انمول

امی امی میری جرابیں کدهر ہیں ؟؟؟؟
ہارون الماری سے سارے کپڑے زمین پہ پهینکتے ہوے چلا رہا تها …
دیتی ہوں بیٹا بس آی ماں نے پراٹها توے سے اتارے ہوے کہا اور دوڑی آیی…
یہ لو ! یہاں رکهی تهی سایڈ ٹیبل پہ ساری الماری خراب کر دی ماں نے جرابیں اٹها کے دیتے ہوے کہا
اچها جلدی کریں ناشتہ رکهیں دیر ہو رہی هے …ہارون تیز لہجے میں بولا….
لگا دیا هے نا صبح اٹهتے ہو نہیں وقت پہ ماں نے ٹیبل پہ ناشتہ رکها اور کچن میں جا کے بڑ بڑانے لگی …..شادی کرو اب جلدی میری بوڑهی ہڈیوں میں اب اتنا دم نہیں هے ….کوی لڑکی جو تمہیں پسند آ جاے …کوی ماں کا خیال هے …کل کلاں کو مر گئ تو روتے پهرو گے……..مسز ہمدانی دوسال سے روزانہ ہارون کو یہ لیکچر دیتی اور اس کی وجہ یہ تهی کہ کوی لڑکی اس کو پسند نہیں آتی تهی …دو بیٹیاں اور تهیں جو اپنے گهر کی ہو گئ تهیں مسسز ہمدانی چاہتی تهی کہ بہو آ جاے اور وہ بهی سکهہ کا سانس لیں ….لیکن ہارون صاحب تهے کہ کوی لڑکی ان کے معیار پہ پوری نا اترتی تهی..
آچها نا امی اب صبح صبح ایسی باتیں تو نا کریں میری اچهی امی اللہ اپ کو للللمبی عمر دے آمین …ہارون نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال کے پیار سے کہا
اچها اچها اب مسکے نا لگا اتنا تو ماں کا ہمدرد ……ماں نے بظاہر غصہ دکهاتے ہوے کہا
اچها امی چلتا ہوں دیر ہو رہی هے اللہ حافظ ہارون گاڑی کی چابیاں سنبهالتے ہوے باہر نکل گیا.
………………. . ………..
کمپنی کی طرف سے تین روزہ سیمینار تها جس میں ملک بهر سے مختلف لوگ سیمینار اٹینڈ کرنے آے ہوے تهے…
زبردست مقررین تهے معلومات سے بهر پور سیمینار کی خاص بات ‘ سوالوں و جواب کے سیشن میں ہارون کے ٹیبل کے ساتهہ کے ٹیبل میں موجود لڑکی کے سوالات تهے……….اس لڑکی کا اعتماد ‘ انداز ‘ اور آواز میں عجیب سا سحر تها …….سوال ایسا اٹهاتی کے پہلے تو بندہ سٹپٹا جاتا اور اس وقت تک سوال کرتی جب تک نکتہ اس پہ واضح نا ہو جاتا….بڑی بڑی سرمئ حیا دار آنکهوں ‘ سرخ و سفید رنگت دوپٹے سے اچهی طرح سر کو ڈهانپے ہوے وہ پر اعتماد لڑکی ہارون کے دل میں اتر گئ تهی……..اس سے بات کرنے کا خواہشمند تها لیکن سیمینار کے اختتام سے پہلے ہی ہارون کو جانا پڑ گیا …..
لیکن رات دیر تک وہ اس حسینہ کے خیالوں میں کهویا رہا …..کیا یہ ممکن هے کہ میں اسے اپنی زندگی میں شامل کر لوں ..کیوں ممکن نہیں …..اللہ کرے اس کی کہیں بات وات پکی نا ہوی ہو …..پتہ نہیں ہارون کو کیا سوجی کہ رات دو بجے وضو کر کے دو نفل ادا کیے اور اللہ کے سامنے التجا کرنے لگا …
” اللہ جی اپ کو تو پتہ ہی هے میری والدہ محترمہ آے دن میری کلاس لیتی ہیں…..انہیں بهی تو اب آرام چاہیے اب اتنی مشکلوں سے تو مجهے کوی لڑکی پسند آی هے ہر لحاظ سے پرفیکٹ ….اللہ جی پلیز پلیز اسے میری شریک حیات بنا دیجے …اگر اس کی منگنی ونگنی بهی ہوی هے تو تڑوا دیجیے گا پلیز پلیز میرے پیارے اللہ !!!! ہارون نے ملتجای نگاہوں کے ساتهہ چهت کی طرف دیکها جیسے اللہ سے مخاطب ہو …
