنو۔ جذبات سب کچھ نہیں ہوتے۔ زندگی بڑی شے ہے۔ تمھارے ڈیڈی نے اس دنیا کے بہت سارے رنگ دیکھے ہیں۔ انھیں جو رنگ پسند ہے اسی میں وہ تمہیں بھی رنگا دیکھنا چاہتے ہیں اور…‘‘ شہلا نے میری بات کاٹی اور کہا ’’تم مجھے نصیحتیں مت کرو۔

ڈیڈی کو زندگی کا جو رنگ پسند ہے، ضروری نہیں کہ وہ میری آنکھیں بھی قبول کر لیں۔‘‘ اور پھر میں اور شہلا تمام دن دنیا، رنگوں، آنکھوں اور دلوں کی باتیں کرتے رہے۔ مگر وہ شام ایک مفلس عاشق کی طرح بڑی اداس تھی۔ اس شام کی اداسی ہمارے ذہنوں پر چھائی ہوئی تھی۔ ہم دونوں اس کی اداس فضا کا سانس لیتا ایک حصہ بن گئے۔ شہلا نے تجویز پیش کی۔ ’’کیوں نہ ہم کورٹ میرج کر لیں۔‘‘

شہلا سے یہ سن کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں اب تک خود کو فریب دیتا رہا ہوں۔ یہ احساس اس لیے پیدا ہوا کہ جب کورٹ میرج کی بات سنی‘ تو میں نے شہلا کے اندازِ فکر سے الگ ہٹ کر سوچا اور بہت سارے گوشوں کی طرف دیکھا۔

مگر شہلا کے دماغ میں تو جذبات کا چاند جگمگا رہا تھا۔ وہ تمام رکاوٹیں، سارے رشتے اور بندھن توڑ کر میری بن جانا چاہتی تھی۔ میں نے اسے سمجھایا، دلاسہ دیا، اپنی محبت کا یقین دلایا مگر وہ اپنی بات پر اڑی ہوئی تھی۔ اس نے پوچھا ’’تم گھبراتے کیوں ہو؟‘‘ ’’سنو شہلا میں گھبراتا نہیں… بلکہ یہ سوچتا ہوں کہ اگر ہم نے وقت اور حالات کی مخالفت کر کے اپنی من مانی کر ڈالی تو کہیں یہ ہمارے مخالف نہ ہو جائیں۔ اگر ایسا ہوا‘ تو حالات ہمیں روند ڈالیں گے اور وقت ہمیں گرد کے مانند اڑا دے گا۔ ‘‘ لیکن وہ بضد تھی۔ پھر میں نے کہا ’’جیسی ضد تم مجھ سے کر رہی ہو، اسی طرح اپنی بات ڈیڈی سے کیوں نہیں منوا لیتیں؟‘‘

یوں میں نے شہلا کے دل و دماغ میں اٹھنے والے طوفان کا رخ پلٹ دیا۔ میں نے اُسے سمجھایا کہ وہ اپنی ضد کو ایسی آندھی بنا دے جس کے سامنے اس کے ڈیڈی کی ہٹ دھرمی کا دیا گل ہو جائے۔ پھر ہم دونوں جو زندگی گزاریں گے اس پر پریشانیوں اورپشیمانیوں کا سایہ تک نہیں ہو گا۔ شہلا میری بات مان گئی۔
اس رات اپنے دل میں عجیب سے وسوسے لیے، دماغ میں طرح طرح کے خیالات بسائے دیر تک زرد چاندنی اور ستاروں کی مریض روشنی میں جاگتا رہا۔ زندگی کے وہ لمحے میری نظروں کے سامنے آتے رہے جو میرے لیے ان دیکھے تھے۔ کبھی میں سوچتا، شہلا میرے لیے نہیں اپنے اسی کزن کے لیے موزوں ہے جس کا باپ کروڑوں روپے کی جائداد چھوڑ گیا ہے۔

کبھی خیال آتا کہ میں بھی کتنا مادہ پرست اور انسانی عظمتوں سے کتنا منحرف ہو گیا ہوں۔ ہر بات کو دولت کے پیمانے پر ناپ رہا ہوں۔ دلوں اور محبتوں کی قیمت میری نظر میں اپنی وقعت کیوں کھو چکی؟ محبت، انسان اور دل اس وقت بھی تھے جب دولت نہیں تھی۔ دل محبت اور انسان اس وقت تک رہیں گے جب دولت نہیں ہو گی پھر میں یہ کیسی کشمکش میں مبتلا ہوں؟ ذرا سی رکاوٹوں، اندیشوں اور پریشانیوں کو اتنی اہمیت کیوں دے رہا ہوں… کیوں؟

سوالوں کے بھنور تھے… اور میرا دل تھا۔
اندیشوں کی پاتال تھی… اور میرا دماغ تھا۔
وسوسوں کی دلدل تھی… اور میرا وجود تھا۔

