طیش

گرمی سے میرا برا حال تھا.. شدید پیاس کے عالم میں میں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی..
روڈ کے دوسری طرف تھوڑے سے فاصلے پر شربت کی ریڑھی دیکھ کر کچھ جان میں جان آئی.. میں نے فورا’ قدم اس طرف بڑھا دیے.. ابھی شربت کے دو گھونٹ ھی لیے تھے کہ شربت بیچنے والے کی آواز نے مجھے چونکا دیا..
” دیکھ ارے کیا چیز ھے یار ”
وہ اپنے ساتھ کام کرنے والے لڑکے سے مخاطب تھا.. اس کی بات سن کر میں نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا.. وہ ایک بھیک مانگنے والی چھوٹی بچی تھی.. تقریبا’ دس گیارہ سال کی..
شدید نفرت اور غصے سے میرا وجود سلگ اٹھا.. لیکن اسے کچھ کہنا مصلحت کے خلاف تھا.. میں اکیلا تھا اور اس علاقہ میں نیا بھی.. میرے کسی ایکشن کے نتیجے میں وہ اپنے الفاظ سے صاف مکر جاتا اور اپنا علاقہ ھونے کے سبب اس کے بیسیوں حمایتی بھی پیدا ھوجاتے.. اور الٹا مجھہ پر ھی کوئی الزام لگاکر میری پٹائی لگا دیتے..
میں نے جلدی جلدی شربت ختم کرکے ابھی گلاس رکھا ھی تھا کہ دبارہ آواز سنائی دی..
” استاد اسکو تو دیکھو.. کیا غضب کی چیز ھے..”
اس بار یہ آواز اسکے ساتھ کام کرنے والے لڑکے کی تھی.. ایک بار پھر میں نے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا.. وہ اسکول یونیفارم میں ملبوس تقریبا’ ایک چودہ پندرہ سال کی لڑکی تھی..
اس سے پہلے کہ اب کی بار میں طیش کے عالم میں گلاس اس کے سر پر مارتا ‘ اچانک شربت بیچنے والے نے اپنے ساتھ کام کرنے والے لڑکے کو ایک زوردار تھپڑ رسید کیا..
وہ شدید غضب کا شکار لگ رھا تھا.. غصے کی زیادتی کی وجہ سے الفاظ اسکے منہ سے ٹوٹ ٹوٹ کر نکل رھے تھی.
” بےغیرت انسان.. کسی کو بھی… کچھ بھی سمجھتا ھے.. بیوقوف.. گدھے.. احمق.. الو کے پٹھے.. جانتا ھے وہ کون ھے..؟
بہن ھے وہ میری —!!!

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s