اور پهر سکون سے سو گیا خلاف توقع اگلی صبح خود ہی اٹهہ گیا…..اور وقت پہ تیار بهی ہو گیا ..ہارون کے چہرے کی بشاشت دیکهہ کے مسسز ہمدانی کافی حیران تهی…..زمانہ ساز عورت تهی یہ سوچ کے خوش ہو گئ کہ شاید برخودار عنقریب کوی خوشخبری سنا دیں …
……………….. ..
ہارون نے رات ٹهان لیا تها کہ آج ممکن ہوا تو ان محترمہ کے بارے میں معلومات اکهٹی کریں گے..
ہال میں یہ دیکهہ کہ ان کی خوشی دو چند ہو گی کہ محترمہ جس ٹیبل پر تهی وہاں ایک سیٹ خالی تهی ..فورا سے برا جمان ہو گیے اور وقت ضایع کیے بناء ہی اپنا تعارف بهی کرا دیا ….
جس کے جواب میں ایسی مدهم معصوم مسکراہٹ کا سامنا کرنا پڑا کہ دل تهام کے رہ گیے…..
اپنے بارے میں بتایے نا کچهہ ہارون نے سوالیہ نگاہوں سے محترمہ کے چہرے کی طرف دیکهتے ہوے کہا..
انمول ریاض ….انمول ریاض نام هے میرا …انمول نے اپنا مکمل تعارف دیا تو ہارون کے دل کی کلی کهل اٹهی ….اس کی پسند تو بہت اعلی تهی ….ہر لحاظ سے پرفیکٹ …باتوں باتوں میں وہ یہ بهی جان چکا تها کہ انمول ابهی تک کسی سے منسوب نہیں …
اعلی تعلیم یافتہ ….خوب صورت اواز و انداز اور پاکیزہ صورت ..قاتل مسکراہٹ والی انمول واقعی میں انمول ہیرا تهی…..
لیکن مسلہ یہ تها کہ ہارون اپنے دل کی بات لبوں پر کیسے لاے….بے چینی سے کرسی پہ پہلو بدلتا ہارون بات کرنا ہی چاہتا تها کہ گهر سے امی کی کال آ گئ …ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئ تهی ….ہارون کو سب کچهہ چهوڑ چهاڑ گهر آنا پڑا….
…………………….
شکر هے امی آپ کی طبیعت سنبهل گئ …صبح ہارون نے خود ہی چاے بنای بریڈ پہ مکهن لگا کے امی کو بهی ناشتہ دیا اور خود بهی کیا ……آج تیسرا اور آخری دن تها…..اج وہ پختہ عزم کر کے آیا تها کہ انمول سے اپنے دل کی بات کرے گا اور ایک ماہ کے اندر بیاہ کے لے آے گا …میرے گهر کو اور مجهے ایسی ہی پر اعتماد ..سگهڑ …باشعور باتمیز اور خوب صورت خوب سیرت لڑکی کی ضرورت هے…
تیسرا اور آخری دن بهر پور تها اور انمول کے سوالات نے چار چاند لگا دیے تهے ہر ایک اس پر اعتماد اور ذہین لڑکی کو رشک کی نگاہ سے دیکهہ رہا تها…
ہارون تو انمول کے عشق میں اس بری طرح مبتلا ہو چکا تها کہ دو ہی دن میں اسے انمول کی طرف اٹهتی نگاہوں سے حسد ہونے لگا…..گویا میرے محبوب کو میرے سوا کوی نا دیکهے والا حال تها…
موقع پا کر ہارون انمول کے ٹیبل پہ جا بیٹها سلام دعا کے بعد گهبراتے ہوے اپنے دل کی بات انمول کو کہہ سنای ….تو حیران رہ گیا کہ انمول نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پر اعتماد لہجے میں کہا
ہارون صاحب …میں آپ کے جذبے کی قدر کرتی ہوں لیکن اپ کو مجهہ عشق ہو گیا هے اور میرے بناء آپ رہ نہیں سکتے یہ میں نہیں مان سکتی..
آپ میرا یقین کریں میں نے جب سے آپ کو دیکها هے آپ کو سنا هے تب سے ہر سانس کے ساتهہ اللہ سے اپ کو مانگ رہا ہوں …..میری امی بہت اچهی ہیں اگر آپ کے گهر میں کوی مسلہ هے تو وہ انہیں منا لیں گی…
نہیں میرے گهر میں کوی مسلہ نہیں ….لیکن شاید آپ میرا ساتهہ نا دے سکیں زندگی کا سفر پگڈنڈیوں اور کٹهن راہوں سے ہو کر گزرتا هے ….لیکن کچهہ لوگوں کے حصے میں کٹهن راہیں زیادہ آتی ہیں ہر کوی ان راہوں پہ ساتهہ نہیں چل پاتے ..