صبح ہوئی مگر رات کا آسیب میرے وجود کو جھنجھوڑ گیا۔ میں بڑے بوجھل قدموں سے ٹیلی فون کے قریب آیا۔ جب میں نے فون کیا تو معلوم ہوا شہلا نے اپنے آپ کو زخمی کر لیاہے۔ وہ بے ہوش ہو گئی تھی اور اسی عالم میں اسے لاہور بھیج دیا گیا۔ میں نے ٹیلی فون رکھا ہی تھا کہ گھنٹی بجی۔ میں نے چونگا اٹھایا‘ تو سیٹھ فرقان علی کی آواز آئی ’’کیا تم ابھی آ سکتے ہو؟‘‘ ان کے پاس پہنچا‘ تو وہ بڑے مصروف تھے۔ ایک نئی اور بڑی مل کا منصوبہ اپنے آخری مرحلے سے گزر رہا تھا۔ انھوں نے مجھے کہا ’’میں ذرا کام سے فارغ ہو لوں پھر تم سے بات کرتا ہوں۔‘‘

وہ خاصی دیر مشغول رہے۔ میں کرسی پر پہلو بدلتا رہا۔ پھر انھوں نے گھنٹی بجائی۔ چپراسی آیا‘ تو حکم دیا ’’اکائونٹنٹ کو بلائو۔‘‘ اکائونٹنٹ آیا‘ تو سیٹھ صاحب نے پوچھا ’’آپ نے روپیہ ٹرانسفر کرا لیا۔‘‘ ’’جی ابھی تک تو بینک میں اکائونٹ ہی نہیں کھلا۔‘‘ ’’تو یہ کام آج بلکہ ابھی کر ڈالیے اور پھر لاہور فون کیجیے۔ فی الحال کتنے روپوں کی ضرورت ہو گی؟‘‘

’’جی ضرورت تو مسلسل ہی پڑتی رہے گی۔ پچاس پچاس لاکھ کر کے منگا لیں گے۔‘‘ سیٹھ جی نے جھنجھلا کر کہا ’’نہیں نہیں، سب روپیہ ایک ساتھ منگا لیجیے اور جتنی بھی ضرورت ہو…‘‘ میں یہ باتیں سن کر ایسے چونکا جیسے اب تک خواب کی دنیا میں تھا۔ میں نے کرسی پر پہلو بدلا، ٹائی کی گرہ درست کی اور بولا ’’معاف کیجیے گا۔ میں کچھ گزارش کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ سیٹھ جی اور اکائونٹنٹ نے میری طرف دیکھا۔ میں نے کہا ’’بینکاری سے متعلق آپ کے تمام کاموں کے لیے میں اپنی اور اپنے بینک کی خدمات پیش کر سکتا ہوں۔‘‘

سیٹھ جی نے کھنکار کر گلا صاف کیا اور اکائونٹنٹ سے کہا ’’میں اس سلسلے میں آپ سے تھوڑی دیر بعد گفتگو کروں گا۔ ابھی ذرا ان سے بات کر لوں۔‘‘
اکائونٹنٹ چلا گیا‘ تو سیٹھ صاحب مجھ سے مخاطب ہوئے۔ ’’رات کو شہلا نے تمھارا ذکر کیا تھا۔ میں نے اس کو ایسی بہت سی باتیں سمجھائیں جو تمھیں بتانے کی ضرورت نہیں۔ میں لڑکیوں کو زیادہ آزادی دینے کے خلاف ہوں۔ میں تمھارا یہاں سے کہیں اور تبادلہ بھی کرا سکتا ہوں‘ مگر فی الحال میں نے شہلا کو لاہور بھیج دیا ہے۔ ہاں! تو تم کیا کہہ رہے تھے؟‘‘

میں نے ذرا سنبھل کر کہا ’’میں یہ عرض کر رہا تھا کہ اگر آپ اپنی مل کا اکائونٹ ہمیں دے دیں‘ تو…‘‘ سیٹھ جی نے بھائو چکانے کے انداز میں کہا ’’وہ تو ٹھیک ہے مگر شہلا کا کیا ہو گا؟ کیا تم اس کو یہ لکھ کر بھیج سکتے ہو کہ تم نے اس سے جو وعدہ کیا ہے، اسے پورا کرنے کی اب ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ اگر تم ایسا کر سکو تو…تو ممکن ہے میرا تمام اکائونٹ تمھارے ہی بینک میں آ جائے اور تمھیں ترقی کے امکانات نظر آئیں۔ ورنہ سوچ لو کہ میرا نام فرقان علی ہے اور میں شہلا کا باپ ہوں۔‘‘

جتنی دیر میں سورج کی شعاعیں زمین کے رخسار کا بوسہ لیتی ہیں، اتنی دیر میں، میں نے فیصلہ کر لیا اور سیٹھ صاحب سے کہا ’’مجھے منظور ہے۔‘‘
اس کے بعد مجھ پہ کیا گزر گئی یہ تم لکھو گے۔ مجھے ابھی… آج ہی معلوم ہوا ہے کہ شہلا نے میرا خط پڑھنے کے بعد دوبارہ خودکشی کی ناکام کوشش کی تھی۔ اس کے باوجود میں نے اپنی ترقی کی خوشی میں یہ جشن منایا۔ بتائو کیا تم نے اس گنگناتی فضا میں کوئی سسکی سنی؟ روشنیوں میں اندھیرے کی لکیر دیکھی…؟ بتائو… خدا کے لیے کچھ تو کہو۔‘‘

کاغذ اپنا سینہ کھولے قلم کی برچھی کھانے کو تیار ہے۔ اور میں بڑی دیر سے قلم ہاتھ میں لیے اس فکر میں ہوں کہ اس کہانی کو کیسے شروع کروں اور کہاں ختم؟

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s