میں اپ کے ساتهہ چلوں گا ہر کٹهن راہ پہ آپ مجهے پلیز آزما کر تو دیکهیں ….ہارون قریب تها کہ رو پڑے
ہارون صاحب وقت بہت بڑا استاد هے …..بڑی بڑی باتیں کرنے والوں کو آزمانے کا وقت بہت جلد آ جایا کرتا هے …پهر بهاگیے گا مت
میں بهاگنے والوں میں سے نہیں ہوں ….آپ میرا اعتبار تو کیجیے ایک بار ہاں کہہ دیجے آپ مجهے ثابت قدم پایں گی….
انمول پہلی بار کهلکهلا کے ہنسی تهی …… اور اس کی یہ ہنسی اس کی مسکراہٹ سے بهی زیادہ دلفریب تهی …
ہارون کو لگا اس کی دعایں کام آ گی ہیں ….انمول خاموش تهی زیرلب مسکراہٹ تهی
ہارون کی خوشی کا کوی ٹهکانہ نہیں تها اس کا دل کر رہا تها کہ وہ اڑ کے امی کے پاس پہنچ جاے اور انہیں ان کی ہونے والی بہو سے ملواے…
تو پهر آپ چلیں گی نا میرے ساتهہ میری امی سے ملنے ….ہارون نے محبت سے انمول کے چہرے کو دیکهتے ہوے سوال کیا
جی چلوں گی….انمول کے چہرے پہ مسکراہٹ تهی
ہارون کی خوشی کا کوی ٹهکانہ نا تها خوشی اس کے انگ انگ سے پهوٹ رہی تهی ..
چلیں پهر چلتے ہیں سچ میں اپ میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہیں میں بہت خوش ہوں کہ اپ جیسی پیاری سیرت کی باشعور لڑکی میری زندگی کا حصہ بننے جا رہی هے …الفاظ نہیں مل رہے کہ شکریہ ادا کر سکوں
انمول جواب میں صرف مسکرا رہی تهی اس کے گالوں کی شفق میں اضافہ ہو گیا تها اس کی بڑی بڑی سرمئ آنکهیں جهکی تهی…..
چلیں انمول پهر دیر ہو رہی هے ہارون کرسی سے اٹهہ کهڑا ہوا
جی اچها یہ کہتے ہوے انمول نے ہال کے کونے میں بیٹهے ہوے اپنے ملازم کی طرف دیکها
ہارون خوشی اور مسرت سے دروازے سے باہر نکلا
انمول ….اپ کو پتا هے…..یہ کہتے ہوے ہارون نے اپنے دایں طرف دیکها انمول نا تهی بایں طرف دیکها انمول وہاں بهی نہیں تهی….گهبرا کے پلٹ کے دیکها …..تو ساکت ہو گیا..
انمول ویل چیر پہ تهیں…….مسکراہٹ ابهی بهی انمول کے چہرے پہ تهی
ہارون اپنی گاڑی کے پاس ششدر کهڑا تها ….دل و دماغ میں طوفان برپا تها زبان کنگ تهی
ہارون صاحب ..مجهے اپ کی گاڑی میں بیٹهنا هے یا اپنی گاڑی میں پلیز بتا دیجے ؟؟؟ انمول کے چہرے پہ وہی مسکراہٹ سجی تهی
ہہہہہم..جی….. جی….وہ….میں…….آپ …..معذور ….ہیں ……….؟؟؟
جی شاید نارمل لوگ تو ٹانگوں پہ چل کے یہاں تک آتے ہیں نا ؟؟؟ انمول نے شاید گہرا طنز کیا تها لیکن لب مسکرا رہے تهے
انمول ……میں …..وہ……آپ …..مجهے معاف کر دیں گی نا…..بد دعا تو نہیں دیں گی نا…. اصل …میں …میں لیکن زبان ہارون کا ساتهہ نہیں دے رہی تهی اور الفاظ گم ہو گیے تهے….اس کی شریک حیات ڈس ایبل ہو اس کا تو اس نے تصور بهی نا کیا تها …..میں بہت کمزور ہوں ….میں….اپ …ہارون نے کار کا دروازہ کهولا …گاڑی میں بیٹها اور تیزی سے گاڑی آگے بڑها دی ….اسے اس کے سوا کچهہ نہیں سجهای دے رہا تها کہ وہ بهاگ جاے….
ہارون کو جاتا دیکهہ کے انمول مسکرای ….چلو خادم حسین دیر ہو رہی هے ….خادم حسین نے وہیل چیر سامنے کهڑی کار کی طرف موڑ دی ………
ہارون کے کہے تمام الفاظ انمول کے دل و دماغ پہ ضرب لگانے لگے ..آس ٹوٹی تو…….جن آنسووں کو وہ مسکراہٹ کے پردے میں چهپاے ہوے تهی دل کے درد سے بے قرار ہو کہ وہ گوہر نایاب گالوں پر بہہ نکلے …..

ﺳﺮﺩﯼ

ﮐﻞ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻤﺒﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺳﺮﺩﯼ ﻟﮓ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ 11 ﺑﺠﮯ ﮐﺎ ﭨﺎﺋﻢ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭺ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﺮﺩﯼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﮔﮭﺮ ﻏﺮﯾﺒﻮ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﮯ ﮐﻤﺒﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺳﺮﺩﯼ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﮐﺴﯽ 10 ﯾﺎ 12 ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﯼ ﺁﻧﮉﮮ ﮔﺮﻡ ﺁﻧﮉﮮ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﺁﻭﺍﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺮﺩﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﯽ

بھرتی

میرا بیٹا کہتا تھا کہ ماں جب میں فوج میں افسر بنوں گا تو سب تجھے سلیوٹ کریں گے۔

اُس کی عمر 40 کے لگ بھگ تھی اور وہ پچھلے کئی گھنٹوں سے پاک فوج کے ایک سلیکشن سینٹر کے سامنے لگی نوجوانوں کی لمبی قطار میں کھڑی اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی۔

یہ آنٹی لگتا ہے اپنے بیٹے کی درخواست جمع کروانے آ گئی ہیں، لیکن شاید انہیں یہ نہیں معلوم کہ اپلائی کرنے کے لئے ان کے بیٹے کو خود آنا پڑے گا۔ ایسے بات نہیں بنے گی، احمد نے اپنے دوست سے کہا، یہ دونوں بھی صبح سے قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کرتے کرتے تھک چکے تھے۔

’’تو تم اُنہیں جا کر بتا کیوں نہیں دیتے کہ یہاں یوں خوامخواہ کھڑے ہونے سے کچھ نہیں ملنے والا، گھر جا کر اپنے بیٹے کو بھیجیں۔ بتایا ہے یار! وہ کہتی ہیں کہ میں جو آگئی ہوں۔ کیسے بھرتی نہیں کریں گے۔ ماں ہے ناں! بیٹے نے کہا ہوگا اور چل پڑیں۔ بیچاری کو یہ بھی نہیں معلوم کہ ابھی صرف بھرتی کے لئے درخواستیں جمع ہو رہی ہیں۔ بھرتی ہونے کے لئے تو نہ جانے ابھی اور کتنے مرحلوں سے گذرنا پڑے گا۔ پھر کہیں جا کر ہم میں سے چند خوش نصیب منتخب ہوں گے۔ احمد کو جتنا اُس عورت پر ترس آ رہا تھا اُتنا ہی اُس کے بیٹے پر غصّہ، مگر وہ کر بھی کیا سکتا تھا۔

جی محترمہ! کیا آپ یہاں کسی کے فارم جمع کروانے آئی ہیں؟ نگرانی پر مامور ایک سپاہی نے اُس کے قریب آکر بڑے احترام سے پوچھا۔ وہ منہ سے تو کچھ نہ بولی، مگر اثبات میں سر ہلا کر سپاہی کے سوال کا جواب دے دیا۔ دیکھئیے محترمہ! آپ یہ فارم جمع نہیں کروا سکتیں، برائے مہربانی آپ گھر جائیں اور اُسے بھیجیں جس کے یہ فارم ہیں۔ میں کیوں نہیں کروا سکتی؟ میں اُس کی ماں ہوں، میں اُسے بھرتی کروائے بغیر ہرگز یہاں سے نہیں جاؤں گی۔ وہ ابھی تک اپنی بات پر ڈٹی ہوئی تھی۔

دیکھیئے آپ میری بات شاید سمجھ نہیں پا رہیں، درخواست جمع کروانے کا ایک مخصوص طریقہ کارہوتا ہے جس کے تحت، کوئی بھی طریقہ کار ہو لیکن میں نے اُسے ہر صورت افسر بھرتی کروانا ہے۔ یہ میرا اُس سے وعدہ ہے۔ اُس نے سپاہی کی بات کاٹتے ہوئے کہا اور اردگرد کھڑے نوجوان اُس کی سادگی پر ہنس پڑے۔

آنٹی! آپ اپنے بیٹے کا فون نمبر مجھے دیں، میں اُس سے خود بات کرتا ہوں۔ احمد نے جیب سے موبائل نکالتے ہوئے کہا، وہ اُسے مزید تماشہ نہیں بنوانا چاہتا تھا۔ ہاں ہاں بیٹا! تم بات کرو، شاید وہ تمہاری بات مان کر آجائے۔ اُس نے جلدی جلدی اپنے بیٹے کا فون نمبر احمد کو لکھواتے ہوئے کہا، احمد کی بات سن کر اُس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک اُمڈ آئی تھی۔ احمد نے نمبر ڈائل کرکے موبائل کان سے لگا لیا۔ ’’نمبر بند ہے‘‘ احمد نے کچھ دیر بعد مایوسی سے کہا۔

میں بھی جب کال کرتی ہوں تو یہی جواب آتا ہے۔ شاید بیٹری ختم ہوگئی ہوگی۔ موبائل ہے بھی تو بہت پرانا، پہلے ضد کرتا تھا کہ نیا موبائل لے کر دو۔ اُس وقت اُس کے ابّو نہیں مانتے تھے۔ کہتے تھے کہ بچوں کے پاس بھلا موبائل کا کیا کام، اب اُس کے ابّو اچھے سے اچھا موبائل خرید کر دینے کو تیار ہیں مگر وہ نہیں مانتا۔ آجکل کے بچے ضدی بھی تو بہت ہیں ناں۔

محترمہ! آپ یہاں کھڑی بلا وجہ اپنا وقت ضائع مت کریں۔ اگر آپ کا بیٹا فوج میں بھرتی ہونا چاہتا ہے تو اُسے خود ہی آنا پڑے گا۔ آپ کے یوں ۔۔۔۔ آپ کچھ بھی کہہ لیں، مگر میں یہاں سے نہیں جاؤں گی۔ میں صبح سے یہاں کھڑی اپنی باری آنے کا انتظار کر رہی ہوں اور آپ کہہ رہے ہیں کہ یہاں سے چلی جاؤ۔ اُس نے ایک مرتبہ پھر سپاہی کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی جواب دے دیا، اور اُسے مایوس لوٹنا پڑا۔ مگر پھر تھوڑی ہی دیر بعد وہی سپاہی ایک نوجوان آفیسر کے ہمراہ دوبارہ اُسے قائل کرنے کے لئے پہنچ گیا۔

جی ماں جی! کس کے فارم جمع کروانے ہیں آپ نے؟ آفیسر نے اپنائیت سے کہا۔ اپنے بیٹے کے مگر یہ مجھے کہہ رہے ہیں کہ اگر وہ خود نہ آیا تو اُسے کوئی بھرتی نہیں کرے گا۔ میں ایسے خالی ہاتھ کیسے واپس جاؤں گی؟ اُس نے بڑی مشکل سے اپنے آنسو ضبط کرتے ہوئے کہا۔
ماں جی! یہ درست کہہ رہے ہیں۔ اس پوسٹ کے لئے درخواست جمع کرواتے ہوئے درخواست گذار کا موجود ہونا لازمی ہے، اور یہ فارم پر بھی واضح طورپر لکھا ہے۔ آپ کا بیٹا کہاں ہے؟ وہ خود کیوں نہیں آیا؟ آفیسر نے نرمی سے پوچھا۔

مگر وہ کیسے آئے گا؟ وہ نہیں آ سکتا ۔۔۔ میں جو آگئی ہوں۔ وہ ابھی تک پوری طرح سے اپنے موقف پر قائم تھی۔

مگر ماں جی! ایسے۔۔ ۔ آپ اُسے بھرتی کرلیں۔ وہ یہاں نہیں آسکتا، میں اُس کی ماں ہوں۔ میں نے اُس سے وعدہ کیا ہے۔ اب وہ ہاتھ جوڑے منتیں کر رہی تھی۔

چلیں آپ اُس کے فارم مجھے دے دیں، میں کچھ کرتا ہوں۔ آفیسر کی بات سنتے ہی اُس کا چہرہ خوشی سے دمک اُٹھا۔ اُسے شاید بیچاری کی حالت پر ترس آگیا تھا یا شاید وہ اسے محض ٹالنے کے لیے ایسا کہہ رہا تھا۔

فارم وغیرہ تو کوئی نہیں ہیں میرے پاس، بس یہ اُس کی ایک تصویر ہے، بھرتی کرکے ابھی واپس کردینا۔ اُس نے اسکول یونیفارم میں ملبوس ایک 13، 14 سال کے بچے کی ہنستی مسکراتی تصویر افسر کو دکھاتے ہوئے کہا۔

’’سب کہتے ہیں کہ تیرا بیٹا شہید ہوگیا ہے، اب وہ فوج میں بھرتی نہیں ہوسکتا‘‘۔

کیسے نہیں ہوسکتا؟ اس نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں اسے فوج میں افسر بھرتی کرواؤں گی۔ میں کوئی پاگل نہیں ہوں، مگر کیا کروں اپنے لاڈلے سے کیا ہوا وعدہ بھی تو نبھانا ہے۔ اس نے اپنے بیٹے کی تصویر چومتے ہوئے کہا اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ دیکھو کتنا پیارا ہے، تمہاری طرح شکل سے ہی بڑا افسر لگتا ہے۔ اُس کی باتیں سُن کر وہاں موجود ہر شخص آبدیدہ ہوگیا تھا۔

’’آپ کا بیٹا فوج میں افسر بن گیا ہے، ماں جی!‘‘

آفیسر نے سلیوٹ مارتے ہوئے کہا، اور اپنے آنسو پونچھتا ہوا واپس پلٹ گیا۔ ہم بھی آپ کے بیٹے ہیں ماں جی! آئیں میں آپ کو آپ کے گھر چھوڑ دیتا ہوں۔ آپ کا گھر کہاں ہے؟ احمد نے اُسے سہارا دیتے ہوئے پوچھا۔

تم نے دیکھا بیٹا! اُس نے مجھے سلیوٹ کیا۔ میرا بیٹا کہتا تھا کہ ماں جب میں فوج میں افسر بنوں گا تو سب تجھے سیلیوٹ کریں گے۔ مجھے اُس نے سیلیوٹ کیا۔ آج میرا بیٹا افسر بن گیا ہے۔

’’شہیدوں کی ماؤں کو سلام‘‘

اٹیچی

شادی کے دن نئی نویلی دلہن نے ایک اٹیچی کیس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے شوہر سے وعدہ لیا کہ وہ اس اٹیچی کیس کو کبھی نہیں کھولے گا۔ شوہر نے وعدہ کر لیا۔

شادی کے پچاسویں سال بیوی جب بسترمرگ پر پڑ گئی تو خاوند نے اسے اٹیچی کیس یاد دلایا۔
بیوی بولی : ” اب یہ وقت ہے اس اٹیچی کیس کے راز کو افشا کرنے کا۔ اب آپ اس اٹیچی کیس کو کھول لیں۔”
خاوند نے اٹیچی کیس کھولا تو اس میں سے دو گڑیاں اور ایک لاکھ روپے نکلے

خاوند کے پوچھنے پر بیوی بولی “میری ماں نے مجھے کامیاب شادی کا راز بتاتے ہوئے نصیحت کی تھی کہ غصہ پی جانا بہت ہی اچھا ہے۔ اسکے ماں نے مجھے طریقہ بتایا تھا کہ جب بھی اپنے خاوند کی کسی غلط بات پر غصہ آئے تو تم بجائے خاوند پر غصہ نکالنے کی بجائے ایک گڑیا سی لیا کرنا”۔
تو مجھے جب بھی آپ کی کسی غلط بات پر غصہ آیا میں نے گڑیا سی لی

خاوند دو گڑیاں دیکھ کر بہت خوش ہوا کہ اس نے اپنی بیوی کو کتنا خوش رکھا ہوا ہے کیونکہ بیوی نے پچاس سال کی کامیاب ازدواجی زندگی میں صرف دو گڑیاں ہی بنائی تھیں۔

خاوند نے تجسس سے اٹیچی میں موجود ایک لاکھ روپوں کے بارے میں پوچھا تو بیوی بولی

“یہ ایک لاکھ روپے میں نے گڑیاں بیچ بیچ کر اکٹھے کیے ہیں”

او نیگیٹو

آج صبح اچانک ہی آنکھ کھل گئی ۔ وقت دیکھا تو ابھی رات کے ساڑھے تین بجے تھے۔ حیرت سی ہوئی کہ ایسے کبھی پہلے نہیں ہوا۔ ہمیشہ موبائل کے الارم بجنے سے آنکھ کھلتی تھی۔ دوبارہ سونے کی کوشش کی لیکن نیند کوسوں دور بھاگ گئی۔ ایسے ہی سوچنے لگا ۔ اتنی جلدی آنکھ کھلنے کا سسب کیا ہے؟ کیا خواب میں کچھ ایسا دیکھ لیا۔ ذہن پہ زور دینے پر بھی کوئی خواب یا خواب سے متعلقہ کوئی منظر ذہن میں نہ آیا۔ بس الجھن سی ہونے لگی۔

کروٹ پہ کروٹ لیتا رہا نہ نیند آئی نہ بے چینی اور الجھن ختم ہوئی ۔ اتنے میں اذان کی آواز آئی ۔ سوچا جاگ تو رہا ہوں نماز پڑھ لوں۔ پلنک سے اٹھا اور جوتے پہن کر واش روم گیا ۔ وضو کرکے باہر نکلا تو بیگم بھی جاگتی نظر آئی۔

اس نے حیرت، غصے اور الجھن بھری نظروں سے مجھے دیکھا
میں نے جان بوجھ کر نظر انداز کیا اور کمرے سے باہر نکلنے لگا تو پیچھے سے بیگم نے پوچھا

کہاں چلے
نماز کے لئے مسجد جا رہا ہوں۔
میں نے پلٹ کر جواب دیا۔
اور اسے حیرت اور الجھن میں ہی چھوڑ کر باہر آگیا۔

جب میں مسجد سے نماز پڑھ کر باہر نکلا تو محلے کے ایک صاحب نے سلام کیا اور حال احوال پوچھا ۔

میں نے اپنی خیریت سے آگاہ کرنے کے بعد اخلاقا اس سے خیریت دریافت کی تو اس نے بتا یا کہ اس کی بیگم پچھلے کئی دن سے ہسپتا ل میں داخل ہیں اور ڈاکٹر نے آپریشن کی تاریخ دی ہوئی ہے لیکن اس کی بیگم کے خون کا گروپ او نیگیٹو ہے ۔ جو کہ ایک کم باب گروپ ہے۔ ڈاکٹر ز نے کہا ہے کہ آپ کم از کم چھ بوتل او نیگیٹو گروپ کا انتظام کرلیں۔ ورنہ آپریشن مقررہ تاریخ کو نہ ہو سکے گا۔ اس نے اپنی سی پوری کوشش کر لی لیکن انتظام نہ ہو سکا۔ ہسپتال انتظامیہ نے کہا کہ وہ دو بوتل اس گروپ کے خون کی دے سکتے ہیں لیکن اس کے لئے اسے آٹھ بوتل کسی دوسرے گروپ کے خون کی دینی ہوں گی۔

وہ اسی پریشانی میں تھا اور اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے ۔
مجھے چند سال پہلے کا ایک منظر یا د آگیا۔
میں بھی اسی کی طرح پریشان ایک مشہور ہسپتال کے سامنے کھڑا اور تقریبا اسی طرح کی پریشانی سے دوچار تھا۔ تب ایک نوجوان نے مجھے سلام کیا اور کہا

سر آپ یہاں ؟ خیریت تو ہے۔
میں نے اسے جب بتایا کہ میری والدہ اسی ہسپتال میں ہیں اور انہیں فوری طور پر خون کی ضرورت ہے تو اس نوجوان نے میں مجھے کہا
اگرتو ایک بوتل چاہیے تو میں ابھی حاضر ہوں سر ورنہ مجھے صرف ایک گھنٹہ دیں ۔ میں اپنے سب دوستوں کو بلا لیتاہوں۔

میں نے اس دن پہلی بار ایک فرشتے کو انسانی شکل میں دیکھا تھا۔
مجھے سوچوں میں گم دیکھ کر وہ صاحب بولے
لگتا ہے آپ خود کسی پریشانی میں ہیں
نہیں نہیں۔ الحمدللہ ایسی بات نہیں ۔
آپ صرف یہ بتائیں کہ آپ کی بیگم کس ہسپتال میں ہیں۔ وارڈ اور بیڈ نمبر کیا ہے ۔
آپ کے لئے خون کا انتظام ہو جائے گا۔
وہ ایک دم سے جھٹکا کھا کر رک گیا۔
سچ کہ رہے ہیں آپ ؟
میں نے اسے مکمل تفصیل سے بتا یا کہ میں اس کے لئے کیسے خون کا انتظام کر سکتا ہوں اور یہ کا م میرے لئے کوئی مشکل نہیں ۔ تو اس کی آنکھیں بے اختیار نم ہو گئیں۔
اور اس نے ایک مجھے گلے لگا لیا۔
اور کہا
قسم کھا کر کہ رہاہوں ۔ میں نے آج زندگی میں پہلی بار ایک فرشتے کو انسانی شکل میں دیکھا ہے۔
میں چپ تھا ۔ لیکن مجھے صبح سویرے آنکھ کھلنے کی وجہ سمجھ میں آگئی

بڑا آسیب

یہ لڑکا کون ہے جو ابھی گزرا ہے ؟؟

دوھزار گز پر بنی قلعے جیسی حویلی سے بڑے سائیں کی پراڈو آہستہ آہستہ باہر نکل رہی تھی ۔۔

زینت مائی کا پوتا ہے سائیں ! ۔ ۔ ۔ ۔اگلی سیٹ سے آواز آئی

اُس کالی چمارن کا ! ! ! ! ۔ ۔ ۔ ۔ بڑے سائیں چونکے
ذرا روک تو اسے

جی حکم !!! سامنے آتے ہی لڑکے نے ہاتھ جوڑ لئیے اور نظریں جُھکالیں
کیا نام ہے تیرا؟ ۔ ۔ ۔ آواز میں گرج تھی

ہارون سائیں ! ۔ ۔ ۔ لڑکا کچھ اور جھُک گیا

یہ تُو اتنا صاف ستھرا ہوکر بستہ اُٹھائے کہاں جا رہا ہے ؟؟
غراتا ہوا سوال تھا ۔۔۔۔

سکول جارہا ہوں سائیں ۔ ۔ ۔ ۔لڑکا تھر تھر کانپ رہا تھا
سکول ! ! ! ! !
اب کمیوں کے بچے بھی سکول جائیں گے ۔ ۔ ۔ ایک بھاری قہقہہ فضا میں گونجا
آقا ہنسا تو حواری بھی ہنسنے لگے ۔۔۔

پاگل ہو گیا ہے کیا ۔ کبھی تیرے اگلوں نے بھی سکول کی شکل دیکھی ہے
بڑے سائیں کی آواز میں اب بھی گرج تھی ۔۔۔

خنک موسم کے باوجود لڑکا پسینے سے شرابور تھا ۔

چل پھینک بستہ ! ! ! ! !

لرزتے ہاتھوں سے بستہ چھُٹا اور ساتھ ہی لڑکا بھی گھٹنوں پر گرگیا ۔ ۔ ۔
یہ صاف کپڑے اُتار ۔ ۔ ۔ ۔

کانپتے ہاتھ اپنے بدن سے اپنے خواب الگ کر رہے تھے
یہ جوتے بھی اتار ۔ ۔ ۔

اب لڑکا جھلنگے بدرنگ بنیان اور پاجامے میں تھا ۔ ۔ ۔ ۔

ہاں اب لگ رہا ہے نا تُو اپنی ذات کا ۔ ۔ ۔ چل اب زمین پر لوٹ لگا۔ ۔ ۔ ۔

بڑے سائیں کا حکم حتمی تھا

خاک کو خاک میں ملا تے وقت بھی لڑکے کے ہاتھ جُڑے ہوئے تھے ۔ ۔ ۔

کمی غلامی کے جملة آداب سے واقف جو تھا

چل اُٹھ اب جا کر گند سمیٹ ۔ ۔
جھاڑو مار ۔ ۔ ۔ ۔

گاڑی کا بلیک کوٹڈ شیشہ آہستہ آہستہ اوپر اُٹھتا چلا گیا ۔ ۔ ۔
۔
بڑے سائیں کی بیوی نماز پڑھ رہی تھی جب زینت مائی حویلی کے واش روم صاف کرنے آئی

اس نے روتے ہوئے کہا ۔ ۔
اماں سائیں تم تو ولی لوگ ہو نا ۔۔۔۔میرے ہارون کے لئیے دعا کرو

درگاہ والے بابا کہتے ہیں اُس پر کسی بڑے آسیب کا سایہ ہوگیا ہے
نہ کھاتا ہے نہ سوتا ہے ۔

بس دن رات دیوانوں کی طرح گلیوں کی جھاڑو لگاتا رہتا ہے اور اسکی آنکھوں سے آنسو بہتے رہتے ہیں

الٹی شلوار

"ساب اب میرا کام ہو جائے گا نا   ”
اس نے دیوار کی طرف رُخ موڑا اور تیزی سے کپڑے پہننے لگی۔
"ہاں ہاں بھئی ”  ۔۔۔
میری سانسیں ابھی بھی بے ترتیب تھیں ۔
پھر میں پیسے لینے کب آؤں ؟”
دوپٹے سے اس نے منہ پونچھا اور پھر  جھٹک کر لپیٹ لیا ۔
"پیسے ملنے تک تمہیں ایک دو چکر تو اور لگانے ہی پڑیں گے ۔کل ہی میں مالکان سے تمہارے شوہر کا زکر کرتا ہوں ”
میں نے شرٹ کے بٹن لگائے ،ہاتھوں سے بال سنوارے اور دفتر کے پیچھے ریٹائرنگ روم کے دروازے سے باہر جھانک کر آس پاس  احتیاتاً ایک طائرانہ نظر دوڑانے لگا  ۔
ویسے تو  نیا چوکیدار  وقتا فوقتا چائے پانی کے نام پر  میری طرف سے ملنے والی چھوٹی موٹی رقم کے بدلے میں میرا خیر خواہ تھا مگر پھر بھی   میں کسی مشکل میں گرفتار نہیں ہونا چاہتا تھا ۔
” پھر میں کل ہی آجاؤں ” وہ میرے  پختہ جواب کی منتظر تھی ۔
” کل نہیں ! ! !  ”
میں روز اس طرح یہاں آنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا اس لئیے بس آہ بھر کر رہ گیا ۔۔۔۔۔
ہائے غریبوں کو بھی کیسے کیسے لعل مل جاتے ہیں ۔۔۔ میں نے نظروں سے اسکے جسم کے  پیچ و خم  کو تولتے ہوئے سوچا ۔
” ارے سنو ! !  تم نے شلوار اُلٹی پہنی ہے ۔”
وہ چونک کر اپنی ٹانگوں کی طرف جھکی اور خجل ہوگئی ۔
” اسے اتار کر سیدھا کرلو ۔ میں چلتا ہوں پانچ منٹ بعد تم بھی پچھلے دروازے سے نکل جانا۔ ۔ ۔ اور ہاں احتیاط سے کوئی دیکھ نہ لے تمہیں ۔

زیمل خان چار سال سے ہماری فیکٹری میں رات کا چوکیدار تھا تین ہفتے  پہلے فیکٹری میں داخل ہونے والے ڈاکوؤں کے ساتھ مزاحمت میں ٹانگ پر گولی کھا کر گھر میں لاچار پڑا ہوا تھا ۔ مالکان اسکے علاج کے لئیے  پچاس ہزار دینے کا اعلان کر کے بھول گئے تھے ۔ سو اسکی بیوی اسی سلسلے میں بار بار چکر لگا رہی تھی ۔ میں نے اسکی مدد کا فیصلہ کیا اور چھٹی کے بعد شام میں اسے فیکٹری آنے کا اشارہ دے دیا ۔

عمر ! عمر!
اپارٹمنٹ کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے  مجھے عقب سے اپنی بیوی کی آواز سنائی دی ۔ اسکے اور میرے گھر لوٹنے کا وقت تقریبا ایک ہی تھا اور کبھی کبھار تو  ہم  اسی طرح اکھٹے گھر میں داخل ہوتے تھے ۔ وہ ایک چھوٹے  بینک میں کلرک  تھی ۔
"ایک خوشخبری ہے ” قدرے فربہی مائل وجود کو سنبھالے وہ تیزی سے اوپر آرہی تھی
خوشی سیے اسکی بانچھیں کھلی جا رہی تھیں

”  مینیجر صاحب میرے کام سے بہت خوش ہیں اور آج ہی انہوں میرے پرونوشن کی بات ہے ”
دروازے کے سامنے  رک کر اس نے ہینڈ بیگ ٹٹولااور چابی نکالی
۔”انہوں نے کہا ہے تھوڑا وقت لگے گا مگر کام ہوجائے گا
"ارے واہ مبارک ہو ”   ” میں نے خوشدلی سے اسے مبارکباد دی
” تمہیں پتا ہے مجھ سمیت پانچ امیدوار ہیں  ، اور وہ  آصفہ ہے نا وہ بھی میرے حق میں  نہیں   مگر ڈائیریکٹر  صاحب میرے کام سے بہت خوش ہیں ۔۔ کیوں نہ ہوں میں اتنی محنت جو کرتی ہوں اور ویسے بھی ۔ ۔ ۔ ۔
۔وہ گھر کے اندر داخل ہوتے ہوئے  بھی مسلسل بولے چلی گئی
۔میں اسکی پیروی کرتے ہوئے اسکی فتح کی داستان سے محظوظ ہورہا تھا کہ اچانک میری نظر اسکی الٹی شلوار کے ریشمی دھاگوں میں الجھ گئیں